Shahbaz Afzal The Storyteller

Shahbaz Afzal The Storyteller

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Shahbaz Afzal The Storyteller, Islamabad.

29/03/2026

پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے بہت ہی پیارے بھائی ملک محمد سلمان صاحب بے زبان کتوں اور جانوروں کے بارے میں لکھ رہے ہیں کہ کیسے انہیں بیدردی سے قتل کیا جا رہا ہے تو اسی ایک کالم کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ ہمارے بچپن کے دنوں میں
کبھی ہمارے گاؤں کی فضا میں ایک عجیب سی مانوسیت ہوا کرتی تھی۔ لوگ کم تھے، دل بڑے تھے، اور زندگی میں سادگی کے ساتھ ایک خاموش محبت بسی ہوئی تھی۔ انہی محبتوں میں ایک محبت ان بے زبان مخلوق کے لیے بھی تھی جو نہ بول سکتی تھیں، نہ اپنے دکھ بیان کر سکتی تھیں، مگر پھر بھی ہمارے معاشرے کا حصہ تھیں۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب ہمارے گھروں میں روٹیاں بنتی تھیں تو صرف انسانوں کے لیے نہیں بنتی تھیں۔ نانی اماں دو روٹیاں الگ رکھ دیتی تھیں جنہیں ہم "کتے کی روٹی" کہتے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی، یہ ایک سوچ تھی، ایک روایت تھی، ایک احساس تھا کہ اللہ کی مخلوق میں صرف انسان ہی نہیں، جانور بھی شامل ہیں۔
شام ڈھلتی، گاؤں میں خاموشی اترتی، اور پھر کہیں نہ کہیں سے ایک آوارہ کتا آ کر دہلیز کے باہر بیٹھ جاتا۔ نہ وہ شور کرتا، نہ دروازہ کھٹکھٹاتا، بس خاموشی سے انتظار کرتا۔ جیسے اسے یقین ہوتا تھا کہ یہاں اس کے لیے بھی کچھ رکھا گیا ہے۔ اور پھر نانی اماں وہ روٹی باہر رکھ دیتیں۔ وہ کتا خاموشی سے کھاتا، دم ہلاتا، اور واپس چلا جاتا۔ نہ شکایت، نہ مطالبہ صرف ایک خاموش شکریہ۔
یہی وہ کتے تھے جو ہمارے گاؤں کی حفاظت بھی کرتے تھے۔ رات کی خاموشی میں اگر کوئی انجان شخص گاؤں میں داخل ہوتا تو یہی بے زبان سب سے پہلے آواز بلند کرتے۔ ان کی بھونک میں ایک خبرداری ہوتی، ایک اطلاع ہوتی کہ کوئی اجنبی داخل ہو چکا ہے۔ وہ ہمارے محافظ تھے، ہمارے ساتھی تھے، اور ہمارے ماحول کا حصہ تھے۔

مگر افسوس…
آج وہی بے زبان مخلوق ہمارے معاشرے میں غیر ضروری سمجھ لی گئی ہے۔
آج انہیں زہر دیا جاتا ہے…
انہیں گولیوں سے مارا جاتا ہے…
انہیں گاڑیوں کے نیچے روند دیا جاتا ہے…

اور یہ سب کچھ اس لیے کہ وہ بول نہیں سکتے… شکایت نہیں کر سکتے… اور اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔

یہ کیسا معاشرہ بن گیا ہے جہاں انسان اپنی حفاظت کے لیے جانوروں کو ختم کر رہا ہے؟
یہ کیسی ترقی ہے جہاں رحم ختم ہو گیا اور بے حسی عام ہو گئی؟
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک پیاسی بلی کو پانی پلانے والی عورت کو جنت ملی، اور ایک بلی کو بھوکا مارنے والی عورت جہنم کی مستحق قرار دی گئی۔ یہ صرف مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کا درس ہے۔
جانور ہمارے ماحول کا حصہ ہیں، قدرت کے توازن کا حصہ ہیں، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی مخلوق ہیں۔
ان کا قتل صرف ایک جانور کا قتل نہیں، بلکہ ہماری انسانیت کا قتل ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دوبارہ وہی سبق دیں جو ہمیں ہمارے بڑوں نے دیا تھا
کہ روٹی صرف انسان کی نہیں ہوتی
کہ دہلیز صرف انسان کے لیے نہیں ہوتی
کہ محبت صرف بولنے والوں کے لیے نہیں ہوتی

