زنبیل۔ Zambeel۔

زنبیل۔        Zambeel۔

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from زنبیل۔ Zambeel۔, Karachi.

29/12/2021

مسجد تو بنالی پل بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں لیگلائز کروا نہ سکا

سپریم کورٹ نے طارق روڈ پر واقع مدینہ مسجد کی جگہ پر ایک ہفتے میں پارک بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

راج کپور نے ایک فلم بنائ تھی جس کا نام تھا “ رام تیری گنگا میلی ہوگئ”
اس کا ایک گیت ہے کہ
رام تیری گنگا میلی ہوگئ
پاپیوں کے پاپ دھوتے دھوتے
یعنی پاک اور پوتر کرنے والی گنگا جیسی عظیم الشان ندی بھی پاپیوں کے پاپوں کی کثرت سے بجائے خود ناپاک اور کالی ہوگئ۔ یہی حال کراچی کا ہے کہ کراچی کو رشوت خور افسران و سیاستدانوں کے کرتوتوں سے پاک کرنے کے چکر میں پورا کراچی منہدم ہوجائے گا لیکن یہ افسران و محکمے باز نہیں آئیں گے۔ بلکہ منہدم شدہ کراچی پر یہ افسران و محکمے دوبارہ ناجائز تجاوزات کھڑی کروا دیں گے
اصل کام ان پاپیوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے ورنہ گنگا مزید میلی ہوتی رہے گی۔

طارق روڈ جیسے مصروف ترین گنجان علاقے میں یہ مسجد گزشتہ 29 برس سے دکانداروں اور گاھکوں کے لئے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ اس مسجد کی عمارت میں کوئ بھی دکان وغیرہ قائم نہیں ہے۔

یہ مسجد اگر پارک کی زمین پر تعمیر کی گئ ہے تو سیدھا سیدھا KDA اور KMC اور KBCA کے ان تمام عہدیداروں کو پکڑ کر جائداد ضبط کی جائے اور جیل میں ڈالا جائے جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر کی اجازت دی اور زمین کی رقم وصول کی۔
اب مسجد کے پلاٹ کی مد میں جو رقم ادا کی گئ وہ سرکاری بیت المال میں گئ۔ پلاٹ پہلے بھی عوامی رفاحی پلاٹ تھا اور مسجد بھی خالصتا” عوامی و دینی و دنیاوی رفاح عامہ و عبادت کے لئے استعمال ہورہی ہے۔ اب یہ کام سرکار کا ہے کہ مسجد شہید کرنے کے بجائے اپنے کارندوں سے بازپرس کرے کہ کس نے کتنا پیسہ لیا ہے اور کس نے پارک کی زمین پر مسجد بنانے کی اجازت دی۔

ظاہر سی بات ہے کہ یہ مسجد طارق روڈ کے دکانداروں نے اپنی اور گاھکوں کی سہولت کے لئے آپس میں رقم اکٹھی کرکے امداد باہمی کے تحت بنائ ہوگی جس کے پیچھے کسی بھی قسم کا کوئ مالی مفاد یا کمرشل فائدہ اٹھانا نہیں تھا۔ انہوں نے اس زمین کی قیمت ادا کی ہوگی۔ معلوم کیا جائے کہ زمین کی قیمت کس نے وصول کی؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ مسجد آج سے کوئ انتیس تیس سال پہلے 90 کی دھائ کے اوائل میں بننی شروع ہوئ تھی اور اس کی تعمیر کے لئے یہاں ایک چندے کا باکس بھی دھرا ہوتا تھا۔ اب ظاہر ہے کہ طارق روڈ کے دکانداروں نے تو زمین خرید کر یہ مسجد بنائ ہے۔ کوئ ناجائز قبضہ کرکے تعمیر نہیں کی ہے۔ آدھے سے زیادہ کراچی ناجائز تجاوزات پر قائم ہے۔ یہ کس نے بیچا ہے؟ کون کون اس میں شامل ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ سندھ حکومت اور سرکاری محکمے اور مقامی حکومتیں سب اس میں شامل ہیں۔

چیف جسٹس صاحب حکم کریں۔ سارے کُھرے مل جائیں گے، سب کو پکڑ کر لٹکائیں۔ جب تک ایسا نہیں کریں گے یہ کرپشن کی فیکٹریاں چائنا کٹنگ اور رفاحی پلاٹس بیچ کر اپنے جہنم بھرتے رہیں گے۔ کیا مسجد گرانے سے یہ رشوت خور افسران اور ان کے کرتوت ختم ہوجائیں گے؟ برائ کو ہمیشہ جڑ سے کاٹا جاتا ہے۔ یہ مسجد باقاعدہ ایک فعال مسجد ہے جس میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں نمازی امام کی اقتدا میں پنج وقتہ نماز ادا کرتے ہیں اور یہ عمل گزشتہ تیس برس سے جاری ہے۔ یہ مسجد نسلہ ٹاور نہیں ہے کہ چند سو لوگ احتجاج کرکے پولیس اور رینجرز کے تشدد سے گھبرا کر بھاگ جائیں گے بلکہ اگر اس کو منہدم کرنے کی کوشش کی گئ تو نقص امن و امان کا شدید ترین خطرہ ہے۔ ایسا بدترین فساد و احتجاج ہوگا کہ جس کو سنبھالنا شاید ریاست کے بس کی بات بھی نہ رہے۔ یہ مسجد اھلیان کراچی کسی بھی قیمت پر شہید نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس صاحب بڑی بڑی عوامی رہائشی عمارتیں اور مساجد گرانے کے فیصلے دینے سے پہلےقبضہ کی گئی سڑکیں اور سروس روڈز تو بحال کروائیں
کارساز کی سروس روڈ بمعہ گرین بیلٹ، بلاول ہاؤس کی مرکزی شاہراہ ،ضیاء الدین اسپتال (نارتھ ناظم آباد) کی سروس روڈ اور شہر کے بیشتر امام بارگاہ کے آگے سیکیورٹی کے نام پر سروس روڈ گھیر کر مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں جو عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہیں
یہ کب واگذار کرائی جائیں گی؟؟؟؟؟

آخر چیف جسٹس صاحب ہر غیر قانونی تعمیر کے ذمہ دار سرکاری اور سندھ حکومت کے محکموں کے سرکاری افسران کے خلاف کھل کر کاروائ کا حکم کیوں نہیں دیتے۔ یقینا” لیز، ڈیِڈ، NOC, اور دیگر تمام تحریری اجازت ناموں پر مجاز افسران کے دستخط و مہریں موجود ہونگی۔ سب کو لائن حاضر کیا جائے۔ خواہ حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ۔ ان کو ملازمتوں سے فارغ کیا جائے اور ان کی جائدادیں ضبط کرکے ملک و قوم کا پیسہ ان کے حلق سے نکال کر لمبے عرصے کے لئے جیل میں ڈالا جائے۔
اگر چیف جسٹس صاحب واقعی ناجائز تجاوزات اور کرپشن کے خاتمے کے لئے مخلص ہیں تو ان کے لئے یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہوگا۔ یہ کئے بغیر اس عمل کی بیخ کنی محض ایک خواب ہی ہوگی۔
Sanaullah Khan Ahsan

