Balochistan National News

Balochistan National News

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Balochistan National News, Quetta.

11/11/2020

آستین کا سانپ

بلوچستان میں ریاستی ادارے قبائلی تنازعات کو ہوا دے کر کشت و خون کے لئے راہ ہموار کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں اور اس مقصد کے لئے ثناء اللہ دودا زئی کو مکمل ٹاسک دیا گیا ہے۔ ثناء اللہ جو گزشتہ کئی عرصے سے دبئی میں مقیم تھے، ان پر کرپشن، لوٹ مار اور سرکاری وسائل کو بے دریغ استعمال کرنے جیسے الزامات کے تحت نیب میں مختلف کیسز اور ریفرنسز دائر ہے وہ نیب کے تحقیقات اور گرفتاری سے بچنے کے لئے سیاسی خاموشی اختیار کرکے دبئی میں مقیم تھے لیکن اچانک پی ڈی ایم کی بلو چستان میں منعقدہ جلسہ عام سے صرف دو روز قبل وہ کوئٹہ پہنچ گئے۔ ریاستی اداروں نے جنرل قادر چنال کے ذریعے ثناء اللہ کو واپس بلوایا اور ان کے کرپشن کیسز کو ختم کرنے کے بدلے انہیں پی ڈی ایم کے جانب سے کوئٹہ میں منعقدہ جلسہ عام کو سبوتاژ کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا لیکن سردار اختر مینگل نے ثناء اللہ کی اس سازش کو بے نقاب کرکے مسلم لیگی قیادت کو حقائق سے آگاہ کیا، مسلم لیگی قیادت بھی حالات کو بھانپ کر ثناء اللہ کی جلسے میں شرکت پر پابندی عائد کردی کیونکہ بقول مسلم لیگی قیادت کے ثناء اللہ گزشتہ ڈھائی سال سے غیر فعال ہوگئے تھے ان کی اچانک دبئی سے کوئٹہ آمد ایک خاص مقصد کے لئے تھا اور وہ مقصد جلسہ کو ناکام بنانا تھا۔
نواز شریف سمیت اعلی مسلم لیگی قیادت ثناء اللہ سے پہلے ہی سے خفا تھے کیونکہ جب ثناء اللہ کے خلاف تحریک اعتماد پیش کی گئی تو خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم ثناء اللہ کو ہدایت جاری کیا تھا کہ وہ ڈٹ کر تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں جبکہ اتحادی جماعتیں نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ نے بھی انہیں مکمل تعاون کا یقین دہانی کرائی تھی لیکن ثناء اللہ نے اپنی نیب کیسز کی خوف سے پارٹی قیادت اور اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیر اجلاس سے ایک گھنٹہ قبل استعفی دیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی اور مخالفین کے پاس مطلوبہ نمبرز بھی پورے نہیں ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ثناء اللہ کو ریاستی ایجنسیز نے بلا کر کہا تھا کہ وہ استعفی دیں یا پھر نیب و کرپشن کیسز کو بھگتنے کے تیار ہوجائیں اور ثناء اللہ نے وزارت اعلی سے زیادہ اپنی کرپشن سے جمع کئے ہوئے دولت بچانے کو ترجیح دے کر استعفی دے دیا اور پھر خود مسلم لیگ میں علامتی طور پر رہے، سینیٹ انتخابات میں ان کی سالہ جو مسلم لیگ کی ٹکٹ سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے انہوں نے مخالف امیدوار کو ووٹ کاسٹ کیا تھا، ان کے بھائی پی ٹی آئی اور دوسرا سالہ باپ میں چلا گیا۔
1988 میں بلوچستان میں پارلیمانی میدان خالی تھا ریاستی اداروں نے ثناء اللہ جیسے نام نہاد لوگوں کو متعارف کرایا اور 1988 سے ثناء اللہ مسلسل ریاستی اداروں کے آشیر باد سے منتخب ہوتا آرہا ہے اور اس دوران وہ تمام فوجی و سول حکومتوں میں شامل ہوتا رہاہے، مشرف، پی پی پی اور مسلم لیگ کی دور میں بھی وزارتوں پر براجمان رہا ہے۔
ثناء اللہ جو آج کل روایات کی بہت باتیں کرتا ہے اس نے روایات کو پاوں تلے روند کر اپنے بھائی کو قتل کرکے قبیلے کا خود ساختہ سردار بن گیا۔ پھر اپنے بھتیجے کو گھر میں ذبح کرکے پھینک دیا کیونکہ انہیں خوف تھا کہ دستار اور سرداری کے اصل حق دار وہ ہے اور دوسرا ثناء اللہ کو خوف تھا کہ یہ اپنے باپ کا بدلہ مجھ سے لینگے اس لئے دھوکے سے اپنے ہی بھتیجے کو قتل کردیا اور پھر اپنے ماموں نواب امان اللہ زہری کو جو ایک تعزیت میں شرکت کرنے کے بعد واپس گھر جارہے تھے اور ان کے ساتھ خواتین و بچے بھی گاڑی میں موجود تھے اپنے کرایہ کے قاتلوں سے انہیں اور ان کے نواسہ کو قتل کروایا، قبائلی روایات کا جنازہ اس وقت ثناء اللہ نے بڑے دھوم دھام سے نکالا جب ایک قبائلی فیصلے کے لئے بلائے گئے جتک قبیلے کے 4 افراد کو نشہ آوار چیز پلا کر اپنے مہمان خانے میں انہیں قتل کروایا یہ نواز شریف کو ڈس نے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن خود آستین کا سانپ ہے اس کے شر سے نہ بھائی، بھتیجا، ماموں نہ قبیلہ اور علاقے کے لوگ محفوظ رہے ہیں ۔
اس پر نواز شریف کے بہت سے احسانات تھے ایسے نکمے، نکھٹو، نالائق اور جاہل انسان کو وزیراعلی بنایا آج وہ اپنے ہی محسن کو آنکھیں دکھا رہا ہے،کوئٹہ میں جس طرح انہوں نے نواز شریف کی خلاف باتیں کی اور اس کے علاوہ مینگل قبیلے کے اکابرین کے خلاف زہر اگلا، تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا یہ اس کی بوکھلاہٹ اور جہالت کی واضح ثبوت ہے، بلوچستان میں حقیقی سیاست کو ختم کرنے کے لئے ریاست نے اپنی بنائے ہوئے بونوں کو سرگرم کیا ہے لیکن جمہوریت کے دعویدار پارٹیوں کو ایسے عناصر کو اپنے صفوں میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

