02/06/2026
کاروانِ ماؤازم
02/06/2026
01/06/2026
پریس ریلیز
تاریخ: 31 مئی 2026
زیرِ انتظام: عوامی اتحاد پارٹی
شرکاء: عوامی اتحاد پارٹی، کاروانِ ماؤازم
اجلاس کا آغاز
عید ملن پارٹی میں شرکاء کو خوش آمدید کہا گیا اور اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کیے گئے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ عہد میں محنت کش عوام، کسانوں، طلبہ، نوجوانوں اور دیگر محکوم طبقات کو درپیش معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کی پیداوار ہیں۔ اس تناظر میں ایک ایسی انقلابی عوامی سیاسی قوت کی تعمیر ناگزیر ہے جو محنت کش عوام کے مفادات کی حقیقی نمائندگی کر سکے اور استحصالی ڈھانچوں کے خلاف منظم جدوجہد کو آگے بڑھا سکے۔ شرکاء نے انقلابی پارٹی کی تشکیل و تعمیر کے عمل، درپیش سیاسی و تنظیمی چیلنجز، عوامی تحریکوں کے ساتھ تعلق، اور ان عوامل کا جائزہ لیا جو پارٹی کو ایک مضبوط عوامی اور انقلابی قوت بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم خیال ترقی پسند، جمہوری اور انقلابی قوتوں کے درمیان روابط کے فروغ اور مشترکہ جدوجہد کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پہلا سیشن
پہلے سیشن میں شرکاء نے عوامی اتحاد پارٹی کی موجودہ پیش رفت، عوامی سطح پر سیاسی کام، نوجوانوں کی شمولیت، تنظیم سازی، کیڈر سازی اور نظریاتی تربیت کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔ کاروانِ ماؤازم کے ساتھیوں نے سیاسی، فکری اور نظریاتی تناظر میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ محنت کش عوام اور محکوم طبقات کے درمیان مستقل سیاسی کام، طبقاتی شعور کی ترویج اور عوامی تحریکوں کی تعمیر انقلابی سیاست کے بنیادی تقاضے ہیں۔ انہوں نے موجودہ معاشی بحران، نجکاری، بیروزگاری، مہنگائی اور ریاستی جبر کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا تجزیہ پیش کیا اور اس امر پر زور دیا کہ ان مسائل کا مستقل حل صرف عوام کی منظم طبقاتی جدوجہد میں مضمر ہے۔
بعد ازاں شرکاء نے طلبہ سیاست، نوجوانوں کی تنظیم سازی، خواتین کی شمولیت، مزدور اور کسان تحریکوں کے ساتھ تعلقات، اور مختلف ترقی پسند و انقلابی قوتوں کے درمیان اشتراکِ عمل کی ضرورت پر گفتگو کی۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ سیاسی حالات میں منتشر عوام دوست قوتوں کے درمیان اتحاد، مکالمہ اور مشترکہ جدوجہد کی اشد ضرورت ہے تاکہ استحصالی پالیسیوں اور عوام دشمن اقدامات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
دوسرا سیشن
دوسرے سیشن میں عوامی اتحاد پارٹی اور کاروانِ ماؤازم کے درمیان مستقبل کے اشتراکِ عمل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے نتیجے میں درج ذیل نکات پر اتفاقِ رائے سامنے آیا:
1۔ مشترکہ رابطہ و مشاورتی کمیٹی کا قیام
دونوں تنظیموں کی جانب سے پانچ پانچ اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ رابطہ و مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی سیاسی، سماجی اور تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات کے تبادلے، مشترکہ منصوبہ بندی، عوامی مہمات اور سیاسی اقدامات میں باہمی مشاورت کو یقینی بنائے گی۔
2۔ تنظیمی و کیڈر سطح پر قربت اور اشتراک
اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ دونوں تنظیموں کے کارکنان اور کیڈرز کے درمیان سیاسی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ شرکاء نے اس رائے کا اظہار کیا کہ مشترکہ سرگرمیوں، نظریاتی مباحث اور عوامی جدوجہد میں عملی شرکت کے ذریعے اس تعلق کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
3۔ تعلیم کی نجکاری کے خلاف مشترکہ جدوجہد
اجلاس میں تعلیم کی بڑھتی ہوئی نجکاری کو محنت کش عوام اور متوسط طبقے کے بچوں کے بنیادی حقِ تعلیم پر حملہ قرار دیا گیا۔ شرکاء نے اساتذہ، طلبہ اور والدین کی جاری مزاحمت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نجکاری مخالف تحریک میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے اور احتجاجی سرگرمیوں میں مؤثر شرکت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں اطراف سے کم از کم ایک سو افراد کی مشترکہ شرکت کے امکانات کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ تعلیم کے حق کے دفاع اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اختتامی کلمات
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محنت کش عوام، کسانوں، طلبہ، خواتین اور دیگر محکوم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کو وسعت دی جائے گی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عوامی، جمہوری اور انقلابی قوتوں کے درمیان اتحاد اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا موجودہ دور کی اہم سیاسی ضرورت ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ استحصال، ناانصافی، نجکاری، سامراجی بالادستی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کو منظم اور مضبوط بنایا جائے گا، اور ایک ایسے سماج کی تعمیر کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی جو سماجی انصاف، عوامی حاکمیت اور محنت کش طبقے کے مفادات پر استوار ہو۔ آخر میں تمام شرکاء نے اجتماعی تصویر بنوائی اور مستقبل میں اس سیاسی و تنظیمی کارواں کو مزید وسعت دینے، عوامی تحریکوں کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے اور مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
جاری کردہ : کاروان ماوازم
National Students Federation Pakistan
مزاحمتی ادبی محاذ
محنت کش عورت محاذ
محنت کش اتحاد
The most profitable prison has no walls, just a monthly salary.
