01/06/2026
تاریخِ خیبر کے عظیم مجاہد
ملا پاوہ زخه خیل
ملا پاوہ زخه خیل، جنہیں بعض مقامی روایات میں “ملا پاوا، بھی کہا جاتا ہے، ضلع خیبر کے اُن عظیم قبائلی اور دینی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق زخه خیل قبیلے سے تھا اور وہ اکاخیل و خیبر کے مشہور مجاہد ملا سید اکبر اکاخیل کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔
1897ء میں جب برطانوی افواج نے خیبر، تیراہ اور قبائلی علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی تو پورا علاقہ مزاحمت کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس تاریخی تحریک میں افریدی قبائل، اکاخیل، زخه خیل اور دیگر قبائل نے انگریز فوج کے خلاف شدید لڑائیاں لڑیں۔ انہی مجاہدین میں ملا پاوہ زخه خیل بھی شامل تھے، جنہوں نے نہ صرف میدانِ جنگ میں حصہ لیا بلکہ عوام میں آزادی اور جہاد کا جذبہ بھی پیدا کیا۔
مقامی روایات کے مطابق ملا پاوہ زخه خیل ایک نہایت بہادر، غیرت مند اور دین دار شخصیت تھے۔ وہ علماء کرام کے اُس قافلے کا حصہ تھے جو ہر دور میں اپنے وطن، دین اور قوم کے دفاع کے لیے کھڑے رہے۔ اس دور کے علماء صرف مسجد اور مدرسے تک محدود نہیں تھے بلکہ قوم کی رہنمائی، اتحاد اور آزادی کی تحریکوں کے اصل ستون تھے۔
برطانوی حکومت نے 1897ء کے قبائلی پاڅون کو دبانے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کیے، مگر خیبر کے قبائل نے سخت مزاحمت کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ تیراہ اور خیبر کے پہاڑ ان مجاہدین کی قربانیوں اور بہادری کے قصوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کے بہت سے تاریخی رہنماؤں کی مکمل تحریری تاریخ محفوظ نہیں رہ سکی، کیونکہ اُس وقت زیادہ تر معلومات زبانی روایات اور قبائلی داستانوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ اسی وجہ سے ملا پاوہ زخه خیل جیسے عظیم مجاہدین کے بارے میں سرکاری ریکارڈ کم ملتا ہے، مگر عوامی یادداشت میں اُن کی قربانیاں آج بھی زندہ ہیں۔
خیبر کے علماء، مشران اور قبائل نے ہمیشہ اپنے دین، وطن اور آزادی کے تحفظ کے لیے قربانیاں دی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے نام عزت اور فخر سے لیے جاتے ہیں۔
نوٹ فرمائے۔
تاریخی مؤرخین اور مقامی روایات سے ہم نے ملا پاوہ زخه خیل اور اُن کے ساتھی مجاہدین کے بارے میں یہ معلومات اکٹھی کی ہیں۔
اگر کسی کے پاس ان عظیم شخصیات، اکاخیل، زخه خیل یا دیگر قبائل کے تاریخی رہنماؤں اور اُن کی قربانیوں کے حوالے سے مزید معلومات موجود ہوں تو برائے مہربانی کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے علاقے کے اُن بھولے بس مجاہدین، علماء اور قومی مشران کی تاریخ نئی نسل تک پہنچائیں جنہوں نے دین، وطن اور آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
آپ کی ایک معلومات بھی ہماری تاریخ کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
31/05/2026
عید کا وہ مزہ اب محسوس نہیں ہوتا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ شاید یہ ہماری اپنی کمزوریاں اور گناہ ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں کی حقیقی خوشی اور لطف سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
البتہ عید پر بچے بہت پیارے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر بے اولاد جوڑے کو نیک، صالح بیٹوں اور بیٹیوں سے نوازے اور ان کے گھر خوشیوں سے بھر دے۔ آمین۔
