عورتوں کے پوشیدہ امراض کا علاج ۔۔

عورتوں کے پوشیدہ امراض کا علاج ۔۔

Share

PCOD
PCOS
va**na issue
#mensturalproblem
#dateproblem
#lecorrhea
#Breastissue
breast tight problems

28/11/2025

یہ سفید پاؤڈر جیسا مادّہ "ورنِکس کیسِوسا" (Vernix Caseosa) کہلاتا ہے۔ یہ بچے کی جلد پر قدرتی حفاظتی تہہ ہوتی ہے۔
1) یہ کیا ہے؟
ورنِکس ایک سفید، موم جیسا نرم مادّہ ہے جو بچے کی جلد پر حمل کے آخری مہینوں میں بنتا ہے۔

2) کیوں ہوتا ہے؟
یہ مادّہ بچے کی جلد کو ماں کے پیٹ کے پانی (امنیٹک فلوئڈ) سے بچانے، جلد کو نمی برقرار رکھنے اور جراثیم سے حفاظت دینے کے لیے بنتا ہے۔

3) پیدائش کے وقت کیوں نظر آتا ہے؟
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ حفاظتی تہہ ابھی بھی اس کی جلد پر موجود ہوتی ہے، اس لیے سفید پاؤڈر/کریم کی طرح دِکھائی دیتی ہے۔

4) فائدے

جلد کو نمی اور حفاظت
بچے کو کم درجہ حرارت سے بچانے میں مدد
اینٹی بیکٹیریل خصوصیات
پیدائش کے فوراً بعد جلد کو نرم رکھنے میں مدد

5) ڈاکٹر اسے فوراً صاف کیوں نہیں کرتے؟
کیونکہ یہ جلد کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، اس لیے اکثر اسے فطری طور پر جذب ہونے دیا جاتا ہے

27/11/2025

پورے خاندان کو پتا ہوتا ہے کہ آپ کی اوقات ایک سوزوکی مہران جتنی بھی نہیں پھر آپ بارات میں نئی ہونڈا سوک یا کرولا سجا کر لے جاتے ہیں. اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ نے کرائے پر کرولا لی ہے یا مرسڈیز؟ گھر والے سسرال والے سب کو پتا ہے آپ کے پاس کتنے پیسے اور کونسی گاڑی ہے. پھر دکھاوے کی نفسیات آپ کو یہ سب کرنے پر مجبور کرتی ہے. میری بارات پرانی 82 کرولا میں گئی تھی، تو کیا اس سے میری عزت یا شان میں کوئی کمی ہو گئی؟؟

دلہا نے ساری زندگی تھری پیس پینٹ کوٹ ٹائی نہیں پہنا ہوتا، بارات پر پہن کر آ جاتا ہے. دلہن کا حال تو اس سے بھی برا ہے. تین چار لاکھ کا لہنگا نارمل بات ہے. اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز وہ لوگ جو کرائے پر کپڑے لے کر پہنتے ہیں. اور پھر وہ کپڑے سالہا سال الماریوں میں پڑے رہتے ہیں.

پھر ولیمے میں زیادہ سے زیادہ لوگ اور طرح طرح کے کھانے.. خاندان کے جن ڈھائی تین سو افراد کو کھانا کھلانے کے لیے آپ بےچین ہوتے ہیں پہلے دیکھ تو لیں کہ ان میں سے کتنے ہیں جو آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں. آپ ولیمے میں جو مرضی کھلا دیں آخر میں آپ کو باتیں ہی سننے کو ملیں گی.

اصل المیہ گاڑی یا سالن نہیں ہوتا، اصل المیہ وہ اجتماعی نظروں کا قید خانہ ہے جس میں ہم سب بند ہیں. ہم اپنی خوشی کے قیدی نہیں، خاندان کی توقعات کے غلام ہیں. ہر شادی میں ایک غیر مرئی عدالت لگتی ہے، جس کے جج تایا بھی ہوتے ہیں، پھپھی بھی، چچی بھی اور وہ محلے کی خالہ بھی جن سے آپ کی سال میں ایک بار سلام دعا ہوتی ہے. مگر ان کا فیصلہ ہی آپ کے وقار کا سرٹیفیکیٹ بن جاتا ہے.