ہمارے گاؤں کی وہ "کتے کی روٹی" دراصل انسانیت کی روٹی تھی۔
وہ روٹی صرف ایک کتے کو نہیں کھلائی جاتی تھی، بلکہ اس سے دلوں میں رحم، محبت اور احساس کو زندہ رکھا جاتا تھا۔

آج اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں دوبارہ وہی روایت زندہ کرنی ہوگی۔
ایک روٹی نکالیں…
ایک پیالہ پانی رکھیں…
اور یاد رکھیں…
بے زبان مخلوق بھی اللہ کی امانت ہے
اور امانت کا خیال رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔
تحریر: شہباز افضل 🍂

Photos from Shahbaz Afzal The Storyteller's post 03/03/2026

کبھی کبھی آپ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے۔
آپ کسی سے نفرت نہیں کرتے، کسی کے خلاف سازش نہیں کرتے، کسی کی راہ میں دیوار نہیں بنتے۔
آپ بس ہوتے ہیں… اپنی ماں کی دعا میں، اپنے باپ کی امید میں، اپنی کاپی کے صفحوں پر جھکے ہوئے، اپنے خوابوں میں مگن۔
لیکن دنیا کے کچھ اندھے موسم ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں ہونا ہی جرم بن جاتا ہے۔
ایران کی ان معصوم بچیوں کا قصور بھی شاید یہی تھا کہ وہ زندہ تھیں۔ وہ اسکول جا رہی تھیں۔ وہ کتابیں کھول رہی تھیں۔ وہ اپنے ننھے ہاتھوں سے مستقبل کی لکیریں کھینچ رہی تھیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ سیاست کی سخت زمین پر معصوم قدموں کی چاپ بھی کچھ لوگوں کو گوارا نہیں ہوتی۔ وہ تو بس بچیاں تھیں۔
کسی کی گڑیا، کسی کی بہن، کسی کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔
ان کے بستوں میں ہتھیار نہیں، رنگین پنسلیں تھیں۔ ان کے ذہنوں میں نفرت نہیں، خواب تھے۔ مگر ایک لمحہ آیا اور ان کے خوابوں کی روشن کھڑکیاں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔
کتنا عجیب ہے کہ بعض اوقات فاصلہ بھی جرم بن جاتا ہے۔
وہ میلوں دور تھیں، سمندر پار تھیں، ہماری روزمرہ زندگی سے الگ ایک دنیا میں تھیں۔ مگر ان کا دکھ دل کے اتنا قریب ہے جیسے اپنے گھر کا چراغ بجھ گیا ہو۔
ان کی شہادت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس دنیا میں سب سے کمزور آواز ہی سب سے پہلے کیوں خاموش کی جاتی ہے؟ کیوں ہمیشہ معصومیت ہی نشانہ بنتی ہے؟ کیوں ہمیشہ خواب ہی کچلے جاتے ہیں؟
وہ بچیاں شاید اب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کا سوال باقی ہے۔
ان کی خاموشی چیخ بن کر فضا میں معلق ہے۔
اور یہ چیخ ہم سب سے جواب مانگتی ہے کہ کیا انسان ہونا واقعی اتنا بڑا جرم ہے؟
ان کے نام پر صرف آنسو کافی نہیں۔
ان کے نام پر ہمیں یہ عہد بھی کرنا ہوگا کہ جہاں بھی معصومیت پر ظلم ہو، ہم کم از کم اپنے دل کو زندہ رکھیں، اپنی آواز کو سچ کے ساتھ جوڑے رکھیں۔
کیونکہ اگر ہم نے محسوس کرنا چھوڑ دیا، تو پھر صرف وہی نہیں مریں گی… انسانیت بھی مر جائے گی۔
تحریر: شہباز افضل 🍂