29/12/2021

اچھا یہ بتائیے کہ کسی سے پیار یا محبت جتانے یا اس کے اظہار کے لئے دنیا میں کونسے طریقے اپنائے جاتے ہیں؟ کسی کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ فلاں اس سے بہت پیار کرتا یا کرتی ہے؟ اب صرف یہ کہہ دینا کہ میں تمہارے لئے جان بھی قربان کر سکتا/ سکتی ہوں سے کیا پیار کا ثبوت مکمل ہوجاتا ہے؟ جان کا کسی نے کیا کرنا ہے؟
پیار جتانے کے لئے بھی پیسہ چاہئے۔ محبوبہ یا بیوی کی برتھ ڈے پر اگر آپ ایک بہترین بیکری کا مہنگا کیک، فلاور شاپ سے خوبصورت ٹیولپس کا بوکے اور کوئ قیمتی تحفہ لے کر پیش کریں گے تو وہ یقینا” واری جائے گی اور اس کو آپ کی محبت و پیار کی گہرائ میں کوئ شبہ نہیں رہے گا۔ آجکل تحفوں کی قیمت اور ریسٹورنٹ یا ہوٹلز کے ستاروں سے محبت کی گہرائ ناپی جاتی ہے۔ جتنی زیادہ قیمت جتنے زیادہ ستارے اتنی ہی محبت سپرھٹ جاتی ہے۔بانہوں کی حرارت سے زیادہ گاڑیوں گاڑیوں کے انجن ک CC پاور میں زیادہ گرمجوشی محسوس ہوتی ہے۔

28/12/2021

کلاس تھری میں یاد کی گئ شفیع الدین نیر کی یہ نظم مجھے آج بھی یاد ہے


جاڑا دھوم مچاتا آیا​
کپڑے گرم پہناتا آیا​
کیسی ہوا ہے سر سر سر سر​
کانپتے ہیں سب تھر تھر تھر تھر​
سورج بھی چھپ جاتا ہے جلدی​
لگتی ہے اس کو بھی سردی​
ہا ہا ہی ہی ہو ہوہو​
ہائے ری سردی ہائے ری سردی​
سارے بدن میں برف سی بھر دی

27/12/2021

اولڈسپائس. (Old Spice)
‎دادا جان کے زمانے کا کلون اور آفٹر شیو

‎پرانے اولڈ اسپائس سے نئی خوشبو کیوں آتی ہے؟

‎ بھلا کون ایسا مرد ہوگا جو اولڈ اسپائس پرفیوم کی اس خاص انداز کی سفید شیشے کی بوتل سے واقف نہیں ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ اس بوتل کو دیکھتے ہی آپ کی سانسوں میں اولڈ اسپائس کلون کی تازہ اور اسپائسی خوشبو بھر گئ ہوگی کیونکہ یہ کلاسک خوشبو آج بھی اپنا ایک الگ اور منفرد مقام رکھتی ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اپنی پہلی کمائ جو کہ فرسٹ ائر کی تعلیم کے دوران سترہ سال کی عمر میں ٹیوشنز پڑھانے سے حاصل کی تھی سے جو پہلا پرفیوم خریدا تھا وہ اولڈ اسپائس تھا۔ اس زمانے میں ہم کو نیا نیا صدر کی زیب النسا اسٹریٹ کے چکر لگانے کا شوق ہوا تھا اور وہیں سے ہم نے اپنی کمائ کا پہلا پرفیوم اولڈ اسپائس آفٹر شیو خریدا تھا جسے ہم کلون کی جگہ استعمال کرتے تھے جبکہ ہمارے کالج کے کلاس فیلو اس زمانے میں صرف تبت کریم اور تبت پاؤڈر یا عطر تک محدود تھے۔
آپ نے یقینا” 80 کی دھائ میں ٹی وی پر اولڈ اسپائس کا اشتہار ضرور دیکھا ہوگا جس میں ایک نوجوان کو سرفنگ بورڈ پر سمندر میں اونچی لہروں پر سرفنگ کرتے ہوئے دکھایا جاتا تھا جبکہ پس منظر میں کلاسیکل موزارٹ ٹائپ اوپیرا میوزک چلتا تھا۔ سرفنگ کرتے نوجوان کو جب اولڈ اسپائس اپنے چہرے پر لگاتے دکھایا جاتا تو ایک خاتون اس کی خوشبو سے مست و بے خود و بے قابو ہوکر ملنگنی جیسی اپنی زلفوں کو ھاتھوں سے پریشان کرنے لگتی ہے۔
مست ملنگ چکتائ ڈاڈا دل تنگ تہ کیتائ
دے دے تو پیار میکو یار میرا سوھنا سوھنا

مجھے نہیں لگتا کہ میرے دادا جان نے کبھی اولڈ سپائس کلون استعمال کیا ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ میرے دادا جان کے زمانے میں لاکھوں مرد اس کو بڑے شوق سے استعمال کرتے ہونگے۔