انسان کو خوف سب سے زیادہ دو چیزوں سے لگتا ہے: تنہائی سے اور تضحیک سے. شادی میں دکھاوا اسی دوسرے خوف کا نتیجہ ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے سادہ تقریب رکھی تو لوگ ہمیں کمتر سمجھیں گے. بارات میں بیٹھا وہ دولہا جس نے کرائے کی گاڑی منگوائی ہوتی ہے، وہ سوٹ میں نہیں، خودفریبی میں لپٹا ہوتا ہے.

انسان کی فطرت ہے کہ دوسروں کی خوشی اسے اتنی پریشانی دیتی ہے جتنی اپنی بدحالی بھی نہیں دیتی. اور یہی وجہ ہے کہ آپ لاکھ خرچ کر لیں، لاکھ سجا لیں. دکھاوا ہمیشہ قرض میں ملتا ہے، اور عزت صرف سچائی میں. مگر افسوس کہ ہمارا معاشرہ دکھاوے کی فیکٹری ہے، جہاں ہر شخص اپنی جھوٹی شان کا مزدور ہے.

26/11/2025

بچوں میں زیادہ غصہ اور جارحانہ رویہ ، وجوہات اور حل

ہر دوسرے والدین یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے ضرورت سے زیادہ غصہ کرتے ہیں، چیزیں پھینکتے ہیں، مار پیٹ کرتے ہیں یا چھوٹی بات پر چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔
پہلی بات سمجھ لیں: بچہ غصہ اس لیے نہیں کرتا کہ وہ بدتمیز ہے وہ اس لیے کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس اپنے جذبات کو بیان کرنے کے مؤثر طریقے نہیں ہوتے۔ کچھ بچے زبان میں پیچھے ہوتے ہیں، کچھ کو نیند پوری نہیں ملتی، کچھ کی خوراک میں بے ترتیبی ہوتی ہے، اور کچھ گھر کی کشیدگی جذب کر لیتے ہیں۔ اگر والدین خود تیز لہجہ رکھتے ہوں، ہر بات پر ڈانٹ ہو، یا گھر میں روز لڑائی ہو تو بچہ یہی رویہ سیکھے گا۔ دوسرا اہم سبب حدوں کا نہ ہونا ہے: جب بچے کو ہر ضد پوری ملتی رہے، اور اچانک کسی دن منع کیا جائے تو وہ مزاحمت غصے کی شکل میں نکلتی ہے۔ موبائل، کارٹون اور مسلسل overstimulation بھی بچوں کے دماغ کو بگاڑتے ہیں فوری مزہ ملنے کی عادت انہیں ناخوشگوار حقیقت برداشت کرنا نہیں سکھاتی۔ کچھ بچوں میں حقیقی developmental یا behavioral issues ہوتے ہیںں جیسا ADHD وہاں غصہ محض سلوک نہیں، ایک سمپٹم ہوتا ہے۔

حل کی سیدھی بات: بچے کو
“No” سننے کی عادت ڈالیں مگر پیار بھرا مضبوط لہجہ رکھیں نخرہ دیکھیں تو اصول قائم رکھیں، لیکن بچے کو Ignore نہیں کریں۔ جسمانی سزا چھوڑیں وہ بچہ مزید بدتمیز نہیں بنتا، صرف بے حس بنتا ہے۔ سونے، کھانے، اور Screen time کا سخت شیڈول رکھیں ننھے دماغ کو predictability چاہیے۔ جب بچہ غصے میں ہو تو آپ بھی غصے میں نہ آئیں جذبات کو جذبات سے نہیں، اصول سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ بچے کو غصہ نکالنے کا جائز طریقہ سکھائیں: گہری سانسیں، کچھ دیر الگ بیٹھنا، soft toy پر پریشانی explain کرنا حل دیں، صرف لیکچر نہیں۔ اور سب سے اہم: بچے کی اچھی عادتوں کو نوٹ کریں اور فوری تعریف کریں reinforcement دماغ کو تربیت دیتا ہے، لیکچر نہیں۔