30/01/2026

کچھ تبدیلیاں دنیا میں اعلان کے ساتھ نہیں آتیں۔ نہ ڈھول بجتے ہیں، نہ جھنڈے لہرائے جاتے ہیں۔ وہ بس آہستہ آہستہ دکھائی دینے لگتی ہیں ایسے جیسے موسم بدل رہا ہو اور ہمیں احساس تب ہو جب ہوا کا ذائقہ بدل چکا ہو۔ آج کی دنیا بھی کچھ اسی موڑ پر کھڑی ہے۔
چین میں ایک کے بعد ایک اُن ملکوں کی قیادت کا جانا جو برسوں سے امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے رہے، محض سفارتی سرگرمی نہیں لگتی۔ جنوبی کوریا، آئرلینڈ، کینیڈا، فن لینڈ اور اب برطانیہ۔ یہ سب نام ایک ہی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی خارجہ پالیسی کبھی واشنگٹن کے اشاروں سے ترتیب پاتی تھی، مگر اب وہ بیجنگ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ شاید وہ یہ جان چکے ہیں کہ آنے والا وقت صرف ایک طاقت کے سہارے نہیں گزارا جا سکتا۔
اسی دوران یورپی یونین کی قیادت نے چین کے بجائے بھارت کا رخ کیا، اور فری ٹریڈ معاہدہ کر کے دنیا کو چونکا دیا۔ یہ فیصلہ بھی اسی نئی حقیقت کا اعتراف ہے کہ عالمی معیشت اب ایک مرکز کے گرد نہیں گھومتی۔ طاقت بٹ چکی ہے، اور جو ملک خود کو اس بٹوارے میں شامل نہیں کرے گا، وہ پیچھے رہ جائے گا۔
امریکہ اس سارے منظرنامے میں غیر موجود نہیں، مگر اس کی توجہ بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ، غزہ، ایران، یوکرین اور ٹیرف کی دھمکیاں ہر مسئلہ اپنی جگہ سنگین ہے، مگر انہی شور میں دنیا کی خاموش ترتیب بدلتی رہی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسٹیج پر روشنی کسی اور طرف ہے، اور پس منظر میں کہانی آگے بڑھ چکی ہے۔
آج طاقت کی تعریف بھی بدل چکی ہے۔ اب بات صرف فوج یا اسلحے کی نہیں رہی۔ اصل طاقت وہ ہے جو سپلائی چین کو قابو میں رکھے، منڈیوں کے دروازے کھولے، ٹیکنالوجی میں آگے ہو اور معیشت کو سہارا دے سکے۔ چین اس تصویر میں ایک حقیقت بن چکا ہے، خواہ کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے۔
کسی نے کھڑے ہو کر یہ اعلان نہیں کیا کہ دنیا کی نئی سپر پاور کون ہے، مگر رویوں نے سب کچھ کہہ دیا ہے۔ یہ غیر سرکاری اعلان ہے، اور اس کے بعد اب صف بندی ہو رہی ہے۔ نظریات پیچھے رہ گئے ہیں، مفادات آگے آ گئے ہیں۔ دنیا اب جذبات سے نہیں، حساب سے چل رہی ہے۔
شاید یہی نیا عالمی نظام ہے خاموش، محتاط اور بے حد حقیقت پسند۔
دنیا بدل نہیں رہی،
دنیا بدل چکی ہے۔
تحریر: شہباز افضل 🍂