26/01/2019

آؤ اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں
____________
بروز اتوار 27جنوری 2019 رات 8بجے لیکر 11بجے تک لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بلوچ ، پشتون، سندھی ، مہاجر اور شیعہ سوشل میڈیا کے کارکن مشترکہ طور پر

کے ہیش ٹیگ کے ساتھ کمپین چلائیں گے ۔
لہذا تمام بلوچ، پشتون، سندھی ، مہاجر اور شیعہ مل کر اس مہم کو کامیاب بنائیں ۔

20/07/2018

ضمیر کا سودا گر ووٹ کا خریدار۔

شکیل قندھاری اپنے ہر تقریر میں ایک بات دہراتے ہے کہ کچھ اُمیدوار اور اُنکے حمایتی گاڈیوں کے ڈکیوں میں پیسے اور کندھوں پر ٹرانسفارمر اور واٹر بور اُٹھا کر خضدار کے غیرت مند لوگوں کے ضمیر اور ایمان کو خریدنے کی کوشش کررہے ہے لیکن خضدار کے باشعور عوام بکاو نہیں لیکن خود اپنے کارندوں اور ضمیر فروشوں کے ذریعے خضدار کے عوام کی ووٹوں کو ایک ٹرانسفارمر، 5 ہزار روپے اور واٹر بور سے خریدنے کی بھر پور کوشش کررہے ہے۔ مذکورہ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے ضمیر فروش نذیر نتھوانی اور بشیر لوگوں میں ٹرانسفارمر تقسیم کررہے ہے یہ وہ لوگ ہے جو چند روپیوں کے لئے اپنے ضمیر فروخت کرکے خضدار کے باشعور عوام کی ووٹ خریدنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اب خضدار کے عوام کو ٹرانسفارمر اور بور سے نہیں خریدا جاسکتا یہ شکیل قندھاری اور نذیر سوداگر کی بھول ہے۔

