ذرا یاد کر
ذرا یاد کر ۔۔ میرے ہم نفس۔۔۔۔
میرا دل جو تم پہ نثار تھا۔۔۔۔
وہ ڈرا ڈرا سا جو پیار تھا ۔۔
تیرے شوخ قدموں کی دھول تھی
تیرا بھی دل بے قرار تھا
ذرا یاد کر ۔۔۔۔۔
میرا غم تو ہے، غم مبتلا
میں جیا مگر، جیا نہیں
تیرا غم ہیں تیری ندامتیں
تو جیا مگر مرا نہیں ۔۔۔۔
تجھے عمر بھر کی سزا ملی
تیرا جرم ، جرم فرار تھا
تیرا بھی دل بے قرار تھا
ذرا یاد کر ۔۔۔۔۔۔
وہ گھٹی گھٹی سی نوائے دل
میری آہ درد کا ساز تھی
جو پڑھی تھی اشکوں نے ٹوٹ کے
کسی بے خدا کی نماز تھی ۔۔
جسے رو دیا بے ذرا ذرا
میری بے بسی کا فشار تھا
تیرا بھی دل بے قرار تھا
ذرا یاد کر ۔۔۔۔۔۔
میرے ہم نفس۔
ہماری ادھوری محبت Hamari Adhuri Mohabat
اردو شاعری Urdu poetry collection
قاتلوں کے بے مروت شہر کو چھوڑ کر
جی میں آتا ہے ایک شہر وفا آباد کروں
28/01/2017
شاعری لکھ رہا تھا غربت پر
قلم ہی فروخت کرنا پڑا آخر
کشمیر کا ایک نوجوان کشف کی حالت میں چلا جاتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ مسجد نبوی میں وہ نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے ۔ امام نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ہوتے ہیں ۔ حضور اکرم ص پوچھتے ہیں کہ اقبال ابھی نہیں آیا ۔ اس کو لے آؤ ۔ اور نماز روک دی جاتی ہے ۔ پھر ایک باریش بزرگ داخل ہوتے ہیں ایک کلین شیو خوبصورت نوجوان کو لیکر۔ اس نوجوان اقبال کو حضور علیہ الصلواة والسلام اپنی دائیں طرف پہلی صف میں کھڑے کرتے ہیں جو ان کے لیے جگہ رکھی ہوتی ہے ۔ پھر نماز ادا کی جاتی ہے ۔
جب یہ لڑکا اپنی حالت میں واپس آتا ہے تو کشمیر سے لاہور سفر کرتا ہے اور پوچھتا ہوا علامہ اقبال کے پاس پہنچتا ہے ۔
علامہ اقبال پوچھتے ہاں بتاؤ کیا کام ہے۔ وہ کہتا کہ میں آپ کو ملنے آیا تھا دیکھنے ۔ کہ آپ کون ہو۔ پھر وہ سارا واقعہ بیان کرتا ہے ۔۔
(ماخوذ شہاب نامہ )
علامہ اقبال کا مقام کیسا ہے اس کے بارے میں بہت سے لوگوں نے بہت کچھ لکھا پر ان کا مقام ایسا ہے کہ کچھ لوگ پھر بھی ان کو پہچان نہیں سکے۔ اقبال فلسفی ایسے تھے جن کو خدا ملا ۔ لیکن اکثر فلسفیوں کو خدا نہیں ملتا ہے وہ بھٹک جاتے ہیں ۔ اسی وجہ سے اقبال میں اور ان میں فرق ہے۔
اقبالیات پر تو یورپ میں لوگ phd کر رہے ہیں ۔
خودی کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
07/11/2016
محبت تو واقعی ان جسمانی مادی چیزوں سے ماورا ایک وہ جذبہ رشتہ ناطہ اور وہ تقدس والا مقام ہے جہاں محبوب کی ہر بات ہر چیز میں خوبی ہی ہوتی ہے۔
محبوب سے یا اسکی کسی چیز سے مطلب نہیں ہوتا ہے ۔ بس محب کو حکم ہوتا ہے کہ محبوب سے محبت کئے جا۔
کیوں کہ محبوب جو ہوا اور وہ عاشق ۔ اور عاشق کو عشق کرتے وقت یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ۔۔۔
عشق میں ضروری نہیں کہ دوسرا بھی آپ سے کرے ۔
عشق میں ضروری نہیں کہ آپ کو آپ کا معشوق ملے ۔۔