19/01/2026

میں کٹر تحریکِ انصاف کا حامی ہوں۔ ہمیشہ عمران خان کو سپورٹ کیا ہے، آج بھی اسی مؤقف پر کھڑا ہوں۔ لیکن کل مریم نواز کے حق میں ایک پوسٹ لگانے کی پاداش میں جس طرح ہول سیل کے حساب سے گالیاں ملیں، اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔
ان سب کے لیے میرا بس ایک ہی جواب ہے:
زندگی میں جب دس کتے آپ پر بھونک رہے ہوں تو آپ گیارہواں مت بنیں۔
خاموشی کبھی کمزوری نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ شعور کی آخری پناہ ہوتی ہے۔
سچ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ماہرِ نفسیات کی اشد ضرورت ہے۔ یہ جو معاشرہ ہم تعمیر کر رہے ہیں، یہ خطرناک حد تک ڈراؤنا ہو چکا ہے۔ کبھی ہم مذہب پر بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے، آج سیاست پر بات کرنا اس سے بھی زیادہ خوفناک بنا دیا گیا ہے۔ اختلافِ رائے جرم بن چکا ہے، سوال کرنا گناہِ عظیم، اور سوچنا بغاوت۔
ہم ایک ایسے ہجوم میں بدل چکے ہیں جو سننے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ دلیل کے جواب میں گالی، اختلاف کے جواب میں کردار کشی، اور سوال کے بدلے فتویٰ یہی ہماری پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سکھا دیا گیا ہے کہ اگر کوئی تمہاری پسند کے خانے میں فِٹ نہیں بیٹھتا تو وہ دشمن ہے، غدار ہے، قابلِ نفرت ہے۔
سیاست محبت یا نفرت کا مذہب نہیں ہونی چاہیے۔ یہ رائے، فہم اور شعور کا میدان ہے۔ مگر ہم نے اسے انا، تعصب اور اندھی وابستگی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ہم لیڈر نہیں، لیبل پوجنے لگے ہیں۔ ہم نظریہ نہیں، نعرہ بچانے نکلے ہیں۔
مجھے افسوس اس بات کا نہیں کہ مجھے گالیاں پڑیں؛ مجھے خوف اس بات کا ہے کہ یہ رویہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ سوچنے سے پہلے ہجوم دیکھتے ہوں، جہاں سچ کا معیار تالیاں ہوں، اور جہاں انسان کی قدر اس کی سیاسی شناخت سے طے کی جائے وہ معاشرہ دیرپا نہیں ہوتا۔
اگر ہم نے خود سے سوال کرنا نہ سیکھا، اگر ہم نے اختلاف کو برداشت نہ کیا، اگر ہم نے انسان کو پارٹی سے اوپر نہ رکھا تو یاد رکھیں، یہ ہجوم کل ہمیں بھی نگل جائے گا۔
اور پھر بھونکنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جائے گی، سمجھانے والا کوئی نہیں بچے گا۔ 🍂
تحریر: شہباز افضل

01/11/2025

سوڈان میں کیا ہورہا ہے؟؟
سوڈان میں اس وقت سوڈانی آرمی SAF اور ریپڈ سپورٹ فورس یعنی RSF حالتِ جنگ میں ہیں۔ دونوں کی لڑائی نے ملک کو جہنم میں بدل دیا ہے۔ کئی شہر جل کر راکھ ہوگئے ، گاؤں تباہ اور بارہ ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے۔ مرنے والی نہتی عوام کی تعداد اس قدر کہ درست اعداد و شمار ابھی ممکن نہیں۔
سوڈانی آرمی کو مبینہ طور پر ترکی و مصر جبکہ ریپڈ فورس کو متحدہ عرب امارات سپورٹ کر رہا ہے۔
یوں یہ سونے کے ذخائر پر قبضے کی جنگ پراکسی میں بدل چکی ہے۔ اور اب اس جنگ میں RSF والے نہتے سوڈانیوں خصوصا غیر عربی قبائل کی نسل کشی پر اتر آئے ہیں۔
دارفر میں بدترین نسل کشی کے ساتھ اب غزہ کی ہی طرز پر سوڈان کا Alfasher سفاک ریپڈ فورس کے گھیرے بلکہ قبضے میں ہے۔ لاشیں سڑکوں پر پڑی گل سڑ رہی ہیں اور اندر موجود زندہ لوگ بھوک کے ہاتھوں غیر انسانی خوراک کھانے پر مجبور ہیں۔
شدید قتل و غارت اور قحط۔۔
یونہی رہا تو کب تک سروائیو کرسکیں گے
جس طرح عرب امارات سونے کی خاطر سوڈانیوں کی اس خانہ جنگی میں اسلحہ دے کر نہتی عوام کے قتل عام کا ذمہ دار بن رہا ہے اس سے صاف سمجھ آ رہا ہے کہ ان بے ضمیروں کو غزہ نسل کشی سے کوئی مسئلہ کیوں نہیں تھا۔ کیوں یہ اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
کیونکہ یہ ایک ہی جیسے ہیں۔
بس نام اور حلیہ مختلف۔۔ 🍂

