My opinion

My opinion

Share

be hopefull allways
Think well, be happy and take care of the people around you.

10/03/2026
10/03/2026

‏*صرف عمران خان ہی کیوں۔۔..*
سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید
(اشک بہا دینے والی تحریر)

"کچھ لوگ ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے اتنی خوفزدہ کیوں ھے؟
یہ سوال سن کر مجھے اپنے پاکستانی لوگوں کی معلومات پر حیرت ہوتی ہے
کہ اس لاعلم قوم کو اتنا بھی علم نہیں کہ عمران خان کے دور میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار چھٹی جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک ہر بچے کے لیے ترجمہ قران کی تعلیم شروع کی گئی۔۔۔
ملک کے کروڑوں بچے اب سکول میں قران ترجمے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔۔۔
جماعت 12th 11th 10th 9th میں بچوں کے بورڈ کے امتحانات میں لازمی مضمون کے طور پر یہ سبجیکٹ شامل ہے۔۔۔۔
یہ کتنا بڑا قدم ہے یہ بات پاکستان کی سادہ عوام نہیں جانتی مگر امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران خان اس قوم کے نوجوان نسل کو قران سے جوڑ رہا ہے کیونکہ امریکیوں کو پتا ہے کہ کالج اور سکول کے سلیبس کس طرح نئی نسلوں کی ذہن سازی کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ
قران کو عام کرنے والے اس عمران خان سے امریکہ خوش ہو گا؟؟؟
یقینا نہیں
یہاں ایک اور وجہ بھی یاد کرانا ضروری ہے
عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر 193 ملکوں کی تنظیم کے سامنے یہ جملے بولے۔۔۔

"”حضور نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور جب مغرب میں(انگریزوں میں) کوئی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں اور دلوں کا درد سب سے زیادہ شدید درد ہوتا ہے"”
کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ عمران خان امریکہ کی نظروں میں کیوں چبھتا ہے؟؟

یاد کرو جب اس کی ماں کینسر سے فوت ہوئی تو اس نے کینسر ہسپتال بنا دیا کہ کسی اور کی ماں کینسر سے نہ مرے
پھر جب وہ وزیر اعظم بنا اور سردی کا موسم آیا تو اس نے پناہ گاہیں بنائیں کہ مزدور اور غریب سڑکوں فٹ پاتھ وغیرہ پر نہ سوئیں۔۔۔۔
صحت کارڈ دے کر ہر غریب کو 10 ، 10 لاکھ علاج کے لیے دیے۔۔۔۔
جب وہ لنگر خانے میں گیا تو مزدورں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔۔
جب بات شروع کی تو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہہ کر آغاز کیا۔۔
جب مدینہ منورہ پہنچا تو جوتے نہیں پہنے بلکہ ننگے پیر چلا۔۔۔

مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔۔۔
زرداری کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے
نواز شریف کے دور میں بھی سلسلہ جاری رہا
مگر عمران خان نے Absolutely Not کہہ کر کر بتا دیا کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے گا۔۔۔
عمران خان کے 3.5 سالہ دور میں امریکہ ایک ڈرون حملہ نہیں کر سکا۔
اب بتائیں
کیا ایسا شخص امریکہ کو برداشت ہو سکتا تھا؟؟
پھر وہی ہوا جو ہونا تھا امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجی جرنیلوں کو بول دیا کہ بس اب اور نہیں اور بالآخر امریکہ اور پاکستانی فوج جیت گئی اور عمران خان اور پاکستان ہار گیا۔
میں 45 سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہا ہوں تاریخ کے مطالعے اور اپنے 45 سالہ مشاہدے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ 75 سال میں اتنا ظلم کسی پارٹی پر نہیں ہوا جتنا آج فوج عمران خان پر کر رہی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 75 سالوں میں فوج کو ایسے کوئی نہیں ٹکرا جس طرح خان ٹکرا ہے
کیونکہ جو جیسا ٹکرتا ہے اس کو جواب بھی اتنا ہی ملتا ہے اور یہاں جواب کی شدت بتا رہی ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کو بندہ شدید ٹکر کا ملا ہے۔

آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ کسی امیدوار کو الیکشن کے کاغذات ھی جمع کرانے سے روک دیا گیا ہو

آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا ہو

آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ ایک جماعت پر الیکشن کمپین کرنے پر گرفتاری ہو جب کہ دوسری جماعت کے جلسے ہر وقت TV پر دکھائے جا رہے ہو۔

آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ فوج ایک پارٹی سے اتنی ڈر گئی کہ سرے سے اس پوری پارٹی کو ہی الیکشن سے نکال دیا
آج تک یہ سب نہیں ہوا اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا ظلم کرنے کے بعد بھی ایک بندہ ملک میں سے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت گیا
اور پھر وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا کہ ایک ایک لاکھ کی لیڈ بھی بدل دی گئی
واقعی
آج تک عمران خان جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جو امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہو
یہاں تو سب لیٹ جاتے تھے
ڈٹ جانے والا پہلی بار دیکھا ہے
اگر عمران خان کو تاریخ کے آئینے میں پرکھا جائے اور موجودہ حالات میں عمران خان کی ثابت قدمی دیکھی جائے تو بلامبالغہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کے قدموں کی دھول بن چکا ہے
عمران خان کے سامنے بھٹو بھی ایسے ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ ہو
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان سب سے بڑا لیڈر ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عمراں خان کے زمانے میں جی رہے ہیں
آنے والی نسلیں ہم پر رشک کریں گی کہ
وہ بھی کیا خوش قسمت لوگ تھے جو عمران خان کے دور میں زندہ تھے مگر کتنے بںےغیرت اور بںے قدرے تھے کہ عمران خان کو سمجھ نہیں سکے

08/03/2026

مدینہ کے بازار میں ایک سادہ مزاج دیہاتی صحابی، زاہر بن حرام رضی اللہ عنہ، اپنی سبزیاں فروخت کر رہے تھے۔ شکل و صورت میں وہ عام سے نظر آتے تھے، مگر دل اخلاص اور محبتِ رسول ﷺ سے بھرپور تھا۔
محمد ﷺ ان سے خاص شفقت فرمایا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے:
“ہر شہری خاندان کا ایک دیہاتی دوست ہوتا ہے، اور آلِ محمد کا دیہاتی دوست زاہر ہے۔”
ایک دن آپ ﷺ خاموشی سے ان کے پیچھے آئے اور محبت بھرے انداز میں ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔ پھر مسکراتے ہوئے فرمایا:
“کون ہے جو اس غلام کو خریدے؟”
زاہرؓ نے نہایت عاجزی سے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! مجھ جیسے کو کون خریدے گا؟ میں تو بے قیمت ہوں۔”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“نہیں زاہر! تم اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہو۔”
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کی صورت، مال یا معاشرتی حیثیت سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ایمان، اخلاص اور محبتِ رسول ﷺ سے ہوتی ہے۔
اللہ کے نزدیک وہی قیمتی ہے جس کا دل سچا اور نیت پاک ہو۔

08/03/2026
08/03/2026

‏جب نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر لاکھوں مسلمانوں کے عظیم مجمع میں اللہ تعالیٰ کے احکام بیان فرمائے تو آپ ﷺ کا "تختِ شاہی" نہ سونے کا تھا نہ چاندی کا، بلکہ ایک سادہ اونٹنی کا کجاوہ تھا۔ نہ کوئی شاندار ہودج، نہ محمل، نہ تاج و تخت اور نہ درباری ساز و سامان۔

دنیا کے بادشاہ جب اقتدار کے تخت پر بیٹھتے ہیں تو جاہ و جلال اور شان و شوکت کے مظاہر نمایاں ہوتے ہیں، مگر شہنشاہِ دو عالم ﷺ کی عظمت اس سادگی میں جلوہ گر تھی۔ یہی وہ زاہدانہ بادشاہت ہے جو صرف آپ ﷺ کا امتیاز ہے۔

عرفات میں قیام

خطبۂ عرفات کے بعد آپ ﷺ نے ظہر اور عصر ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا فرمائیں، پھر موقف میں کھڑے ہو کر جبلِ رحمت کے دامن میں غروبِ آفتاب تک دعا میں مشغول رہے۔

مزدلفہ میں عبادت

غروبِ آفتاب کے بعد آپ ﷺ عرفات سے مزدلفہ تشریف لے گئے۔ وہاں مشعر الحرام کے قریب مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا کیں اور رات کا بڑا حصہ دعا اور ذکر میں گزارا۔

منیٰ میں اہم نصیحت

پھر منیٰ میں جمرۂ عقبہ پر کنکریاں مارنے کے بعد بلند آواز سے ارشاد فرمایا:

لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ
(اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، مجھے معلوم نہیں شاید اس کے بعد میں حج نہ کر سکوں۔)

یہ الفاظ گویا امت کے لیے آخری نصیحتوں میں سے تھے۔

قربانی کا عظیم منظر

منیٰ میں آپ ﷺ نے سو اونٹ قربان فرمائے۔ کچھ اپنے دستِ مبارک سے ذبح کیے اور باقی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ گوشت، کھال، جھول اور نکیل سب صدقہ کر دیے جائیں اور یہاں تک فرمایا کہ قصاب کی مزدوری بھی ان میں سے نہ دی جائے بلکہ الگ ادا کی جائے۔

ایک عظیم سبق

یہی وہ شان ہے:
اقتدار بھی کامل، مگر زندگی نہایت سادہ۔
حکومت بھی وسیع، مگر دل دنیا کی نمائش سے پاک۔

اسی لیے نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل عظمت جاہ و جلال میں نہیں بلکہ عاجزی، تقویٰ اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔

08/03/2026

‏سعودی عرب کے شہر القصیم بریدہ میں ایک بلڈنگ کے اے سی ڈیکٹ کا پروجیکٹ ہمارے پاس تھا اور بلڈنگ میں ماربل ٹائل لگانے کا ایک سعودی کے پاس
ایک دن سعودی کے ساتھ کوئی دس پاکستانی آئے جن کے ساتھ اس کا ستائیس سو ریال میں اتفاق ہوا کے یہ ماربل چھت پر پہچانا ہے
خیر بندے سارے ہی ہارڈ ورکتھے انہوں نے کوئی چھ گھنٹے میں ہی کام مکمل کر دیا ۔ اور سعودی کو کال کر دی مزدوری دو اب سعودی نے بہانے شروع کر دیئے کے کام کم تھا تم لوگوں نے پیسے زیادہ مانگے وغیرہ وغیرہ سعودی نے دو ہزار ریال دیئے وہ ناراضگی کے ساتھ لے کر چلے گئے اگلے دن ہم اپنے کام میں مصروف تھے کے سعودی کےچیخنے چلانے کی آواز آئی تعال یا شہزاد تعال میں بھاگ کر گیا تو کہتا ہے واللہ پاکستانی مجنوں ۔ میں نے عربی میں پوچھا کیا ہوا تو کہتا وہ پاکستانی رات کو پھر سے سارا ماربل اتار کر نیچے رکھ گئے ہیں 😂😁😁😂😁😂😁

My opinion be hopefull allways
Think well, be happy and take care of the people around you.

07/03/2026

‏جب عمر بن خطاب پر قاتلانہ حملہ ہوا تو شدید زخمی حالت میں انہیں دودھ پلایا گیا، مگر دودھ زخموں سے باہر نکل آیا۔ طبیب نے بتایا کہ اب زندگی زیادہ باقی نہیں، لہٰذا وصیت کر دیں۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کو بلایا اور فرمایا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس لاؤ۔ یہ وہ صحابی تھے جنہیں محمد ﷺ نے منافقین کے ناموں کا راز بتایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے خون میں لت پت حالت میں پوچھا: “اللہ کے لیے بتاؤ، کیا میرا نام بھی منافقین میں شامل ہے؟”
حذیفہؓ رو پڑے اور کہا: یہ رسول ﷺ کا راز ہے، مگر آپ کے لیے اتنا کہہ دیتا ہوں کہ اس فہرست میں آپ کا نام نہیں ہے۔
پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ مجھے رسول ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ کو عائشہ بنت ابی بکر کے پاس اجازت لینے بھیجا۔ ام المؤمنین نے فرمایا: “یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی، مگر آج عمر کے لیے چھوڑ دیتی ہوں۔”
وفات کے بعد جب جنازہ مسجد نبوی لایا گیا اور دوبارہ اجازت طلب کی گئی تو ام المؤمنین نے خوشی سے اجازت دی۔ یوں حضرت عمرؓ کو رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر صدیق کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
یہ وہ عظیم خلیفہ تھے جنہیں جنت کی خوشخبری ملی، مگر پھر بھی اللہ کے سامنے جواب دہی کا خوف ان کے دل میں ہمیشہ موجود رہا

My opinion be hopefull allways
Think well, be happy and take care of the people around you.

04/03/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ سورۃ الکہف میں دجال کا براہ راست ذکر نہیں ہے ؟

پھر بھی بی اللہ السلام نے ہمیں بتایا کہ یہ اس سے حفاظت کرتی ہے کیونکہ یہ صرف ایک شخص سے خبردار نہیں کرتی بلکہ ایک سوچ اور ذہنیت سے بچنا سکھاتی ہے
نبی الله السلام نے فرمایا :

”جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے ، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" (مسلم)

ہے۔ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار دھوکہ اور فتنہ ۔

وہ "آگ" کو " پانی " اور " جہنم " کو "جنت کی طرح دکھائے گا۔

سورۃ الکہف ہمیں حقیقت کو سمجھنا سکھاتی ہے۔

یہ بتاتی ہے کہ جو کچھ آپ دیکھتے ہیں وہ ہمیشہ حقیقت نہیں ہوتا۔
یہ سورت چار کہانیوں پر حفاظت کی مشتمل ہے جو اند

دیواروں کی طرح کام کرتی ہیں۔

دجال چار خاص راستوں سے حملہ کرے گا :

ایمان، دولت، علم اور طاقت۔

اگر یہ چاروں چیزیں آپ کے دل میں غلط طریقے سے کھل جائیں تو اسے مکمل رسائی مل جاتی ہے۔

پہلا دفاع کیا ہے ؟

ایمان کی آزمائش (غار والے نوجوان)

دجال حفاظت کے بدلے تم سے اپنی عبادت کا مطالبہ کرے گا۔ دنیا کی نظر میں وہ نوجوان ایک اندھیری اور نم غار میں جارہے تھے، جیسے کوئی بند راستہ ہو۔

لیکن حقیقت میں وہی غار زمین پر واحد جگہ تھی جہاں وہ واقعی آزاد تھے۔

آج کے زمانے میں محل " تمہاری سماجی حیثیت، تمہارا کیریئر، تمہارا پلیٹ فارم اور تمہاری ڈیجیٹل پہچان ہے۔

آخری زمانے میں بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تم رجحانات، سیاست اور ہجوم کی دیوانگی سے الگ رہنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اگر تم ” نظر انداز " یا "رد" کیے جانے کو برداشت نہیں کر سکتے تو دجال کے فتنے سے بھی نہیں بچ سکو گے۔ دو
دولت کی آزمائش (دو باغوں والے شخص کا واقعہ )

دجال دنیا کے وسائل پر اختیار حاصل کرے گا۔

وہ اپنے پیروکاروں کو جھوٹی ”جنت کالا بیچ دے گا۔

باغوں والے شخص نے اپنے اصل دینے والے کو بھلا دیا تھا۔

اسے لگا کہ اس کی دولت اس کی اپنی طاقت ہے۔

آج کے زمانے میں انسان کی قدر کو اس کی دولت سے ناپا جانے لگا ہے۔

اگر تمہاری اہمیت تمہارے مال و اسباب سے جڑی ہو تو جو معیشت کو کنٹرول کرے گا وہ تمہیں آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔

سورۃ الکہف کی سوچ بہت سادہ ہے :

رزق نظاموں سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔

اور یہی یقین انسان کو خریدے جانے سے بچالیتا ہے۔

علم کی آزمائش ( موسیٰ اور خضر کا واقعہ )

دجال ایسے "معجزے دکھائے گا جو عقل کے خلاف محسوس ہوں گے۔

وہ غلط چیز کو صحیح بنا کر پیش کرے گا۔

موسیٰ کو یہ سیکھنا پڑا کہ انسانی عقل محدود ہوتی ہے۔

خضر نے دکھایا کہ ہر بظاہر مشکل یا نقصان کے پیچھے اللہ کی کوئی حکمت اور رحمت ہوتی ہے۔

دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ جب تمہاری آنکھیں انتشار اور مشکل دیکھیں تب بھی تم اللہ کی حکمت پر بھروسا رکھو۔

ہم مکمل معلوماتی جنگ کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

مصنوعی ذہانت ” سچ " جیسی چیزیں بنا سکتی ہے۔

الگور تهمز مصنوعی اتفاق رائے پیدا کر سکتے ہیں۔

میڈیا ظلم کو ” دفاع اور ہیرو کو ”دہشت گرد بنا کر پیش کر سکتا ہے۔

اگر آپ صرف اس چیز پر یقین کریں جو آپ اپنی اسکرین کے نظریے سے دیکھتے ہیں ، تو آپ دجال کے فتنے کے سامنے بالکل غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔

اقتدار کی آزمائش (ذوالقرنین)

دجال کو دنیا پر مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ وہ نا قابل شکست نظر آئے گا۔ ذوالقرنین ایک بادشاہ تھے جن کے پاس سب کچھ تھا، لیکن انہوں نے اپنی طاقت کمزوروں کی حفاظت کے لیے استعمال کی۔

وہ جانتے تھے کہ طاقت ایک حق نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔

ہم ہر جمعہ یہ کیوں پڑھتے ہیں ؟

ee کیونکہ دجالی ذہنیت " پورے ہفتے میں بنتی رہتی ہے۔

جمعہ کی تلاوت ایک ہفتہ وار نظام کی ریبوٹ کی طرح ہے۔

یہ دھند دور کرتی ہے، دل کو درست کرتا ہے اور یاد دلاتی ہے کہ اصل میں اختیار کس کے پاس ہے۔

نبی الله السلام نے وعدہ کیا کہ دو جمعوں کے درمیان ایک روشنی (نور) ہوگی۔

وہ روسی بصری وضاحت ہے۔ کی

یہ صلاحیت دیتی ہے کہ آپ کسی معجزے " کو دیکھ کر اس میں چھپی "چال" پہچان سکیں، اور کسی غار " کو دیکھ کر اسے ایک ” پناہ گاہ " جان سکیں۔

اسلام " کا دور ختم ہو چکا ہے۔

اب ہم جڑ پکڑنے کے دور میں ہیں۔

اگر آپ اپنے بچوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو صرف انہیں سورۃ الکہف پڑھنا نہ سکھائیں۔

انہیں غار کی نفسیات سکھائیں :

جب ہجوم غلط ہو تو اکیلے کھڑے رہنے کا طریقہ ۔
بد قسمتى کے واقعات میں اللہ کے ہاتھ کو پہچاننا۔

نظام کی بجائے روح کی قدر کرنا

دجال کا نظام پہلے ہی فعال ہے۔

یہ الگور تھم میں . میں موجود ہے جو تمہاری خواہشات جانتا ہے۔ یہ معیشت میں موجود ہے جو تمہاری لالچ سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

نفس میں موجود ہے جو تمہاری عبادت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ

سورۃ الکہف صرف کہانی یا تاریخ کی کتاب نہیں ہے، یہ ضد

ہے۔ )Counter-Intelligence) جاسوسی

اسے برکت کے لیے پڑھو، اور خبردار کرنے کے لیے اس کا مطالعہ کرو۔

اپنی پہچان پہلے سے کریں، اس سے پہلے کہ فیصلہ تمہارے لیے کر دیا جائے۔

e Muhammad

My opinion be hopefull allways
Think well, be happy and take care of the people around you.

04/03/2026

تم یہ سمجھتے ہو کہ تم صرف مٹی سے بنے ہو؟

نہیں

تم آواز سے بنے ہو۔

(Şalsāl) عربی لفظ صلصال ایک راز کھولتا ہے

کہ تمہیں اندر سے خالی کیوں محسوس ہوتا ہے ۔

آپ سمجھتے ہیں کہ آپ گوشت اور ہڈیوں سے بنے ہیں۔

لیکن اللہ فرماتا ہے کہ آپ صلصال سے بنائے گئے ہیں۔

: صلصال ایک ایسے مادے کو کہتے ہیں جس کی جڑ کا مطلب ہے

کھنکھنانا

گونجنا

آواز پیدا کرنا

جیسے سوکھی ہوئی مٹی کی ہانڈی ۔

اسے ہلکا سا ٹھونگیں

اور وہ جواب دیتی ہے۔

یہ کیوں بجتا ہے ؟

کیونکہ یہ اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے۔

یہی انسان کی حالت کو سمجھاتا ہے ۔

، فرشتوں کے برعکس (جو نور سے بنے ہیں)