09/07/2018

خضداری کون؟

الیکشن قریب آتے ہی کچھ لوگوں نے باپ بدل دیا کچھ لوگوں نے ذات بدل دیا جو چند وقتی مراعات اور ذاتی مفادات کے لئے اپنے باپ کو بدل سکتے ہے اور اپنے ذات اور قومیت کو تبدیل کرتے ہے ایسے مفاد پرست اور موقع پرست کسی کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے ایسے لوگ وقت آنے پر قوم کو بھی فروخت کرسکتے ہے۔
کچھ لوگ اپنی انا کی تسکین اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے خضداری کا نعرہ ایجاد کرچکے ہے خضدار کے عوام اُن سے سوال کرتے ہیکہ تم لوگ خضدار کے غریب لوگوں سے اتنا تعصب کرتے ہیکہ اپنے دکانوں کو کرایہ پر خضدار کے غریب عوام کو روزگار کرنے کے لئے نہیں دیتے بلکہ باقاعدہ اپنے منشیوں کو یہ ہدایت جاری کئے ہے کہ بلوچ قوم اور خضدار کے غریب لوگوں کو کسی صورت دکانیں کرائے پر نہیں دیں بلکہ افغان مہاجرین اور ہندوؤں کو دکانیں دیں اگر کسی کا سوچ خضدار کے لوگوں کے بارے میں اتنا متعصبانہ ہے پھر وہ کیسے اور کیوں خضداری بن گیا ہے۔
خضدار کے باشعور عوام ایسے ضمیر فروشوں سے ہوشیار رہیں جو خضدار کے غریب قبائل کے زمینوں کو اپنے چالاکی و مکاری سے اُونے پونے دام پر خرید کر اب خضدار کے لوگوں کو اُن زمینوں اور دکانوں پر روزگار کے لئے برداشت نہیں کرتے اگر خدانخواستہ ایسے تعصب پرست لوگ کامیاب ہوگئے تو یہ خضدار کو مہاجر ستان میں تبدیل کریں گے۔
خضدار کے وارث وہ مداری نہیں جو صرف ووٹ کے لئے کھبی اپنے باپ ، کھبی اپنے شناخت اور کھبی اپنے قول کو بدل دیتے ہے خضدار کے وارث وہ لوگ ہے جھنوں نے اس سرزمین کی بقاء اور یہاں کے باشندوں کی خوشحالی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کئے ہیں ۔
25 جولائی ایسے مکاروں اور ضمیر فروشوں کی سیاسی موت کا دن ثابت ہوگا خضدار کے باشعور اور باضمیر فرزند 25 جولائی کو اپنے ووٹ کے طاقت سے ایسے لوگوں کا محاسبہ کریں۔

05/07/2018

شخصیات کو نہیں نظریہ کو ووٹ دیجئے
بی این پی ایک نظریہ ہے اپنا لیجئے

04/07/2018

04/07/2018

تربت : بی این پی کے مرکزی رہنما و امیدوار این اے 271جان محمد دشتی کوایف سی کی جانب سے بلیدہ جانے سے روکنا قابل مذمت ہے، الیکشن کمیشن اس بدمعاشی کا نوٹس لے۔

04/07/2018

مکران سے بد انتظامی، کرپشن،سیاسی بے چینی اور خوف کے خاتمے کے لئے بی این پی کا ساتھ دیں۔