اولڈ اسپائس ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 1938 میں ولیم لائٹ فوٹ شولٹز (William Lightfoot Schultz) نے بنایا تھا۔ یہ اصل میں خواتین کے لیے گرومنگ پراڈکٹس بنانے والی ایک کمپنی تھی۔ اولڈ اسپائس ابتدا میں خواتین کا پرفیوم تھا۔ جسے 1938 میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ بطور پرفیوم نہیں بلکہ بطور آفٹر شیو لوشن متعارف کروایا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کی پرانی بوتل اسپرے والی نہیں ہوتی ہے۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ اولڈ اسپائس مشہور کیوں ہوا، اس کے تاریخی تناظر پر غور کرنا چاہیے۔ جب تک دو دھار والا سیفٹی بلیڈ اور سیفٹی ریزر ایجاد نہیں ہوا تھا اس وقت تک بہت کم مردوں کو گھر پر شیو کرنے کا حوصلہ کرنا پڑتا تھا۔ عام طور پر شیو استرے سے حجام کی دکان پر ہی بنوایا جاتا تھا۔ خوشبو کے تاریخ دان مائیکل ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ پہلی جنگ عظیم نے اس رحجان کو بدل دیا۔ کثیر تعداد میں فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوان مردوں کو حفظان صحت اور میدان جنگ کی ضروریات ، دونوں مقاصد کے لیے کلین شیو کرنے کی ضرورت کا پابند بنادیا کیونکہ ایک کلین شیو چہرے پر آپ گیس ماسک اور حفاظتی کنٹوپ باآسانی پہن سکتے ہیں۔ دودھاری بلیڈ اور سیفٹی ریزر ان نوجوانوں کو شیوبنانے کے لئے فراہم کئے جاتے تھے کیونکہ کلین شیو رہنا ان کے لئے میدان جنگ میں یونیفارم کی طرح ایک ضرورت تھی۔ اس طرح آپ کے پاس لاکھوں نوجوانوں کی ایک پوری نسل تھی جو پہلی بار مستقل ڈاڑھی مونڈنے اور کلین شیو رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔" جب وہ جنگ سے واپس آئے تو ان کی شیو کرنے کی عادت بدستور قائم رہی۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ دور کارپوریٹ امریکہ کی ابتدا تھی۔ اور ایک کارپوریٹ ملازم کی اولین شرط کلین شیو ہونا اور سلیقے سے جمے ترشے ہوئے بال تھے۔
اب گھر میں روزانہ شیو کرنے والے تمام مردوں کو شیو کے بعد جلد کو جراثیم وغیرہ سے بچانے کے لئے آفٹر شیو کی ضرورت تھی جس کے لئے اس وقت صرف Listerine اور Bay Rum دستیاب تھے جو فرسٹ ایڈ میں بطور اینٹی سیپٹک لوشن استعمال کئے جاتے تھے۔ ولیم شلٹز نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا۔ 1937 میں اس نے خواتین کا پرفیوم تیار کیا تھا جو پاٹپوری( Potpourri) کی خوشبو سے پر مشتمل تھا ۔ پاٹپوری دراصل مختلف جڑی بوٹیوں اور خشک پھولوں کے مکسچر کو کہا جاتا ہے جسے اس زمانے کے امریکن اولڈ اسپائس کہتے تھے۔ اگلے سال اس نے خوشبو کو بہتر بنایا، اور اسے مزید ریفائن کر کے اسے شیشے کی سفید بوتل میں پیک کیا، اور یوں اولڈ اسپائس آفٹر شیو نے جنم لیا۔ 1939 تک اولڈ اسپائس کی فروخت $3.1 ملین تک پہنچ گئی (جو آج تقریباً 60 ملین ڈالر ہوگی)۔
اولڈ اسپائس کا کاروباری نعرہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔
یہ اصل اولڈ اسپائس نعرہ ہے: "اگر آپ کے دادا نے اسے نہ لگایا ہوتا تو آپ کا وجود نہ ہوتا۔"
The original. If your grandfather hadn't worn it, you wouldn't exist.

ابتدا میں اولڈ اسپائس مردوں کے شیونگ صابن اور آفٹر شیو لوشن پر مشتمل تھا جو ایک سمندری تھیم کے ساتھ فروخت کے لئے پیش گئے تھے۔ خاص طور پر اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مشہور بحری جہازوں کی تصاویر برانڈ کی پیکنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ پیکیجنگ پر استعمال ہونے والے اصل جہاز گرینڈ ترک ( 1786) اور فرینڈشپ(1784) تھے۔ اولڈ اسپائس پیکیجنگ پر استعمال ہونے والے دیگر بحری جہازوں میں جان ویسلی، سیلم، برمنگھم، ماریا ٹریسا، پروپونٹس، ریکوری، سولو، اسٹار آف دی ویسٹ، کانسٹی ٹیوشن، جاوا، ریاستہائے متحدہ اور ہیملٹن شامل ہیں۔
‎بادبانی جہاز مردوں کی کاسمیٹک لائن کے لئے بالکل مناسب اور بہترین نشان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ بحری جہازوں پر دور دراز کے ممالک سے مصالحے لائے جاتے تھے اور ملاح سب سے زیادہ بہادر لوگ سمجھے جاتے تھے کیونکہ انہیں بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس طرح، ایک سمندری تھیم، جو خوشبودار مصالحوں سے نکلتی ہے، اولڈ اسپائس کلیکشن کے لوگو کی بنیاد بن گئی۔ اور چونکہ صرف بہت امیر لوگ ہی یہ مصالحے خرید سکتے تھے، اس لیے اس لائن کو ایک عیش و عشرت کی چیز کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

اولڈ اسپائس مردوں کے لیے ایک بہترین خوشبو ہے۔ یہ کولون ایک ھلکی سی خوشگوار حرارت بخش ،تازہ اور اسپائسی خوشبو ہے جسے پرفیومر البرٹ ہاک نے ڈیزائن کیا تھا۔ شلٹن کمپنی کا اولڈ اسپائس اوریجنل مردوں کے لیے عنبر مسالہ دار خوشبو ہے۔ سرفہرست نوٹ جائفل، بادیان کا پھول، الڈیہائیڈز، اورنج اور لیموں ہیں۔ درمیانی نوٹ دار چینی، کارنیشن، پیمینٹو، جیرانیم، ہیلیوٹروپ اور جیسمین ہیں۔ بیس نوٹ بینزوئن، وینیلا، مشک، ٹونکا بین، دیودار اور عنبر ہیں۔ اس خوشبو کے ھارٹ نوٹس میں پھولوں، کارنیشن اور جیسمین کی ھلکی مہک ہے جو انتہائ خوشبو دار دار چینی اور اسپینش شملہ مرچ کی مہک کے ساتھ ایک خوشگوار احساس پیدا کرتی ہے۔ یہ کولون تیز بیس نوٹس کے ساتھ ختم ہوتا ہے لیکن اولڈ اسپائس کی سب سے غالب خوشبو دارچینی جائفل اور بادیان کے پھول کی ہے۔

2008 کے اوائل میں، اصل اولڈ اسپائس کی خوشبو کو "کلاسیک خوشبو" کے طور پر دوبارہ پیک کیا گیا، آفٹر شیو اور کولون دونوں ورژن میں سفید شیشے کی بوتلوں کی جگہ پلاسٹک نے لے لی اور سرمئی سٹاپرز سرخ ہو گئے۔ پرانا اسپائس کلاسک شاور جیل اس نعرے کا استعمال کرتے ہوئے فروخت کیا گیا تھا
"اگر آپ کے دادا نے اسے نہ پہنا ہوتا تو آپ کا وجود نہ ہوتا۔"

جنوری 2016 میں، پراکٹر اینڈ گیمبل نے اپنے اولڈ اسپائس کلاسک آفٹر شیو کی خوشبو کو تبدیل کیا۔
آج اولڈ اسپائس مردانہ مصنوعات تیار کرنے والا ایک امریکی برانڈ ہے جس میں ڈیوڈرینٹس اور اینٹی پرسپیرنٹ، شیمپو، باڈی واش اور صابن شامل ہیں۔

Sanaullah Khan Ahsan

Oldspice

27/12/2021

شاہ توش کی سنہری شال !

