Life In Madinah Al munawara

Life In Madinah Al munawara

Share

Welcome to our page. please Do follow and like our page. JazakALLAH khair �

Watsapp group

https://chat.whatsapp.com/DHh1VO2CNEh30bIQezPSuj?mode=gi_t

03/06/2026

حج کے قافلے لوٹ آئے ہیں،
احرام تہہ ہو چکے ہیں، تلبیہ کی صدائیں فضاؤں میں مدھم ہو گئی ہیں، مگر
اصل داستان اب شروع ہوتی ہے۔

کعبہ کی گلیاں پیچھے رہ گئیں، مگر سوال ابھی باقی ہے کہ کیا دل بھی بدل کر لوٹا ہے؟

عرفات کے میدان میں آنسو بہانا آسان تھا،
وہاں تو رحمت خود آسمان سے اترتی محسوس ہوتی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ
اب رات کی تنہائی میں بھی آنکھ نم رہتی ہے یا نہیں۔ مزدلفہ کی سنگلاخ زمین پر جاگنا آسان تھا، مگر خواہشات کے ہجوم میں دل کو بیدار رکھنا مشکل ہے۔ جمرات پر کنکریاں پھینکنا سہل تھا، مگر اپنے نفس کے غرور، حسد، غصے اور خواہشات کو ہر روز ٹھکرانا اصل مجاہدہ ہے۔

حج چند مناسک کا نام نہیں،
یہ دل کی ہجرت کا نام ہے۔ یہ اس سفر کا نام ہے جس میں انسان صرف خانۂ کعبہ کے گرد نہیں، اپنے باطن کے گرد چکر لگاتا ہے؛
اپنے اندر چھپے بتوں کو پہچانتا ہے؛ اپنی انا کے فرعون کو ڈھونڈتا ہے؛ اور پھر اسے ربِ کعبہ کے حضور قربان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اگر واپسی پر لہجہ وہی رہے، رویّے وہی رہیں،
دل میں کدورتیں ویسی ہی رہیں، اور نگاہ میں دنیا کی چمک پہلے جیسی ہی غالب رہے، تو پھر سفر تو ہوا،
مگر شاید مسافر ابھی منزل تک نہیں پہنچا۔

حج کی قبولیت کا اعلان صرف آسمان سے نہیں آتا،
اس کے آثار انسان کے اخلاق میں ظاہر ہوتے ہیں۔ نرم مزاجی میں، عاجزی میں، معافی میں، سچائی میں، اور اس کیفیت میں کہ بندہ لوگوں سے نہیں، اپنے رب سے جڑنے لگتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ وہ مکہ سے زمزم جیسی پاکیزگی، کھجوروں سے زیادہ مٹھاس، اور تحفوں سے زیادہ ایک زندہ دل لے کر آئے۔
ایسا دل جو ٹوٹے تو رب کے سامنے ٹوٹے،
جھکے تو رب کے سامنے جھکے،
اور دھڑکے تو رب کی یاد میں دھڑکے۔
ایسی زبان جو ذکر سے معطر ہو،
ایسی نگاہ جو ہر انسان میں اللہ کی صناعی دیکھے، ایسے قدم جو مسجد کی راہوں کو پہچانتے رہیں، اور ایسی روح جو دنیا کے شور میں بھی اپنے رب کی طرف سفر کرتی رہے۔

حج اختتام نہیں،
محبتِ الٰہی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
کعبہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے،
مگر کعبے کا رب بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ اصل امتحان حرم کی پاکیزہ فضاؤں میں نہیں، بلکہ بازاروں، گھروں، رشتوں اور روزمرہ زندگی کے ہجوم میں ہوتا ہے۔

وہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ سفر صرف جسم نے نہیں کیا تھا، روح بھی لوٹ کر آئی ہے۔
وہیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان مکہ سے واپس آیا ہے یا مکہ اس کے دل میں اتر آیا ہے۔