04/07/2018

25 جولائی کو جنرل الیکشن منعقد ہونے جارہے ہے پانچ سال بعد ایک بار عوام کو یہ موقع فراہم کیا جارہا ہے کہ وہ اگلے پانچ سالوں کے لئے اپنے نمائندوں کا چناؤ کریں، ووٹ کے پرچی سے لوگ اپنے تقدیر کا فیصلہ کریں، یہ فیصلہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے خوشحالی اور خوش بختی کے لئے سوچ سمجھ کر ووٹ کے پرچی پر مہر ثبت کرتے ہے یا اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر ظالم، جابر، لٹیرے اور استحصالی قوتوں مسلط کرتے ہیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو اُن کے حوالے کرتے ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان پر مسلط ہوکر لوٹ مار، کرپشن، کمیشن، اقرباء پروری، بد انتظامی، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بربادی و سہولیات کی عدم فراہمی، پانی کی عدم فراہمی، زراعت و گلہ بانی کے شعبوں کی تباہی کے ذمہ دار ہے امن و امان، اغوا برائے تاوان، قتل عام کو پروان چڑھائے آج انہی قوتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان کے تمام اقوام، مذاہب اور اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار رہے، پولیس ٹریننگ سینٹر حملہ ، وکلا سمیت دیگر طبقات کا جس طرح سے قتل عام کیا گیاُ وہ بھی سابقہ حکمرانوں کے عمل نامے میں شامل ہے۔
نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ نے لوٹ مار اور کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے سیاسی مخالفین اور اپوزیشن پارٹیوں کے فنڈز تک روک دئیے گئے جبکہ نیشنل پارٹی کے بعد جب وزارت اعلی مسلم لیگ کے حصے میں آئی تو اُنہوں نے اپنے اتحادیوں کو بھی مات دے دی آج بلوچستان بدترین کرپشن اور بدانتظامی، سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اگر بلوچستان کے عوام نے اپنے ووٹ کا غلط استعمال کیا اور حقیقی نمائندوں کے بجائے مصنوعی اور کرپٹ نمائندوں کو ووٹ دے کر کامیاب کئے پھر بلوچستان بدترین سیاسی، سماجی، تعلیمی اور انسانی بحرانوں میں مزید گرے گا بیروزگاری، سماجی نابرابری اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں مزید اضافہ ہوگا، اگر ان تمام ظلم و زیادتیوں سے چھٹکارا چاہتے ہے اگر خوشحال، پرامن، تعلیم یافتہ، صحت مند، سر سبز، ظلم، جبر، لوٹ کھسوٹ، بیماریوں، استحصال، بھوک و افلاس سے پاک و صاف بلوچستان کے خواہاں ہے پھر 25 جولائی کو اپنے گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کریں کلہاڑے پر مہر ثبت کرکے بلوچستان اور اپنے بچوں کی مستقبل کو روشن اور خوشحال بنائیں۔

