27/04/2026
الوداع کہنا آسان نہیں ہوتا😭…
یارسول اللہ ﷺ! فراق وہ درد ہے جو روح کی سانسیں توڑ دیتا ہے۔
دل مدینہ سے نکل بھی آئے تو یادوں کے دروازے بند نہیں ہوتے…
موت سے بھی زیادہ سخت ہے یہ جدائی، یہ فراق، یہ تڑپ…
بس دل ہر لمحہ پکار اٹھتا ہے: کاش پھر سے درِ مصطفیٰ ﷺ نصیب ہو جائے۔"
07/04/2026
خانہ کعبہ کے روح پرور مناظر ماشاءاللہ ♥️
یہ منظر خانہ کعبہ کے تقدس، روحانیت اور عظمت کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ سیاہ غلاف (کسوہ) کی یہ جھلک دلوں کو ایک عجیب سکون اور عقیدت سے بھر دیتی ہے۔ لاکھوں مسلمانوں کی نظریں اسی مرکز کی طرف ہوتی ہیں، جہاں ہر دل اپنی دعائیں لے کر حاضر ہوتا ہے۔
تصویر میں نظر آنے والا ہجوم اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے گھر کی محبت دنیا کے ہر کونے سے لوگوں کو کھینچ لاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رنگ، نسل اور زبان کی تفریق ختم ہو جاتی ہے، اور سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر اپنے رب کے سامنے جھک جاتے ہیں۔
یہ روح پرور لمحے انسان کو عاجزی، محبت اور بندگی کا درس دیتے ہیں۔ خانہ کعبہ کا ہر منظر ایمان کو تازگی بخشتا ہے اور دل کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
03/04/2026
ایک دن حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ اچانک ایک شخص نمودار ہوا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال سیاہ تھے، اور سفر کے آثار اس پر ظاہر نہیں تھے۔ صحابہ میں سے کوئی اسے پہچان نہیں سکا۔ وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ کر دو زانو بیٹھ گیا، اپنے گھٹنوں کو آپ ﷺ کے گھٹنوں سے ملا دیا اور ہاتھ حضور کی رانوں پر رکھ دیے۔
اس نے عرض کیا: "اے محمد! مجھے بتائیے کہ اسلام کیا ہے؟"
حضور ﷺ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ دل و زبان سے شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔"
اس نے کہا: "آپ نے سچ کہا۔"
پھر اس نے پوچھا: "ایمان کیا ہے؟"
حضور ﷺ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ اللہ، اس کے فرشتے، اس کی کتابیں، اس کے رسول، یومِ آخرت اور تقدیرِ خیر و شر کو حق جانو اور مانو۔"
اس نے کہا: "آپ نے سچ کہا۔"
اس کے بعد پوچھا: "احسان کیا ہے؟"
حضور ﷺ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، حالانکہ تم اسے نہیں دیکھتے، مگر وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔"
اس نے قیامت کے بارے میں سوال کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "جو پوچھا جا رہا ہے وہ بھی اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔"
پھر اس نے کچھ نشانیاں پوچھی: حضور ﷺ نے فرمایا:
لونڈی اپنے آقا اور مالکہ کے سامنے نافرمانی کرے گی،
لوگ دیکھیں گے کہ جن کے پاؤں میں جوتے نہیں اور تن پر کپڑا نہیں وہ بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے،
تہی دست اور بکریاں چرانے والے زمین و زمان پر حکمرانی کی کوشش کریں گے اور ایک دوسرے پر بازی لے جائیں گے۔
اس کے بعد وہ شخص چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: "اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ وہ سوال کرنے والا کون تھا؟"
حضرت عمرؓ نے عرض کیا: "اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔"
حضور ﷺ نے فرمایا: "وہ جبرئیل علیہ السلام تھے، تمہارے دین کو سکھانے کے لیے آئے تھے۔"
یہ واقعہ اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اسلام، ایمان اور احسان کے بنیادی اصول واضح کیے گئے اور قیامت کی کچھ نشانیوں کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا گیا۔