Aindesh Gah

Aindesh Gah

Share

ایندیش گاہ علم کی وہ شاہراہ جہاں ماضی، حال اور مستقبل واقعات ملتے ہیں۔۔

01/03/2026


آج کل باال کا نام سوشل میڈیا اور پرانی مائتھولوجیز میں کافی زیادہ مشہور ہو رہا ہے، اس لیے آج ہم اس کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔

باال، جسے اکثر “باال حداد” یا صرف باال کہا جاتا ہے، قدیم کینانائیت (Canaanite) اور یگارٹک (Ugaritic) تہذیبوں میں ایک اہم دیوتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب شام، لبنان اور فلسطین کے علاقوں میں کینانائی لوگ آباد تھے، تقریباً 1300‑1400 قبل مسیح۔ باال کو بارش، زرخیزی، آسمانی طوفان اور بجلی کا رب مانا جاتا تھا۔ اس کی کہانی نہ صرف یگارٹک متن “Ugaritic Baal Cycle” میں موجود ہے بلکہ عبرانی بائبل اور فونیقی تاریخی کتابوں میں بھی اس کے اثرات اور تصورات ملتے ہیں۔

کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے: یم، جو کہ سمندر کا دیوتا تھا اور ہر قسم کے فساد و افراتفری کا نمائندہ، اپنی طاقت قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ باال کی زمین کی زرخیزی پر قابو پا لے، اور اپنی سمندری طوفانی طاقت سے دنیا پر خوف مسلط کرے۔ یم کی فوج میں سمندری مونسٹرز، طوفانی روحیں اور دیگر خطرناک عناصر شامل تھے، جو کہ قدرتی آفات اور خوف کی نمائندگی کرتے تھے۔

باال، جو زمین پر زرخیزی اور فصلوں کی رونق کا ذمہ دار تھا، یم کے حملے کے مقابلے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اناتھ جیسی دیوی بھی موجود تھی، جو نہ صرف باال کی معاون تھی بلکہ جنگی حکمت عملی میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھی۔ یگارٹک متن میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ باال نے اپنی آسمانی ہتھیاروں اور بجلی کی طاقت کے ذریعے یم کو شکست دی۔ اس جنگ کی شدت اتنی تھی کہ آسمان میں بجلیاں چمکتی، طوفان اٹھتے اور زمین پر بارشیں اور زرخیزی کی نعمتیں نازل ہوتی رہیں۔

یہ کہانی صرف ایک جنگ کا بیان نہیں بلکہ قدرتی عناصر کے توازن کا بھی آئینہ ہے۔ باال کی فتح کے بعد زمین پر استحکام آیا، لوگ اپنی فصلوں کی حفاظت کر سکے، اور معاشرتی زندگی میں معمول قائم ہوا۔ اس کے بعد باال کی عبادت اور تہوار زمین کے مختلف علاقوں میں رواج پا گئے، اور لوگ ہر سال بارش اور فصلوں کی خوشحالی کے لیے اس کی دعائیں کرتے۔

عبرانی بائبل میں بھی باال کا ذکر آتا ہے، خاص طور پر نبی ایلیاہو کی کہانی میں (1 Kings 18)۔ اس کہانی میں ایلیاہو نے ماؤنٹ کرمل پر باال کے پیروکاروں کو چیلنج کیا۔ #باال کے پیروکار آگ کے لیے دعا کرتے ہیں، لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ پھر ایلیاہو اللہ کے نام پر آگ لاتا ہے، اور باال کے دیوتا کی ناکامی سب کے سامنے آ جاتی ہے۔ یہ واقعہ باال کی طاقت اور اس کے دیوتا ہونے کے دعوے کی ایک علامتی تنقید بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

#فونیقی اور #یونانی تاریخی ذرائع میں بھی باال کی کہانی مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے۔ یونانی محقق ہیروڈوٹ اور فونیقی تاریخ دانوں کی کتابوں میں باال کی فتح اور موسمی تہواروں کا ذکر ملتا ہے، جہاں باال کے آسمانی اور زمینی اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔ باال کی عبادت کے دوران ان کی تصاویر، بت اور مندر بنائے گئے، اور زرخیزی، بارش اور فصلوں کی حفاظت کے لیے انہیں قربانیاں بھی دی جاتیں۔

#اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو قرآن میں ان لوگوں کا ذکر آیا ہے جو بتوں اور دیوتاؤں کی عبادت کرتے تھے (سورہ الانعام 137‑138، سورہ الاعراف 138)، اور باال جیسے دیوتا انہی کے مذہبی عقائد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسلامی علماء نے باال اور دیگر کنعانی دیوتاؤں کو شرک اور کفر کے تناظر میں بیان کیا ہے، اور ان کی عبادت کو انسانیت کے گمراہ ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔

سب سے مشہور واقعہ جو مختلف کتابوں میں آیا ہے وہ باال بمقابلہ یم ہے۔ اس کہانی میں باال کی فتح نہ صرف ایک دیوتا کی فتح تھی بلکہ زمین کی زرخیزی، انسانی معاشرت اور قدرتی نظم کے قیام کی علامت بھی بنی۔ یگارٹک متن میں باال کی طاقت، بجلی اور طوفانی ہتھیاروں کی تفصیل دی گئی ہے، اور ہر ماہر نے اسے قدرتی مظاہر اور قدیم لوگوں کے ایمان کی علامت کے طور پر دیکھا۔

06/02/2026

#خضرؑ: تاریخ، مذہب اور #سائنس کے سنگم پر ایک پراسرار ہستی

آج ہم بات کریں گے اس پراسرار شخصیت کی جسے ہم خضرؑ کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے، یہ صرف ایک مذہبی قصہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا پہیلی ہے جس نے مورخین، مذہبی اسکالرز، اور جدید سائنسدانوں کو صدیوں سے الجھا کر رکھا ہے۔

وہ مقام جہاں دو دریاؤں کی روحیں ملتی ہیں

جب ہم قرآن پاک کی #سورۃ #الکہف کھولتے ہیں، تو آیات 60 سے 82 ہمیں ایک عجیب و غریب سفر پر لے جاتی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے شاگرد کے ساتھ اس شخص کی تلاش میں نکلتے ہیں جس کے بارے میں انہیں خواب میں بتایا گیا تھا کہ وہ موسیٰؑ سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔

مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ محض ایک روحانی استعارہ ہے یا کوئی حقیقی جغرافیائی مقام؟

قدیم مفسرین میں سخت اختلاف ہے۔ امام طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ "مجمع البحرین" یعنی دو سمندروں کا ملاپ، مصر اور شام کے درمیان کہیں تھا۔ مگر ابن کثیر اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک علامتی بیان ہے، حقیقی جغرافیائی مقام نہیں۔

مگر میرے دوستو، بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔
تورات اور عبرانی روایات کی گمشدہ کڑیاں

جب ہم یہودی مذہبی متن "تلمود" کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو ہمیں حیرت انگیز طور پر ایک مماثلت ملتی ہے۔ تلمود میں ایک شخصیت "الیاس" (ایلیاہ نبی) کا ذکر ہے جس کے بارے میں یہودی عقیدہ ہے کہ وہ موت سے بچا لیا گیا اور وہ آج بھی زمین پر موجود ہے۔

یہودی صوفیانہ روایت کے مطابق، الیاس مختلف روپوں میں ظاہر ہوتا ہے اور راہگیروں کی مدد کرتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اسلامی روایات میں خضرؑ بھی اسی طرح کی صفات رکھتے ہیں؟

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پروٹسٹنٹ عیسائی روایات میں "ابدی یہودی" (Wandering Jew) کا تصور پایا جاتا ہے، جو حضرت #عیسیٰؑ کے زمانے سے آج تک زندہ ہے۔ کیا یہ سب روایات ایک ہی بنیادی قصے کی مختلف شکلیں ہیں؟