02/07/2018

باپ میں شمولیت کے لیۓ دھمکی ان کو دی جاۓ جنکا باپ نہ ہو،

سردار اختر جان مینگل

02/07/2018

نیشنل پارٹی گزشتہ کئی عرصے سے اقتدار کے روشنیوں میں سفر کرتی رہی ہے ، مشرف کے زمانہ سے لیکر تاحال اقتدار اور وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے ہیں مکران کےسیاہ و سفید کے مالک رہے ہے لیکن مکران کے لوگ آج اس جدید دور میں بھی زندگی کے بنیادی ضروریات سے یکسر محروم ہے، ڈاکٹر مالک کے ڈھائی سالا حکومت نے بھی بلوچستان بالخصوص مکران کے غریب لوگوں کی قسمت نہیں بدل سکا۔
تربت، گوادر، پنجگور کے اضلاع سمیت بلوچستان کے طول و عرض میں آج بھی لوگ پینے کی پانی کے لئے ترستے ہے، اسکولوں اور اسپتالوں میں کوئی سہولت میسر نہیں، غریب بچے اور بچیاں تعلیم کی حصول سے محروم ہے اگر کئی کسی علاقے میں اسکول موجود ہے تو اساتذہ موجود نہیں ہے اگر اساتذہ ہے تو اسکولوں کے عمارت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے، سائنس اور کھیلوں کے سامان میسر نہیں ، کتابیں بھی طلباء و طالبات خود خریدنے پر مجبور ہے،
اسپتالوں کے حالت زار بھی انتہائی درگوں ہے ، وزیر صحت بھی نیشنل پارٹی سے رہا ہے لیکن اسپتالوں میں غریب مریض پینا ڈول اور پیرا سٹامول کے ٹیبلٹ کے لئے ترستے ہے اگر اسکولوں میں تعلیم اور اسپتالوں میں ادویات میسر نہیں پھر نیشنل پارٹی کے قیادت کس طرح بلوچوں کے تقدیر کو بدلنے کی بات کرتے ہیں۔
پینے کا پانی پورے بلوچستان میں ناپید ہے لیکن اقتدار میں رہنے کے باوجود اس اہم انسانی ضرورت کو حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائے ، بلوچستان کے کسی علاقے میں ڈیم بنانے کے لئے کوئی پلاننگ ترتیب نہیں دئیے بلکہ اُنکے دور اقتدار میں پانی کے ٹینکیوں سے پانی کے بجائے کرپشن کے پیسے برآمد ہوئے ۔
جھالاوان خضدار سے اسلم بزنجو 2008 سے منتخب ہوتے آرہے ہے اس سے قبل ضلعی ناظم بھی رہے ہیں لیکن خضدار کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے، شہر کی صورتحال انتہائی خراب ہے، امن و امان، صحت، تعلیم ، زراعت ، پانی، بجلی ، صفائی کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے، بیروزگاری تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے ایک خوفناک اژدھا کا روپ دھار چکا ہے۔
لہذا 25 جولائی کو عوام ان لیٹروں اور غاصبوں کا احتساب اپنے ووٹ کے ذریعے کریں اور اُن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسترد کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل مزید تباہی سے بچائیں۔

02/07/2018

جان محمد دشتی کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

قمبر مالک بلوچ

2000 کے بعد سے منعقد ہونے والے عام انتخابات میں عوام الناس کی شرکت ریاست کے پارلیمانی اداروں میں حصہ لینے کے حوالے سے بڑی حد تک بلوچ قو م پرستوں کی منقسم رائے کے زیر اثر رہی ہے.

بلوچ قوم پرستوں کا ایک حلقہ جو پارلیمانی سیاست کرنے والی قوم پرست سیاسی پارٹیوں سے اپنی راہیں جدا کرچکا ہے ،ریاستی انتخابی عمل میں شرکت کو بلوچ قومی نجات کے کاز کے لئے مہلک گردانتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ قوم پرست بلوچ سیاسی جماعتیں جو تاریخی طور پر پارلیمانی سیاست سے جُڑی ہوئی ہیں،یہ سمجھتے ہیں کہ جدوجہد کے اس طریقہ کار سے دستبرداری قومی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے بنیادی اْصولوں کی نفی ہے۔ البتہ یہ تقسیم اور اس سے جُڑے حقائق قابل ِ بحث ہیں اورقطع نظر اُن دلیلوں کے جو اِن کے تعلق میں آتے ہیں، بلوچستان میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات کی اہمیت اور اِن میں بطور انتخابی اُمیدوارجان محمد دشتی کے نام نے ایک بھر پور اور نئی بحث چھیڑی ہے۔ جان محمد دشتی بلوچ قوم پرست حلقے اور عمومی طور پر عوام الناس کے لیے ایک انتہائی قابل ِ احترام بلوچ دانشور ، ماہر ِ لسانیات اور ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جان محمد دشتی کاضلع کیچ کے حلقہNA271سے قومی اسمبلی کے انتخاب میں مقابلے کا فیصلہ بلوچ سیاسی و سماجی میدان میں اُس کے چاہنے والوں اور مخالفین دونوں کیلئے کسی حیرت سے کم نہیں۔