28/10/2025

سنیے اے سی کلر کہار سے تاریخ کہ پاکستان کیسے بنا یہ چوتیا اس ملک کا برین ہے
سر سید کی کمٹمنٹ اور دور اندیشی دیکھیں، اٹھارہ سو اٹھتر میں ساٹھ برس کی عمر میں، سات سال کے محمد علی جناح کی کال پہ پاکستان کے لئے پانچ سو روپیہ کما لائے۔
سر سید علی خان کی قربانی کو سلام۔
اے سی صاحب کا شکریہ کہ صرف قمیض اتروائی
وہ چاہتے تو سر سید علی خان کی شلوار بھی اتروا سکتے تھے۔اس زمانے میں اگر ٹک ٹاک ہوتی تو سرسید نے تین چار ملک اکٹھے بنانے کا فنڈ جمع کر لینا تھا۔

16/10/2025

بہت سارے دوستوں کے کہنے کے بعد ایران کے سارے سفر کا ایک سفر نامہ لکھا ہے پہلے دن سے لیکر جتنے دن ادھر رہا اور جدھر جدھر گھوما روزانہ ایک قسط شئیر کرتا رہوں گا امید ہے کہ آپ کو پسند آئے گا ہمارے ساتھ رہیں

ایران کی سرزمین سے پہلا دن
پاکستان سے نکلنے کا لمحہ ہمیشہ ایک عجیب سا ہوتا ہے۔ جیسے کوئی دروازہ بند ہو رہا ہو، اور ایک نیا آہستہ آہستہ کھل رہا ہو۔ جب رمدان بارڈر پار کیا تو پہلی بار محسوس ہوا کہ سرحد صرف لکیر نہیں ہوتی، احساس کا فرق بھی ہوتی ہے۔ ایران میں داخل ہوتے ہی فضا میں ایک ٹھہراؤ سا تھا سڑکیں صاف، لوگ پُرسکون، اور اردگرد ایک عجب خاموشی جو شور سے زیادہ کہنے والی تھی۔
پہلا پڑاؤ چاہ بہار تھا۔ نام میں ہی بہار ہے، اور سچ یہ ہے کہ یہاں کی ہوا میں واقعی ایک نرمی، ایک تازگی ہے۔ چاہ بہار کا ساحل دیکھ کر دل ٹھہر سا گیا۔ سمندر نیلا نہیں، بلکہ شفاف لگتا ہے جیسے پانی نہیں، شیشہ بہہ رہا ہو۔ لہریں ہلکے ہلکے ساحل سے ٹکرا کر واپس لوٹتی ہیں، جیسے کسی پرانی بات پر نرمی سے ہنس رہی ہوں۔
پورٹ کے قریب بیٹھا ہوا میں دیر تک سمندر کو دیکھتا رہا۔ وہاں کے لوگ سادہ مگر مسکراتے ہوئے تھے، ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سا اطمینان، جیسے وقت ان کے لیے رک گیا ہو۔ شام کے وقت سورج جب نیچے جھکتا ہے تو آسمان، سمندر، اور زمین ایک ہی رنگ میں گھل جاتے ہیں — ایک خاموش، مگر مکمل منظر۔
اگلے دن چاہ بہار سے فلائٹ لی اور سیدھا تہران جا پہنچا۔
تہران پہنچ کر لگا جیسے ایک دم کسی اور جہان میں آ گیا ہوں۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی شہر کا شور، روشنی، اور چمک دمک آنکھوں کو حیران کر گئی۔ بلند عمارتیں، فلیٹوں کی قطاریں، جدید سڑکیں اور تیز رفتار زندگی مگر اس سارے شور کے باوجود تہران میں ایک انوکھا سکون ہے۔
یہ شہر بظاہر جدید ہے مگر اندر سے روایت میں جڑا ہوا ہے۔ ایک طرف کیفے اور فیشن اسٹورز ہیں، دوسری طرف پرانی گلیاں اور تاریخی عمارتیں جو وقت کے ساتھ چلتی ہیں مگر مٹتی نہیں۔
تہران کی شاموں کا رنگ مختلف ہے۔ میلاد ٹاور کے قریب سے گزرتے ہوئے جب اوپر دیکھا تو پورا شہر روشنی میں نہایا ہوا تھا، جیسے زمین پر کہکشاں اتر آئی ہو۔ مگر ان روشنیوں کے پیچھے ایک تاریخ سانس لے رہی ہے ایک تہذیب، ایک انقلاب، ایک خاموش داستان۔
یہ شہر صرف رہنے کی جگہ نہیں، ایک احساس ہے۔ یہاں ہر چہرہ اپنی کہانی سناتا ہے، ہر گلی کسی خواب کی خوشبو لیے چلتی ہے۔
چاہ بہار نے دل کو سکون دیا، اور تہران نے دماغ کو سوچنے پر مجبور کیا۔ ایک نے ٹھہراؤ دیا، دوسرے نے رفتار۔
اور شاید سفر کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے انسان زمینیں نہیں دیکھتا، خود کو دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔
چاہ بہار کی خاموش لہروں سے لے کر تہران کی جگمگاتی راتوں تک، یہ سفر صرف فاصلے طے کرنے کا نہیں، احساس کے مختلف رنگوں کو سمجھنے کا تھا۔
سکون سے شوق تک، اور خاموشی سے زندگی تک۔ 🌍
تحریر: شہباز افضل 🍂

