PTI Kuchlak

PTI Kuchlak

Share

This page is for every Imran Khan lover

09/05/2025

Release Imran Khan

09/05/2025
25/04/2025

سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا تحریکِ انصاف کے 29ویں یومِ تاسیس کے موقع پر جیل سے خصوصی پیغام:

“میں تحریکِ انصاف کے تمام ورکرز، سپورٹرز اور ووٹرز کو 29ویں یومِ تاسیس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

29 سال پہلے ہم نے “انصاف، انسانیت اور خودداری” کے بنیادی اصولوں کے تحت پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی اور آج تک اپنے منشور پر قائم ہے۔

تحریکِ انصاف وہ واحد جماعت ہے جو ناصرف آئینی اصولوں، عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی خودمختاری کی علمبردار ہے بلکہ الیکشن کمیشن، نیب، پولیس سمیت تمام ریاستی اداروں کو کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ سے پاک دیکھنا چاہتی ہے۔ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ملک میں تمام ریاستی ستونوں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

آج تحریکِ انصاف پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مقبول جماعت ہے۔ 8 فروری 2024 کو پاکستانی عوام نے ہمارے خلاف ہونے والی بدترین فسطائیت، سیاسی قیدوبند، اور الیکشن مہم پر مکمل پابندی کے باوجود، ہمیں دو تہائی سے ذیادہ اکثریت سے کامیاب کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اصل طاقت عوام ہیں، اور وہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ماضی کی مقبول سیاسی جماعت عوامی لیگ کو بھی ایک سالہ بھرپور انتخابی مہم کے بعد کامیابی نصیب ہوئی تھی، جبکہ تحریکِ انصاف کو تو انتخابی نشان تک سے محروم کر دیا گیا۔ اس کے باوجود عوام نے تحریکِ انصاف کے حق میں تاریخی فیصلہ سنا کر ہر سازش کو ملیامیٹ کردیا۔

تحریکِ انصاف پاکستان میں وفاق کی علامت ہے۔ آج یہ پاکستان کی واحد قومی جماعت ہے جسے چاروں صوبوں کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریکِ انصاف کو اسٹیبلشمنٹ کی نہیں، درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کو تحریکِ انصاف کی ضرورت ہے۔ کیونکہ صرف اصلی عوامی مینڈیٹ اور عوامی حمایت کے ساتھ آنے والی حکومت ہی ملک کو درپیش سنگین بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔

الحمدللہ تحریکِ انصاف کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ الیکٹیبلز کمزور جماعتوں کی مجبوری ہوتے ہیں۔ تحریکِ انصاف ایک ایسی نظریاتی تحریک ہے جس نے شدید ریاستی جبر، غیر آئینی ہتھکنڈوں اور میڈیا بلیک آؤٹ کے باوجود ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ناقابلِ شکست،اور مضبوط ترین جماعت ہے۔ ہماری اصل طاقت عوام کی وہ بیداری ہے جو کسی سیاسی مصلحت کی مرہونِ منت نہیں۔

ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے، جب آئین اور قانون کی حکمرانی نہ ہو، ادارے فنکشنل نہ ہوں تو ملک میں باہر سے ڈائریکٹ انویسٹمینٹ نہیں آسکتی۔ ملک صرف فارن remittances سے نہیں، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ سے ترقی کرتے ہیں، جو کہ اس وقت ملکی تاریخ میں کم ترین نمبرز پر آچکی ہے۔

ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور دہشت گردی کے شدید بحرانوں سے نکالنے کے لئے ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو عوام کی تائید کے ساتھ ملک میں آئین قانون کی حاکمیت قائم کر سکے، اور اس کے لئے سخت ادارہ جاتی اصلاحات کر سکے۔ اور صرف تحریکِ انصاف ہی یہ کردار ادا کر سکتی ہے۔

میں اپنے ان اوورسیز پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو ملک میں جمہوریت، آئین اور انصاف کی بحالی کیلئے ہر محاذ پر ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔ آپ قوم کا فخر ہیں۔”