پرانے فارسی اساطیر میں سبز رنگ کا بادشاہ

اب ہم ذرا مشرق کی طرف چلتے ہیں۔ زرتشتی مذہب کے قدیم فارسی متون میں ایک دیوتا "خضر" کے نام سے ملتا ہے جو پانیوں کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ یہ لفظ قدیم فارسی کے لفظ "خضر" سے آیا ہے جس کے معنی ہیں "سبز" یا "سرسبز"۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام سے پہلے کے عربوں نے فارسی اساطیر سے یہ تصور لیا اور اسے ایک اسلامی شخصیت میں ڈھال لیا؟ ڈاکٹر احمد امین اپنی کتاب "فجر الاسلام" میں لکھتے ہیں کہ عرب جاہلیت میں بھی "خضر" نامی ایک دیوتا کی پرستش کی جاتی تھی جو مسافروں کی حفاظت کرتا تھا۔

مگر یہاں ایک اہم نکتہ ہے: اسلامی علماء اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن میں بیان کردہ واقعہ ایک حقیقی واقعہ ہے، محض اساطیری قصہ نہیں۔ امام غزالی کہتے ہیں کہ خضرؑ کا وجود ثابت ہے، اگرچہ ان کی نوعیت پر اختلاف ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

اب آتے ہیں جدید سائنس کی طرف۔ حیاتیات کے اصولوں کے مطابق، کوئی بھی انسان ہزاروں سال زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسانی خلیات کا عمر بڑھنا (cellular aging) ایک فطری عمل ہے۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ہم سائنس کی موجودہ تفہیم کو حتمی سمجھ لیں؟

#کوانٹم #فزکس کے بعض مفکرین، جیسے کہ ڈاکٹر فریٹ جوپ وولف، یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ وقت (Time) ایک مطلق شے نہیں ہے۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق، وقت مختلف حالات میں مختلف رفتار سے گزرتا ہے۔

کیا ممکن ہے کہ خضرؑ وقت کے کسی ایسے دھارے میں موجود ہوں جہاں وقت کی رفتار ہم سے مختلف ہے؟ کارل ساگان جیسے سائنسدان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسے مظاہر موجود ہوسکتے ہیں جو ہماری موجودہ سائنسی سمجھ سے بالاتر ہیں۔

آثار قدیمہ کی گواہی

2003 میں، ٹورنٹو یونیورسٹی کے آثار قدیمہ کے ماہرین نے #مصر کے علاقے سیناء میں کھدائی کی۔ انہیں اسی راستے کے آثار ملے جو قدیم زمانے میں مصر سے شام جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس راستے پر ایک قدیم پتھر ملا جس پر عبرانی اور قدیم عربی میں کچھ تحریر تھی۔

تحریر کا ترجمہ تھا: "یہاں دو پانی ملتے ہیں، اور یہاں علم کا خزانہ ہے۔"

کیا یہ "مجمع البحرین" کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے؟ ماہرین اس پر متفق نہیں ہیں۔ ڈاکٹر جمیز ہوفمئیر، جو ایک مسیحی آثار قدیمہ کے ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تحریر ممکنہ طور پر موسیٰؑ اور خضرؑ کی ملاقات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

مگر اسلامی علماء، جیسے کہ مفتی تقی عثمانی، اس طرح کے آثار قدیمہ کے شواہد کو حتمی ثبوت نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایمان کا تعلق تاریخی شواہد سے نہیں، بلکہ وحی پر یقین سے ہے۔

نفسیاتی پہلو - کیا خضرؑ ایک روحانی استعارہ ہیں؟

ماہر نفسیات کارل جنگ نے اپنے کام میں "عقلی ذہن" (Rational Mind) اور "باطنی ذہن" (Intuitive Mind) کے درمیان تفریق کی ہے۔ اس کے مطابق، موسیٰؑ قانون، منطق اور ظاہری شریعت کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ خضرؑ باطنی علم، روحانی حکمت اور استثنائی حالات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کیا ممکن ہے کہ خضرؑ کا قصہ درحقیقت انسان کے اندر موجود ان دو قوتوں کے درمیان مکالمہ ہو؟ صوفی بزرگ ابن عربی بھی اسی طرح کی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خضرؑ درحقیقت "روح القدس" کی ایک تجلی ہیں جو ہر صاحب دل کی رہنمائی کرتی ہے۔

