تم ہی میرے چڑچڑے پن کی وجہ رہے اکثر
تمھی اس سرد رویے کی وجہ جان نہ سکے
ہمیں قبول کرے کوئی ایسا شخص کے جو
ہمارے پہلے زخموں کو پہچان نہ سکے
مرزا فرحان
Mirza Farhan
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mirza Farhan, Rawalpindi.
اے زندگی ترے غموں کے حصار میں ہم نے
وہ عمر گزرای جو کوئی دوسرا گزار نہ سکے
یہ سوچ کر خود کو اس قدر بکھیرا ہم نے
کوئی سنوارنا بھی اگر چاہےتو سنوار نہ سکے
مرزا فرحان
23/09/2023
❤️🩹🙂
غم آنکھ سے بہتا ہے مگر چھوڑ کر جاتا نہیں
اور پھر بھی اشک پہ ندامت کچھ بھی نہیں
دل و جاں سب کچھ تو ہے میرے پاس مگر
دکھ اس بات کا ہے سلامت کچھ بھی نہیں
اور ہم سے لیا جاتا ہے امتحاں ہمارے صبر کا
رنج پہ رنج تو ہے مگر کرامت کچھ بھی نہیں
مجھ سے پوچھا گیا ہے بچھڑ جانے کا دکھ
قیامت ہے جس کے آگئے قیامت کچھ بھی نہیں
محبت ہونے کو بس ایک ہی بہانہ چاہئے مرزا
یہ حسن جمال یہ قد و قامت کچھ بھی نہیں
مرزا فرحان✨✨
میرے کاش میں سب سے بڑا کاش یہ تھا کے "کاش مجھے اپنے رشتہ داروں کے اصل چہرے نظر نہ آتے"
مرزا فرحان
تمھارے بعد جو شخص ملا تھا ہمیں
تم جیسا کہاں رکھا خیال اس نے
ہمارے مزاج سے ملا نہ کبھی دل سے
نہ کیا کسی بات پر کبھی ملال اس نے
مرزا فرحان
یہ ہنر آزمائی ہمیں لے ڈوبے گی
ہجر اور تنہائی ہمیں لے ڈوبے گی
ہم اگر مطلبی ہوتےنا! توخوش رہتے
یہ ضبط آزمائی ہمیں لے ڈوبے گی
ہم نے سو جمال دیکھے سنبھلے رہے
بس تیری رعنائی ہمیں لے ڈوبے گی
دیکھنایہ ہماری بربادی کا سامان ہو گی
ہاں تمھاری جدائی ہمیں لے ڈوبے گی
ہمارے دل پہ تیری بادشاہت ہو گی اور
پھر یہی کج کلاہی ہمیں لے ڈوبے گی
ہمیں اپنی محبت پہ بڑا مان تھا مرزا
اور یہ خود نمائی ہمیں لے ڈوبے گی
مرزا فرحان
یار توں کیوں میرے درد کو سمجھ نہیں پا رہا
سمجھے بھی کیسےکہ توں جون کو نہیں جانتا
تم نے پوچھا تھا نا۔! میرے ہمسفر کے بارے تو سن
ہاں اداسی ہمسفر ہےمیری ،میں سکون کو نہیں جانتا
مرزا فرحان
کئی بار دل ڈگمگاتا ہے سنبھل جاتا ہے.
تجھ پہ دل آتا ہے مگر دل بدل جاتا ہے
وہ شخص سمایا ہے میرے دل میں عجب
اس کا خیال آتا ہے دل میں اور نکل جاتا ہے
یہ کھیل ہے قسمت کا یا سلیقہ ہنر نہیں
میں جہاں پاؤں رکھتا ہوں پھسل جاتا ہے
وہ بھی سناتے رہتے ہیں قصے جھوٹے
احباب کو بھی لگتا ہے، مرزا بہل جاتا ہے
کچھ ایسا اثر ہے طیبہ کی محبت کا
خطر آتا ہی نہیں ہے کے ٹل جاتا ہے
مرزا فرحان
کس سے چھپائیں کسے دکھائیں اداس آنکھیں
اس سرد رت میں مجھے ستائیں اداس آنکھیں
ہیں سرخ آنکھیں اور گرد ان کے ہیں کالے حلقے
وجہ کیا بتائیں ، کہاں لے کے جائیں اداس آنکھیں
اپنی حالت کے زمہ دار ہیں خود ایسے کہ جیسے
بچھو ڈسے خود کو اور یہ مر جائیں اداس آنکھیں
اور یہ آنکھوں کی اداسی اب نا جائے گی تمام عمر
کہاں وہ اب ملے گا کہاں مل کے منائیں اداس آنکھیں
اور فقط ان کا اثر آنکھوں تک ہی نہیں ہے محدود
مجھے رلائیں، مجھے اب یہ کھائیں اداس آنکھیں
مرزا فرحان
زندگی سے اس قدر گھبراتا ہوں ہوں میں
تیری تصویر کو دیکھ نہیں پاتا ہوں میں
مجھ کو لگتا ہے کہ توں اب بھی ہے میرا
خود کو کس طرح سے بہلاتا ہوں میں
اس قدر اداسی ہے زندگی میں میری
اور اسے پھر بھی خرید کے لاتا ہوں میں
جانے کیا ہے کہ میں ملا سکتا نہیں انکھیں
دیکھ نا پاوں توسینے سےلگاتا ہوں میں
کچھ بچہ ہے نا ہی دل باقی یے پاس مرزا
برباد ہورہا ہوں اور خود کو دیکھتا ہوں میں
Click here to claim your Sponsored Listing.