اور جب حج دل میں اتر جائے
تو پھر زندگی عبادت بن جاتی ہے،
سانسیں دعا بن جاتی ہیں،
اور انسان ہر قدم پر یوں چلتا ہے
جیسے ابھی ابھی عرفات سے لوٹا ہو
اور ابھی ابھی اپنے رب سے عہد کر کے آیا ہو۔

03/06/2026

میدان عرفات میں پاکستانی خاتون عازم حج کے ہاں بیٹے کی پیدائش
سعودی عرب... پاکستان سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ خاتون نے عرفات کی پہاڑی پر صحت مند بچے کو جنم دیا جس کا نام عرفات رکھ دیا گیا۔
سعودی عرب کے جبل الرحمہ ہسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر طارق محمد ابوالمطیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ زچہ و بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔ بچے کا وزن تین کلو 40 گرام ہے۔
ڈاکٹرز نے بتایا کہ پاکستانی خاتون نو ماہ کی حاملہ تھیں اور حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچی تھیں۔ یوم عرفہ پر وہ مقدس پہاڑی پر عبادت میں مصروف تھیں جب زچگی کا درد ہوا۔
کوہ عرفات پر موجود دیگر خواتین کی مدد سے پاکستانی خاتون نے بیٹے کو جنم دے دیا۔ بعد ازاں ایمبولینس کے ذریعے زچہ و بچہ کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
حج کے دوران کسی عازم حج کے یہاں بچے کی پیدائش کا رواں برس یہ دوسرا واقعہ ہے جب کہ کوہ عرفات پر آخری بار کسی بچے کی پیدائش 2007 میں ہوئی تھی۔

02/06/2026

02/06/2026

‏وادیِ منیٰ، جو مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ سے تقریباً 8 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے، حج کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ وسیع صحرائی وادی ہر سال لاکھوں عازمینِ حج کی میزبانی کرتی ہے اور اپنے بے شمار سفید خیموں کی وجہ سے "خیموں کا شہر" کے نام سے بھی مشہور ہے۔

حج کے ایام میں دنیا بھر سے آنے والے مسلمان وادیِ منیٰ میں قیام کرتے ہیں اور مختلف مناسکِ حج ادا کرتے ہیں۔ انہی مناسک میں رمیِ جمرات بھی شامل ہے، جس میں حجاج کرام حضرت ابراہیمؑ کی اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کامل اطاعت اور شیطان کے بہکاوے کو رد کرنے کی یاد میں جمرات کو کنکریاں مارتے ہیں۔

وادیِ منیٰ نہ صرف حج کے روحانی سفر کا ایک اہم مرکز ہے بلکہ یہ اسلامی تاریخ اور حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد تاذہ کرنے والی ایک مقدس وادی بھی ہے، جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان عبادت اور دعا میں مصروف نظر آتے ہیں۔

دلی دعاء ھے کہ الله رحمان سب کے حج مقبول اور دعاؤں کو قبولیت عطاء کرے۔
امين اللهم امين 🤲

01/06/2026

Photos from Life In Madinah Al munawara's post 01/06/2026

یہ وہ تاریخی وادی ہے جسے وادیِ بنی سعد کہا جاتا ہے اور جو طائف کے قریب واقع ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی ابتدائی زندگی کے تقریباً چار سے پانچ سال اسی علاقے میں گزارے تھے۔
عربوں کے قدیم رواج کے مطابق آپ ﷺ کو بہتر آب و ہوا اور خالص عربی زبان سکھانے کے لیے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا گیا تھا۔
اسی وادی میں آپ ﷺ کی پرورش ہوئی اور آپ نے بچپن کے ابتدائی سال گزارے۔
روایات کے مطابق واقعۂ شقِ صدر بھی اسی دور میں پیش آیا، جس کے بعد آپ ﷺ کو والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس لایا گیا۔
آج بھی یہ وادی نسبتاً پرسکون اور کم آبادی والا علاقہ ہے جو اپنی تاریخی اہمیت کے باعث پہچانی جاتی ہے۔
یہ مقام رسولِ اکرم ﷺ کے بچپن کی یادوں اور سیرتِ نبوی ﷺ کے ابتدائی باب کی ایک اہم نشانی سمجھا جاتا ہے۔