12/10/2025

پتہ نہیں کب سے دل میں ایک ضد سی پل رہی ہے بس اب دنیا دیکھنی ہے۔
یہ کوئی وقتی شوق نہیں، نہ کسی فیشن یا رجحان کا اثر۔
دل میں ایک عجیب سی خلش ہے، جیسے روح کو اپنے دائرے سے باہر نکل کر خود کو سمجھنے کی خواہش ہو۔
میں جانتا ہوں، ایک دن نکلوں گا اپنے خوابوں کے تعاقب میں، اپنے جذبوں کے سفر پر۔
پیرس کی شاموں میں بیٹھ کر چائے کے کپ کے ساتھ زندگی کے معنی سوچوں گا،
استنبول کی گلیوں میں اذان کی صدا کے ساتھ دل کو قرار دوں گا،
ٹوکیو میں نظم و ضبط کا سبق سیکھوں گا،
سوئٹزرلینڈ کے برف پوش پہاڑوں میں خاموشی کی زبان سمجھنے کی کوشش کروں گا،
دبئی کی چمکتی راتوں میں محنت اور کامیابی کا مفہوم دیکھوں گا،
اور مکہ و مدینہ کی فضاؤں میں جا کر اپنی حقیقت سے دوبارہ ملاقات کروں گا۔
لیکن رہنا؟
نہیں، رہنا تو مجھے اپنے ہی ملک میں ہے۔ 🇵🇰
یہاں لاہور کی شاموں میں زندگی کی چہل پہل ہے،
کراچی کے ساحلوں پر شور میں بھی سکون چھپا ہے،
اسلام آباد کی ہوا میں ترتیب اور شائستگی ہے،
پشاور کے لوگوں کی آنکھوں میں محبت ہے،
کوئٹہ کے پہاڑوں میں وقار ہے،
سوات کے جھرنوں میں زندگی گنگناتی ہے،
اور گلگت بلتستان کے آسمان کے نیچے جہاں بادل زمین کو چھوتے ہیں وہاں میں نے ہمیشہ اپنے رب کو قریب محسوس کیا ہے۔
سکردو کی وادیوں میں جو خاموشی ہے، وہ لفظوں سے زیادہ بولتی ہے،
وہاں کی ہوا میں ایک عجیب سا جادو ہے جیسے فطرت خود دعا بن کر دل میں اتر رہی ہو۔
میں دنیا دیکھوں گا،
نئے تجربے سمیٹوں گا،
نئے نظریات بناؤں گا
مگر دل؟
دل تو ہمیشہ پاکستان میں ہی دھڑکے گا،
جہاں میری پہچان ہے،
جہاں میری مٹی کی خوشبو ہے،
جہاں میرے خواب جڑے ہیں۔ 🌍❤️🇵🇰
تحریر: شہباز افضل 🍂