عید کے موقع پر اپنے پیارے بچوں کی تصاویر کمنٹس میں شیئر کریں۔ ہر معصوم اور خوبصورت بچے کی تصویر پر ایک ❤️🥰😍 کا ری ایکشن اور ماشاءاللہ ضرور لکھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور انہیں نیک، صالح اور کامیاب بنائے۔ آمین۔ 🌹❤️
31/05/2026
ایم این اے اقبال آفریدی کی کال پر تیراہ متاثرین کی مسائیل پر منعقدہ جرگہ
سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی ،اکاخیل قومی کونسل چیئرمین حاجی خیال زمان ،سابقہ امیدوار حاجی سہیل احمد اور قومی کونسل کے مشران کا جرگہ میں شرکت
سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی کا قومی اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی پر زور
ایم این اے اقبال آفریدی کی کال پر منعقدہ اہم جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی نے تیراہ کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قومی یکجہتی، مشترکہ جدوجہد اور جامع حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف نمائندہ قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور متفقہ قومی مؤقف اختیار کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
شفیق آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک کمیٹی، اتحاد یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پوری آفریدی قوم اور ہزاروں متاثرہ خاندانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب قوم کے دکھ، نقصانات، زمینیں اور مطالبات مشترک ہیں تو جدوجہد بھی مشترکہ ہونی چاہیے۔
"اگر ہم متحد ہو گئے تو کوئی ہماری آواز کو نظر انداز نہیں کر سکے گا، لیکن اگر ہم تقسیم رہے تو ہمارے مخالفین نہیں بلکہ ہماری اپنی تقسیم ہماری سب سے بڑی کمزوری بن جائے گی۔"
کمیٹی اور رابطہ کاری کا اعلان
سابقہ ایم پی اے نے اعلان کیا کہ جلد ہی اکاخیل قومی کونسل تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع کرے گی تاکہ ایک مشترکہ، شفاف اور بااعتماد مذاکراتی عمل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے 24 رکنی کمیٹی، تیراہ متاثرین کے نمائندگان، آفریدی قومی مشران، سیاسی اتحاد اور دیگر نمائندہ گروپس کو ایک مشترکہ فورم پر لانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ تمام فریقین ایک متفقہ قومی مؤقف اختیار کر سکیں۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ تیراہ کے متاثرین کی واپسی، بحالی ،امن وامان اور دیگر اہم معاملات کے لیے ایک سپریم جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو مستقبل کے لائحہ عمل، مذاکراتی حکمتِ عملی اور قومی مؤقف کا تعین کرے گا۔ ان کے مطابق آئندہ تمام فیصلے پوری آفریدی قوم کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کیے جائیں گے۔
تیراہ کے اہم مسائل
شفیق آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل میں متاثرین کی باعزت واپسی، ریلیف کی فراہمی، کاشت کاری کی بحالی، معاشی استحکام اور امن و امان شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل کے مؤثر حل کے لیے تمام قومی قوتوں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اجتماعی آواز کے ذریعے عوامی مطالبات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر شفیق آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اکاخیل قومی کونسل تمام نمائندہ قوتوں کے درمیان اعتماد سازی، رابطہ کاری اور اتحاد کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد ہی ہماری طاقت ہے، اور تیراہ کے مسائل کا حل قومی اتفاق، مشترکہ حکمتِ عملی اور اجتماعی جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔"
31/05/2026