جدید دور میں "خضرؑ کے ملنے" کے دعوے

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بیسویں صدی میں بھی کئی افراد نے خضرؑ سے ملاقات کا دعویٰ کیا ہے۔

1978 میں، ایک پاکستانی بزرگ حاجی عبدالواحد نے دعویٰ کیا کہ انہیں خضرؑ ملے تھے جنہوں نے انہیں ایک خاص دعا سکھائی۔ 2015 میں، ایک ترکی شیخ نے یوٹیوب ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ خضرؑ آج بھی استنبول میں ظاہر ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے: کیا یہ سب دعوے حقیقی ہیں یا محض تخیلات؟ ماہر نفسیات ڈاکٹر رامین احمد نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ زیادہ تر ایسے دعوے نفسیاتی حالات (جیسے خواب اور خیالی مشاہدات) کا نتیجہ ہیں۔

مگر ڈاکٹر عبدالحئی عارفی جیسے اسلامی اسکالرز کا کہنا ہے کہ خضرؑ کا وجود ایک روحانی حقیقت ہے، اور خاص لوگوں سے ان کی ملاقات ممکن ہے۔

21/01/2026

معراج محمد ﷺ
مکہ کی وہ رات کسی اور رات جیسی ہی تھی۔ حرم کے صحن میں خاموشی تھی، کعبہ اپنی جگہ ساکت کھڑا تھا، اور آسمان پر ستارے ایسے لگ رہے تھے جیسے ہمیشہ سے لگتے آئے ہوں۔ کسی کو اندازہ نہ تھا کہ اسی رات زمین پر چلنے والا ایک انسان اُن حدوں کو چھونے والا ہے جہاں وقت، فاصلہ اور سمت اپنی عام پہچان کھو دیتے ہیں۔

محمد ﷺ اُس وقت حطیم یا بعض روایات کے مطابق اُمّ ہانیؓ کے گھر میں آرام فرما تھے۔ یہ وہی زمانہ تھا جسے بعد میں سیرت نگاروں نے “عامُ الحزن” کہا؛ خدیجہؓ دنیا سے جا چکی تھیں، ابو طالب بھی نہیں رہے تھے، اور طائف کی وادی ابھی تازہ زخم بن کر دل میں موجود تھی۔ اسی پس منظر میں یہ رات آئی، بغیر کسی تمہید کے، بغیر کسی اعلان کے۔

احادیث میں آتا ہے کہ جبرائیلؑ تشریف لائے، رسول ﷺ کو اٹھایا گیا، اور سینہ مبارک شق کیا گیا۔ یہ منظر پہلی بار نہیں تھا؛ بچپن میں بھی ایسا ہو چکا تھا۔ اس بار دل کو زمزم سے دھویا گیا، جیسے کسی بڑے سفر سے پہلے تیاری کی جا رہی ہو۔ پھر وہ سواری پیش کی گئی جسے روایات میں “بُراق” کہا گیا ہے۔ نہ یہ گھوڑا تھا، نہ خچر، بلکہ ایک ایسی مخلوق جس کے بارے میں راوی صرف اتنا کہہ سکے کہ وہ برق کی طرح تھی۔

سفر شروع ہوا۔ مکہ سے بیت المقدس تک، وہ فاصلہ جسے اُس دور کے قافلے ہفتوں میں طے کرتے تھے، ایک لمحے میں طے ہو گیا۔ بعد میں جب قریش نے رسول ﷺ سے بیت المقدس کی نشانیاں پوچھیں تو بعض روایات کے مطابق اللہ نے مسجدِ اقصیٰ کو آپ ﷺ کی نگاہوں کے سامنے کر دیا، اور آپ ایک ایک دروازہ، ایک ایک سمت بیان کرتے چلے گئے۔ یہ وہ تفصیل تھی جسے سن کر سوال کرنے والے خود حیران رہ گئے۔