آپ تو بس عشق کرتے رہو کرتے جاؤ اپنا آپ سنوارتے جاؤ ۔۔۔ اور آگے جاتے جاؤ ۔ عشق کی آگ عشق کا رستہ عشق کا رشتہ آپ کو پیچھے نہیں جانے دیتا اگر آپ پیچھے گئے آپ کی محبت میں کمی آئی بدل گئی تو آپ عاشق نہیں ہو اور پھر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہو۔
پھر آپ فریبی ہو۔
اس میں تو محبوب کی ایک جھلک محبوب کی زبان سے نام سن کر بھی محب جھومتا ہے دھمال ڈال کر جشن مناتا ہے۔ کیوں کہ اس کو اس سے جڑی ہر چیز الفاظ مقدس لگتے ہیں ۔
یہ عشق تو جوگی بھی بناتا ہے کبھی سر بازار بھی نچاتا ۔ کچے گھڑے پار کبھی کان میں مندرے کبھی تپتے صحرا میں رولتا ہے کبھی یہ محبوب کی گلی کے کتوں کو بھی چومنے کو عزیز بنا دیتا ہے ۔
محبت تو وہ جذبہ ہے جو آپ کی انا کو مار دیتا ہے آپ کی "میں" کو ختم کر دیتا ہے پھر آپ کے اندر وہی بولتا ہے جو آپ کا محبوب چاہتا ہے ۔ کیوں کہ عشق میں زور نہیں چلتا بس حکم یار چلتا ہے۔
محبوب کی عزت کا بھرم رکھنا ہوتا ہے اس کا آمان رکھنا ہوتا ہے اس کا مقام اونچا کرنا پڑتا ہے اسکی تکریم کو کم نہیں ہونے دیا جاتا اس کو بلند و پاک کرنا پڑتا ہے۔ یہی محبت ہے اس کی انتہا عشق ہے۔۔۔
اسی کو عشق کہتے ہیں ۔
اور پھر انسان فنا ہو جاتا ہے ۔
وہ کبھی زندہ رہ کر بھی مردہ بن جاتا ہے ایک لاش ہوتا ہے لیکن وہ اندر سے جاگ گیا ہوتا ہے۔ اور وہ عاشق سے دیوانہ پھر مجذوب ہو جاتا ہے اس کی ذات میں اس کا محبوب ہوتا ہے ۔ عشق اس کو کھا چکا ہوتا ہے وہ پھر کسی اور کا ہو کے کسی کا نہیں رہتا ہے۔ بس وعدہ عشق نبھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔
پھر ہر زبان پر عشق کا مجنوں رانجھا مرزا بن کر کبھی منصور بن کر زندہ رہتا ہے اور کبھی قرنی بن کر تاریخ میں گونجتا رہتا ہے۔۔۔۔۔
ہے کہاں کا ارادہ تمھارا صنم
کس کے دل کو ادائوں سے بہلائوں گے
سچ بتائو کے اس چاندنی رات میں
کس سے وعدہ کیا ہے کہاں جائوں گے
دیکھو اچھا نہی ہے تمھارا چلن
یہ جوانی کے دن اور یہ شوخیاں
یوں نہ آیا کرو بال کھولے ہوے
ورنہ دنیا میں بدنام ہو جائوں گے
آج جائو نہ بے چین کر کے مجھے
جانِ جاں دل دکھانا بری بات ہے
زلف رخ سے ہٹا کے بات کرو
رات کو دن بنا کے بات کرو
میکدے کے چراغ مدہم ہے
ذرا آنکھیں اُٹھا کے بات کرو
پھول کچھ چاہیئے حضور ہمیں
تم ذرا مسکرا کے بات کرو
یہ بھی اندازِ گفتگو ہے کوئی
جب کرو دل دُکھا کے بات کرو
ہم تڑپتے رہینگے یہاں رات بھر
تم تو آرام کی نیند سو جائو گے
پاس آئو تو تم کو لگائے گلے
مسکراتے ہو کیوں دور سے دیکھ کر
یونہی گزرے اگر یہ جوانی کے دن
ہم بھی پچھتائینگے تم بھی پچھتائو گے
بے وفا بے مروت ہے ان کی نظر
یہ بادل جائینگے زندگی لُوٹ کر
حسن والوں سے دل کو لگایا اگر
اے "فنا" دیکھو بے موت جاؤ گے
محبت کی کوئی منزل نہیں ہے
محبت موج ہے ساحل نہیں ہے
میری افسردگی پے ہنسنے والے
تیرے پہلو میں شاید دل نہیں ہے
آج ہم نے یونہی خوشی کر لی