بلوچستان کے حوالے سے روایتی طور پر وہ لوگ جو اعلیٰ حکومتی پوزیشن رکھتے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد عام طور پر خود کو تبلیغی جماعت سے وابستہ کرلیتے ہیں یا ذاتی کاروباری شعبے سے جُڑ جاتے ہیں اور سماج کے مسائل اورتقاضوں سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔ البتہ ش*ذ و نادر ہی یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی اعلی بیوروکریٹ اور بلوچ لکھاری پہلے سے طے شدہ رجحان کے برخلاف قوم پرست سیاست میں حصہ لے رہا ہوتا ہے۔

بلوچستان کے لوگوں کو عام طور پر،کسی استثنائی معاملے کو چھوڑ کر، اپنے نمائندے منتخب کرنے میں مشکل صورتحال کاسامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں برے یا کم برے افراد میں سے ہی کسی کا انتخاب کرنا ہوتا ہے لیکن موجودہ انتخابات میں جان محمد دشتی کے نام کوتعلیم یافتہ طبقے کی اکثریت اور سماجی حلقوں میں ناامیدی کی طویل سیاہ رات کے بعد روشنی کی کرن کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اگر موجودہ سیاسی تقسیم کی رو سے دیکھا جائے تو یہ بات لازمی طور پر مخالفت کی زَد میں آ جاتی ہے۔ جسطرح منڈیلا نے کہا تھا،’’سیاست میں بہت سارے حساس مسئلے ہوتے ہیں اور لوگ عام طور پر غیر مقبول نقطہ نظر کونہیں چاہتے ۔کچھ لوگ عسکریت پسند ہونے کا تاثر دینا چاہتے ہیں تاکہ مسائل کا سامنا نہ کر پائیں، خاص طور پراگر یہ مسئلے اُس قسم کے ہوں جو آپ کو غیر مقبول بناتے ہوں ‘‘۔بہرحال، یہ عوام اور سماج کا مفاد ہی ہوتا ہے جو ایک باشعور انسان کے عمل اور فیصلوں کی رہنمائی کرتا ہے،چاہے وہ کسی بڑی تنقید کوجنم دینے کا سبب ہی کیوں نہ بنے۔

آنے والے انتخابات میں جناب دشتی کی شرکت کو معاشرتی حلقوں میں وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ انہیں بڑی مدت کے بعد ایسا معتبر شخص نظر آیا ہے جسے وہ ووٹ دے سکیں باوجود یہ کہ انہیں اپنے مینڈیٹ کی قربانی کا خدشہ بھی لاحق ہے۔ دشتی صاحب کے بہت سے ایسے چاہنے والے جو اُن کے حلقہء انتخاب سے باہر رہتے ہیں،مصلحت آمیز انتخابی عمل یا انتخابات میں ریاستی اداروں کی مداخلت کی وجہ سے اور انتخابات میں غیر شفافیت کے سبب ان کی کامیابی کے بارے میں دو مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ بلوچ کاز اور بلوچ تاریخ وادب کے لئے جناب دشتی کی بے پناہ قربانیوں اور بلوچوں پر سیکیورٹی اداروں کی زیادتیوں اور ان کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرنے پر نفرت کے تیر کھانے کے باوجود بھی، ان کے چاہنے والے اس شبے کا اظہار کرتے ہیں کہ جناب دشتی جیسے بلند قد و قامت والے شخص کومقتدرہ کی جانب سے ’’ سب سے زیادہ نا پسندیدہ ‘‘ جان کر انہیں لوگوں کے ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