سرد شام میں جسم پر اس نایاب تبتی ہرن کی کھال کے پشمینہ سے بنی شال کی دبیز نرم حرارت بڑی خوشگوار محسوس ہوتی ہوگی!
گُزرتے ماہ و سال کے ساتھ ساتھ سنہری رنگت اختیار کرتی یہ شال بیش قیمت ہوتی جاتی ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے اور مریم نواز کے صاحبزادے جند صفدر نے اپنی مہندی کی تقریب میں ایک سنہرے رنگ کی شال اوڑھی تھی جس کے بارے میں صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ’شاہ توش‘ سے بنی ہوئی شال تھی جس کی قیمت لاکھوں میں ہوگی۔ اس شال کی خاصیت یہ ہے کہ اصلی شاہ توش شال ہے جو کہ 70 سال پرانی ہے اور اسی وجہ سے اس کا سہنرا رنگ نکھر کر سامنے آرہا ہے۔ جس طرح شیشم کی لکڑی جتنی پرانی ہوتی جائے وہ چمکتی ہے ، جیسے جیسے شراب جتنی پرانی ہوتی جاتی ہے ویسے اس کا نشہ اور قیمت بڑھتی جاتی ہے اسی طرح شاہتوش کی اون سے بنی شال جتنی زیادہ پرانی ہوتی جاتی ہے اس کی رنگت سنہری ہوتی جاتی ہے۔

شہتوش (شاہتوش بھی لکھا جاتا ہے، ایک فارسی لفظ جس کا مطلب ہے "باریک اون کا بادشاہ") تبتی ہرن کے بالوں سے بنی ایک باریک قسم کی اون ہے۔ شہتوش شال اب ایک ممنوعہ شے ہے جس کا قبضہ اور فروخت زیادہ تر ممالک میں غیر قانونی ہے۔ تاہم، مغربی خریداروں کی زیادہ مانگ کی وجہ سے کشمیر میں شہتوش شالوں کی بُنائی خفیہ طور پر جاری ہے۔ مغربی مارکیٹ میں ایک شہتوش شال کی تخمینہ قیمت تقریباً $5,000–$20,000 ہے۔شہتوش دنیا کی بہترین اون ہے جس کا ریشہ سب سے کم مائیکرون میں شمار ہوتا ہے، اس کے بعد دوسرا نمبر ویکونا کا آتا ہے۔

یہ شالیں اصل میں بہت کم تعداد میں دستیاب ہوتی ہیں اور انہیں صرف ماہر کاریگر ہی بُن سکتے تھے۔ ان عوامل نے شہتوش شالوں کو بہت قیمتی بنا دیا۔ شہتوش شالیں اتنی باریک ہوتی ہیں کہ ایک بڑی شال کو شادی کی انگوٹھی سے گزارا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں "رنگ شال" بھی کہا جاتا ہے۔

تبتی ہرن یا چیرو 5,000 میٹر سے زیادہ کی اونچائی پر زمین کے سخت سرد ترین ماحول میں رہتا ہے۔ ان کی خاص قسم کی کھال، جو کہ بہت ہلکی اور گرم ہوتی ہے جو انہیں سطح مرتفع کے جمنے والے سردحالات میں زندہ رہنےدیتی ہے جہاں وہ ہر سال ایک مقام پر جمع ہوتے ہیں۔ یہ ہجرت کرنے والے جانور ہیں، جو منگولیا سے تبت کی طرف جاتے ہیں، اور روایتی طور پر پہاڑی خانہ بدوش ہرن کا شکار کھال، گوشت، ہڈیاں، سینگوں اور کھال کے لیے کرتے ہیں۔

شہنشاہ اکبر کے زمانے میں شاہی ملبوسات تیار کرنے والوں نے بڑے پیمانے پر طوس یا شہتوس کی سرپرستی شروع کی۔ یہ سب سے مہنگی، گرم ترین اور نازک ترین شال تھی۔ یہ اتنا نرم تھا کہ انگلی کی انگوٹھی سے گزر جائے۔ اس کے قدرتی رنگ سیاہ، سفید اور سرخ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اکبر نے ایک بار سفید کو سرخ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن شال نے خضاب کا رنگ قبول نہیں کیا۔ اس لئے یہ شال رنگے بغیر اس کے قدرتی رنگوں میں استعمال کی جاتی ہے۔

شاہ توش کا دھاگا ایک خاص نسل کے ہرن کے بالوں سے بنایا جاتا ہے جو پاکستان میں پایا ہی نہیں جاتا بلکہ یہ صرف چین کے خودمختار علاقے تبت کے ایک خاص پہاڑی سلسلے میں پایا جاتا ہے۔
’نیشنل جیوگرافک‘ کے مطابق شاہ توش کا دھاگا تبت کے علاقے ’چینگٹنگ‘ میں پائے جانے والے ہرن کے بالوں سے بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شاہ توش کی ایک شال بنانے میں تقریباً چار ’تبتن ہرنوں‘ کے بال استعمال ہوتے ہیں۔
یہ ہرن چونکہ جنگلی جانور ہے اور اسے گھروں میں پالا نہیں جاتا اس لیے لوگ پہلے اس کا شکار کرتے ہیں پھر ان کی کھال اتار کر سمگلروں کو بیچ دیتے ہیں جہاں سے یہ انڈیا پہنچتی ہے اور وہاں اس سے شالیں اور دیگر ملبوسات تیار ہوتے ہیں۔
امریکہ کی ’فش اینڈ وائلڈ لائف سروس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ہرن کی کھال سے تقریباً سارا کپڑا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بنایا جاتا ہے۔

تبت میں پائی جانے والی ہرن کی یہ نسل دنیا بھر میں اس کے بالوں سے بننے والے کپڑے کی ڈٰیمانڈ کے سبب معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک بشمول امریکہ، انڈیا، نیپال اور چین میں تبت کے اس ہرن کے بالوں سے بنے کپڑے کی تجارت پر پابندی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کے جانب سے اس ہرن کی حفاظت کے لیے جانے والے اقدامات کے باوجود بھی اس جانور کی تعداد 1 لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے بیچ ہے۔
صرف امریکہ میں معدوم ہوتے اس ہرن کے بالوں سے بنے کسی بھی قسم کے کپڑے کی تجارت پر 1 سال کی سزا ہو سکتی ہے اور 1 لاکھ سے 2 لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔
تبت کے اس ہرن کی تجارت پر ’کنونشن آن اینٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈینجرڈ سپیشیز‘ کے تحت بھی پابندی ہے اور پاکستان میں بھی اس کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔
پاکستان میں اس ہرن کے بالوں سے بنی شال یا دیگر ملبوسات کہاں ملتے ہیں یہ جاننا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ دکاندار اسے دکانوں پر تو نہیں بیچتے۔ لیکن کچھ اطلاعات کے مطابق چند سالوں پہلے تک پاکستان میں اس کی قیمت 4000 ڈالر تھی۔

(مختلف اخبارات، بلاگز، ویب سائٹس اور وکیپیڈیا سے مدد لی گئ ہے)




Photos from ‎زنبیل۔        Zambeel۔‎'s post 23/12/2021

گڑُ کی لائ۔ چکی۔ گُڑ پٹی

‎چِکی ایک روایتی ہندوستانی مٹھائ ہے جو عام طور پر گری دار میوے اور گڑ/چینی سے بنائی جاتی ہے۔ سب سے عام مونگ پھلی چکی کے علاوہ چکی کی کئی مختلف اقسام ہیں۔ چکی کی ہر قسم کا نام استعمال ہونے والے اجزاء کے نام پر رکھا گیا ہے، جیسے چنے، تل، بھنے ہوئے چاول جن کو مُرمُرے کہا جاتا ہے، یا کھوپرا اور دیگر گری دار میوے جیسے بادام، کاجو اور پستے شامل ہیں۔