01/06/2026

‏یہ گرافک رسول اللّٰہﷺ کی ایک مشہور اور مستند حدیث کا حوالہ دیتا ہے جو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے:

"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! جنت کے دروازے کے دو پٹوں (کواڑوں) کے درمیان کا فاصلہ ایسا ہے جیسے مکہ اور ہجر کے درمیان کا فاصلہ، یا جیسے مکہ اور بُصریٰ کے درمیان کا فاصلہ۔"

دقیق پیمائش (Exact Measurements)

اگرچہ گرافک میں ان اعداد و شمار کو راؤنڈ کر کے (گول مول کر کے) پورا 1,200 کلومیٹر دکھایا گیا ہے، لیکن جدید سیٹلائٹ اور جی پی ایس (GPS) میپنگ ٹولز کے ذریعے بالکل سیدھی لائن (فضائی فاصلے) کی پیمائش درج ذیل ہے:

مکہ سے بُصریٰ (شام):
تقریباً 1,277 کلومیٹر سے 1,282 کلومیٹر۔

مکہ سے ہجر:
(مشرقی عرب کا تاریخی خطہ، موجودہ الاحساء/بحرین کا علاقہ): استعمال کیے جانے والے مرکزی مقام کے لحاظ سے تقریباً 1,172 کلومیٹر سے 1,274 کلومیٹر۔

یہ بات قابلِ توجہ کیوں ہے؟
حیرت انگیز حد تک یکساں تناسب:
مکہ سے دو بالکل مخالف جغرافیائی سمتوں (شمال میں شام کی طرف اور مشرق میں خلیج فارس کی طرف) کا بالکل سیدھا فضائی فاصلہ غیر معمولی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہے، جس میں صرف 5% سے 7% تک کا معمولی فرق ہے۔

قبل از جدید نیویگیشن (قدیم دور کا نظامِ رہنمائی):
ساتویں صدی میں، بڑے پیمانے پر جغرافیائی پیمائشیں صحرا کے بل کھاتے راستوں، پہاڑی سلسلوں اور اونٹوں کے قافلوں کے سفر کے اوقات میں تبدیلی کی وجہ سے شدید متاثر ہوتی تھیں۔ جدید سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے سامنے آنے والا یہ بالکل سیدھا "فضائی فاصلہ" بہت سے مسلمانوں کے نزدیک نبوت کی سچائی کی ایک معجزاتی نشانی ہے۔

وضاحت (Disclaimer):
یہ پوسٹ صرف آگاہی اور معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔



31/05/2026

سعودی عرب نے نئے عمرہ سیزن کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے 31 مئی سے عمرہ ویزوں کا اجرا شروع کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی 1448 ہجری کے سیزن کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
وزارت حج و عمرہ کے مطابق اس سال بین الاقوامی زائرین کے لیے عمرہ ویزوں کا اجرا اور ان کی آمد کا سلسلہ آج سے شروع ہو کر 23 مارچ 2027 تک جاری رہے گا۔
حکام نے بتایا کہ زائرین کو مکہ مکرمہ میں داخلے اور عمرہ کی ادائیگی کے اجازت نامے نسک ایپلیکیشن کے ذریعے حاصل ہوں گے، جو حج و عمرہ خدمات کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے۔
وزارت کے مطابق عمرہ ویزے جاری کرنے کی آخری تاریخ 9 مارچ 2027 (مطابق 1 شوال 1448 ہجری) مقرر کی گئی ہے، جبکہ مملکت میں داخلے کی آخری تاریخ 23 مارچ 2027 ہوگی۔
تمام عمرہ زائرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7 اپریل 2027 تک سعودی عرب سے روانگی یقینی بنائیں۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Medina?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


KSA
Medina
41412