کچھ لوگ جو ریاستی اداروں میں بلوچوں کی شرکت کے برخلاف سوچ رکھتے ہیں، وہ عام انتخابات میں جناب دشتی کی شرکت کی مذمت کررہے ہیں۔ البتہ، اُسکے ناقد اِس سچ کو نظر اندازکررہے ہیں یا اُنہیں اس بات کا علم نہیں کہ دشتی صاحب نے بلوچ عوام، ان کی زبان اور بلوچ معاشرت کی بہتری کے لئے جوخدمات انجام دی ہیں اس دوران وہ اعلی بیوروکریسی میں ملازمت کر رہے تھے،۔ سول بیوروکریسی کی ملازمت کے دوران ہی انہوں نے بلوچ کلچر اور قوم پرستی پرسب سے زیادہ شاندار کتاب لکھی۔ دشتی صاحب کے دور صدارت ہی میں بلوچی اکیڈیمی نے کامیابی کے آسمان کو چھوا اور بہت سارے بلوچ سرکاری ملازم بلوچستان کے عوام اور سول ملازمین کی غیر متزلزل حمایت پر انہیں یاد کرتے ہیں۔

امریکہ میں مقیم بلوچ صحافی ملک سراج اکبر نے جناب دشتی کی زیرنگرانی روزنامہ آساپ کونوجوان بلوچ مصنّفین اور کالم نگاروں کی تربیت اور آبیاری کے لئے قابل ذکر پلیٹ فارم قراردیا، انہوں نے کہا کہ جب بلوچ پر سخت گھڑی آئی تو بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کو بے نقاب کرنے میں روزنامہ آساپ نے ہمیشہ سرخیل کا کردار ادا کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دشتی صاحب نے بلوچ معاشرے کی ترقی اور واضح طور پر بلوچ لوگوں کی خدمت اپنی انفرادی حیثیت میں کی ہے، اور اب انتخابات میں کھڑے ہونے کے اپنے فیصلے کے بعد انہیں بلوچستان میں انتخابات میں سب سے زیادہ اہل اورلائق امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اِس کے باوجود، مثبت اور ترقی پسند سوچ کے بغیر مثبت نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ ایک ایسے شخص کو منتخب کرنے کے لئے کافی جواز موجود ہے جس کی مہارت اور کام غیر معمولی طور پر ثمر آور ہیں اور اسے اُن لوگوں پر ترجیح دی جاسکتی ہے جو ترقی پسند اورسیکولر سوچ سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں۔ ایسے انسان کو چُننا جس کی ضروریات اور خواہشات اُس کی اپنی زندگی تک محدود نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے ہوں، جس معاشرے سے اس کا تعلق ہو اُس معاشرے کی ناکامی اُس کی اپنی ناکامی ہو،اور اُس معاشرے کی کامیابی اُسکی اپنی کامیابی ہو۔جان محمد دشتی کی زندگی بذات خود ایک سچے بلوچ کی کہانی ہے جو اپنے معاشرے کی سچائیوں، اذیتوں اور تجربات سے اثر مند ہے جس نے کامیابی اورجدوجہد کے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جو اپنی زبان خود بولتے ہیں۔

آنے والے عام انتخابات میں جناب دشتی کی شرکت نے مکران کے شعور کو امتحان میں ڈالا ہے جو بلوچستان کا دانشورانہ دارلحکومت ہونے کی ساکھ رکھتا ہے، جو ایسے شخص کو اپنا نمائندہ منتخب کرنے جارہا ہے جو بلوچوں کی سیاسی و معاشرتی، ثقافتی اور معاشی حقوق کی پاسداری میں پس و پیش نہیں کرے گا۔

(مصنّف برطانیہ میں مقیم سماجی و سیاسی ایکٹیوسٹ ہیں جن کا تعلق پنجگور بلوچستان سے ہے، وہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بیوٹمز اور بلوچ اسٹوڈنٹس اینڈ یوتھ ایسوسی ایشن یوکے کے سابق چیئرمین ہیں)

Want your business to be the top-listed Government Service in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Website

Address

Quetta