مختصر: بچے کا غصہ اس کی بے وقوفی نہیں، والدین کی ذمہ داری ہے کہ اسے جذبات سنبھالنا سکھائیں۔ آپ تعامل بدلیں گے تو بچہ بھی بدلے گا ورنہ وہ کہیں نہ کہیں وہی غصہ بڑے ہو کر دنیا سے نکالے گا۔

دعاؤں میں یاد رکھیں، سدا خوش رہیں، مسکراتے رہیں آمین ❣️

کـⷫـــͣــͬــͥــⷦـرن طاھـⷢــͥــͪــͣــⷮــر

25/11/2025

.

جنسی طاقت میں پاکدامنی کا بہت بڑا عمل دخل ہے اسی وجہ سے آج سے 1400 سال قبل مردوں کو نظریں جھکانے اور عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا تھا زنا گناہ۔ مشت زنی ۔پورن واچنگ ٹک ٹاک ۔ نیم عریاں مناظر فطری سیکس کو تباہ کر دیتے ہیں شرمگاہ کے تجسس کو قاٸم رکھنے کیلیے فطرت نے جانوروں کو بھی دم دے کر پردہ دے دیا ہے جسم پرست لوگوں کے برعکس شرم و حیا ۔پاکدامن باکردار لوگ۔ مولوی لوگ۔لنگوٹ کے پکے لوگ زیادہ۔ اچھا اور مستحکم سیکس پرفارم کرتے ہیں اور تقریبا تاحیات سیکس پرفارم کرتے رہتے ہیں جنسی بے راہ روی ۔زنا گناہ جنسی کمزوری کا سبب ہیں۔ اس کی مثال مشرق اور مغرب کے کلچر سے ھی دیکھ لیں پاکستان میں جب کوٸی لڑکی پاس سے گزرے تو مردوں کو اریکشن ہو جاتی ہے جب کہ مغرب میں مکمل بے لباس ہونے پر ہی اریکشن نھیں ہوتی فی میل پارٹنر نفس کو چھوے گی تو ہی مرد کو اریکشن ہوگی پردہ داری تجسس پیدا کرتی ہے فحاشی تجسس ختم کرتی ہے اس لیے پردہ داری اور فحاشی کا گہرا عمل دخل ہوتا ہے.اور وطن عزیز کی بات کریں تو ٹک ٹاک پر عریاں وڈیو پورن واچنگ یونیورسٹیوں کا اوپن ماحول اور وطن عزیز میں ملحد طبقہ بہت بڑا سرگرم ہورہا ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا میں ہر کوئی سیکس پر پڑھنا اور دیکھنا پسند کرتا ہیں اور بس یہیں وجہ ہیں کے آجکل کے دور میں جنسی کمزوریوں دور کرنے والی ادویات کی ڈمانڈ بڑھ رھی ہے.

18/10/2025

ماں کے رحم میں بچہ کیوں فضلہ خارج نہیں کرتا؟

اللہ تعالیٰ نے انسان کے نظامِ تخلیق کو حیرت انگیز طور پر کامل بنایا ہے۔
اگرچہ ماں کے پیٹ میں بچے کی آنتیں حرکت کرنا شروع کر دیتی ہیں، مگر اصل ہاضمہ اُس وقت نہیں ہوتا، کیونکہ بچہ خوراک منہ سے نہیں لیتا بلکہ نال (پُپّی) کے ذریعے حاصل کرتا ہے — تمام غذائی اجزاء براہِ راست خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔

بچہ رحم میں رہتے ہوئے تھوڑی مقدار میں امینیٹک فلوئڈ (پانی) نگلتا ہے، جو صاف اور تقریباً جراثیم سے پاک ہوتا ہے۔
یہی مائع آنتوں میں جمع ہو کر ایک گاڑھی مادہ بناتا ہے، جسے "میکونیم" (پہلا فضلہ) کہا جاتا ہے۔
لیکن چونکہ بچے کا مقعد سختی سے بند رہتا ہے، اس لیے یہ مادہ پیدائش تک باہر نہیں نکلتا۔

بچے کے جسم سے جو فالتو مادے بنتے ہیں، وہ نال کے ذریعے ماں کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں، جہاں ماں کا نظام اُنہیں صاف کر دیتا ہے۔
یوں رحم میں رہتے ہوئے بچے کا جسم خود کچھ خارج نہیں کرتا — یہ سب کام نال کے ذریعے مکمل ہوتا ہے۔

جب بچہ پیدا ہوتا ہے، سانس لینا شروع کرتا ہے اور جسم کے دباؤ میں تبدیلی آتی ہے، تو اُس کا نظامِ ہاضمہ پہلی بار خود کام کرنا شروع کرتا ہے — اور پہلی بار فضلہ خارج ہوتا ہے۔

یہ سب کچھ اس بات کی روشن علامت ہے کہ
🌿 اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کو کس قدر حکمت اور کامل نظام کے ساتھ ترتیب دیا ہے — رحم میں بھی بچہ دنیا کی زندگی کے لیے تیار ہو رہا ہوتا ہے۔ 💖

27/09/2025

😥😥😥😭😭😭

08/09/2025



مردوں کی طرف سے عام پوچھا جانے والا سوال

حمل کا عرصہ 9 ماہ پر محیط ہوتا ہے۔ اتنا عرصہ عموماً کسی بھی مرد کے لیے جنسی عمل سے پرہیز کرنا بہت مشکل ہے۔ خواتین میں بھی جنسی خواہش ماند نہیں پڑتی۔ بلکہ 80 فیصد خواتین کی جنسی خواہش میں حمل کی دوسری سہ ماہی 4 تا 6 ماہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر چہ آخری 3 ماہ میں اکثر خواتین کی جنسی خواہش اور دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ ماسٹر اینڈ جانسن کی ریسرچ کے مطابق ایک صحت مند حاملہ عورت کے ساتھ بچے کی پیدائیش سے 4 ہفتے قبل تک محفوظ طور پر مباشرت کی جاسکتی ہے۔ بعض افراد تو آخری دن تک بھی مباشرت جاری رکھتے ہیں۔ ماسٹر اینڈ جانسن کے مطابق بچے کی پیدائیش کے 4 ہفتے بعد عورت صحت یاب ہو جاتی ہے اور اس سے مباشرت کی جاسکتی ہے۔ اس دوران میں اس کی جنسی خواہش واپس آ جاتی ہے۔
وہ خواتین جو مس کیرج یا ابارشن کا تجربہ کر چکی ہیں، ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ حمل کے پورے عرصے میں خصوصاً پہلے چند ہفتوں اور آخری ہفتوں میں مباشرت اور دوسری جنسی سرگرمی جس کے نتیجے میں عورت آرگیزم حاصل کرے، بچنا چاہیے۔ کیوں کہ آرگیزم کی حامل جنسی سرگرمی سے مس کیرج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح کچھ دوسرے ماہرین کے مطابق ہفتوں میں بہتر یہیں ہے کہ مباشرت نہ کی جائے۔
آخری ہفتوں میں مباشرت کی وجہ سے لیبر کا درد (Labour Pain) پہلے شروع ہو سکتا ہے۔ اس طرح بچہ وقت سے پہلے پیدا ہو جاتا ہے۔
حمل کے پہلے 6 ماہ تک تو عام حالات کی طرح مباشرت کی جاسکتی ہے اور اتنی ہی بار کی جاسکتی ہے جتنی بار پہلے ہوتی رہی ہے۔ البتہ آخری ماہ پرہیز کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اس دوران میں بیوی خاوند کو متبادل طریقوں سے جنسی سکون مہیا کر سکتی ہے۔ حمل کے دوران میں خصوصاً آخری مہینوں میں مباشرت کا مشنری طریقہ یعنی عورت نیچے والے طریقے کو بالکل ترک کر دیا جائے۔ البتہ ابتدائی دنوں میں ایک دو ماہ میں یہ طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حمل کے دوران میں مباشرت کی سب سے بہتر پوزیشن پہلو بہ پہلو ہے۔ اس کے علاوہ آگے پیچھے اور عورت اوپر والا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ حمل کے آخری چند ہفتوں کے دوران میں مشنری طریقہ اختیار کرنے سے جعلی قبل از وقت پھٹ جاتی ہے۔ اور بچے کی پیدائیش قبل از وقت ہو جاتی ہے۔
ڈلیوری کے بعد عورت کے جنسی رو عمل (Response) میں 50 فیصد کمی آ جاتی ہے۔ مگر 4 ہفتوں کے بعد اس کی جنسی خواہش واپس آ جاتی ہے اور وہ نارمل ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ماسٹر اینڈ جانسن کے مطابق ڈلیوری کے 4 ہفتے بعد مباشرت کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر عورت کو خون آرہا ہو یا آپریشن ہوا ہو تو خون کے بند ہونے اور زخم کے مندمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے

جزاک اللہ خیرا

08/09/2025

*لبیڈو وہ قدرتی جنسی خواہش ہے جو مرد عورت کو سیکس کی طرف مائل کرتی ہے۔ جس میں جتنی زیادہ libido ہوتی ہے وہ سیکس کا اتنا ہی دیوانہ اور جنونی ہوتا ہے سولہ سال سے پچیس چھبیس سال کی عمر تک libido اپنی انتہا پر ہوتی ہے پھر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے اور یہ سب نیچرل ہوتا ہے*
*لبیڈو کا تعلق انسان کے جنسی ہارمونز ،انسان کی مجموعی صحت، لائف سٹائل ، کھانے پینے ، سونے کی عادات، ذہنی دباؤ اور تناؤ، ڈپریشن وغیرہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر یہ سب مسائل نہ ہو تو libido پچاس ساٹھ ستر سال تک بھی پرجوش رہتی ہے اگرچہ بیس پچیس سال کی جوبن جوانی والی بات نہیں رہتی لیکِن libido مرتی نہیں.*
لیکِن اگر صحت کے مسائل ہوں۔ لائف *سٹائل بُرا ہو۔ ہارمونز کی کمی کا مسئلہ ہو۔متوازن خوراک نہ ہو۔ ورزش اور نیند سے غفلت ہو تو یہ libido بہت حد تک کم یا ختم بھی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ایک اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ libido کا بنیادی طور پر تعلق تو جنسی ہارمونز کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ذہنی تناؤ اور ذہنی صحت libido پر کافی بُری طرح سے اثر انداز ہو سکتے ہیں خاص طور پر جوانی میں۔ اس لیے جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ٹینشن، ڈپریشن سے بچنا بہت ضروری ہے۔ اپنی لائف کو سادہ اور آسان رکھیں۔ اپنے اُوپر liabilities نہ چڑھائیں۔ اپنی نیند پوری کریں۔ ذہنی تناو* *اور پریشانیوں سے دور رہیں۔خوش رہنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔اپنی غذا میں بادام اخروٹ پستہ. گوشت، انڈے ، پھل ، سبزیاں ، بیج وغیرہ شامل کریں ۔ چینی کا استعمال کم سے کم کریں۔بلڈ پریشر سے بچیں۔ورزش کو روزآنہ کا معمول بنائیں ، اگر پھر بھی libido کا مسئلہ ہو تو اچھے ڈاکٹر سے ضرور رابطہ کریں.*

01/08/2025
Want your business to be the top-listed Government Service in Vehari?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Khanewal Road
Vehari
65