کراچی میں تو گڑ کی مونگ پھلی یا تل کی چکی سردیوں میں مونگ پھلی اور خشک میوے والے پٹھان فروخت کرتے ہیں یا پھر یہ اسٹورز پر سیلوفین کی پنی سے منڈھی پیک شدہ مربع ٹکڑوں کی شکل میں ملتی ہیں۔

ہم بچپن میں اندرون سندھ رہے ہیں تو وہاں تو اس کو لائ کہا جاتا ہے۔ لائ غالبا” کسی گرم گاڑھے مرکب کو کہا جاتا ہے جو ٹھنڈا ہونے پر جم کر سخت ٹھوس شکل اختیار کرلیتا ہے۔ جیسے کہ صابن بنانے کے لئے بھی سوڈے اور سیلیکیٹ وغیرہ کی لائ تیار کی جاتی ہے۔
گڑ کی لائ یا گڑ پٹی بنانا اتنا مشکل کام نہیں لیکن بس اس میں مہارت اور پُھرتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنے کی لائ، مونگ پھلی کی لائ، تل کی لائ اور انتہائ مزیدار اسپیشل کھوپرے کی لائ وغیرہ۔ اردو میں غالبا” گڑ پٹی کہا جاتا ہے۔ کراچی میں اسٹورز پر اس کو چِکی کے نام سے بکتا دیکھا۔ چ کے نیچے زیر کے ساتھ اس کا تلفظ کیجئے۔
وہاں اندرون سندھ کے ایک قصبے میں سلطان نامی بندہ تھا جو لائ بنایا کرتا تھا۔ وہ صبح میں دو تین گھنٹے کو دکان کھولتا اور پھر شام عصر کے وقت سے مغرب تک دکان کھولتا تھا۔ دکان سے زرا فاصلے پر گلی میں اس کا گھر تھا جہاں سے لائ بنا کر وہ لوہے کے تھالوں میں رکھ کر دکان پر سجادیتا۔ نمکین چیزوں میں اس کے پاس صرف بیسن کے بنے ہوئے موٹے سیو ہوا کرتے تھے۔ اس کی دکان میں ایک واحد کرسی تھی جس پر یہ خود بیٹھتا تھا۔ باقی دکان میں اس نے خالی بوریاں بچھائ ہوتی تھیں یا دو عدد باوا آدم کے زمانے کی لکڑی کی میزیں تھیں جن پر یہ لائ کے تھال رکھا کرتا تھا۔ اس کی دکان کا دروازہ بھی بھاری موٹی لکڑی کا ڈبل پٹوں والا تھا اور دکان کی دھلیز پر آگے کو گلی میں نکلا ہوا لکڑی کا تھڑا بھی تھا جو کثرت استعمال سے خوب چکنا ہوگیا تھا۔ غالبا” شیشم کی لکڑی کا تھا کیونکہ بغیر کسی وارنش پالش کے اس کی چمک قابل دید تھی۔ یہ دکانیں ان ھندووں کی تھیں جو قیام پاکستان کے وقت انڈیا ھجرت کرگئے تھے اور انڈیا کے گاؤں دیہات سے ھجرت کر کے پاکستان آنے والے خانزادہ راجپوت برادری نے 1947-48 میں ان ھندووں کے چھوڑے ہوئے مکانوں دکانوں اور زمینوں پر قبضے کرلئے تھے۔ خانزادہ راجپوت برادری بھارت کے وہ مسلمان تھے جن کے آباو اجداد نے ہندو مذہب سے اسلام قبول کیا تھا۔ یعنی یہ انڈیا کے مقامی لوگ ہی تھے اور یہ افغانستان یا ایران و ترکی وغیرہ سے ہجرت کرکے انڈیا میں سکونت اختیار کرنے والوں میں سے نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آج بھی خود کو خانزادہ راجپوت کہتے ہیں جبکہ خان یا پٹھان سے ان کا دور دور تک بھی کوئ تعلق نہیں ہے۔ میوات کے خانزادہ راجپوتانہ کے سرداروں کا ایک خاندان تھا جن کا دارالحکومت الور میں تھا ۔ خانزادے مسلمان راجپوت تھے جو راجہ سونپر پال کی اولاد تھے اور وہ ایک جدون راجپوت تھے جنہوں نے ہندوستان میں فیروز شاہ تغلق دہلی سلطنت کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا ۔
میوات ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تھا ، اس میں ضلع الور میں تحصیل ہتھن ، نوہ ضلع ، تجارا ، گڑگاؤں، کشن گڑھ باس ، رام گڑھ ، لکشمنگڑھ تحصیل اراولی رینج اور راجستھان کے بھرت پور ضلع میں پہاڑی ، نگر ، کمان تحصیل اور اترپردیش کے ضلع متھراکا کچھ حصہ شامل تھا۔ ۔ اندرون سندھ یہ خانزادہ راجپوت برادری آپ کو بہت بڑی تعداد میں ملے گی۔ ویسے تو یہ سندھ کے تمام ہی چھوٹے بڑے شہروں میں آباد ہیں لیکن خاص طور پر میرپور خاص، ٹنڈو الہیار، گمبٹ ، تھاروشاہ، وغیرہ میں کثرت سے ہیں۔ اپنے جیو نیوز کے شاہزیب خانزادہ بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

