"عید الفطر کی نماز کے بعد مسجدِ نبوی ﷺ کا دلکش منظر۔ لاکھوں مسلمان اللہ کی رحمتیں سمیٹ کر رخصت ہو رہے ہیں۔ اللہ پاک سب کی عبادتیں اور دعائیں قبول فرمائے۔ آمین۔"
Chach News___چھچھ نیوز
Here We Share News About Valley Of Chhachh...
19/03/2026
صدائے خلیلؑ اور وسعتِ حرم
ایک وقت تھا...
جب تپتے ہوئے صحرا کے سناٹے میں ایک بزرگ تنہا کھڑے ہوئے اور بیاباں کی خاموشی میں آواز لگائی:
"لوگو! یہ اللہ کا گھر ہے جسے میں نے تعمیر کر دیا ہے، اب تم اس کے طواف اور زیارت کے لیے آؤ۔"
شاید... تب بظاہر کوئی سننے والا نہ تھا، لیکن اس پکار میں وہ اِخلاص اور دَرْدِ دِل رچا ہوا تھا کہ جس کی گونج نے زمانوں کی سرحدیں توڑ دیں۔ وہ صدا نسل در نسل انسانی روحوں میں منتقل ہوتی رہی۔
آج عالم یہ ہے کہ...
مسجدِ حرام سے کوسوں دُور، راستوں پر کھڑی پولیس ہاتھوں میں اشتہار لیے لوگوں کو بتا رہی ہے کہ:
"حرم بھر چکا ہے، اندر تِل دھرنے کی جگہ نہیں ہے؛ خدارا! راستوں اور ہوٹلوں ہی میں صفیں درست کر لیں اور نماز ادا کر لیں۔"
سُبْحَانَ اللہ!
اعلان کرنے والے وہ بزرگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام تھے، جن کی پکار پر آج کروڑوں لبیک کہنے والے دیوانہ وار کھچے چلے آتے ہیں۔
اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ
تحریر: ابرار حسین
19/03/2026
وطن کے محافظوں کے نام
ہم حالتِ جنگ میں ہیں مگر پورے ملک میں سکون ہے۔ افطار پارٹیاں، عید کی شاپنگ سب کچھ الحمدللہ رواں دواں ہے۔ کیا یہ اللہ کے کرم اور پاک فوج کے ان محافظوں کی بدولت نہیں ہے؟؟؟ سرحدوں پر ڈٹے، پوری دنیا میں پھیلے گمنام ہیروز کے لیے خصوصی دعا کریں۔ اللہ پاک سب کی حفاظت فرمائے۔"
2026 کا رمضان المبارک اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے، اور ہم الحمدللہ اپنے گھروں میں افطار کی رونقیں اور عید کی تیاریاں بھرپور جوش و خروش سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے سوچا ہے کہ یہ 'نارمل زندگی' ہمیں کس قیمت پر مل رہی ہے؟
ملک ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں اور خطے میں 'حالتِ جنگ' جیسی صورتحال ہے۔ افغانستان کی سرحد ہو یا اندرونی خطرات، ہماری پاک فوج کے جوان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے کھڑے ہیں۔ جب ہم سحری کے وقت دسترخوان پر ہوتے ہیں، وہ مورچوں میں چوکنا ہوتے ہیں۔ جب ہم افطار کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، وہ بارود کی بو اور دشمن کی سازشوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ سکون، یہ رونقیں اور یہ بازاروں کی چہل پہل ان گمنام ہیروز کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے اپنی نیندیں ہمارے خوابوں کے لیے قربان کر دیں۔"
پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!
01/03/2026
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ان کے دفتر میں ہوئی، آیت اللہ خامنہ ای اپنے دفتری فرائص انجام دیتے ہوئے ہفتہ کو ہونے والے ابتدائی حملوں میں شہید ہوئے۔
🚨 ایران کا بڑا اعلان: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی–اسرائیلی حملوں میں شہید، 40 روزہ سوگ کا اعلان
"شدید غم اور تاریخی موڑ کے ساتھ ایران نے اعلان کر دیا ہے کہ
سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔"
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایران کی اعلیٰ قیادت، فوجی تنصیبات اور حساس مقامات کو نشانہ بنانے والی ایک بڑے پیمانے کی کارروائی کا حصہ تھا۔ 
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق:
🟥 ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان
🟥 7 دن کی عام تعطیل
🟥 عوام سے اتحاد اور صبر کی اپیل
رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایرانی اعلیٰ عسکری اور سیکیورٹی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ملک کو ایک بڑے قیادت کے خلا کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 
⸻
⚠️ خطے میں خطرناک موڑ
عالمی ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی ہلاکت مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ وہ 1989 سے ایران کے سب سے طاقتور رہنما تھے اور ریاستی، عسکری اور نظریاتی نظام پر مکمل اختیار رکھتے تھے۔ 
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد:
⚠️ ایران میں قیادت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے
⚠️ خطے میں جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ
⚠️ عالمی تیل مارکیٹس اور سکیورٹی صورتحال متاثر ہونے کا امکان
⸻
🌍 عالمی ردعمل
اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں فوری کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایران کی جانب سے مختلف ممالک میں جوابی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں مکمل علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ 
اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔"
اٹک فوارہ چوک میں افسوسناک واقعہ اور عوامی تشویش
اٹک: شہر کے مصروف ترین مقام، فوارہ چوک پر ایک انتہائی افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا ہے، جہاں ایک رکشہ ڈرائیور نے مبینہ طور پر ٹریفک پولیس کے تلخ رویے اور چالان سے دلبرداشتہ ہو کر احتجاجاً اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
🔹 واقعے کی تفصیلات اور عینی شاہدین کا مؤقف:
عینی شاہدین کے مطابق، موقع پر موجود شہریوں نے اس عمل پر شدید دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محنت کش طبقے کے ساتھ قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ایسے سنگین نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔
⚖️ قانونی و انتظامی سوالات:
یہ واقعہ انتظامیہ اور اربابِ اختیار کے لیے چند اہم سوالات چھوڑ گیا ہے:
کیا نچلے درجے کے ملازمین کی جانب سے اختیارات کا تجاوز کیا جا رہا ہے؟
کیا غریب طبقے کے تحفظ اور عزتِ نفس کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ٹھوس میکانزم موجود ہے؟
کیا اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا؟
📢 اعلیٰ حکام سے مطالبہ:
شہریوں نے آئی جی پنجاب اور ڈی پی او اٹک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور حقائق پر مبنی تحقیقات کروائی جائیں۔ ہمارا مقصد کسی ادارے کی تضحیک نہیں بلکہ اصلاحِ احوال ہے تاکہ قانون کا وقار بھی برقرار رہے اور غریب کی داد رسی بھی ہو سکے۔
