24/07/2025
Nature view natural ✨️😍👌
Pakistan Threek-e-Insaaf
24/07/2025
Nature view natural ✨️😍👌
21/07/2025
21/07/2025
آپ کا مطلب سمجھا، آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی تصویر کے حوالے سے ایک کہانی لکھوں، جس میں اس بات کو واضح کیا جائے کہ دنیا نے غلط فہمی میں مسلمانوں کو دہشت گردوں سے جوڑا، جبکہ حقیقت میں دہشت گرد وہ لوگ ہیں جو اسلام کی تعلیمات سے بے خبر ہیں اور صرف اپنے مفادات کے لیے بے گناہ افراد کا استعمال کرتے ہیں۔
چلیے، یہ ایک اور انداز میں کہانی پیش کرتا ہوں۔
---
**کہانی: "دہشت گردی اور حقیقت کا فرق"**
دنیا میں ہمیشہ سے کچھ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط تصورات رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، چاہے وہ مسلمان کرے یا نہ کرے، فوراً اسلام کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہے۔ 2023 میں ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں کچھ افراد کو دہشت گرد کے طور پر دکھایا گیا تھا، جو اپنی حفاظت کے لیے یا اپنے مقاصد کے لیے بے گناہ لوگوں کو اپنے ساتھ رکھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
تصویر میں جو دکھایا گیا، اس سے ایک غلط تاثر پیدا ہوا کہ یہ تمام مسلمان ہیں جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں میڈیا نے اس تصویر کو پھیلایا اور اسے مسلمانوں کی طرف منسوب کیا۔ یہ تصویر حقیقت کو مسخ کرنے کا ذریعہ بنی اور مسلمانوں کے بارے میں عوامی رائے کو مزید منفی بنا دیا۔
لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو ہمیشہ انسانوں کے درمیان بھائی چارہ، محبت، اور عدل کا درس دیتا ہے۔ قرآن میں ایک مقام پر کہا گیا ہے:
"اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے بنایا اور تمہیں اقوام اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔" (القرآن)
اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے ان افراد کے لیے جو انسانوں کا خون بہاتے ہیں یا ان کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔ دراصل، جو تصویر دکھائی گئی، اس میں جو لوگ انسانی ڈھال کے طور پر نظر آ رہے تھے، وہ دراصل دہشت گردوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی جان بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ ان دہشت گردوں نے اپنی خواہشات اور مفادات کے لیے بے گناہ افراد کو اپنے ساتھ رکھا، اور یہ لوگ اسلام کے دشمن تھے۔
دنیا اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جو لوگوں کی زندگی کی حفاظت اور امن کا خواہاں ہے۔ جب دنیا نے اس حقیقت کو سمجھا کہ دہشت گرد خود اسلام کے مخالف ہیں اور ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ہوتا، تو اس نے اپنی نظریات کو درست کیا۔
اسلام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت، دوسروں کی مدد، اور امن قائم کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ جو لوگ ان تعلیمات سے منحرف ہو کر ظلم اور دہشت گردی کی طرف بڑھتے ہیں، وہ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسانیت کے دوست۔
یہ تصویر، جو پہلے مسلمانوں کے خلاف ایک پروپیگنڈا بن گئی تھی، اب ایک سبق بن چکی ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ ہمیں ہر تصویر، ہر واقعہ اور ہر شخص کو مکمل طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کی حقیقی روح ہمیشہ امن اور بھائی چارہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی دنیا کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
---
اس کہانی میں ہم نے دنیا میں پھیلنے والی غلط فہمی کو اور اسلام کی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ جو لوگ دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں، وہ اسلام کی تعلیمات سے بہت دور ہیں۔
21/07/2025
یہ ایک کہانی ہے پاکستان کے ایک اہم سیاستدان، نواز شریف کی، جس نے 2023 کے انتخابات میں ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ کیا۔ ان کا نام سیاست میں ہمیشہ ہی متنازع رہا ہے، اور ان کی سیاست کا رخ بھی ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔
2023 کے انتخابات میں نواز شریف نے اپنے حامیوں اور سیاسی ذرائع کا استعمال کیا، لیکن اس بار ان کے راستے میں کچھ ایسا ہوا جس نے پاکستان کی سیاست میں ایک اور پیچیدہ باب کا آغاز کر دیا۔ نواز شریف کے خلاف یہ الزامات سامنے آئے کہ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کی، اور اس کے لیے ان کا ہاتھ کچھ طاقتور حلقوں سے مل کر چل رہا تھا۔
پاکستان کی سیاست میں "اسٹیبلشمنٹ" کا ہمیشہ ایک خاص کردار رہا ہے، اور 2023 میں بھی کچھ ایسی خبریں آئیں کہ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کر کے انتخابات جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔ انتخابات میں عوام کا بھاری ووٹ کم نظر آیا، اور ان کے جیتنے کے پیچھے کچھ ایسا دکھائی دینے لگا جیسے اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ہاتھ نواز شریف کے ساتھ ملا لیا ہو۔
