Karwan-e-Hayat Pakistan

Karwan-e-Hayat Pakistan

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Karwan-e-Hayat Pakistan, Islamabad.

25/11/2024

السلام علیکم بھائیو!
اس وقت پورے پاکستان میں ضلع کرم، خاص طور پر پاڑا چنار، کے حالات زیرِ بحث ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے پاکستانی بھائی، بالخصوص پختون قوم، ضلع کرم کی تاریخی اہمیت اور پس منظر سے واقف نہیں ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ حالات کو سمجھنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔

سب سے پہلے تاریخ پر ایک نظر ڈالیں۔ ضلع کرم ابتدا سے پختونوں کا علاقہ تھا، جہاں بنگش قبیلہ آباد تھا۔ ایران میں صفوی حکومت کے قیام کے بعد ان کی توجہ کوئٹہ اور دیگر ملحقہ علاقوں کی طرف مبذول ہوئی اور بالآخر وہ پاڑا چنار یعنی ضلع کرم تک پہنچ گئے۔ یہاں صفوی فوج اور بنگش قبیلے کے درمیان ایک زبردست جنگ ہوئی، جو شعیہ اور سنی کے درمیان پہلی بڑی جنگ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ جنگ پختونوں اور ایرانیوں کے درمیان بھی ایک اہم معرکہ تھی۔ اس جنگ میں بنگش قبیلہ شکست کھا گیا، اور صفوی فوج فتح یاب ہوئی۔

اس کے نتیجے میں بنگش قبیلہ ٹل، کوہاٹ، اور ہنگو کی طرف ہجرت کر گیا۔ کچھ لوگ صفویوں کی قید میں آئے اور انہیں زبردستی شعیہ بنایا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، صفوی سلطنت کو کوئٹہ کی جانب میر وائس کی قیادت میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اور شیراز پر قبضے کے بعد پاڑا چنار میں صفویوں کی گرفت کمزور پڑ گئی۔ اس دوران بنگش قبیلے کے قیدی رہا کیے گئے، مگر وہ شعیہ بن چکے تھے۔ کچھ افراد نے ہنگو کا رخ کیا، لیکن انہیں ان کے سنی رشتہ داروں نے قبول نہ کیا، جس کے باعث وہ الگ گاؤں میں بس گئے۔
صفوی حکومت کے خاتمے کے بعد کئی ایرانی پاڑا چنار میں رہ گئے، جن میں سید، شیرازی، اور کاظمی نسل کے لوگ شامل تھے۔ کمزور قبائل کو “طوری” کے نام سے پہچانا جانے لگا، جبکہ کچھ بنگش شعیہ بنے اور کچھ دوبارہ سنی ہو گئے۔ پاڑا چنار کے آس پاس آباد پختون قبائل میں منگل، مقبل، جاجی، خروٹی، بنگش، اور پاڑا چمکنی قابلِ ذکر ہیں۔ یاد رہے کہ پاڑا چنار کا نام “پاڑا” قوم سے منسوب ہے۔
جدید دور کے حالات
شعیہ اور سنی لڑائی انگریز دور میں اس وقت شروع ہوئی جب پاڑا چنار سے لشکر لکھنؤ کی طرف روانہ ہوا۔ مقامی سنی آبادی نے اسے روکا، اور یہی تنازعے کی بنیاد بنی۔ پاڑا چنار میں جامع مسجد پر ہونے والا حملہ ان لڑائیوں کا ایک اہم موڑ تھا۔
1990 کی دہائی میں ایران نے لبنان میں حزب اللہ کی بنیاد رکھی اور اس کی ایک شاخ پاڑا چنار میں بھی قائم کی۔ یہاں سے ایران سے فنڈنگ اور زائرین کے ذریعے تربیت کا آغاز ہوا۔
2007 میں پاڑا چنار کے سنیوں کو بازار سے نکالا گیا اور ان کے گھروں کو جلا دیا گیا۔ اس وقت صرف “بوشہرہ گاؤں” سنیوں کا مرکز رہ گیا۔ بعد ازاں، شام کی جنگ کے دوران پاڑا چنار کے لوگوں نے ایران سے تربیت حاصل کر کے “زینبیون” کے نام سے لڑائی میں حصہ لیا۔
حالیہ تنازعات
12 اکتوبر کے واقعے میں شعیوں اور زینبیوں نے مبینہ طور پر مقبل قبیلے کے 18 افراد کو شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ 21 نومبر کو سنی قبائل نے احتجاج کرتے ہوئے مجرموں کی حوالگی کا مطالبہ کیا، لیکن ناکامی کی صورت میں حالات مزید بگڑ گئے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ شعیہ برادری میں شامل زیادہ تر افراد ایرانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جو اب پشتو بولتے ہیں۔ ان کے علاوہ گلگتی، ہزارہ، اور طوری بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف، سنی قبائل تمام تر پختون ہیں، جو بغیر کسی بیرونی امداد کے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی تعلیم اور وسائل محدود ہیں، جبکہ شعیہ افراد ایران کی مدد سے تعلیم اور دیگر سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔
آخر میں، تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع کرم کے مسائل پر اپنی رائے قائم کریں اور انصاف پر مبنی موقف اپنائیں۔
CK KURRAM 🇵🇰

19/01/2024

عبدالمالک چمکنی نے NA 37 میں انورشاہ زعیم کو ووٹ اور سپورٹ کا مکمل اعلان کردیا۔۔۔

19/01/2024

ملک اصیل خان، ملک عنایت اللہ اور ملک قیات نے آنے والے عام انتخابات میں کیساتھ بھر پور کمپین اور ساتھ دینے کا اعلان کردیا۔۔۔

16/01/2024

تم ہی تو وجہ زندگی تم ہی تو مقصد حیات

جان جہان آرزو روح روان کائنات

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Website

Address

Islamabad