جی تو بات ہورہی تھی سلطان لائ والے کی جو خانزادہ راجپوت برادری سے ہی تعلق رکھتا تھا۔ چھوٹے سے قد اور مختصر جسامت والا ادھیڑ عمر شخص جس کا چھوٹا سا چہرہ دیکھ کر مجھے نیولے کی شکل یاد آتی تھی کیونکہ اس کی آنکھیں کنجی چمکدار تھیں۔ تہبند اور کرتا پہنتا تھا اور اکثر بیڑی سلگائے رکھتا تھا۔ خاموش طبع اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بندہ تھا۔ اس کے پاس گڑ کی چنے کی لائ، مرمروں کی لائ، مونگ پھلی کی لائ، کالے اور سفید مکس تلوں کی لائ، ہوتی تھی۔ جبکہ مونگ پھلی اور سفید تلوں کی چینی کی لائ بھی ہوا کرتی تھی جو اس وقت ہم کو لائ کی کوئ فینسی اور نفیس قسم لگا کرتی تھی۔ اس کے دام بھی گڑ کی لائ کے مقابلے زیادہ ہوتے تھے۔ یعنی اس زمانے میں چینی مہنگی تھی اور گڑ سستا تھا۔ اس کی لائ ہمیشہ تازہ اور بہت مزیدار ہوا کرتی تھی۔ ایک سادہ لائ بھی ہوا کرتی تھی جس میں صرف گڑ کو پگھلا کر اس کو جما کر ٹکڑے کاٹ لئے جاتے ہیں۔ وہاں اس کو بڑا کہا جاتا تھا۔
آس پاس کے گوٹھ دیہات کے چھوٹے دکاندار اس سے یہ لائ اچھی مقدار میں اپنی دکانوں پر فروخت کرنے کے لئے لے جایا کرتے تھے۔ یہ سمجھئے کہ سلطان لائ کا مینوفیکچرر اور ہولسیلر تھا۔ سچ کہتا ہوں کہ ایسی مزیدار خستہ لائ کبھی اور کہیں نہیں کھائ۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ہم لائ لینے جاتے اور اس کی دکان بند ہوتی تو ہم اس کے گھر چلے جاتے۔ خدا جانے اس کے بیوی بچے کہاں تھے ۔ پچاس ساٹھ کے پیٹے میں تو ہوگا۔ اکیلا ہی رہتا تھا۔ تو جب ہم اس کے گھر جاتے تو یہ اپنے ایک ھیلپر کے ساتھ گھر کے کچے صحن میں لائ بنارہا ہوتا تھا۔ مٹی کے چولہے میں لکڑیوں کی تیز بھڑ بھڑ جلتی آگ پر لوہے کی سیاہ رنگ بڑی سی کڑاہی دھری ہوتی جس میں یہ بہت سارا گڑا ڈال کر زرا سا پانی ڈالتا اور تھوڑی ہی دیر میں کڑاھی میں ھلکے براون رنگ کا گڑ کا شیرہ کھد بد کرنے لگتا۔ کڑھاؤ میں کھولتا یہ گڑ کا شیرہ انتہائ تیز گرم ہوتا ہے۔ اندازہ لگالیجئے کہ تقسیم کے وقت جب انڈیا میں ہندو اور سکھ بلوائ رات کے وقت مسلمانوں کے محلوں پر شب خون مارا کرتے تھے تو مسلمان اپنے گھروں کی چھتوں پر چولہے بنا کر ان پر بڑے بڑے کڑھاؤ میں گڑ کا شیرہ پگھلا کر رکھا کرتے تھے۔ جیسے ہی بلوائ محلوں میں داخل ہوتے گڑ کا یہ شیرہ چھتوں سے لمبی لمبی جھاڑوؤں کے تنکوں کی مدد سے ان پر چھڑکا جاتا۔ جسم پر جہاں جہاں اس گڑ کے کھولتے ہوئے شیرے کے چھینٹے پڑتے وہاں گڑ کا شیرہ کھال کو چھیدتے ہوئے ھڈی تک اتر جاتا تھا اور بلوائ چیختے چلاتے واپس بھاگتے تھے۔
سلطان لائ والا اس گڑ کے شیرے کو ایک خاص اندازے سے مناسب چاشنی کی حد تک مستقل کڑچھے سے ھلاتے ہوئے پکاتا اور شیرے کی سطح پر آنے والا میل کچیل کڑچھے کی مدد سے نکال کر ایک ٹین کے کنستر میں ڈالتا جاتا۔ آنچ کی کمی بیشی کا بھی بڑا دھیان رکھتا۔ اس دوران گُڑ کے گرم شیرے کی میٹھی مزیدار خوشبو ہر طرف پھیل جاتی۔ پھر وہ کڑاھی کو چولہے سے اتار کر اس میں پھرتی سے چنے، یا مونگ پھلی یا تل وغیرہ ڈال کر بہت جلدی سے تیزی سے کڑچھے کی مدد سے مکس کرتا اور پھر اتنی ہی تیزی اور پھرتی کے ساتھ پاس رکھے لوہے کے بڑے تھال میں یہ ملغوبہ انڈیل دیتا۔ تھال میں اس نے پہلے سے ہی آٹا چھڑکا ہوتا تھا۔ تھال میں یہ گرما گرم مکسچر انڈیلنے کے بعد یہ اس کو پورے تھال میں کڑچھے کی مدد سے یکساں پھیلا دیتا اور پھر ایک چوڑے بھاری مگدر جیسے آلے یا بڑے بیلن سے زور زور سے چوٹ مار کر یا بیل کر لائ کی سطح کو ہر طرف یکساں طور پر ہموار کردیتا۔ بمشکل پانچ دس منٹ میں لائ سخت ہوجاتی۔ پھر یہ ایک بڑے تیز نوکیلے چھرے کی مدد سے تھال میں لائ پر پیزے کی طرح کے کٹ لگا کر آٹھ تکونے ٹکڑوں میں کاٹ دیتا۔ پھر ان ٹکڑوں کو دوسرے تھال میں ایک دوسرے کے اوپر رکھ دیتا۔
پھر ہم کو ہمارے پیسوں کے حساب سے ان میں سے ٹکڑا کاٹ کر دیتا۔
ہماری پسندیدہ مونگ پھلی کی گڑ والی لائ ہوتی تھی لیکن منچنگ کے لئے اس کے کوئ بھی لائ ہو مگر لاجواب ہوتی تھی۔ کم پیسوں میں مرمروں کی لائ سب سے زیادہ ملا کرتی تھی کیونکہ وہ وزن میں ھلکی ہوتی ہے۔
یہ وہ ھیلدی سنیک فوڈ تھا جو اس زمانے کے بچے بڑے بہت شوق سے کھاتے تھے۔ لائ یا گُڑ پٹی پاکستان کے ہر علاقے میں مقبول ہے اور شوق سے کھائ جاتی ہے۔ بچپن کے مشاھدے کا بھلا ہو کہ ہم بھی سلطان کی طرح بہت اچھی لائ بنالیا کرتے ہیں۔

‎شمالی ہند کے علاقوں خصوصاً بہار اور اتر پردیش میں اس میٹھے کو لایا پٹی کہا جاتا ہے۔ سندھ اور سندھی علاقوں میں اسے لی یا لائی کہا جاتا ہے اور شمالی ہندوستان کی دیگر ریاستوں اور پنجاب میں اسے گجک یا مرونڈا بھی کہا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش، مغربی بنگال اور دیگر بنگالی بولنے والے خطوں میں اسے گڑ بادام کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنوبی ہندوستان کی ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اسے پالی پتی کہا جاتا ہے۔ کیرالہ میں اسے کپلانڈی متھائی کہا جاتا ہے۔ تامل ناڈو میں اسے کدلائی مٹائی کہا جاتا ہے۔

‎چکیاں مختلف اجزاء کے امتزاج سے بنائی جاتی ہیں۔ خصوصی چکیاں کاجو، بادام، پستے اور تل کے بیجوں سے بنائی جاتی ہیں لیکن گڑ اس کا بنیادی جُزو ہے۔ بعض اوقات چینی کو بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دیہی اور شہری دونوں جنوبی ایشیا میں ایک بہت مشہور میٹھی چیز ہے۔
‎سب سے زیادہ مقبول چکیاں بھارتی گجرات کے بھوج کے ہندوستانی قصبوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔

تحریر




#چکی
#گڑپٹی
#لائ

22/12/2021

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔۔ ( ایک مسیحا ایک عظیم انسان )
خون کی بیماریوں کے ماہر اور پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ شروع کرنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی آج کراچی میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کرونا کی پہلی شدید لہر کے دوران پلازمہ سے علاج کا طریقہ بھی دریافت كيا تھا۔
ڈاکٹر طاہر شمسی برین ہیمریج کے باعث آغا خان اسپتال میں زیر علاج تھے۔۔۔۔انہیں 16 دسمبر کے روز اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں رات گئے ان کا آپریشن کیا گیا، ڈاکٹرز نے ان کی حالت تشویش ناک بتائی تھی۔۔۔۔۔۔۔ سب سے دعائے مغفرت کی اپیل کی جاتی ہے کہ اللہّ پاک ڈاکٹر طاہر شمسی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین🤲🤲🤲🤲
یہاں میں اپنے دوست معالج حضرات حکما اور ڈاکٹرز و ہومیوپیتھس سے گزارش کرونگا کہ آجکل برین ہیمرج کی وجہ سے اچانک اموات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ چند روز پہلے خبرناک فیم عابد فاروق المعروف پروفیسر باغی صاحب بھی برین ہیمرج کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے۔ برائے کرم اچانک برین ہیمرج کی وجوہات اور اس سے بچنے کے لئے علاج و احتیاط بتائیے۔
شکریہ

22/12/2021

کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ کب تک ہوسکتا ہے؟ بل گیٹس کی نئی پیشگوئی

مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کا اہم ترین مرحلہ 2022 کو ختم ہوجائے گا۔

اپنے بلاگ گیٹس نوٹس میں 2021 کے ریویو تحریر کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ 'ایک اور پیشگوئی کرنا احمقانہ محسوس ہوگا مگر میرا خیال ہے کہ وبا کا خطرناک مرحلہ 2022 میں کسی وقت اختتام پذیر ہوجائے گا'۔

دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بل گیٹس نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ کورونا کی وبا کا خاتمہ جلد ہوجائے گا مگر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا جس کی وجہ ڈیلٹا قسم اور لوگوں کی ویکسینیشن کی مشکلات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اومیکرون قسم تشویشناک ہے مگر نئی اقسام کو شناخت کرنے، ویکسینز اور اینٹی وائرل ادویات کی تیاری کی رفتار کے باعث انہیں توقع ہے کہ 2022 میں کووڈ ایک اینڈیمک یا مقامی مرض بن کر رہ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا 'وبا کے کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں اب دنیا وائرس کی خطرناک اقسام سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے، ہم اب ضرورت پڑنے پر اپ ڈیٹڈ ویکسینز تیار کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں'۔

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اومیکرون قسم دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

دنیا بھر کے سائنسدان اور ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے اومیکرون کے بارے میں جاننے کے لیے کام کیا جارہا ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ میوٹیشنز نے ماہرین کو فکرمند کیا ہے۔

بل گیٹس کے مطابق اومیکرون قسم کے بارے میں کافی معلومات جیسے موجودہ ویکسینز کی اس کے خلاف افادیت یا سابقہ بیماری سے تحفظ وغیرہ جلد دستیاب ہوگی، کیونکہ محققین کی جانب سے اس بارے میں جاننے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

بل گیٹس نے بتایا کہ ویکسینز اور اینٹی وائرلز کی بدولت مستقبل میں کووڈ 19 کے جان لیوا ہونے کی شرح میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے لکھا 'مختلف برادریوں میں کبھی کبھار لہر ابھرے گی مگر بیشتر کیسز کے لیے گھر میں علاج کے لیے نئی ادویات دستیاب ہوں گی اور باقی کیسز کو ہسپتال سنبھال لیں گے'۔

ان کا کہنا تھا 'آنے والے 2 برسوں میں مجھے توقع ہے کہ محج اسی وقت ہمیں وائرس کا خیال آئے گا جب ہم ہر سال موسم سرما میں کووڈ اور فلو ویکسینز استعمال کریں گے'۔

اس سے قبل مارچ 2022 میں سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے پیشگوئی کی تھی کہ کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ اور زندگی 2019 کی طرح معمول پر 2022 کے آخر تک آسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں تو زندگی کے معمولات رواں سال موسم خزاں تک لگ بھگ بحال ہوسکتے ہیں مگر قانون سازوں کی جانب سے عالمی سطح پر ویکسینیشن کی ناکافی کوششوں کے باعث مکمل بحال 2022 کے آخر تک ہی ممکن ہوسکے گی۔

مگر انہوں نے خبردار کیا تھا کہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر وبا کے خاتمے کے لیے ہم نے زیادہ کام نہیں کیا، ویکسینز فی الحال امیر ممالک کے پاس جارہی ہیں، جس کے نتیجے میں وائرس کی زیادہ متعدی اقسام بیرون ملک پھیل سکتی ہیں اور وہاں سے پھر امریکا پہنچ سکتی ہیں۔

بل گیٹس نے کہا کہ یہ بھی خطرہ ہے کہ ری انفیکشن کی لہر سامنے آئے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وبا کا خاتمہ 2022 کے آخر تک ہی ہوسکے گا ماسوائے اس صورت میں اگر ہم زیادہ بہتر کام کریں۔

اس سے قبل دسمبر 2020 میں ایک انٹرویو میں بھی بل گیٹس نے یہ پیشگوئی کی تھی 'میرے خیال میں یہ وائرس دنیا میں موجود رہے گا اور ہمیں فیس ماسک کا استعمال کرنا ہوگا، دنیا کے ہر کونے سے وائرس کے خاتمے کے بعد ہی وبا کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا، تو حالات 2022 کی پہلی ششماہی سے قبل معمول پر نہیں آسکیں گے'۔

خیال رہے کہ 2015 میں بل گیٹس نے کورونا جیسی وبا کی پیشگوئی کی تھی، یعنی ایسے وائرس کی آمد کے بارے میں بتایا تھا جو ہوا کے ذریعے پھیل جائے گا اور لوگوں میں اس کی علامات ظاہر نہین ہوں گی۔

انہوں نے ستمبر 2020 کے وسط میں یہ بھی کہا تھا کہ فائزر کی ویکسین سب سے پہلی دستیاب ویکسیسن ہوسکتی ہے۔