18/04/2025

اس کو کیا ہو گیا ہے ؟

18/04/2025

عمران خان پھر سے آئیگا
انشاء الله ۔

17/04/2025

یا الله عمران خان کو جیل سے نکال کر ایک بار پھر سے وزیر اعظم بنا دیں۔

17/04/2025

آپ کس کے ساتھ ہیں ؟

17/04/2025
16/04/2025

سابق وزیراعظم عمران خان کا وکلاء کے ذریعے قوم کے نام پیغام:
- 16 اپریل 2025

“اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک کسی کو نہیں سونپا۔ ڈیل نہ پہلے کی نہ اب کروں گا۔ ڈیل کا خواہاں ہوتا تو 2 سال قبل ڈیل کر لیتا جس میں میرے خلاف کوئی بھی کاروائی نہ کرنے کے عوض دو سال کی خاموشی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ علی امین گنڈاپور اور اعظم سواتی نے مذاکرات کی خواہش کا اظہار ضرور کیا تھا لیکن میرے نزدیک مذاکرات لایعنی ہیں کیونکہ دوسرے فریق کی نیت مسائل کے حل کی بجائے محض کچھ مزید وقت مستعار لینے کی ہوتی ہے۔ علی امین اور اعظم سواتی اپنے تئیں مذاکرات کرنا چاہتے تھے۔ میں نے پہلے بھی واضح طور پر بتایا ہے کہ بطور سیاسی جماعت مذاکرات میں کوئی قباحت نہیں، نہ کبھی مذاکرات کے دروازے بند کئے ہیں، لیکن مذاکرات کا اصل محور پاکستان، آئین و قانون کی بالادستی اور عوامی مفاد ہو نہ کہ میرے یا میری اہلیہ کے لیے کسی بھی قسم کی ڈیل کی خواہش۔

مائنز اور منرلز بل کے حوالے سے جب تک وزیراعلیٰ علی امین اور خیبرپختونخواہ کی سینئیر سیاسی قیادت تفصیلی بریفنگ نہیں دیتی، یہ عمل آگے نہیں بڑھے گا۔

پچھلے سات ماہ سے میرے رفقأء اور ایک ماہ سے میری بہنوں اور وکلأ سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی۔ نواز شریف کو روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتوں کی اجازت تھی جبکہ میری “دہشت” کا یہ عالم ہے کہ میری ملاقاتوں میں اعلی عدلیہ کے احکامات کے باوجود متعین کردہ دنوں پر بھی رخنہ ڈالا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میرے بچوں سے کال پر بھی بات نہیں کروائی جاتی، میرے ذاتی معالج کو بھی مجھ تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ میں نے قانونی کمیٹی کو جیل انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔

افغان پناہ گزینوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے مقتدر مافیا کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ افغانستان کے خلاف اپنائی جانے والی موجودہ پالیسی سے نفرت کو مزید ہوا ملے گی اور دہشتگردی میں مزید اضافہ ہو گا۔ پہلے ہی روزانہ کی بنیاد پر ہمارے معصوم شہری اور فورسز کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ اس پالیسی کے خلاف خیبر پختونخواہ اسمبلی میں قرارداد پیش کریں جس میں مہاجرین کی ملک بدری کے وقت میں اضافے کا مطالبہ کیا جائے۔ وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو افغان حکومت سے بات کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ دہشتگردی کی وجہ سے وہ بحیثیت صوبہ بہت متاثر ہورہے ہیں۔ اس آگ کو ہوا دینے کی بجائے معاملہ فہمی سے بجھانے کی کوشش کریں۔

الیکشن ٹربیونلز عملاً بالکل ناکارہ ہیں۔ اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی کے بجائے ان کی بھی پوری توجہ مافیا کو بچانے پر مرکوز ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سے ایک قراداد منظور کی جائے جس میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا جائے کہ الیکشن ٹریبونلز کے ججز کو ہدایت دی جائیں کہ تحریک انصاف کی زیر التواء تمام الیکشن پٹیشنز پہ جلد از جلد فیصلہ کیا جائے۔

پارٹی ممبران کے آپسی اختلافات کا عوامی فورمز اور میڈیا پر اظہار اپنے مخالفین کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ اختلافات کو پبلک کرنے کی بجائے اس امر کو یقینی بنائیں کہ معاملات کو بہتر طریقے سے پارٹی فورمز پر حل کر سکیں۔

تحریک انصاف پاکستان کی واحد وفاقی جماعت ہے جو اپنے طور پر کسی بھی وقت ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلا سکتی ہے۔ کوئی بھی جماعت کمزور تب ہوتی ہے اگر عوام اس کے ساتھ نہ ہو۔ اس وقت پورا پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا ہے۔ لیکن ہماری خواہش ہے کہ متفقہ نکات پر ہم باقی پارٹیوں کو بھی ساتھ ملا کر چلیں۔ میں اپنی سیاسی قیادت کو ہدایت کرتا ہوں کہ موجودہ و ممکنہ اتحادیوں سے رابطے کا عمل تیزی سے مکمل کر کے اتحاد کو حتمی شکل دی جائے اور مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے، احتجاج سمیت تمام آپشنز ٹیبل پہ موجود ہیں۔ حکمت عملی کا اعلان جلد کیا جائے گا۔”

Want your business to be the top-listed Government Service?

Website