صداۓ حرمین شریفین Sadaye Haramain Sharifain

صداۓ حرمین شریفین  Sadaye Haramain Sharifain

Share

سبحان الله،الحَمْدُ ِلله،الله أكبر،

Photos from ‎صداۓ حرمین شریفین  Sadaye Haramain Sharifain‎'s post 16/04/2026

The maintenance of the Kaabah continues

17/02/2026

BREAKING NEWS || The Ramadan crescent has been sighted in Saudi Arabia. Tomorrow, Wednesday, 18th February 2026 will be the first day of Ramadan 1447 Hijri. Taraweeh prayers will commence tonight on the first evening of the blessed month.
-

عاجل | ثبوت رؤية هلال رمضان‬⁩ في السعودية، ويوم غد الاربعاء الموافق ١٨ فبراير ٢٠٢٦م هو أول أيام شهر رمضان المبارك لهذا العام ١٤٤٧هـ

31/12/2025

سال نو کا جشن

24/09/2025

NEWS || Royal Order: Appointment of Sheikh Dr. Salih bin Humaid, Imam of Masjid Al Haram, as the M***i of the Kingdom of Saudi Arabia and Head of the Council of Senior Scholars, succeeding Sheikh Abdul Aziz Aal ash-Shaykh.

عاجل | تعيين الشيخ د. صالح بن حميد، إمام المسجد الحرام، مفتيا للمملكة العربية السعودية ورئيسا لهيئة كبار العلماء خلفا للشيخ عبد العزيز آل الشيخ. نفع الله به وبعلمه.

27/08/2025

معارف الحدیث
کتاب: کتاب المناقب والفضائل
باب: رسول اللہ ﷺ کے فضائل اور مقامات عالیہ
حدیث نمبر: 1975