مسجدِ اقصیٰ میں ایک منظر ایسا تھا جسے تاریخ نے پھر کبھی نہیں دیکھا۔ انبیاء کرامؑ جمع تھے۔ آدمؑ سے لے کر عیسیٰؑ تک۔ یہاں محمد ﷺ نے نماز کی امامت کی۔ یہ لمحہ کسی خطبے کا نہیں تھا، نہ کسی اعلان کا۔ بس ایک عمل تھا، خاموش اور مختصر، مگر اپنے اندر پوری نبوی تاریخ سمیٹے ہوئے۔

یہیں سے وہ سفر شروع ہوا جسے معراج کہا جاتا ہے۔

آسمانوں کی طرف عروج ہوا۔ پہلے آسمان پر آدمؑ، دوسرے پر یحییٰؑ اور عیسیٰؑ، تیسرے پر یوسفؑ، چوتھے پر ادریسؑ، پانچویں پر ہارونؑ، چھٹے پر موسیٰؑ، اور ساتویں پر ابراہیمؑ۔ یہ ترتیب مختلف احادیث میں معمولی فرق کے ساتھ آتی ہے، مگر ملاقاتوں کا اصل منظر تقریباً ایک جیسا ہے۔ ہر نبیؑ نے خوش آمدید کہا، اور محمد ﷺ کو نبی اور بھائی کہہ کر پکارا۔

ساتویں آسمان کے بعد وہ مقام آیا جہاں جبرائیلؑ رک گئے۔ احادیث میں “سدرة المنتہیٰ” کا ذکر آتا ہے۔ بعض محدثین نے اسے حدِّ تخلیق کہا، وہ حد جہاں مخلوق کا علم ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں رنگ بدل جاتے ہیں، آوازیں مدھم ہو جاتی ہیں، اور روایت کرنے والے خود محتاط ہو جاتے ہیں کہ اس سے آگے کی بات کیسے بیان کی جائے۔

یہیں وہ احکام دیے گئے جن میں سب سے نمایاں نماز ہے۔ ابتدا میں پچاس نمازوں کا ذکر آتا ہے، پھر موسیٰؑ کے مشورے پر بار بار واپسی ہوئی، یہاں تک کہ پانچ نمازیں رہ گئیں۔ یہ واقعہ صحیح احادیث میں مختلف اسناد سے آیا ہے، اور قدیم محدثین نے اسے لفظ بہ لفظ محفوظ کیا ہے، بغیر کسی فلسفیانہ توضیح کے۔

اسی سفر میں جنت اور جہنم کے مناظر بھی دکھائے گئے۔ بعض لوگوں کو عذاب میں دیکھا گیا، بعض کو نعمتوں میں۔ روایات میں اُن لوگوں کا ذکر بھی آتا ہے جن کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں، اور اُن کا بھی جو سود کھاتے تھے۔ یہ مناظر مختصر تھے، جیسے کسی کو جھلک دکھائی جا رہی ہو، تفصیل نہیں۔

پھر واپسی ہوئی۔ زمین کی طرف، مکہ کی طرف، اُسی رات، اُسی وقت۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ بستر ابھی گرم تھا، پانی کا برتن ہل رہا تھا۔ یہ جزئیات راویوں نے اس لیے بیان کیں تاکہ یہ واضح رہے کہ یہ کوئی طویل دنیاوی وقت کا سفر نہیں تھا۔

صبح ہوئی تو مکہ ویسا ہی تھا جیسا ہمیشہ ہوتا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب محمد ﷺ کے پاس ایک ایسی بات تھی جسے سن کر لوگ ہنس بھی سکتے تھے، مان بھی سکتے تھے، یا خاموش ہو سکتے تھے۔ قریش نے سوال کیے، نشانیوں کا مطالبہ کیا، قافلوں کے بارے میں پوچھا۔ کچھ باتیں بعد میں ویسی ہی نکلیں جیسی بیان کی گئی تھیں۔