www.dawnnews.tv

Photos from Its Herbals's post 22/12/2021

السلام علیکم
ھربلز ایک ایسا دیسی برانڈ ہے جس کو میں نے دیسی سوغاتوں کے لئے بہت بہترین اور معیاری پایا ہے۔ دیسی گُڑ، دیسی شکر، مختلف اقسام کا شہد، زعفران، سلاجیت، اور سب سے بڑھ کر دیسی گھی جس کی مہک اور ذائقہ ہی بتادیتا ہے کہ یہ واقعی اصلی دیسی گھی ہے۔ ھربلز کے دام بھی انتہائ مناسب ہیں۔ ھربلز کی یہ تمام دیسی مصنوعات اب مختلف بیکریوں اور بڑے اسٹورز کے مالکان بھی اچھی طرح چھان پھٹک اور ٹیسٹنگ کے بعد اپنے پاس رکھ کر سیل کررہے ہیں جو یقینا” ھربلز کے اعلی معیار پر اعتماد کی ضمانت ہے۔ میں نے ذاتی طور پر ھربلز کا دیسی گھی، دیسی شکر اور جنگلی شہد استعمال کیا اور ہر طرح سے بہتر پایا۔ خاص طور پر دیسی گھی کے معاملے میں میرا مزاج، پسند اور شوق بہت زیادہ حساس ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ بہت زیادہ لکھنے پڑھنے اور دماغی کام کرنے والوں کے دماغ کے لئے اگر کوئ چیز بہترین ترین ہے تو وہ دیسی گھی ہے۔ یہ آپ کو دماغی تکان، دماغی خشکی، ڈپریشن اور ٹینشن کے علاوہ بے خوابی سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اگر آپ جسمانی طور پر کمزور ہیں یا دماغی خشکی اور کمزوری محسوس کرتے ہیں تو روزانہ دو چمچ دیسی گھی لازمی لے لیا کیجئے۔ آپ دیسی گھی میں انڈے ھاف فرائ کرسکتے ہیں۔ گرما گرم روٹی پر دیسی گھی لگا کر سالن یا ساگ وغیرہ کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ دیسی شکر یا گڑ میں دیسی گھی ملا کر گرم کرکے ایک مزیدار سوئٹ ڈش بناسکتے ہیں، دیسی گھی میں بنا ہو دیسی گندم کا لچھے دار پراٹھا ھفتے میں ایک دوبار لے سکتے ہیں، سچ پوچھئے تو دیسی گھی کے گھر میں ہوتے ہوئے آپ کو کسی سالن ترکاری کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ گرما گرم روٹی پر چمچ بھر کر دیسی گھی ڈالئے اور لہسن ہرے دھنئے کی چٹنی یا اچار کے ساتھ اللہ کی اس نعمت کا لطف اٹھائیے۔ دال ساگ میں دیسی گھی کا تڑکا ان کو خاصے کی چیز بنادیتا ہے۔ یا رات سوتے وقت گرم دودھ میں ایک چمچ دیسی گھی اور ایک چائے کی چمچی اسگندھ پاؤڈر ملا کر پی سکتے ہیں جو آپ کی اعضا شکنی اور جوڑوں و پٹھوں کے درد و کھنچاؤ کے لئے انتہائ مفید اور دماغی صلاحیتوں کے لئے رسائن ہے۔
ھربلز کی دیسی سوغاتیں آپ پورے یقین کے ساتھ خرید سکتے ہیں۔

22/12/2021

خواتین کی شرٹس میں بٹن بائیں جانب کیوں ہوتے ہیں؟

مردوں اور خواتین کے ملبوسات میں فرق ہوتا ہے، اب لباس چاہے ریشم کا ہو، کاٹن، لینن یا کسی اور میٹریل کا، اسٹائل بدلتے رہتے ہیں مگر ایک دلچسپ روایت صدیوں سے برقرار چلی آرہی ہے۔

ویسے پاکستان میں تو خواتین شرٹس کا استعمال بہت کم کرتی ہیں تاہم کبھی ایسا ہو تو آپ اس کا موازنہ مردانہ شرٹ سے کریں، آپ ایک فرق ضرور محسوس کریں گے۔
جی ہاں خواتین کی شرٹس میں بٹن بائیں جانب جبکہ مردوں کی قیمض میں دائیں جانب لگائے جاتے ہیں۔

اس کی وجہ تاریخ میں چھپی ہے اور ایک کمپنی ایلزبتھ اینڈ کلارک کی بانی میلانی ایم مورے کے مطابق "جب 13 ویں صدی میں بٹنوں کی ایجاد ہوئی تو یہ اس زمانے کی نئی اور بہت مہنگی ٹیکنالوجی تھی"۔

ان کا مزید کہنا تھا، "'اس زمانے میں امیر خواتین اپنے ملبوسات خود نہیں پہنتی تھیں بلکہ یہ کام ان کی ملازمائیں کرتی تھیں، تو سیدھے ہاتھ سے کام کرنے والی ملازماﺅں کے لیے سامنے کھڑے ہو کر بائیں جانب بٹن لگانا آسان تھا"۔

تو اس طرح یہ روایت قائم ہوئی اور آج بھی خواتین کی شرٹس میں بٹن بائیں جانب ہی لگائے جاتے ہیں۔

مگر اس حوالے سے کچھ اور خیالات بھی موجود ہیں جیسے ایک نظریہ یہ ہے کہ اکثر خواتین بچوں کو جب گود میں لیتی تھیں تو وہ ان کے بائیں جانب ہوتا تھا اور اگر انہیں بچے کو دودھ پلانا پڑتا تو دائیں ہاتھ سے بٹن کھولتی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ بٹن بائیں جانب لگنا شروع ہوگئے۔

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ ماضی میں جب امیر خواتین گھڑسواری کرتیں تو وہ عام طور پر گھوڑے کے بائیں جانب سے سوار ہوتیں تو بٹن بائیں جانب رکھنا انہیں بیٹھنے میں مدد دیتا اور قمیض میں ہوا جانے کی رفتار کم ہوجاتی۔

اسی طرح ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ 1880 کی دہائی میں بیشتر ممالک میں خواتین پر مردوں کی طرح کا لباس پہننے پر پابندی تھی مگر جب خواتین نے مردوں جیسے ملبوسات کو پہننا شروع کیا تو انہیں تیار کرنے والوں نے خواتین کے ملبوسات میں بٹن بائیں جانب لگانا شروع کردیئے تاکہ مردوں اور خواتین کے ملبوسات میں فرق کیا جاسکے۔
ایک دلچسپ خیال اور بھی موجود ہے جس کے مطابق فرانس کے حکمران نیپولین کی ایک عادت تھی کہ وہ اپنا ہاتھ قمیض کے درمیان پھنسا کر تصاویر بنواتا تھا، خواتین نے مذاق اڑانے کے لیے نپولین کے اس معروف پوز کی نقل شروع کردی، جب فرانسیسی شہنشاہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے حکم جاری کیا کہ خواتین کی قمیضوں میں بٹن مخالف یعنی بائیں جانب ٹانکے جائیں تاکہ اس کا مذاق نہ اڑ سکے۔

جہاں تک مردوں کی شرٹس کی بات ہے تو اس پر دائیں جانب بٹن لگانے کے حوالے سے بھی مختلف خیالات موجود ہیں۔

تاہم ہاورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی کول چیپن کے مطابق زمانہ قدیم میں مردوں کے بیشتر فیشن فوج سے نکل کر سامنے آتے تھے۔
یہاں بھی سیدھے ہاتھ کا اصول ہی نظر آتا ہے یعنی جو افراد رائٹ ہینڈڈ ہوتے ہیں ان کے لیے ہتھیاروں کی آسان رسائی کے لیے بٹن دائیں جانب لگائے جاتے تھے اور اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

مختصر الفاظ میں ایسی متعدد وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں اور خواتین کی قمیضوں میں بٹن دائیں یا بائیں کیوں ہوتے ہیں اور اب یہ روایت سی بن گئی ہے جو ختم نہیں ہوسکی
Dawn News Tv

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Address

Karachi