12/10/2025

جنوبی ایشیا کے خطے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے جغرافیائی، سیاسی اور نظریاتی تضادات کے درمیان جھولتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ کشیدگی کسی روایتی سرحدی تنازعے سے زیادہ، ایک علاقائی اور بین الاقوامی توازنِ طاقت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیمیں، خصوصاً تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)، اس کے اندرونی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت یہ مؤقف رکھتی ہے کہ وہ اپنی زمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتی، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کی کمی نے اعتماد کا خلا گہرا کر دیا ہے۔
اس تناؤ کی ایک اہم جڑ “ڈیورنڈ لائن” بھی ہے، جو صرف ایک سرحد نہیں بلکہ سیاسی اور نظریاتی عدم اتفاق کی علامت بن چکی ہے۔ پاکستان اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حدِ فاصل سمجھتا ہے، جبکہ افغانستان کی ایک بڑی آبادی اب بھی اسے تقسیمِ قبائل کا زخم مانتی ہے۔ یہ اختلاف بار بار اس وقت شدت اختیار کر لیتا ہے جب سرحدی جھڑپیں تجارتی راستوں کی بندش یا سفارتی بیانات کی صورت میں ابھرتی ہیں۔
عالمی تناظر میں، یہ کشیدگی صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں۔ یہ علاقائی سلامتی، اقتصادی راہداریوں، اور عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ چین، جو سی پیک کے ذریعے اس خطے میں اپنا اثر بڑھا رہا ہے، افغانستان میں عدم استحکام کو اپنے منصوبوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ایران، وسطی ایشیائی ریاستیں، اور روس بھی افغانستان کی غیر یقینی صورتحال سے متأثر ہیں کیونکہ یہ خطہ توانائی کی راہداریوں اور سیکیورٹی زونز کے بیچ واقع ہے۔
اگر پاکستان اور افغانستان کے مابین تصادم بڑھتا ہے تو عالمی سطح پر اس کے اثرات گہرے ہوں گے۔
پہلا اثر: دہشت گردی کے خلاف عالمی حکمتِ عملی مزید کمزور پڑے گی۔ ایسی صورتحال میں عسکری گروہ دوبارہ منظم ہو سکتے ہیں، جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
دوسرا اثر: اقتصادی راہداریوں کی سست روی، خصوصاً چین، ایران اور وسطی ایشیا کے تجارتی مفادات کو متاثر کرے گی۔
تیسرا اثر: انسانی بحران کی صورت میں مہاجرین کی نئی لہر جنم لے گی، جس سے عالمی اداروں اور ہمسایہ ممالک پر دباؤ بڑھے گا۔
ان تمام امکانات کے بیچ، مغربی دنیا کے لیے بھی یہ ایک نیا امتحان ہے۔ امریکہ، جو پہلے ہی افغانستان سے اپنی موجودگی ختم کر چکا ہے، اب اس خطے کی کسی ممکنہ جنگ میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا، مگر وہ سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کرے گا۔
دوسری طرف، روس اور چین دونوں یہ نہیں چاہیں گے کہ افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنے یا پاکستان میں عدم استحکام ان کے مفادات کو متاثر کرے۔ لہٰذا، ان دونوں ممالک کی کوشش ہوگی کہ کشیدگی کو محدود رکھا جائے اور سفارتی دباؤ کے ذریعے تنازع کو روکا جائے۔
مختصراً، پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ خطے کے تزویراتی نقشے، توانائی کے راستوں، اور عالمی طاقتوں کے مفادات کا حصہ بن چکی ہے۔ اگر اس تنازع کو سیاسی و سفارتی سطح پر حل نہ کیا گیا، تو یہ جنوبی ایشیا سے لے کر وسطی ایشیا تک عدم استحکام کی نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی دونوں پر پڑیں گے۔
تحریر: شہباز افضل 🍂