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے اسی حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر سے تشریف لے آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ آپس میں یہ باتیں کر رہے ہیں ان میں سے ایک نے (حضرت ابراہیمؑ کی عظمت شان بیان کرتے ہوئے) کہا کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا ایک دوسرے صاحب نے کہا کہ اور حضرت موسیؑ کو ہم کلامی کا شرف بخشا پھر ایک اور صاحب نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ مقام ہے کہ وہ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں پھر ایک اور صاحب نے کہا کہ حضرت آدمؑ کو اللہ تعالی نے برگزیدہ کیا (کہ ان کو براہ راست اپنے دست قدرت سے بنایا اور ان کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا وہ صحابہ یہ باتیں کررہے تھے) کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا اظہار تعجب سنا، بےشک ابراہیمؑ اللہ کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں (ان کو اللہ تعالی نے اپنا خلیل بنایا ہے) اور بےشک موسیؑ نجی اللہ (اللہ کے ہمراز و ہم سخن) ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور بے شک عیسی روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور بےشک آدم صفی اللہ (اللہ کے برگزیدہ) ہیں اور فی الحقیقت وہ ایسے ہی ہیں اور تم کو معلوم رہنا چاہیے کہ میں حبیب اللہ (اللہ کا محبوب) ہوں اور یہ میں بطور فخر نہیں کہتا اور قیامت کے دن میں ہی لواءالحمد (حمد کا جھنڈا) اٹھانے والا ہوگا، آدم اور ان کے سوا بھی سب (انبیاء و مرسلین) میرے اس جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلا وہ شخص ہوگا جو قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی اور میں پہلا وہ شخص ہوگا جو (جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے) اس کے حلقہ کو ہلائے گا تو اللہ تعالی میرے لیے اس کو کھلوا دے گا اور مجھے جنت میں داخل فرمائے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہونگے اور یہ بات بھی میں فخر سے نہیں کہتا اور بارگاہ خداوندی میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ میرا اکرام و اعزاز ہوگا اور یہ بھی فخر سے نہیں کہتا۔ (جامع ترمذی و مسند دارمی)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج مبارک اور عام رویہ تواضع اور انکساری کا تھا لیکن ضرورت محسوس ہوتی تو اللہ تعالی کے ارشاد “وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ” کی تعمیل میں اللہ تعالیٰ کے ان خصوصی انعامات اور اعلی کمالات و مقامات کا بھی ذکر فرماتے جن سے آپ سرفراز فرمائے گئے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ حدیث اور جو حدیثیں اوپر درج کی گئیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی سلسلہ کے بیانات ہے وہ صحابہ کرامؓ جن کی گفتگو کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے حضرت ابراہیمؑ حضرت موسیٰؑ و عیسیٰؑ اور حضرت آدم (علیہم السلام) پر ہونے والے اللہ تعالیٰ کے ان خصوصی انعامات سے تو واقف تھے جن کا وہ تذکرہ کررہے تھے ان کو یہ سب کچھ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعلیم سے قرآن مجید سے معلوم ہو چکا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام عظمت کے بارے میں غالبا ان کی معلومات ناقص تھی اس لیے یہ خود ان کی ضرورت اور حاجت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ان کو بتلائیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا اور اس طرح بتلایا کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیؑ و عیسیؑ اور حضرت آدمؑ پر ہونے والے جن انعامات الہیہ اور ان کے جن فضائل ومناقب کا وہ ذکر کر رہے تھے، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی تصدیق فرمائی اس کے بعد اپنے بارے میں بتلایا کہ مجھ پر اللہ تعالی کا یہ خاص الخاص انعام ہے کہ مجھ کو مقام محبوبیت عطا فرمایا گیا ہے اور میں اللہ کا حبیب ہوں (ملحوظ رہے کہ جن اصحاب کرام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا وہ جانتے تھے کہ محبوبیت کا مقام سب سے اعلی و بالا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھی) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ان انعامات الہیہ کا ذکر فرمایا ہے جس کا ظہور اس دنیا کے خاتمہ کے بعد قیامت میں ہوگا ان میں سے لواءالحمد ہاتھ میں ہونے اور اولین شافع اور اولین مقبول الشفاعۃ ہونے کا ذکر مندرجہ بالا حدیثوں میں بھی آچکا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خصوصی انعامات خداوندی کا اور ذکر فرمایا ایک یہ کہ جنت کا دروازہ کھلوانے کے لیے سب سے پہلے میں ہی اس کے حلقوں کو حرکت دوں گا (جس طرح کسی مکان کا دروازہ کھلوانے کے لیے دستک دی جاتی ہے) تو اللہ تعالی فورا دروازہ کھلوا دیں گے اور مجھ کو جنت میں داخل فرمائیں گے اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور وہ بھی میرے ساتھ ہی جنت میں داخل کر لیے جائیں گے (یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقام محبوبیت پر فائز ہونے کا ظہور ہوگا) آخری بات آپ صلی اللہ وسلم نے اس سلسلہ میں یہ ارشاد فرمائی کہ “وانا اکرم الاولین و الآخرین علی اللہ” یعنی یہ بھی مجھ پر اللہ تعالی کا خاص الخاص انعام ہے کہ اس کی بارگاہ میں تمام اولین و آخرین میں سب سے زیادہ اکرم و اعزاز میرا ہی ہے اور جو مقام عزت مجھے عطا فرمایاگیا ہے وہ اولین و آخرین میں سے کسی اور کو عطا نہیں فرمایا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں جن خصوصی انعامات الہیہ کا ذکر فرمایا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ یہ بھی فرمایا “ولا فخر” جیسا کہ عرض کیا جاچکا اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالی کے ان خصوصی انعامات کا ذکر محض از راہ فخر اور اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے نہیں کر رہا ہوں بلکہ محض اللہ کے حکم کی تعمیل میں تحدیث نعمت اور اداء شکر کے لیے اور تم لوگوں کو واقف کرنے کے لئے کر رہا ہوں تاکہ تم بھی اس رب کریم کا شکر ادا کرو کیونکہ یہ انعامات تمہارے حق میں بھی وسیلہ خیر و سعادت ہیں۔

26/08/2025

Sheikh Abdul Wakeel ibn Sheikh Abdul Haq al-Hashimi, a Hadith Scholar and former Muadhin and Imam of Masjid Al Haram passed away earlier today. He was prayed upon after Fajr Prayers at Masjid Al Haram and laid to rest in Makkah