، اور جانوروں کے برعکس (جو جبلت سے بنے ہیں)

انسان کے اندر ایک خلا رکھا گیا ہے۔

ایک ایسی جگہ

جو جان بوجھ کر خالی چھوڑی گئی ہے۔

کیونکہ ہم اندر سے خالی ہیں، اس لیے ہم گونجتے ہیں۔

ہم بات کرتے ہیں۔

ہم بحث کرتے ہیں۔

ہم ضرورت سے زیادہ سوچتے ہیں۔

: اللہ فرماتا ہے اور انسان اکثر چیزوں میں بہت جھگڑالو ہے ۔" (الکہف 18:54)"

ہم اندر کی خاموشی سے بچنے کے لیے شور مچاتے ہیں۔

صلصال کے بارے میں ایک اور حقیقت بھی ہے۔

یہ بہت نازک ہوتا ہے۔

گیلی مٹی جھک جاتی ہے، لیکن خشک مٹی؟ وہ دراڑ ڈال دیتی ہے ۔

اسی لیے ایک جملہ آپ کو توڑ سکتا ہے۔

ایک تنقید آپ کے سکون کو چکنا چور کر سکتی ہے ۔

یہ کمزوری نہیں ہے ۔

یہ وہ مٹی ہے جو ابھی تک بھری نہیں گئی۔
روح پھونکے جانے سے پہلے جب آدم کی مٹی کی شکل کھڑی تھی،

ابلیس نے اُس کھوکھلے وجود کو ٹھوکا۔

اس نے اس کی گونج سنی۔

اور کہا

یہ تو کھوکھلا ہے ۔ "

میں یہاں داخل ہو سکتا ہوں۔

" میں یہاں وسوسہ ڈال سکتا ہوں۔

تمہارا خالی پن ہی اُس کا دروازہ ہے ۔
تو کیا صلصال ہونا کوئی بددعا ہے ؟ نہیں۔ پیالی صرف اس لیے مفید ہوتی ہے کیونکہ وہ خالی ہوتی ہے۔

پیدا کیا ہے ۔ اللہ نے یہ خلا کسی خاص مقصد کے لیے پیدا

نہ دنیا کے لیے ۔

نہ شور کے لیے ۔

نہ مشغولیتوں کے لیے ۔
وہ جگہ رُوح کے لیے بنائی گئی تھی۔

ذکر کے لیے ۔

وحی کے لیے ۔

قرآن خشک مٹی کے لیے پانی ہے۔

یہ صرف معلومات نہیں ہے۔

یہ رزق ہے۔
جب صلصال اللہ کے ذکر سے بھر جاتا ہے...

تو اس کی گونج رک جاتی ہے ۔

وہ ٹوٹنا چھوڑ دیتا ہے۔

وہ سکون کے بوجھ سے بھر جاتا ہے ۔

خالی برتن ایک مقدس برتن بن جاتا ہے۔

20/02/2026

کبھی ایسا محسوس ہوا ہے آپ اپنی کوئی خوشی کوئی کامیابی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اور اگلے ہی لمحے جیسے ہوا میں کچھ بدل جاتا ہے ایک انجانی سی بے چینی سکون کا غائب ہو جانا آج ہمارے سامنے کچھ نفسیاتی مضامین اور روایتی متن ہے جو اسی سوال کی گہرائی میں اترتا ہیں کیا ڈیجیٹل دنیا میں نظر لگنا ایک حقیقت ہے

یا صرف ہمارے ذہن کا وہم جو سب سے پہلا نکتہ ان ذرائع سے نکلتا ہے وہ بہت چونکا دینے والا ہے ایک ماہر عمرانیات لکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کو ایک ایسی جگہ کے طور پر دیکھیں جسے وہ نیتوں کا بازار کہتے ہیں یہاں نظر آنکھ سے نہیں لگتی نیت سے لگتی ہے یہ ایک ایسا بازار ہے جہاں حسد مسکراہٹوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور مقابلہ

دعاؤں کا لباس پہن لیتا ہے یہ ترکیب اپنے اندر ایک سرد سچائی رکھتی ہے لیکن کیا یہ صرف ایک فلسفیانہ بات ہے یا اس کے پیچھے کوئی وجہ بھی ہے مطلب کسی کی بری نیت کسی کا حسد جو ہزاروں میل دور بیٹھا ہے وہ حقیقت میں کسی پر اثر کیسے ڈال سکتا ہے بلکل اور یہی سے دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے ایک ماہر نفسیات اسے لا شعوری منفی طوانائی کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص

سکرین پر کسی کی نعمت دیکھ کر اپنی محرومی پر جلتا ہے تو اس کے اندر ایک شدید منفی احساس پیدا ہوتا ہے یہ حساس لفظوں میں بیان نہیں ہوتا یہ خاموش رہتا ہے لیکن یہ ایک توانائی کی لہر کی طرح اس شخص کی طرف سفر کرتا ہے اسلامی روایات میں بھی تو یہی اشارہ ہے حدیث ہے کہ نظرِ بد حقیقت ہے مسئلہ دکھاوا ہے اور اس شکر کی کمی ہے جو اس نعمت کو محفوظ رکھ سکتا تھا

ہم سب کچھ دکھا دیتے ہیں مگر ماشاءاللہ کا حصار بنانا بھول جاتے ہیں یہ بات بہت گہری ہے کہ مسئلہ صرف دیکھنے والے کی نیت کا نہیں ہے تو کیا اس کا مطلب ہے کہ کچھ اثر دکھانے والے پر بھی ہوتا ہے یہ نظر کی کوئی دوسری قسم ہے یہ دوسری اور زیادہ خطرناک قسم ہے خود کو ہزاروں اجنبی آنکھوں سے دیکھنے کا عمل اور یہ ہمیں آزاد نہیں کرتا نہیں یہ قیدی بناتا ہے

نفسیاتی مضمون میں اسے third person observation کہا گیا ہے یعنی آپ اپنی زندگی جیتے نہیں اسے دوسروں کی نظر سے دیکھتے ہیں پرکھتے ہیں آپ کی خوشی کا میعار آپ کا اپنا احساس نہیں رہتا وہ لائکس اور ویوز کی تعداد بن جاتا ہے بلکل اور جس دن یہ تعداد کم ہوتی ہے آپ کی خود اعتمادی بھی کم ہو جاتی ہے دل پر ایک عجیب سا بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے یہی تو تضاد ہے سب کچھ دکھانے کی آزادی

دراصل اپنی حفاظت کو خود اپنے ہاتھوں سے ختم کر دینا ہے تو اگر مسئلہ اتنا گہرا ہے تو کیا اس کا کوئی حل بھی ہے ہم اس ڈیجیٹل نمائش کے دور میں خود کو محفوظ کیسے رکھیں حل بھی وہی ہے جہاں مسئلہ ہے نیت اور نمائش میں توازن ایک محقق لکھتے ہیں کہ ہماری روایت میں ایک سنہری اصول تھا نعمت چھپاؤ شکر دکھاؤ اور آج ہم اس کے بالکل الٹ کر رہے ہیں جی نعمت دکھاؤ

اور شکر بھی دکھاوے کے لیے کرو عملی مشورہ بہت سادہ ہے زندگی کے ہر لمحے کو نمائش کے لیے پیش نہ کیا جائے کچھ چیزیں صرف محسوس کرنے کے لیے ہوتی ہیں دکھانے کے لیے نہیں اور دوسرا قدم شکر ہے حقیقی شکر جو دل سے نکلے اور آخر میں ایک روحانی ڈھال اللہ کا ذکر سورہ فلک اور سورہ ناس کا ورد سکون نمائش سے نہیں یقین سے ملتا ہے

تو خلاصہ یہ ہے کہ نظرِ بد کی حقیقت نہیں بدلی صرف اس کا میدان بدل گیا ہے پہلے حاسد سامنے ہوتا تھا آج وہ سکرین کے پیچھے ہے ایک نامعلوم چہرہ وہ جلن وہ احساسِ کمتری وہ لا شعوری حسد آج بھی اتنا ہی حقیقی ہے اس ساری گفتگو کے بعد ایک سوال ذہن میں رہ جاتا ہے کچھ نعمتیں دکھانے کے لیے نہیں ہوتی صرف بچانے کے لیے ہوتی ہیں اس ڈیجیٹل نمائش کے دور میں ہم کیا کچھ دکھا رہے ہیں

اور بدلے میں کیا کچھ گواہ رہے ہیں

Want your business to be the top-listed Government Service in Medina?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Saudi Arabia�
Medina
40400