11/10/2025

آج بیٹیوں کا عالمی دن ہے اور یہ بچی بھی اسوقت پولیس کی حراست میں ہے ‏اس بچی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔۔۔حافظ سعد رضوی کی فیملی اور ان کی بچیوں کی گرفتاری انتہائی قابل افسوس اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ۔۔۔ ٹی ایل پی سے لاکھوں اختلافات لیکن خواتین اور بچیوں کا کیا قصور ہے
سعد رضوی سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ ، مگر ان کے گھر کا تقدس پامال کرنا اور خواتین کو گرفتار کرنا قابلِ مذمت اقدام ہے ایسے واقعات ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور انتقامی طرزِ عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔"
ریاست کا گندہ کردار
مولانا خادم حسین رضوی رحمة اللہ علیہ کے گھر سے ان کی بیوہ ،بیٹیاں سعد رضوی کی بیگم اور
مدرسہ کی طالبات گرفتار
تحریک لبیک کی قیادت کو بلیک میل کرنے کی گھٹیا ترین
حرکت❗️
نوٹ: مجھے تحریک لبیک سے ایک پرسنٹ بھی ہمدردی نہیں ہے اور نا ہی میرا ان سے کوئی سیاسی تعلق ہے اور نا ہی سیاسی طور پر یہ جماعت مجھے پسند ہے لیکن جو غلط ہے وہ ہمیشہ غلط ہی کہوں گا

11/10/2025

اگر سوال کیا جائے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ انڈیا چائنیز کرنسی میں ڈیل کرے ؟
کوئی بھی تجزیہ کار نہیں مانے گا اور ناں ہی کہے گا
لیکن
ایک دم تازہ خبر آئی ہے کہ انڈیا نے رشین آئل کی خریداری کے لئے
چائنیز یو آن کا استعمال شروع کردیا ہے
یہ مودی نے ٹرمپ کو انگلی نے پورا انگوٹھا چڑھا دیا ہے
دشمن ملک کی کرنسی استعمال کرنا کوئی چھوٹا نہیں بہت بولڈ قدم ہے !

08/10/2025

آج ایک وڈیو دیکھی دنیا کے کسی ملک میں لوگ زخمی تتلیوں کے پر جوڑ رہے تھے تاکہ وہ دوبارہ اُڑ سکیں۔ منظر دیکھ کر دل جیسے پگھل سا گیا۔ سوچا، انسان جب چاہے تو کتنا خوبصورت ہو سکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ اس کے اندر احساس زندہ ہو۔ وہاں کے لوگ صرف تتلیوں کے نہیں، دلوں کے زخم بھی بھرنا جانتے ہیں۔ ان معاشروں نے انسان کو صرف اعداد و شمار نہیں سمجھا، بلکہ اس کے دکھ، اس کی تھکن، اس کی ضرورتوں کو بھی اپنی ذمہ داری مانا ہے۔ وہاں ریاست ایک مشین نہیں، ایک ماں کی طرح ہے جو اپنے ہر بچے کا خیال رکھتی ہے، چاہے وہ کمزور ہو یا طاقتور۔
اور پھر دل میں ایک تلخ خیال آیا…
ہماری طرف بھی تو حکومتیں ہیں، ادارے ہیں، نظام ہیں۔ مگر یہاں انسان کی قدر صرف اتنی ہے جتنی اس کے ووٹ کی۔ باقی دنوں میں وہ کاغذوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں جینا ایک جدوجہد ہے، اور مرنا ایک حساب۔ مزدور صبح سورج کے ساتھ اُٹھتا ہے، سارا دن دھول میں پسینہ بہاتا ہے، اور شام کو خالی ہاتھ لوٹتا ہے۔ یہاں غریب کے خواب بھی ٹیکس کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ جو کماتا ہے، وہ بھی مقروض ہے؛ جو نہیں کما پاتا، وہ بھی مجرم سا محسوس کرتا ہے۔
دنیا میں کہیں احساس پالیسی بن چکا ہے،
اور یہاں پالیسیوں نے احساس مار دیا ہے۔
وہاں انسان کو جینے کے اسباب دیے جاتے ہیں،
یہاں جینے کی سزا ملتی ہے۔
انسانی معاشرے اپنی سوچ سے پہچانے جاتے ہیں
کسی کے نزدیک ترقی سڑکوں، عمارتوں، اور اعداد میں ہے؛
اور کسی کے نزدیک وہ ایک زخمی تتلی کے اُڑنے میں۔
فرق بس اتنا ہے —
وہاں انسانیت زندہ ہے،
اور یہاں انسان صرف زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تحریر شہباز افضل 🍂

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Telephone

Website

Address


Islamabad