اس واقعے پر سب کا ردِعمل ایک جیسا نہیں تھا۔ کسی نے فوراً مان لیا، کسی نے فوراً انکار کر دیا، اور کسی نے بات کو سن کر خاموشی اختیار کی۔ یہی خاموشی بعد کی تاریخ میں کئی فیصلوں کی بنیاد بنی۔

صدیوں بعد جب انسان نے وقت اور مکان پر غور کرنا شروع کیا، جب relativity اور spacetime جیسے نظریات سامنے آئے، تو بعض محققین نے معراج کے سفر کو اُن زاویوں سے بھی دیکھنے کی کوشش کی۔ کسی نے wormholes کا ذکر کیا، کسی نے time dilation کا۔ مگر یہ سب بعد کے سوالات ہیں۔ ابتدائی مؤرخین اور محدثین نے معراج کو نہ سائنس سے جوڑا، نہ فلسفے سے۔ انہوں نے اسے ویسا ہی محفوظ کیا جیسا بیان کیا گیا تھا۔

شبِ معراج تاریخ میں ایک واقعہ کی طرح موجود ہے۔ نہ ایک تمثیل، نہ ایک داستان۔ ایک رات، ایک سفر، اور ایک انسان — جس کے نام کے ساتھ صدیوں بعد بھی وہی سوال جڑا ہوا ہے جو اُس صبح مکہ کی گلیوں میں گونجا تھا۔

08/01/2026

ایندیش گاہ

08/01/2026

تابوتِ سکینہ — ایک گمشدہ امانت، ایک آنے والا راز

تاریخِ انسانی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو صرف ماضی کی کہانیاں نہیں ہوتیں، بلکہ مستقبل کے اشارے بھی اپنے اندر سمیٹے ہوتی ہیں۔ تابوتِ سکینہ بھی انہی اسرار میں سے ایک ہے۔ یہ کوئی عام صندوق نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی الٰہی نشانی تھی جس سے ایک قوم کی عزت، طاقت، سکون اور فتح جڑی ہوئی تھی — اور جب وہ نشانی چھن گئی، تو وہی قوم ذلت اور خوف کا شکار ہو گئی۔

قرآنِ مجید میں سورۃ البقرہ کی آیت 248 میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے ایک واضح نشان بیان کیا
کہ ان کے پاس ایک تابوت آئے گا جس میں ان کے رب کی طرف سے سکینہ ہوگی، اور اس میں موسیٰ اور ہارون کے خاندان کی یادگاریں محفوظ ہوں گی، اور فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔
یہ آیت خود اس بات کی دلیل ہے کہ تابوتِ سکینہ کوئی افسانہ یا اسرائیلی روایت نہیں، بلکہ ایک قرآنی حقیقت ہے۔

لفظ “سکینہ” کو اگر صرف سکون کہہ دیا جائے تو بات مکمل نہیں ہوتی۔ سکینہ دراصل وہ خاص اطمینان، وہ قلبی مضبوطی اور وہ الٰہی اعتماد تھا جو اللہ اپنے منتخب بندوں کو عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب تابوت بنی اسرائیل کے پاس ہوتا، تو ان کے دل مضبوط ہوتے، دشمن پر رعب طاری ہو جاتا، اور میدانِ جنگ میں فتح ان کا مقدر بنتی۔

تابوتِ سکینہ کی ساخت بھی عام نہیں تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق یہ مضبوط لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، اس پر سونے کا غلاف چڑھا ہوا تھا، اور اسے انتہائی تقدس کے ساتھ اٹھایا اور رکھا جاتا تھا۔ ابتدا میں یہ خیمۂ عبادت میں رکھا جاتا رہا، پھر حضرت سلیمانؑ کے دور میں بیت المقدس کے سب سے مقدس حصے “قدس الاقداس” میں محفوظ کیا گیا، جہاں عام انسان کا داخلہ بھی ممنوع تھا۔