- Karl Marx
کبھی مت بھولو،
آج سے ساٹھ سال پہلے، 16 مئی کو چین میں ثقافتی انقلاب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔
یہ ایک اندرونی ہلچل تھی جسے قیادت کی جانب سے شروع کیا گیا اور بعد میں مخالفِ انقلاب گروہوں نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، جس کے نتیجے میں چینی عوام کو شدید تباہی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ دور اپنے پیچھے گہرے اسباق اور تلخ تجربات چھوڑ گیا۔
16/05/2026
پریس ریلیز
تاریخ: 15 مئی 2026
آج رینالہ خورد میں لیفٹ پارٹیوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں کاروان ماوازم سے این ایس ایف پاکستان کے سینٹرل آرگنائزر پرویز سلطانی اور کسان اکٹھ کے آرگنائزر رشید جٹ جبکہ عوامی اتحاد پارٹی سے عمر وارث اور بیداری پارٹی سے نعیم اجمل نے بھی شرکت کی۔ تمام رہنماؤں نے ترقی پسند، انقلابی اور عوامی قوتوں کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کے لیے جلد از جلد لاہور میں ایک وسیع بیٹھک بلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آنے والے دنوں میں لاہور میں دوستوں اور ہم خیال قوتوں کی ایک اہم میٹنگ منعقد کی جائے گی، جس میں آئندہ کی سیاسی و تنظیمی حکمت عملی پر فیصلے کیے جائیں گے۔
رینالہ خورد کے تمام پریس کلبوں سے تعلق رکھنے والے صحافی دوستوں نے باہمی رنجشوں اور اختلافات کو ختم کر کے آج ایک جگہ اکٹھے ہو کر اتحاد اور یکجہتی کی ایک مثبت مثال قائم کی۔ یہ مشترکہ کوشش نعیم اجمل خان، بیداری ایڈوکیٹ، بیداری تحریک، عوامی اتحاد، کاروان ماؤ ازم، کسان اکٹھ اور این ایس ایف پاکستان کی باہمی کاوشوں کا نتیجہ تھی۔ تمام دوست تنظیموں اور کارکنان نے رینالہ خورد کے تمام صحافی دوستوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اجتماع اور عشائیے میں شرکت کی۔
اس موقع پر نعیم اجمل خان، پرویز سلطانی، رشید جٹ اور عمر وارث نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی، جمہوری اور انقلابی قوتوں کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ استحصالی نظام، جبر اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکے۔
کاروان ماوازم کے ساتھی اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک بھر کے مزدوروں، کسانوں، طلبہ، خواتین اور محکوم قومیتوں کی جدوجہد کو منظم کرتے ہوئے ایک ایسے عوامی انقلابی متبادل کی تعمیر جاری رکھی جائے گی جو استحصالی نظام کے خاتمے اور حقیقی عوامی اقتدار کی بنیاد بن سکے۔
جاری کردہ : کاروان ماوازم
15/05/2026
مزاحمتی ادبی محاذ پاکستان کے زیرِ اہتمام ’’نوآبادیاتی تعلیمی ڈھانچے کے تسلسل‘‘ کے موضوع پر جاری آن لائن علمی نشستوں کے سلسلے میں پہلے سیشن میں نظریاتی مباحث پر تفصیلی گفتگو کی جا چکی ہے۔ اب اس سلسلے کے دوسرے سیشن میں نوآبادیاتی تعلیمی ڈھانچے کے عملی پہلوؤں اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس نشست میں کامریڈ رافعہ ارم مرزا صاحبہ رسمی و غیر رسمی تعلیم، نوآبادیاتی تعلیمی ڈھانچے، تدریس کے حاکمیتی ماڈل، ذریعۂ تعلیم، نظریۂ تعلیم بطور نظریۂ سیاست، ہمارے سماجی تضادات، پیداواری نظامِ تعلیم، تعلیمی پالیسیوں اور روحانی تعلیم جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کریں گی۔
یہ آن لائن سیشن 17 مئی بروز اتوار رات 9 بجے زوم پر منعقد ہوگا۔ دلچسپی رکھنے والے احباب زوم لنک حاصل کرنے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