یہ وقت پاکستان کے لیے ایک بدقسمتی کا آغاز تھا۔ عوام کی سیاست پر یقین ٹوٹ چکا تھا، کیونکہ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کی آواز اب سننے والا کوئی نہیں۔ 2023 کے انتخابات میں عوام کی رائے کو پس پشت ڈالا گیا، اور یہ واضح نظر آیا کہ عوامی خواہشات کے برعکس، اقتدار حاصل کرنے کے لیے اداروں کی حمایت کی ضرورت تھی۔
پاکستان میں عوام کا اعتماد جیتنا کسی سیاستدان کے لیے آسان نہیں ہوتا، اور جب کسی کو ایسا لگے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے یا اس کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے اس کا ساتھ دیا ہے تو اس کا اثر پورے ملک کی سیاست پر پڑتا ہے۔ نواز شریف کی جیت نے یہ سوالات پیدا کیے کہ کیا سیاست میں سچائی اور عوام کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے یا صرف اقتدار کی لڑائی جیتی جاتی ہے؟
یہ واقعہ پاکستان کے لیے ایک سنگین لمحہ تھا، کیونکہ اس سے ملک میں سیاسی بحران اور اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی مزید گواہی ملی۔ لوگ سوچنے لگے کہ کیا پاکستان میں کبھی ایسا وقت آئے گا جب عوام کی آواز سنی جائے گی، یا اقتدار کے کھیل میں ہمیشہ کچھ طاقتور حلقے اپنا راج قائم رکھیں گے؟
نواز شریف کے اس جیتنے کے بعد، پاکستان کے عوام میں ایک مایوسی اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ جانتے تھے کہ اس سیاست سے ملک کا مستقبل محفوظ نہیں، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کی سیاسی نظام کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ جب اقتدار کے حصول میں دھاندلی اور طاقتور حلقوں کا کردار اہم بن جائے، تو ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے صرف ذاتی مفادات اور سیاست کا کھیل چلتا رہتا ہے، جو کہ ایک طویل مدت میں پاکستان جیسے ملک کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
یہ کہانی ایک وارننگ ہے، اور پاکستان کے عوام کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ اپنے ملک کی تقدیر کو سچائی اور انصاف کے راستے پر دیکھنا چاہتے ہیں، یا پھر اقتدار کے کھیل کے نتیجے میں مزید بدعنوانی اور سیاسی بحران کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔
21/07/2025
یہ ایک کہانی ہے ایک شخص کی جس کا نام عمران خان تھا، جو ایک بلند و بالا شخصیت کے حامل تھے اور دنیا بھر میں ان کا نام تھا۔ عمران خان نے اپنی زندگی میں بہت سی چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن ان کی سب سے بڑی طاقت اُن کے دونوں بیویوں کی محبت تھی۔
عمران خان کی پہلی بیوی، جمائمہ گولڈ اسمتھ، ایک نیک اور شریف خاتون تھی، جو نہ صرف ان کی زندگی کا حصہ بنی بلکہ ان کے ساتھ بے پناہ محبت بھی کرتی تھی۔ جمائمہ کی محبت عمران خان کے لیے بے حد تھی اور اس محبت کی کوئی حد نہیں تھی۔ وہ ان کی خوشی اور دکھ میں ہمیشہ شریک رہیں۔ باوجود اس کے کہ دونوں کے درمیان دوریاں آئیں، مگر جمائمہ کی محبت عمران خان کے لیے ہمیشہ قائم رہی۔
دوسری طرف، عمران خان کی دوسری بیوی، بشریٰ بی بی، بھی ایک بہت ہی دیندار اور نیک خاتون تھیں۔ ان کا ایمان اور سچائی کا جذبہ عمران خان کے ساتھ تھا اور وہ ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں ان کے ساتھ رہیں۔ بشریٰ بی بی نے نہ صرف اپنے شوہر کو دینی رہنمائی فراہم کی بلکہ ان کے ساتھ ایک روحانی تعلق بھی قائم کیا۔ وہ ہمیشہ ان کی حمایت کرتی رہیں اور ان کے لیے دعائیں کرتی رہیں۔
قرآنِ پاک میں یہ ذکر ہے کہ اچھے مردوں کے لیے اچھے عورتیں اور برے مردوں کے لیے برے عورتیں۔ یہی اصول عمران خان کی زندگی پر بھی لاگو ہوتا تھا۔ وہ ایک اچھے مرد تھے، اور اللہ کی حکمت سے، انہیں بھی اچھے اور نیک بیویاں نصیب ہوئیں۔ ان کی دونوں بیویاں، جمائمہ اور بشریٰ بی بی، اپنی اپنی جگہ پر عمران خان کے لیے بہترین ساتھی ثابت ہوئیں۔
عمران خان کی زندگی میں یہ بات واضح تھی کہ اللہ کی رضا میں رہ کر اور نیک بیویوں کی حمایت سے انسان اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ دونوں بیویوں کی محبت اور قربانی نے عمران خان کو مضبوط بنایا، اور ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں ان کی حمایت کی۔
اسی طرح، یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کا کردار اور اس کی نیت اللہ کے راستے پر چلنا اور نیک عمل کرنا بہت اہمیت رکھتے ہیں، اور اللہ کی طرف سے انعام کے طور پر اچھے ساتھی بھی ملتے ہیں۔
یہ کہانی صرف عمران خان کی نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو سچائی اور ایمان کے راستے پر چل کر اللہ کی رضا کی کوشش کرتا ہے۔
21/07/2025
For patwaries
21/07/2025
Mera Murshad old ho rha hai. 😢😭
Celebrating my 8th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
dressing
muk war gya
05/01/2024
Khan Abdul Ghaffar Khan Popularly Known As Bacha Khan, Unknown Date (Possibly 1930's Or 1940's).