اس تابوت کے اندر جو چیزیں رکھی گئیں، وہ محض تبرکات نہیں تھیں بلکہ اللہ کی قدرت، ہدایت اور فیصلے کی علامتیں تھیں۔ سب سے اہم چیز حضرت موسیٰؑ کو عطا کی گئی وہ تختیاں تھیں جن پر بنیادی احکام درج تھے — وہی احکام جو انسانی معاشرے کی اخلاقی بنیاد بنے۔ اس کے ساتھ حضرت موسیٰؑ کا عصا بھی تھا، وہ عصا جو فرعون کے جادو کو نگل گیا، سمندر کو راستہ دینے کا سبب بنا، اور بنی اسرائیل کے لیے نجات کی علامت ٹھہرا۔

تابوت میں حضرت ہارونؑ کا عصا بھی محفوظ تھا، جو ایک عظیم الٰہی فیصلے کی یادگار تھا۔ جب بنی اسرائیل میں قیادت پر اختلاف ہوا، تو اللہ کے حکم سے بارہ قبائل کے عصا رکھے گئے، مگر صرف ہارونؑ کے عصا میں زندگی نمودار ہوئی۔ یہ اعلان تھا کہ اصل اختیار اللہ دیتا ہے، انسان نہیں۔ اس کے علاوہ آسمانی رزق “من” کا ایک برتن بھی تابوت میں رکھا گیا، تاکہ بنی اسرائیل یہ نہ بھولیں کہ ان کی بقا کا ذریعہ محض محنت نہیں بلکہ اللہ کی رحمت ہے۔

وقت گزرتا گیا، مگر قوم کے اندر نافرمانی، دنیا پرستی اور غرور بڑھتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ الٰہی حفاظت جو تابوت کے ساتھ جڑی تھی، اٹھا لی گئی۔ دشمن حملہ آور ہوئے، تابوت ان کے ہاتھ لگا، اور بنی اسرائیل اس روحانی طاقت سے محروم ہو گئے جس نے انہیں ایک وقت میں ناقابلِ شکست بنا رکھا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے: خوف، کمزوری، شکست اور بکھراؤ۔

بعد کے ادوار میں تابوتِ سکینہ کا ذکر تو ملتا ہے، مگر اس کی موجودگی نہیں۔ یہ کہاں گیا؟ اس سوال نے صدیوں سے مؤرخین، علما اور محققین کو الجھا رکھا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ بیت المقدس کی تباہی کے وقت زمین میں دفن کر دیا گیا۔ کچھ روایات اسے جھیلِ طبریہ کے علاقے سے جوڑتی ہیں، جبکہ بعض آثار میں اشارہ ملتا ہے کہ اللہ نے اسے خود غیبت میں رکھ دیا، جیسے کئی دیگر مقدس امانات کو رکھا گیا۔

یہاں ایک نہایت اہم اور حساس نکتہ آتا ہے، جس کا ذکر بعض اسلامی روایات میں محتاط انداز سے کیا گیا ہے۔ کچھ اہلِ علم کے مطابق قربِ قیامت، عدل کے قیام سے پہلے، امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت تابوتِ سکینہ دوبارہ ظاہر ہوگا۔ یہ کوئی حتمی عقیدہ نہیں، مگر ایک امکان ضرور ہے، جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ اصل طاقت پھر سے اللہ کی طرف لوٹائی جائے گی، نہ کہ انسانوں کے ہاتھ میں رہے گی۔

اگر ایسا ہوتا ہے، تو تابوت کی واپسی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں ہوگی، بلکہ ایک پیغام ہوگا
کہ سکینہ اشیاء میں نہیں، اطاعت میں ہوتی ہے۔
کہ طاقت ہتھیاروں میں نہیں، ایمان میں ہوتی ہے۔
اور کہ اللہ کی نشانی تب ہی فائدہ دیتی ہے جب قوم خود اللہ سے جڑی رہے۔

شاید اسی لیے تابوتِ سکینہ ایک عرصے سے نظروں سے اوجھل ہے —
اور شاید اسی لیے وہ اسی وقت ظاہر ہوگا، جب زمین کو واقعی سکینہ کی ضرورت ہوگی۔

#تابوتسکینہ #اسلام #تاریخ #بیت‌المقدس

Want your business to be the top-listed Government Service in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Riyadh