عوام کے حقوق کی جنگ
سینئر قانون دان جاوید خان علی زئی ایڈووکیٹ نے بیوروکریسی کی مبینہ کرپشن کو بے نقاب کر دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے غریب عوام کا مقدمہ لڑتے ہوئے دو ٹوک گفتگو
26/02/2026
یہ فیصلے کا وقت ہے۔
پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کا وقت
یا
پھر بے شرم، بے حیا، احسان فراموش، خائن، جھوٹے ، بد عہد اور اسلام کے نام پر ایک ناسور، ایک دھبا کی صورت میں موجود
خوارج کےساتھ کھڑا ہونے کا وقت ۔
فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
اپنی پوزیشن واضح کریں تاکہ ہم بھی آپ کے بارے میں واضح ہوجائیں۔
ہم اپنی افواج پاکستان کے ساتھ غیر مشروط طور پر کھڑے ہیں۔ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم حملہ آوروں کے خلاف کھڑے ہیں۔
جنگ سے ہم پاکستانی بچنا چاہتے تھے، بچنے کی کوشش کی، مگر جب جنگ مسلط کر دی جائے تو پھر شرعی حکم ہے کہ دلیری سے مقابلہ کرو اور یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
26/02/2026
قدرت کا انتقام ظالم کا بھیانک انجام غریب کی آہ مظلوم کو انصاف ۔
تیرہ افراد کے قاتل کا ڈراپ سین، سرگودھا کا ایک امیر جاگیردار جس نے مجرمانہ زندگی کا آغاز ۱۹۹۷میں کیا اور پھر ظلم اور غارتگری کا ایسا بازار گرم کیا کہ اس کی شہرت بطور بد معاش اپنے ضلع سے نکل کر دوسرے اضلاع تک بھی پہنچ گئی، پانچ مربعوں کے مالک اس بدمعاش نے بربریت اور ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ مخالف کلیاروں نے اس کے والد کو قتل کیا تھا مگر اس نے ان کے ایک کے بعد ایک کر کے آٹھ افراد کوزمین میں پہنچا دیا۔بگڑا ہوا زمیندار طاقت کے نشے میں بد مست غریب انسانوں کا خون بے فکری سے بہاتا ایک پلاٹ پر قبضہ کرنے لگا تو مالکان نےجو غیر زمیندار تھے سوشل میڈیا پر دھائی دی اصل مالک شاعر ی بھی کرتا تھا ایک نظم لکھی جس میں ظالم کے ظلم کی شکایت تھی تو اس سفاک جلاد نے اس کواور اس کے خاندان کو نیست و نابود کرنے میں کوئی کثر اٹھا نہ رکھی خاندان کے پانچ افراد بشمول شاعر اور اس کے بے گناہ دوست بھتیجوں اور بھائی کو چن چن کر ہلاک کر دیا، مقصد عبرت کا نشان بنانا تھا کہ پھر کوئی ایسی جرات نہ کرے۔
قدرت کا مگر ایک اپنا نظام ہے، وقت گزر رہا تھا مگر ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزیں وقوع پذیر ہو رہی تھیں جن کا بظاہر شاہ نکڈر کے اس غنڈے سے کوئی تعلق نہیں تھا اپریل 2025 میں پنجاب میں محکمہ پولیس میں کرائم کنڑول ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد جرائم کا خاتمہ تھا خصوصاً ایسے جرائم جن کے مرتکب سزا کے ڈر سے کلیتاً آزاد بے خوفی سے ظلم کے بازار گرم کر رہے تھے، بے آوازوں کو آواز دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
غریب مجبور تو ضرور ہوتا ہے مگر سینے میں دل بھی رکھتا ہے، کہتے ہیں کہ جب کسی مجبور و مقہور پر اتنا ظلم توڑا جائے کہ وہ بے قابو ہو کردکھ سے بلبلا اٹھے تو اس کی یہ بلبلاہٹ فرش و عرش کےنظام پر زلزلہ طاری کر سکتی ہے ۔ یہاں مگر قدرت آہستگی اور خامشی سے آنے والے وقت کا تعین کر رہی تھی۔ مقتول خاندان کا ایک لڑکا چھپتا چھپاتا سی سی ڈی دفتر جا پہنچا۔ قاتل کے کارنامے پولیس سے چھپے ہوئے نہیں تھے مگر مظلوم لڑکے کی کہانی اس کی زبانی سن کر سی سی ڈی افسران بھی لرز گئے، اتنا شدید ظلم اور اس بے خوفی سے، صرف اس لیے کہ دوسرا فریق زمیندار نہیں بلکہ کسی اور ذات سے تعلق رکھتا تھا! تفتیشی ایجنسی نے خاموشی سے فائل کا آغاز کیا افسر مامور ہوئے فائل میں کاغذ لگنے شروع ہو گئے ، فائل بنتی گئی اور ایک دن وہ آیا کہ اس بد معاش کے لیے بین الاقوامی سفر ممکن نہ رہا، اس وقت بھی ظالم کو اندازہ نہ ہوا کہ وقت کس طرف لے کر جا رہا ہے، جو بھی ہو اسے اپنی اور اپنے پیسے کی طاقت پر کامل بھروسہ تھا، ساتھ ساتھ اپنے ہمراہی بد معاشوں کی طاقت کا اندازہ بھی تھا اس لیے ڈر کاہے کا، ساتھیوں کو اطلاع کروا دی گئی کہ تیاری پکڑ لیں کیوں کہ کاغذوں کا پلندہ وزنی ہو چکا تھا شائد واپس آنا ہی پڑے ۔
قتلوں میں صلح ہو جاتی ہے مگر اس کے لیے ضروری کہ کرنے والا کھلے دل سے غلطی تسلیم کرے اور وارثوں سے معافی کا طلب گار ہو مگر ہمارے معاشرے کے ناسور اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کراپنی سفاکیت پر پردہ ڈالتے ہیں ۔
، فیصل نے ملک سے باہر بیٹھ کر ملک کے اندر قتلوں کا بازار گرم کیا تھا کیونکہ وہ ہمارے انصاف کی فراہمی کے نظام کو اچھی طرح جانتا تھا اور اس نشے میں مخمور تھا کہ وہ تو کسی بھی قتل کے موقع پر موجود ہی نہیں اس لیے اس کو ان کی سزا دلوائی ہی نہیں جا سکتی۔ اس کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کرنے کا عمل جب کچھ تیز ہوا تو اس ظالم نے مقامی سیاستدانوں خصوصاً موجودہ ایم این اے ڈاکٹر ذولفقار علی بھٹی صاحب اور ایم پی اے رانامنور حسین المعروف رانا غوث صاحب سے رابطہ کیا اور ان کو اپنے مقصد کے لیے مدعیوں کی طرف روانہ کیا تاہم مقصد معافی یا شرمندگی نہیں بلکہ دھمکا کر کمزوروں کو اس بات کا احساس دلانا تھا کہ جانے والے تو گئے تم لوگ اپنی فکر کرو، دولت کو انصاف کا متبادل سمجھو اور چلتے بنو ورنہ ایک دن تم بھی۔۔۔۔پھر وہ دن آ ہی گیا مگر قدرت نے اس دن کی کچھ اور ہی تیاری کر رکھی تھی۔
اقتدار دولت اور طاقت کے نشے میں چور امیر جاگیردار جب اسلام آباد ایر پورٹ پر اترا تو وہ پر سکون اور ذہنی طور پر آسودہ نظر آتا تھا۔ اس کو معلوم ہوا تھا کہ اس بار پولیس کی روائتی ٹیم کے ساتھ ساتھ سی سی ڈی نام کا ایک ذیلی ونگ بھی ہے مگر اپنی مستی اور تکبر میں وہ اس بات کو چنداں اہمیت نہ دے رہاتھا۔ وارننگ کے باجود بدمعاش کے سپورٹر اس کو بچانے کے لیے اسلام آباد ایر پورٹ پر موجود تھے، کاٹن کے سوٹ کھلے گریبان اور چپل کے کھلے سٹریپ ان کی شناخت کی چغلی کھا رہے تھے، سی سی ڈی سرگودھا کی ٹیم تعداد میں قلیل ہونے کے باجود مکمل فعال اور پر اعتماد تھی۔ جب سی سی ڈی سرگودھا کی ٹیم اپنے ملزم کو لے کر ایر پورٹ سے روانہ ہوئی تو انچارج کو لمحے بھر کے لیے گمان گزرا کہ اس کا تعاقب ہو رہا ہے، مگر پھر اس نے یہ خیال جھٹک دیا۔ موٹر وے سے مگر اترتے ہی ایک ایسا واقع ہوا جس نے اس کواور اس کی ٹیم کورک کر پوزیشن لینے پر مجبور کر دیا۔ نہ جانے قبولیت کی کون سی گھڑی تھی ظالم اپنی خود کی بنائی ویڈیو میں انصاف کاطلبگار نظر آتاہے اور پھر سب نے دیکھا کہ سرگودھا کی سر زمین پر انصاف ہوا، وہ جابر جس سے گاوں کے گاوں پناہ مانگتے تھے اپنے انجام کو پہنچا۔ بھلا ہو ان سی سی ڈی والوں کو جو بہادر بھی ہیں اور عام عوام کے لیے دردِ دل بھی رکھتے ہیں۔
23/02/2026
گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول حضرو میں دو طالبعلموں کے درمیان جھگڑے کے دوران چاقو کے وار سے ایک طالبعلم زخمی ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق تحصیل حضرو میں واقع گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں دو طالبعلموں کے درمیان جھگڑا، جھگڑے کے دوران ایک طالبعلم نے دوسرے طالبعلم کو چاقو مار دیا، جو اس کے کندھے پر لگا۔ واقعے کے نتیجے میں 16 سالہ عثمان ولد کلام گل شدید زخمی ہو گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمی طالبعلم کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال حضرو منتقل کر دیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طلباء کے پاس سکول میں داخل ہوتے وقت یہ چیزیں ممانعت قرار کیوں نہیں دی گئیں اور اگر ایسی چیزوں پر پابندی ہے تو ان کی چیکنگ کون کرے گا؟
بچوں کو سکول میں برداشت تحمل اور صبر سے کام لینا بھی سکھایا جائے ، والدین کا مطالبہ
الوداع! حافظِ قرآن، ہمدردِ انسانیت، محترم ماسٹر محمد شفیق صاحب،
"موت اس کی ہے جس کا زمانہ کرے افسوس،
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے...
بڑے دکھ اور بوجھل دل کے ساتھ یہ خبر شیئر کی جا رہی ہے کہ گاؤں غورغشتی، کی ہردلعزیز شخصیت، محترم حافظ ماسٹر محمد شفیق صاحب خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں،
ماسٹر صاحب ایک عہد ساز استاد تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسکول ٹیچر کے طور پر نئی نسل کی آبیاری میں گزارا۔ ان کے سینکڑوں شاگرد آج ان کے سکھائے ہوئے علم اور اخلاق کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ وہ محض ایک ٹیچر نہیں، بلکہ ایک شفیق باپ کی طرح اپنے شاگردوں کی تربیت فرماتے تھے،
وہ اللہ کے کلام کے محافظ تھے، ایک باوقار حافظِ قرآن جن کی تلاوت دلوں کو سکون بخشتی تھی۔ اللہ نے انہیں بلا کی خوش خطی (Calligraphy) سے نوازا تھا، ان کے لکھے ہوئے الفاظ ان کی نفاست پسند طبیعت کا آئینہ دار تھے۔ ان کی خوش مزاجی اور خوش حواسی ہر محفل کی جان تھی۔
ماسٹر صاحب کی آواز میں وہ سوز اور تڑپ تھی کہ جب وہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پڑھتے تھے تو سماں بندھ جاتا تھا۔ اس ویڈیو میں آپ انہیں وہی کلام پڑھتے ہوئے سن رہے ہیں، جو ان کی عقیدت اور محبتِ رسول ﷺ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کتنی مبارک اور منتخب ہستی تھے کہ 4 رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں ربِ کریم نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ ایک حافظِ قرآن کے لیے رمضان کے مہینے میں رخصتی اللہ کی خاص رضا اور محبت کی علامت ہے۔
اے اللہ! خافظ ماسٹر محمد شفیق صاحب کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا اور ان کے لواحقین و شاگردوں کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ آمیـــــــــــــــــن
شریک غم و دعاگو (ابرار حسین) غورغشتی
21/02/2026
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ دانیال شفیق اور احمد نذیر کا والد ماسٹر محمد شفیق صاحب رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں۔
رہائش گاہ: محلہ جہان بانڈہ، غورغشتی۔
نمازِ جنازہ: مرحوم کی نمازِ جنازہ صبح 10 بجے مرکزی جنازہ گاہ میں ادا کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمیـــــــــــــــــن
21/02/2026
اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَاَعُوْذُ بِعَظَمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ
(اے اللہ! میری حفاظت فرما میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں جانب سے، میری بائیں جانب سے اور میرے اوپر سے۔ اور میں تیری عظمت کی پناہ پکڑتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے نیچے سے ہلاک کر دیا جاؤں۔)
Click here to claim your Sponsored Listing.