‎انا لله وانا اليه راجعون

Photos from ‎صداۓ حرمین شریفین  Sadaye Haramain Sharifain‎'s post 16/08/2025

یا اللّٰہ ھر جگہ مسلمانوں کی مدد فرما

12/08/2025

مسجد الحرام

11/08/2025
09/07/2025

()()()=-! افسوس صدا افسوس !-=()()()📍 شہیدِ منبر و محراب — مولانا عبیداللہؒ
(ایک قوم، ایک معاشرہ، ایک استاد… اور ایک خونی سبق)

إنا لله وإنا إليه راجعون

ایک معلم کو شہید کر دیا گیا۔
ایک عالمِ دین کو…
ایک استاد کو…
ایک مسجد کے امام کو…
ایک درویش صفت انسان کو،
جو دینِ اسلام کی تعلیم کے لیے گھر بار چھوڑ کر ضلع باجوڑ سے مردان، شیرگڑھ کالو شاہ آیا تھا — صرف اسی لیے کہ بچوں کو قرآن و سنت کا سبق دے سکے۔

مولانا عبیداللہ صاحب نے ایک بچے کو سبق نہ یاد کرنے پر نرمی سے تنبیہ کی، ایک تھپڑ مارا — وہی تھپڑ جو کبھی ہمارے باپ دادا استاد سے کھا کر عزت و غیرت سیکھتے تھے۔
مگر افسوس! آج وہی تھپڑ جان لیوا بن گیا۔

بچہ گھر گیا، اور اس کا بڑا بھائی چھری لے کر مدرسے پہنچا…
بغیر سوچے، بغیر سمجھے…
اور ایک انسان، ایک استاد، ایک عالمِ دین کو چھریوں کے وار سے شہید کر دیا۔

کیا یہی ہے آج کے والدین کی تربیت؟
کیا یہی ہے ہمارے معاشرے کا ظرف؟
کیا استاد کی عزت صرف کتابوں تک محدود رہ گئی ہے؟
کیا اب استاد کا تھپڑ، تذلیل سمجھا جائے گا اور قتل کا لائسنس بن جائے گا؟

📣 یہ صرف ایک شخص کا قتل نہیں —
یہ تعلیم، تربیت، دین، ادب اور اخلاق کی موت ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا:
جب ایک بچہ دیکھے گا کہ میرے گھر والے میرے استاد کو قتل کر سکتے ہیں — تو وہ کل کو کیا بنے گا؟
مجاہد؟ مصلح؟ یا معاشرے کا مجرم؟
جب ہم بچوں کو استاد کو گالی دینا، ہاتھ اٹھانا اور قتل کرنا سکھا دیں گے — تو ان سے اخلاق، دین داری، انسانیت کی توقع رکھنا بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟

---

📢 ہم حکومتِ پاکستان، عدالت، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں:
قاتل کو فوری گرفتار کر کے مثالی سزا دی جائے تاکہ کل کوئی اور عالم، کوئی اور معلم، یوں بےرحمانہ طریقے سے شہید نہ ہو۔

اگر کسی اسکول ٹیچر، کسی اسپتال کے ڈاکٹر یا کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ ایسا ہوتا —
تو میڈیا، پولیس اور عدالتیں سب حرکت میں آ چکے ہوتے۔
مگر آج؟
خاموشی…
کیونکہ شہید ہونے والا صرف ایک مدرس کا مولوی تھا،
جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ دین پڑھاتا تھا۔

---

🕊️ اللہ رب العزت سے دعا ہے:
مولانا عبیداللہ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،
اور ہمیں بطور والدین، بطور قوم اور بطور انسان، شعور اور غیرت عطا کرے —
تاکہ ہم اپنے بچوں کو استاد کا احترام، دین کی قدر، اور اخلاق کی اہمیت سکھا سکیں۔

اللّٰهم آمین یا رب العالمین()()() ()()()

Want your business to be the top-listed Government Service in Mecca?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Mecca

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm