PTI Arabian Tigers - Saudi Arabia

PTI Arabian Tigers - Saudi Arabia

Share

PTI Arabian Tigers-saudi arabia About
Tehreek-e-Insaf will win on the basis of its ideology and not the candidates. Imran Khan..!

Mission
To establish a just society based on humane values while continuously upholding the self-esteem of the nation. The PTI will restore the sovereign and inalienable right of the people to choose political and economic options in accordance with our social, cultural, and religious values. We are broad-based movement for change whose mission is to create a free society based on justice. We know

10/03/2026

یہ پوسٹ دوبارہ کی جا رہی ہے آپ سب بھائیوں سے مدد کی اپیل ہے خاص مخیر حضرات سے اس بھائی کی مدد کریں اور انکوں اس مشکل گھڑی سے نکالے شکریہ

اسلام وعلیکم یہ سکرین شارٹ ایک بہت محنتی بچے کا ہے جو اپنی ماں کا اکیلا بیٹا ہے اور دو بہنیں اور ایک بھائی ہے یہ لوگ بہنوں کی شادی ہو چکی ہے پہلے بھی اس ہی پیج سے ہم نے ڈونیشن جمع کی تھی

اس کی بہن کی شادی کے لیے الحمداللہ دو سال پہلے یہ رینٹ کے گھر میں رہتے ہیں انکی والدہ بہت بیمار ہے جس کی وجہ سے یہ جو 35 40 ہزار کماتا ہے ان پر ہی آدھے سے زیادہ خرچ ہو جاتا ہے انکا 3 مہینے کا رینٹ باقی ہے اور مالک مکان نے تنگ کیا ہوا ہے گھر خالی کرنے کے لیے.

کچھ ہم لوگوں نے مینج کر دیا ہے کچھ باقی ہے اگر کوئی بھائی بہن اسکی مدد کرنے میں انٹرسٹ رکھتا ہے تو پلیز میسج کر دیں آپ لاہور کا رہائشی ہے اپکو نمبر دیں دیا جاتا ہے آپ خود بھی جا کر رینٹ پے کر سکتے ہیں مل سکتے ہیں

رمضان کا مہینہ ہے اپنے کمزور لوگوں کا بھی ہاتھ پکڑے تا کہ معاشرے میں انسانیت برقرار رہے مخیر حضرات سے گزارش ہے آگے آئے اور بھائی سے ملے اور مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کریں شکریہ اس پوسٹ کو شیئر کرے جزاک اللہ

22/02/2026

2026 ان لوگوں کیلئے گولڈن سال ہوگا جو یوٹیوب آٹومیشن ، ٹک ٹاک مونٹایزیشن ، فیسبک مونٹایزیشن پر ورک کررہے ہیں
وقت اب بھی نہیں گزرا ان میں سے کسی بھی ایک سکلز کو پکڑو اور سیکھنا شروع کردیں
فری میں سیکھنے کیلئے یوٹیوب اور چیٹ جی پی ٹی کو استاد بنالیں۔
ٹک ٹاک مونٹایزیشن کا مکمل کورس کے لیے نیو کلاسس کا آغاز ہونے والا ہے جس میں صرف 200 لوگوں کے لیے گنجائش ہو گی۔ کورس کی ویڈیوز ۔ لائیو سیشن، اس کے علاؤہ سوال جواب کا سیشن
پیڈ مینٹور شپ لینی ہے وہ بھی مناسب فیس کے ساتھ تو تک ٹاک مونٹایزیشن کورس جوائن کرلیں جس کی فیس پاکستان میں سب سے کم ہے لیکن ویلیو سب سے زیادہ ہے۔
مزید معلومات یا تفصیلات کے لیے
03137997133
03338716040
پر رابطہ کریں ۔
کورس کا آغاز یکم مارچ کو ہو گا 10 دن کا کورس ہو گا جس میں اپکو مکمل طور پر کام سیکھایا جائے گا اکاؤنٹ بنانے سے لے کر ارننگ تک۔
کورس کی فیس 5000 ہے لیکن رمضان آفر میں یہ کورس صرف 3000 میں کروایا جائے گا۔

Photos from PTI Arabian Tigers - Saudi Arabia's post 12/01/2026

حسن بھائ کے لئےمدد اور دعا کی اپیل
اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو پوسٹ شئیر کر دیں۔بہت زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے خدا کے لیے 100, 150 اکھٹے کرو اور مراد بھائی کا مدد کرو
یہ بندہ رکشہ چلاتا ہے 30 تاریخ کو گل زمان مسجد کیساتھ روڈ کے کنارے کھڑا تھا کہ اک تیز رفتار موٹر کار نے ٹکر دے ماری۔

اب نارتھ ویسٹ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ خدا کے واسطے بھائ کے معصوم بچوں کی خاطر ایک بار دل سے دعا مانگ لیں کہ بھائ ٹھیک ہو جائے۔
نارتھ ویسٹ ہسپتال میں مراد بھائ کومہ میں پڑے ہیں۔
سر میں شدید ترین چوٹ لگنے کی وجہ سے بھائ گزشتہ 7 دنوں سے کومہ میں ہیں۔۔
ہو سکتا ہے آپ میں سے کسی کہ دعا لگ جائے۔
Easypaisa or jazzcash
03137997133

17/12/2025

تحریر

میں جب دکان پہ پہنچا تو دوکان کا مالک دوستوں کے ساتھ باتوں میں محو تھا ایک ہاتھ میں اس نے سلگتا ہوا سگریٹ پکڑ رکھا تھا جس کے کش لگاتا دوستوں کی بات پہ قہقہ لگاتا انگلی کی مدد سے سگرٹ کی راکھ زمین پہ بکھیرتا اور خود بھی شامل گفتگو ہو جاتا میں تھوڑی دیر انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ خود میری طرف متوجہ ہو اور میرے انے کی وجہ پوچھ لے مگر شاید میرا چہرہ پڑھ کر اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ میں اس کے پاس کسی غرض سے ایا ہوں لہذا اس نے میری طرف کوئی دھیان نہ دیا میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا جب مجھے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا تو میں نے خود ہی اسے بھائی وزیر کہہ کر مخاطب کیا میرے مخاطب کرنے پر اس نے تیوری چڑھائی شششششش کر کے انگلی کو ہونٹوں پہ رکھا اور پھر مجھے خاموش رہنے کا حکم دے دیا میں بے بس تھا انتظار کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا حتی کہ صبح میں نے خود ا کر اس سے ٹائم لیا تھا اور کہا تھا کہ مجھے تم سے کچھ بات کرنا ہے جب تم فارغ ہوتے ہو مجھے وقت بتا دو میں آ جاؤں گا
اس نے خود مجھے ملاقات کا یہ وقت دیا اور اس کے باوجود میرے ساتھ اس کا رویہ متکبرانہ تھا اس روئیے کی بھی دو وجوہات تھیں
پہلی یہ کہ
میرا تعلق یہاں سے نہیں بلکہ وسطی پنجاب سے تھا یہاں میں ایک وڈیرے کے ڈیرے پر بطور ملازم رہ رہا تھا میں اس کا مقروض ہوں رقم ادا نہیں کر سکتا تو رقم کے عوض اس کے ڈیرے پر کام کر لیتا ہوں اب جو لوگ زمیندار اور ڈیرہ دار ہیں ان کو اچھی طرح پتہ ہوگا کہ ایک ذاتی ملازم کی کیا حیثیت یا اہمیت ہوتی ہے اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھا جاتا ہے
دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ
میں اس دوکان دار کے پاس ادھار سامان لینے آیا تھا اب جو لوگ دکاندار ہیں یا اگر کسی کو قرض دیتے ہیں تو ان کو بھی اچھی طرح اندازہ ہوگا کہ قرض لینے والے کے ساتھ کیا رویہ اپنایا جاتا ہے یا دکان سے ادھار سامان خریدنے ائی ہوئے گاہک کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتا ہے

بہرحال میں خاموش ہو گیا میری شرمندگی کی انتہا نہیں تھی خیر میں ایسے حالات سے کئی بار دوچار ہو چکا تھا ایک بار پھر سہی اس بات سے مجھے افسوس ضرور ہوتا تھا مگر فرق نہیں پڑتا تھا میں خاموش ہو کے ایک سائیڈ میں بیٹھ گیا وہ لوگ اپنی خوش گپیوں میں مصروف رہے جب ان کی محفل برخاست ہو گئی تو تب دکاندار نے مجھے بلایا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا بات کرنی ہے تو میں نے اس کو بتایا کہ مجھے راشن خریدنا ہے راشن تقریباً بیس سے پچیس ہزار کے قریب کا بن جائے گا اور میرے پاس اس وقت 15 ہزار روپے ہیں شرم سے میری نظریں جھکی ہوئی تھیں خیر اس نے مجھے دو چار کڑوی کسیلی سنائیں اور پھر راشن دینے پر امادہ ہو گیا مگر اس سے پہلے اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا کہ

جب تمہاری اپنی اتنی حیثیت نہیں ہے تو تم نے کیوں یہ ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ؟
اس بات سے اگر تمہیں کچھ حاصل ہونا ہوتا تو پھر تمہیں ہر بار میرے سامنے ہاتھ کیوں پھیلانا پڑتا کھڑا کیوں ہونا پڑتا ؟
تم اب تک اس قابل کیوں نہ ہو جاتے تمہیں ادھار راشن اٹھانے کی ضرورت نہ پڑتی اور تم یہ راشن کسی مستحق تک نقد رقم کے ساتھ خرید کر پہنچا دیتے ؟
میرے پاس اس کے سوالوں کے جواب نہیں تھے میں خاموش رہا ہوں اس نے میری فہرست کے مطابق مجھے راشن دیا اور بقایہ رقم کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ اگلی یکم سے پہلے اپ کا پچھلا قرض اتار دوں گا
میں یہاں ایک ایسی فیملی کی کفالت کرتا ہوں جس کا کمانے والا کوئی نہیں ہے وہ انتہائی مجبور ہیں میں نہ صرف اپنی کمائی میں سے بچت یہاں لگاتا ہوں بلکہ اپنے پڑھنے والوں سے بھی التجا کر کے کچھ نہ کچھ مانگ کر اس خاندان کے لیے مہینے بھر کر راشن ڈلوا دیتا ہوں وہ راشن میں ہمیشہ اسی دکان دار سے خریدتا ہوں اگر کبھی رقم پوری نہ ہو تو میں ادھار کر لیتا ہوں اور اللہ کرتا ہے یکم سے پہلے میرا قرض اتر جاتا ہے خیر اج جب اس دکاندار نے مجھ سے یہ سوال کیا تو مجھے تھوڑی تکلیف ہوئی میں نے وہ سوال اپنے ایک عزیز سے پوچھے جن کا تعلق ڈائریکٹ مولانا الیاس قادری صاحب کے ساتھ ہے انہوں نے وہ سوال سیدھا الیاس قادری صاحب کو بھیج دیا بدلے میں الیاس قادری صاحب کی طرف سے مجھ سے سوال پوچھا گیا کہ
تمہیں کبھی اپنی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑے ہیں ؟
کیا تمہاری ضروریات تمہاری کمائی سے پوری نہیں ہو رہی ہیں ؟
کیا تمہاری کمائی تمہاری ضروریات سے زیادہ نہیں ہے کیا تمہارے پاس کچھ رقم بچ نہیں جاتی کہ تم مخلوق خدا پر خرچ کر سکو ؟
ان تمام سوالوں کا جواب ہاں تھا جب میں نے ان تمام سوالوں کا جواب ہاں میں دیا تو دوبارہ مولانا صاحب کا جواب ایا کہ پھر تمہیں خدا سے اور کیا چاہیے ؟
جس شخص نے تم سے یہ بات کی ہے تمہیں چاہیے تھا کہ اس کو بتاتے کہ مجھے میرے اللہ نے میری ذات کی خاطر کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے دیا میری زبان ہلتی ہے اور کسی کا پیٹ بھر جاتا ہے تو اس سے مجھے اجر ہی ملتا ہے میرا کوئی نقصان نہیں ہوتا اگر میں ایسا نہ کروں اور ان کی کفالت چھوڑ دوں تو شاید وہ زیادہ عرصہ نہ جی سکیں یا پھر وہ کسی بری راہ پر چل پڑیں اگر میرے اللہ نے مجھے ان کا وسیلہ بنایا ہے تو بدلے میں مجھے اتنا نواز رکھا ہے کہ مجھے اپنے کسی کام کی خاطر کسی کے سامنے کبھی ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا اگر اج تمہارے سامنے بھی میں کھڑا ہوں تو کسی اور کی خاطر کھڑا ہوں
مولانا صاحب کا میسج ختم ہو گیا لیکن میرے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا ہو گیا اور میں نے اپنی اس مشن کو جاری رکھنے کا سوچا
(میں نے ساری بات پہلے اپنے اس دوست کو بتا رکھی تھی جن کا تعلق مولانا صاحب سے تھا اور انہوں نے وہ ساری بات شاید مولانا صاحب کو بتائی تھی اسی لیے انہوں نے اتنی تفصیل سے جواب دیا تھا )

خیر مجھے میرے سوالوں کا جواب مل چکا تھا اور میں مطمئن تھا اتنی دیر میں دوبارہ مجھے واٹس ایپ پر میسج موصول ہوا اور مولانا صاحب نے مجھے اخری بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیا تم اس چیز کو معجزہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالی کی ذات نے تمہیں کبھی تمہاری ذات کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے دیے تمہاری ضروریات کو اپنے خزانے سے پورا کیا تمہیں کبھی کسی کی دہلیز پہ نہیں جانا پڑا
ان کا میسج ختم ہو گیا اور میں مطمئن ہو گیا مجھے راشن مل چکا تھا گو کہ میں سات سے اٹھ ہزار روپے کا مقروض ہو گیا تھا لیکن الحمدللہ مجھے امید ہے کہ میں جلد یا بدیر اس رقم کا انتظام کر لوں گا ہاں البتہ میرے دل میں ایسے سوالات کا ملال ضرور رہتا ہے لیکن جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو میں کسی نہ کسی سے رہنمائی لے لیتا ہوں اور پھر مطمئن ہو جاتا ہوں
جتنے بھی لوگ میرے ساتھ تعاون کرتے ہیں میں ان سب کا ذاتی طور پر شکر گزار ہوں اللہ تعالی ان کو جزائے خیر عطا فرمائے امین ثم امین

اختتام

کرین کرام اگر کوئی مخیر شخص کچھ تعاون کر سکتا ہو تو پلیز کر دے اس کے لئیے دعا گو رہوں گا شکریہ

Photos from PTI Arabian Tigers - Saudi Arabia's post 30/11/2025

New Guide for Domestic Workers in KSA

30/11/2025

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان کی آخر ان کی بہنوں اور پارٹی لیڈروں سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جارہی؟
سنگین ترین کیسز میں قید ملزموں کی بھی قانون کے تحت ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں۔ عمران خان کو یہ رعایت کیوں نہیں مل رہی ؟
ن لیگ کی صوبائی وزرا کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف کی اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں اور یہ سپرنٹندنٹ اڈیالہ جیل کا مسئلہ ہے کہ وہ کسے ملاقات کرنے دے، کسے نہ کرنے دے۔
واقعی ؟ کیا ن لیگ پنجاب کے عوام کو اپنی طرح غبی العقل اور بے وقوف سمجھتی ہے ؟ کیا ایک جیل سپرنٹنڈنٹ کی اتنی اوقات اور ہمت ہوسکتی ہے کہ ایسے ہائی پروفائل کیس میں اپنی من مانی کرے اور آخر وہ بھی کیوں کرے؟ کیا ایک جیل سپرنٹنڈنٹ جو گریڈ اٹھارہ کا ملازم ہے ، کیا وہ قانون سے بالاتر ہے ؟
ابھی خبر پڑھی کہ پختون خوا کے وزیراعلیٰ کو آٹھویں بار بھی عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی ۔ سہیل افریدی نے کہا ہے کہ میں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ ہوں اور مجھے قانون کے مطابق ملاقات کیوں نہیں کرنے دی جا رہی۔
جیو نیوز کے مطابق سہیل آفریدی نے موقع پر موجود پولیس افسران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں، آٹھویں مرتبہ جیل آ رہا ہوں مجھے بانی پی ٹی آئی سے کیوں نہیں ملنے دیا جا رہا، کیوں ایک صوبے کی تذلیل کی جا رہی ہے۔"وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ اگر ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں تو کیسا لگے گا، ملاقات کے لیے آیا ہوں یہیں بیٹھوں گا۔ سہیل آفریدی نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اڈیالہ روڈ پر دھرنا دے کر میڈیا سے گفتگو میں کہا بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناسازی کی خبریں گردش کررہی ہیں، جو خبریں یا افواہیں آرہی ہیں اسے تشویش بڑھ رہی ہے۔ہ ہم چاہتے ہیں آج ملاقات ہو یہ تشویش بھی ختم ہو، تشویش بڑھے گی تو پوری قوم سڑکوں پر آئے گی، ہم چاہتے ہیں عمران خان سے ملاقات کریں ان کی صحت دریافت کریں۔"

میں سہیل آفریدی کے بعض بیانات پر تنقید کرتا رہا ہوں، مگر اس حوالے سے وزیراعلیٰ پختون خوا کا موقف درست اور اصولی ہے۔ اس کی حمایت کرنی چاہیے۔
عمران خان کی ملاقاتیں نہ کرانے کا فیصلہ جس کا بھی ہے، غلط ، نامناسب، ناجائز اور سخت قابل مذمت ہے۔

29/11/2025

‏شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے۔
‏علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک کے مطابق یہ اقدام طلبہ اور مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے۔

‏اہم زندگی بچانے والی ادویات بندرگاہ پر پھنس چکی ہیں۔ ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں مریض کی جانیں خطرے میں ہیں۔

‏انسانی زندگی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھ سکتی۔
‏اکاؤنٹس فوری بحال کیے جائیں، سب آواز اٹھائیں

Photos from PTI Arabian Tigers - Saudi Arabia's post 29/11/2025

عبد الملک ابن مروان اموی خاندان کا پانچواں حکمران تھا، جس نے 685 سے 705 عیسوی میں اپنی موت تک حکومت کی۔ اسے اموی سلطنت کے بانی حضرت امیر معاویہ کے بعد سب سے اہم اموی حکمران کے طور پر جانا جاتا ہے، اور اس کی اہم انتظامی اصلاحات اور امن و امان کی وجہ سے اکثر اموی خلافت کا "حقیقی بانی" سمجھا جاتا ہے۔

جب عبد الملک برسراقتدار آیا تو سلطنت میں خلفشار تھا، زیادہ تر صوبوں نے حضرت عبد اللہ ابن الزبیر کو حکمران تسلیم کیا۔ سات سالہ فوجی مہم کے ذریعے، اس نے کامیابی سے تمام حریفوں کو شکست دی اور اپنے قابل اعتماد جنرل الحجاج ابن یوسف کی مدد سے سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔

ایک بڑا قدم عربی کو پوری سلطنت میں حکومتی نظم و نسق کی واحد زبان بنانا تھا، جس نے صوبوں میں یونانی اور فارسی کی جگہ لی۔ اس سے انتظامیہ کو مرکزی اور معیاری بنانے میں مدد ملی۔

اس نے 696/697 عیسوی میں ایک نئی کرنسی، سونے کا دینار متعارف کرایا، جس نے موجودہ بازنطینی اور ساسانی سکوں کی جگہ لے لی اور اس پر صرف عربی تحریریں تھیں۔

اس نے 689 اور 691 عیسوی کے درمیان یروشلم میں Dome of the Rock کی تعمیر کا کام شروع کیا، جو ابتدائی اسلامی فن تعمیر کا ایک شاہکار تھا جس کے گبند پر سنہری پانی چڑھایا گیا اس کے علاوہ دمشق میں مسجد اموی کی تعمیر کی

اس نے بازنطینی سلطنت کے خلاف فوجی مہمات دوبارہ شروع کیں اور سلطنت کی حدود کو شمالی افریقہ تک بڑھایا، 697 عیسوی میں کارتھیج پر قبضہ کیا۔

اس نے ڈاک سروس کی توسیع اور تنظیم نو کی۔

عبد الملک کے دور حکومت نے ایک مضبوط، مرکزی بنیاد فراہم کی جس پر اموی سلطنت اپنے جانشینوں بشمول اس کے بیٹوں ولید اول اور ہشام کے تحت اقتدار اور علاقائی حد تک اپنے عروج پر پہنچ گئی۔

اس کا انتقال اکتوبر 705 میں دار الحکومت دمشق میں ہوا۔

عبدالملک بن مروان ہی کے زمانے میں ایک بازنطینی بادشاہ سرکاری دورے پر دمشق پہنچا اس نے عمارات اور شان و شوکت دیکھ کر کہا کہ مسلمانوں نے ادھر جو دیر پا انتظامات کر لئے ہیں اب یہ یہاں سے کبھی واپس نہیں جائیں گے اب یہ علاقہ بازنطینی دوبارہ کبھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

29/11/2025

کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ھیں اور بزدل لوگ دنیا کے ڈر سے یوٹرن لیتے ھیں

22/11/2025

20 ﻧﻮﻣﺒﺮ 1979 ﺣﺞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ 20 ﺩﻥ ﮨﯽ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺳﺎﻝ ﺑﻠﮑﮧ ﻧﺌﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺻﺪﯼ ﯾﻌﻨﯽ 1400 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﯾﮧ ﯾﮑﻢ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﺳﻦ 1400 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺻﺒﺢ ﺗﮭﯽ
ﺟﺐ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﻠﺦ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﻻ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ، ﺟﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﻌﺒﮧ ﻣﺸﺮﻓﮧ ﮐﮯ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﻮﻉ ﭘﺰﯾﺮ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺯﺧﻢ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻋﺸﺎﻕ ﺣﺮﻡ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﯿﮟ۔
ﻧﺌﯽ ﺻﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺮﻡ ﮐﻌﺒﮧ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺳﺒﯿﻞ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﮐﺎ ﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺍٓﺩﻣﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻻﺅﮈ ﺳﭙﯿﮑﺮ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﺾ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﯿﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻣﺴﻠﺢ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺣﺞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﺟﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﺜﯿﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﮑّﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﻘﯿﻢ ﺗﮭﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﻟﺴﻮﺯ ﺣﻤﻠﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺣﺮﻡ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﻥ ﺣﻤﻠﮧ ﺍٓﻭﺭﻭﮞ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﺎ ﺳﺮﻏﻨﮧ ” ﺟﮩﯿﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﯿﻒ ﺍﻟﻌﺘﯿﺒﯽ ” ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ” ﻧﺠﺪ ” ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺳﺖ ﺭﺍﺳﺖ 27 ﺳﺎﻟﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﻗﺤﻄﺎﻧﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﮑﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻟﮧ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺁﭘﮑﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﺍٓﻭﺭﻭﮞ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﺎ ﺳﺮﻏﻨﮧ ” ﺟﮩﯿﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﯿﻒ ﺍﻟﻌﺘﯿﺒﯽ ” ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮩﻨﻮﺋﯽ ﺑﻨﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﭘﻼﻧﻨﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮩﺮﻭﭖ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﺎﺑﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺣﺮﻡ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﺗﮩﮧ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﻠﺤﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﮧ ﺧﺸﮏ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﺷﯿﺎ ﺧﺮﺩ ﻭ ﻧﻮﺵ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﺗﮧ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺎﻡ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺍ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺯﺵ ﮔﮩﺮﯼ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﮏ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮔﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺘﺒﺮﮎ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺮﻭﮦ ﺍﺗﻨﯽ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﺳﺎﺯﺵ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﯿﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺱ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺮﻡ ﮐﻌﺒﮧ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺳﺒﯿﻞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍ ﮨﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﻋﺰﺍﺋﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﭘﻮﺭﮮ ﺣﺮﻡ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺣﺮﻡ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﻠﺢ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﮔﯿﮯ۔ ﺣﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﯾﺮﻏﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮯ ﮔﯿﮯ۔ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮩﺖ ﮐﻮﺷﺶ ﺳﮯ ﺣﺮﻡ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ، ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﻧﮑﻞ ﺳﮑﮯ۔ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺐ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺣﺎﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ، ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﻣﺤﺼﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﻧﮯ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﻡ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﺎﺋﮏ ﺳﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻋﻼﻧﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮐﮧ ” ﻣﮩﺪﯼ ﻣﻮﻋﻮﺩ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍ ﻟﻠﮧ ﮨﮯ ﺍٓ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ”
ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻣﮩﺪﯼ ” ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﻗﺤﻄﺎﻧﯽ ” ﺟﺴﮑﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ
” ﻣﯿﮟ ﻧﺌﯽ ﺻﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﮩﺪﯼ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﯾﻨﮕﮯ ”
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﭨﻮﻟﮯ ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻘﺪﺱ ﮔﻮﺷﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ، ﮐﻌﺒﮧ ﻣﺸﺮﻓﮧ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﻮﻟﯿﻮﮞ، ﺳﻨﮕﯿﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﻭﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭﺍﻧﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔
ﻣﺤﺎﺻﺮﮮ ﮐﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﻌﺪ ﻭﺯﺍﺭﺕ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﮐﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ‏( 100 ‏) ﺍﮨﻠﮑﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺣﺮﻡ ﻣﮑﯽ ﭘﺮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺗﺪﯾﻦ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺳﺶ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺑﻨﺎ ﺩﯼ۔ ﺍﺱ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﮔﺎﺭﮈ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﺮﻡ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﺭﮔﺮ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﮑّﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﮐﻮ ﺭﮨﺎﺷﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﺍ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻓﺮﻣﺎﻧﺮﻭﺍ ﺷﺎﮦ ﺧﺎﻟﺪ ﻧﮯ 32 ﻋﻠﻤﺎﺀ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﺟﻼﺱ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻃﻠﺐ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﻧﮯ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻭﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﺢ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯿﺨﻼﻑ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻓﺘﻮﮮ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺗﻘﺪﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺑﻌﺪ ﺍﺯﯾﮟ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺁﺭﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻧﭻ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﻨﺎﺋﭙﺮﺯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺭﭖ ﺷﻮﭨﺮﺯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ ﺟﮕﮧ ﭘﻮﺯﯾﺸﻨﺰ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﮟ۔ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺗﮏ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻓﻮﺟﯽ ﮨﻼﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻧﭻ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﺩﻭ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺫﺍﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﮔﻮﻧﺞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﻮﯾﺎ ﻧﮧ ﺍﺫﺍﻧﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﮧ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮨﻮ ﭘﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻧﮧ ﻃﻮﺍﻑ ﻣﻤﮑﻦ ﺗﮭﺎ۔
ﺑﺎﻻ ﺁﺧﺮ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﻧﮯﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ . ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﻤﺎﻧﮉﻭﺯ ﻧﮯ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻨﺎﺋﭙﺮﺯ ﺳﮯ ﻧﻤﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺗﺮﮐﯿﺐ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﺴﺠﺪﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﮔﯿﻠﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻧﭧ ﺩﻭﮌﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﮔﺊ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﮯ ﺷﺎﺭﭖ ﺷﻮﭨﺮﺯ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺎﺋﭙﺮﺯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﺆﺛﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔
ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﺮﻋﺖ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻟﯿﺎ۔ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﻧﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺗﻤﺎﻡ ﯾﺮﻏﻤﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﺩﻻﺋﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻥ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﻣﺮﺍﮐﺰ ﻣﮑﮧ ﻭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﻭ ﺩﺍﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﺎﺳﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺷﺮ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻭ ﻣﺎﻣﻮﻥ ﺭﮐﮭﮯ . ‏( ﺁﻣﯿﻦ ‏)
ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﺻﻔﺎﯾﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ 7 ﺩﺳﻤﺒﺮ 1979 ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺣﺮﻡ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﻮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﮭﻮﻻ ﮔﯿﺎ۔ ﮔﻮﯾﺎ ﺳﻮﻟﮧ ﺩﻥ ﺣﺮﻡ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﺍﻧﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺍﻑ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺎ۔
ﺍﺱ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ 75 ﺑﺎﻏﯽ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻣﮩﺪﯼ ” ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﻗﺤﻄﺎﻧﯽ ” ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﮨﻼﮐﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺁﭘﮑﻮ ﺁﺝ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮐﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻟﺮﺯﮦ ﺧﯿﺰ ﺍﯾﻮﻧﭧ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ۔
ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﮔﺎﺭﮈﺯ ﮐﮯ 60 ﻓﻮﺟﯽ، ﭼﺎﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ 26 ﺣﺎﺟﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮﻏﻨﮧ ” ﺟﮩﯿﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﯿﻒ ﺍﻟﻌﺘﯿﺒﯽ ” ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ۔
ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺮﺗﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 41 ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ، 10 ﻣﺼﺮ، 6 ﺟﻨﻮﺑﯽ ﯾﻤﻦ، ﺍﻭﺭ 3 ﮐﻮﯾﺖ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻋﺮﺍﻕ، ﺳﻮﮈﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﯾﻤﻦ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺪ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﯿﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻠﺰﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻓﺘﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺍﻧﮕﯿﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ . 💞
‏( ﺁﻣﯿﻦ ‏)

09/11/2025

✨ اقبال کی شاعری کا کمال ✨
کہتے ہیں
اگر مسلمانوں کو اقبال کی شاعری سمجھ آ جاتی
تو وہ کبھی غلام نہ رہتے

اور اگر انگریزوں کو سمجھ آ جاتی
تو وہ اقبال کو کبھی جیل سے باہر نہ آنے دیتے۔

🥀 اقبال نے کہا تھا
" خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے "
🇵🇰🥀🤲

09/11/2025

سعودی جوازات نے Self-Deportation Platform کا اعلان کر دیا ✅
اب غیر قانونی رہائشی خود آسانی سے ملک واپسی کے لیے خروج نہایئ کیلئے درخواست دے سکیں گے_

Want your business to be the top-listed Government Service in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Riyadh