رئيس مجلس علماء باكستان الشيخ طاهر أشرفي : نقول لقادة وعلماء وحكماء وعقلاء إيران ، أعداء الأمة العربية والإسلامية يريدون إشعال نيران الفتنة والخلافات والحروب بين المسلمين ، ونحن نقول للجميع ( بلاد الحرمين الشريفين ) خط أحمر ، ولا علاقة للسعودية بهذه الحرب ..
Pakistan Ulema Council - Offical
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan Ulema Council - Offical, Lahore.
پاکستان میں سعودی سفیر جناب نواف بن سعید احمد المالکی نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے موجودہ بحران کے حل کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہا
رئيس مجلس علماء باكستان الشيخ طاهر أشرفي : الأمير محمد بن سلمان رفض إستخدام الأراضي والأجواء السعودية للهجوم على إيران ، فلماذا تهاجمون السعودية !! وهي تخدم الإسلام والمسلمين والحرمين الشريفين وتدافع عن قضايا الأمة ، وجميع المسلمين جنود تحت أمر خادم الحرمين الشريفين ..
02/03/2026
قومى پيغام امن كميٹى بلوچيستان
سعودى عرب پر حملے كيون ؟ ایران کی طرف سے مسلسل ارض حرمین شریفین مملکت سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض اور منطقہ شرقیہ میں میزائل حملوں کی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتی ہے ۔
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے جس طرح قابل مذمت ہیں ، اسی طرح ایران کا خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب پر حملے قابل مذمت ہیں۔
مملکت سعودی عرب نے جنگ سے پہلے واضح کر دیا تھا کہ اس کی زمین اور آسمان دونوں ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے ۔ اس کے باوجود مملکت سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں میزائل حملوں کی کوشش صرف اور صرف مسلم امہ کی وحدت اور اتحاد کو ختم کرنے کی سازش اور جارحیت ہے۔جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ہم سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد امیر محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔
تلخ حقايق
مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی چیئرمین پاکستان علماء کونسل کو آرڈینیٹر خلیجی ممالک بین المذاہب ہم آہنگی
اعتدالِ فکر، دینی بصیرت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال
پاکستان ایک ایسا اسلامی و نظریاتی ملک ہے جہاں مذہب محض ایک انفرادی عقیدہ نہیں بلکہ اجتماعی زندگی، سماجی رویّوں اور قومی فکر کا بنیادی ستون ہے۔ ایسے معاشرے میں علما کا کردار نہایت اہم بلکہ فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دینی شخصیات جو مذہب کو تنگ نظری کے بجائے وسعتِ فکر، اور شدت کے بجائے حکمت کے ساتھ پیش کریں، قوم کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوتی ہیں۔ مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی کا شمار انہی ممتاز اور متوازن دینی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے عمل، گفتار اور فکر سے مذہبی قیادت کا ایک مثبت اور قابلِ تقلید چہرہ دنیا کے سامنے رکھا۔
مولانا طاہر اشرفی ایک جید عالمِ دین اور حافظِ قرآن ہیں۔ ان کی دینی تربیت روایتی علوم کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو محض ماضی کی تعبیر نہیں بلکہ حال کے مسائل اور مستقبل کے امکانات کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آج کا دور مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کا تقاضا کرتا ہے، اور دینِ اسلام بھی اسی اعتدال اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
بطور چیئرمین پاکستان علماء کونسل، مولانا حافظ طاہر اشرفی نے علما کو فرقہ وارانہ خ*ل سے نکال کر قومی اور اجتماعی سوچ کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان علماء کونسل کا پلیٹ فارم اس بات کی عملی مثال ہے کہ اگر نیت درست اور قیادت مخلص ہو تو مختلف مکاتبِ فکر کے علما کو ایک مقصد پر متحد کیا جا سکتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے فرقہ واریت کے خاتمے، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی گئیں۔
مولانا طاہر اشرفی کی خدمات کا ایک نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو بین المذاہب ہم آہنگی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہے، نہ کہ ان کا دشمن۔ چرچ ہو یا مندر، گوردوارہ ہو یا کسی اور مذہب کی عبادت گاہ—مولانا اشرفی نے ہر حملے کی بلا تردد مذمت کی اور یہ واضح پیغام دیا کہ کسی بھی بے گناہ انسان یا عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ ان کا یہ مؤقف قائداعظم محمد علی جناحؒ کے تصورِ پاکستان سے بھی ہم آہنگ ہے۔
انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مولانا طاہر اشرفی کا کردار تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر اسلام کو تشدد کے ساتھ جوڑنے کی منظم کوششیں کی جا رہی تھیں، مولانا اشرفی نے مدلل، جرات مندانہ اور واضح انداز میں یہ مؤقف اپنایا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ “پیغامِ پاکستان” جیسے متفقہ علما کے اعلامیے کی تائید اور ترویج دراصل ان کی اسی فکری جہت کا عملی اظہار ہے۔
ریاست اور مذہب کے تعلق کے حوالے سے بھی مولانا طاہر اشرفی کا نقطۂ نظر نہایت متوازن ہے۔ وہ ٹکراؤ اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون اور اصلاح کے قائل ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن، نصاب کی بہتری اور انہیں قومی تعلیمی دھارے سے جوڑنے کے بارے میں ان کا مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دینی اداروں کو معاشرے کا مثبت اور مؤثر حصہ بنانا چاہتے ہیں، نہ کہ متنازع۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی عصرِ حاضر کے ان چند علما میں شامل ہیں جنہوں نے مذہبی قیادت کو نفرت سے نکال کر رحمت، اور انتشار سے نکال کر اتحاد کی راہ دکھائی۔ آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار اور داخلی کمزوریوں کا شکار ہے، ایسے میں مولانا اشرفی جیسے علما امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی کی زندگی اور خدمات ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ اگر دین کو حکمت، بصیرت اور اعتدال کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ معاشروں کو جوڑنے، دلوں کو قریب لانے اور قوموں کو سنوارنے کی سب سے بڑی قوت بن سکتا ہے۔
✍️ تحریر:
کالم نگار مولانا سرفراز علی
خطیب جامع مسجد دلباغ
بلاک نمبر 15، سرگودھا
صدر، علماء کونسل سرگودھا
Click here to claim your Sponsored Listing.