💔 ایک مجبور ماں کی فریاد 💔
ایک غریب اور مجبور ماں پر محلے کے دکاندار کے 35 ہزار روپے ادھار ہیں۔ یہی ماں اپنے بچوں کے لیے ادھار پر راشن لیتی رہی تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ اب دکاندار بھی مجبوری کا شکار ہے، اس نے مزید ادھار دینے سے معذرت کر لی ہے اور بقایا رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
الحمدللہ ایک مخیر دوست نے 10 ہزار روپے مدد کر دیے ہیں، مگر ابھی بھی 25 ہزار روپے باقی ہیں۔ اس ماں کا ایک بیٹا محنت مزدوری کرتا ہے مگر وہ بھی شدید بیمار ہے، گھر کے حالات انتہائی خراب ہیں۔
ہم سب سے گزارش ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اس مجبور ماں کا سہارا بنیں۔ آپ کے 100، 200 یا 500 روپے شاید آپ کے لیے معمولی ہوں، مگر کسی بھوکے گھر کے لیے بہت بڑی امید بن سکتے ہیں۔
جاز کیش نمبر:شیرباز خان
03086173471
یا ایزی پیسہ نمبر شیر باز خان
03339414811
یقین رکھیں، آپ کی تھوڑی سی مدد ایک ماں کے آنسو پونچھ سکتی ہے، ایک گھر کا چولہا جلا سکتی ہے اور ایک مجبور خاندان کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہے۔
اللہ پاک ہر مدد کرنے والے کو دنیا و آخرت میں آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین 🤲
30/05/2026
🚨 گمشدہ بچے کی تلاش 🚨
کیا آپ اس بچے کو پہچانتے ہیں؟
یہ بچہ، وقاص ولد عبدالصمد، گزشتہ چھ ماہ سے لاپتہ ہے۔ اس کی عمر تقریباً 10 سے 12 سال ہے۔ اس کی تصویر بھی نیچے دیکھی جاسکتی ہے۔
ان کے والد صاحب کی ویڈیو بھی ملاحظہ کیجئے۔
اگر آپ نے اسے کہیں دیکھا ہے یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات آپ کے پاس ہیں، تو براہِ کرم انسانی ہمدردی کے ناطے نیچے دیے گئے نمبروں پر فوری رابطہ کریں۔
📞 رابطہ نمبر:
0307 0528845
0301 5962526
آپ کا ایک چھوٹا سا عمل ایک خاندان کی ڈھیروں خوشیاں لوٹا سکتا ہے۔ براہِ کرم اس پیغام کو اپنے حلقہ احباب میں زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
30/05/2026
یہ تصویر جہانگیر کرکٹ گراؤنڈ میلوارڈ اکاخیل کی ہے جو عید الاضحیٰ کے دن لی گئی ایک وقت تھا جب عید کے موقع پر یہی میدان ہزاروں لوگوں کی رونق بچوں کی قہقہوں نوجوانوں کی سرگرمیوں اور عوامی خوشیوں کا مرکز ہوتا تھا آج وہی میدان خاموش کھڑا ہے گویا گزرے ہوئے خوبصورت دنوں کی داستان سنا رہا ہو
یہ خاموشی ہمیں امن کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے علاقے میں دوبارہ پائیدار امن قائم فرمائے تاکہ جہانگیر کرکٹ گراؤنڈ میلوارڈ اکاخیل ایک بار پھر خوشیوں کھیلوں اور عوامی اجتماعات سے آباد ہو جائے آمین
29/05/2026
اعلانِ وفات
حاجی شہزاد گل اور حاجی مہربان آکا خیل سلطان خیل کے چچا زاد بھائی، جبکہ سید اعوان اور صدام کے والدِ محترم الچہ گل بقضائے الٰہی وفات پا گئے ہیں۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج شام 7 بجے، بروز جمعہ، سلطان خیل قومی مسجد کے ساتھ واقع مقبرے میں ادا کی جائے گی۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
28/05/2026
مولانا سید اکبر آفریدی چیف آف آکاخیل کون تھا
مولانا سید اکبر کا تعلق قوم آفریدی کی ذیلی شاخ اکاخیل تپہ سلطان خیل سے تھا ان کا مرکز تیراہ کا علاقہ تھا،جہاں سے انہوں نے اپنی تحریک کو منظم کیا تاریخی اندازوں کے مطابق وہ 1850 سے 1860 کے درمیان پیدا ہوئے جبکہ ان کا انتقال تقریباً 1898 کے آس پاس ہوا برطانوی ریکارڈز میں انہیں “Mullah Said Akbar Aka Khel” اور بعض جگہ “Akhundzada” کے لقب سے یاد کیا گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کا خاندان مذہبی اور روحانی حیثیت رکھتا تھا انیسویں صدی کے آخری دور میں برطانوی حکومت نے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے “فارورڈ پالیسی اختیار کی۔ اسی دوران 1893 میں ڈیورنڈ لائن معاہدہ ہوا جس کے ذریعے قبائلی علاقوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ قبائل نے اس حد بندی کو اپنی آزادی اور خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھا۔ انہیں یہ احساس تھا کہ برطانوی حکومت آہستہ آہستہ ان کے علاقوں پر قبضہ جما رہی ہے اور ان کی سیاسی و قبائلی خودمختاری ختم کرنا چاہتی ہے۔
اسی پس منظر میں 1897 کی عظیم قبائلی بغاوت نے جنم لیا، جو پورے سرحدی خطے میں پھیل گئی۔ اس تحریک میں مہمند، آفریدی، اورکزئی اور دیگر قبائل نے حصہ لیا۔ اس بغاوت کے اہم روحانی اور سیاسی رہنماؤں میں ہڈہ ملا، سوات کے مستانہ ملا اور ملا سید اکبر آفریدی شامل تھے۔
برطانوی مؤرخین اور سرکاری ریکارڈز کے مطابق ملا سید اکبر نے آفریدی اور اورکزئی قبائل کی مشترکہ بغاوت کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کے مختلف قبائلی جرگوں، مذہبی رہنماؤں اور افغانستان میں موجود افراد سے روابط تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغان سپہ سالار غلام حیدر خان چرخی کے ساتھ رابطے میں تھے، جو برطانوی حکومت کے سخت مخالف سمجھے جاتے تھے۔ اسی طرح ان کے ہڈہ ملا اور مستانہ ملا سواتی کے ساتھ بھی روابط تھے۔
برطانوی ریکارڈ میں یہ بھی ذکر ہے کہ ملا سید اکبر کا کابل میں موجود ایک آفریدی جرگے سے رابطہ تھا، جس کی قیادت قاضی میرا خان کر رہے تھے۔ اگرچہ افغانستان کے امیر نے کھلی جنگ کی حمایت نہیں کی، لیکن قبائل کے اندر یہ امید موجود تھی کہ افغانستان اور دیگر مسلم قوتیں ان کی پشت پناہی کریں گی۔
ملا سید اکبر صرف مذہبی شخصیت نہیں تھے بلکہ ایک منظم سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی رکھنے والے رہنما بھی تھے۔ ان کے گھر سے بڑی تعداد میں خطوط برآمد ہوئے جن میں مختلف قبائل کے ملاؤں، ملکوں اور رہنماؤں کو جہاد اور اتحاد کی دعوت دی گئی تھی۔ ان خطوط سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تحریک کے رابطہ مرکز تھے۔
ان خطوط میں “جہاد”، “غزا”، “کافروں کے خلاف قیام” اور “دینِ نبی ﷺ کے دفاع” جیسے الفاظ بار بار استعمال کیے گئے۔ یہی مذہبی بیانیہ قبائل کے اندر جذبہ پیدا کرنے کا اہم ذریعہ بنا۔ ملا سید اکبر نے سیاسی مزاحمت کو مذہبی فریضے کی شکل دے دی، جس سے عام قبائلی عوام کی بڑی تعداد تحریک کا حصہ بن گئی۔
1897 میں جب بغاوت نے شدت اختیار کی تو آفریدی قبائل نے خیبر پاس کی اہم برطانوی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے۔ آکاخیل، ملک دین خیل اور ذخہ خیل قبائل تیراہ سے نکلے اور خیبر پاس کی طرف پیش قدمی کی۔ 23 اگست 1897 کو آفریدیوں نے علی مسجد سے لے کر لنڈی خانہ تک پورے خیبر پاس پر قبضہ کر لیا۔
فورٹ ماؤڈ کو آگ لگا دی گئی، علی مسجد تباہ ہو گیا اور لنڈی کوتل کا محاصرہ کر لیا گیا۔ برطانوی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ خیبر رائفلز، جو زیادہ تر قبائلی سپاہیوں پر مشتمل ایک فورس تھی، برطانوی حکومت کی طرف سے لڑ رہی تھی۔ ان کے کمانڈر کیپٹن بارٹن کو برطانوی حکام نے واپس بلا لیا، جس پر خود برطانوی افسران نے بعد میں سخت تنقید کی۔
لنڈی کوتل کی جنگ کے دوران سبیدار مرسل خان نے خیبر رائفلز کی قیادت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے دو بیٹے حملہ آور قبائل میں شامل تھے جبکہ ایک بیٹا ان کے ساتھ برطانوی فورس میں موجود تھا۔ یہ صورتحال قبائلی معاشرے کی پیچیدگی اور داخلی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔
رابرٹ واربرٹن اپنی کتاب میں ایک واقعہ بیان کرتا ہے کہ لنڈی کوتل کے محاصرے کے دوران ملا سید اکبر قلعے کی دیوار کے قریب پہنچ گئے۔ خیبر رائفلز کے ایک سپاہی نے کہا:
“یہ رہا سید اکبر، مجھے اسے گولی مارنے دو تاکہ یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔”
لیکن ایک قبائلی نوجوان نے غصے میں جواب دیا:
“کیا تم اسلام کی روشنی کو بجھانا چاہتے ہو؟”
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قبائل کے اندر ملا سید اکبر کو کس قدر روحانی اور مذہبی احترام حاصل تھا۔
برطانوی حکومت ملا سید اکبر کو اس تحریک کا انتہائی خطرناک اور بااثر رہنما سمجھتی تھی۔ اسی لیے تیراہ کے واران درہ ( جو اب واڑن درہ کے نام سے مشہور ہے)میں ان کے گھر اور مسجد پر خصوصی حملہ کیا گیا۔ 14 اور 15 نومبر 1897 کو برطانوی فوج نے ان کے گھر کی تلاشی لی، خطوط ضبط کیے اور گھر کو منہدم کر دیا۔
برطانوی افسران نے ان خطوط کو “بہت اہم” قرار دیا اور کہا کہ ان سے پوری تحریک کی نوعیت سمجھنے میں مدد ملی۔ ان کے گھر سے ایک منبر بھی ملا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کو تقاریر کے ذریعے جہاد کے لیے آمادہ کرتے تھے۔
ملا سید اکبر کا مقصد صرف برطانوی فوج سے جنگ کرنا نہیں تھا بلکہ وہ قبائلی اتحاد قائم کرنا چاہتے تھے۔ وہ آفریدی، اورکزئی، مہمند، باجوڑ اور ننگرہار کے قبائل کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ایک مشترکہ مزاحمتی قوت بنانا چاہتے تھے۔
ان کی سیاسی جدوجہد کے اہم مقاصد درج ذیل تھے:
1۔ برطانوی قبضے اور سرحدی مداخلت کا خاتمہ
2۔ قبائلی آزادی اور خودمختاری کی بحالی
3۔ مختلف قبائل کا اتحاد اور مشترکہ مزاحمت
4۔ برطانوی مالی اور سیاسی کنٹرول کے نظام کا خاتمہ
5۔ افغانستان اور مسلم دنیا کی حمایت حاصل کرنا
6۔ جہاد کے ذریعے تحریک کو مذہبی جواز فراہم کرنا
اگرچہ 1897 کی بغاوت فوجی لحاظ سے مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکی، لیکن اس نے برطانوی حکومت کو شدید نقصان پہنچایا اور یہ ثابت کیا کہ قبائلی علاقوں کو مکمل طور پر زیرِنگیں رکھنا آسان نہیں۔ بعد میں برطانوی فوج نے تیراہ مہم شروع کی، لیکن سخت جغرافیہ، موسم اور قبائلی مزاحمت کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ملا سید اکبر کی جدوجہد نے بعد کے قبائلی اور آزادی کے تحریکوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی مزاحمت نے قبائلی علاقوں میں آزادی، غیرت اور استعمار دشمنی کے جذبے کو زندہ رکھا۔
آج بھی ملا سید اکبر آفریدی آکاخیل کو پشتون سرزمین کے ایک عظیم مجاہدِ آزادی، روحانی پیشوا اور برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم، اپنی سرزمین اور اپنے دین کے دفاع کے لیے جدوجہد کی اور تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
ملا سید اکبر کا مزار اب بھی وادی تیراہ اکاخیل زرمین گل چوک کے ساتھ نختر قبرستان میں موجود ہے
انشاء اللہ کچھ ہی دنوں میں آپ کے ساتھ ملا سید اکبر کی مزار اور مسجد کی ویڈیو شئیر کرو نگا
کاپی
27/05/2026
اہم اعلانِ گمشدگی
میرا شناختی کارڈ اور گاڑی کے ضروری کاغذات چند دن قبل کہیں گم ہوگئے ہیں۔اگر کسی بھائی کو یہ دستاویزات ملیں یا ان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو براہِ کرم نیچے دیے گئے نمبر پر فوری رابطہ کریں۔
📞 03339198751
آپ کا ایک چھوٹا سا تعاون میرے لیے بڑی مدد ثابت ہوگا۔جزاکم اللہ خیراً 🤝