دل جلا کر ہی روشنی کر لی
آتے جاتے رہا کرو صاحب
آنے جانے میں کیوں کمی کر لی
ڈوب کر تیری نیلی آنکھوں میں
غرق ہم نے تو زندگی کر لی
اک فقط تیری دوستی کے لیے
ساری دنیا سے دشمنی کر لی
سر جس پہ نہ جھک جائے
اسے در نہیں کہتے ہیں
ہر در پہ جو جھک جائے
اسے سر نہیں کہتے ہیں
کیا تجھ کو جہاں والے ستمگر نہیں کہتے
کہتے ہوں گیں لیکن منہ پہ نہیں کہتے
کعبے میں ہر اک سجدے کو کہتے ہیں عبادت
میخانے میں ہر جام کو ساغر نہیں کہتے
کعبے میں مسلماں کو بھی کہہ دیتے ہیں کافر
میخانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے
جو نظر آر پار ہو جائے
وہی دل کا قرار ہو جائے
اپنی زلفوں کا ڈال دو سایہ
تیرگی خوشگوار ہو جائے
تیری نظروں کو دیکھ پائے اگر
شیخ بھی مے گسار ہو جائے
تجھ کو دیکھے جو اک نظر فورا
چاند بھی شرم سار ہو جائے
آئینہ اپنے سامنے سے ہٹا
یہ نہ ہو خود سے پیار ہو جائے
موت کس طرح آئے بالی پر
تو اگر اک بار ہو جائے
آپ بیٹھے ہیں بالن پہ میری
موت کا زور چلتا نہیں ہے
موت مجھ کو گوارا نہیں ہے لیکن
کیا کروں دم نکلتا نہیں ہے
یہ ادا یہ نزاکت براسل
میرا دل تم پہ قربان لیکن
کیا سنبھالو گے تم میرے دل کو
جب یہ آنچل سنبھلتا نہیں ہے
میرے نالوں کو سن کر زمانے
ہو گئیں موم کتنی چٹانیں
میں نے پگھلا دیا پتھروں کو
اک تیرا دل پگھلتا نہیں ہے
شیخ جی کی نصیحت بھی اچھی
بات واعظ کی خوب لیکن
جب بھی چھاتی ہیں کالی گھٹائیں
بن پیا کام چلتا نہیں ہے
دیکھ لے میری میت کا منظر
لوگ کاندھا بدلتے چلے ہیں
اک تیری بھی ڈولی چلی ہے
کوئی کاندھا بدلتا نہیں ہے
مے کدے میں سبھئ پینے والے
لڑ کھڑا کر سنبھلتے ہیں لیکن
تیری نظروں کا جو جام پی لے
عمر بھر وہ سنبھلتا نہیں ہے
آپ بیٹھے ہیں بالن پہ میری
موت کا زور چلتا نہیں ہے
10/06/2016
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل
راکھ ہوجائیں، کوئی اور تقاضا نہ کریں
چاک وعدہ نہ سِلے، زخمِ تمنّا نہ کِھلے
سانس ہموار رہے شمع کی لَو تک نہ ہِلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گِن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئی اُمید تو آنکھیں چھن جائیں
اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں
جس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و جنوں کا، نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدید وفا کا، نہ شکایات کا وقت
لُٹ گئی شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوح کہیے
آج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھے
کل سے جو ہو گا اُسے کون سا رشتہ کہیے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار، مِلو
ماتمی ہیں دِم رخصت درو دیوار، ملو
پھر نہ ہم ہوں گے، نہ اقرار، نہ انکار، مِلو
آخری بار مِلو
10/06/2016
27/05/2016
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺅﻧﺎ ﺳﯽ ﻭﮮ
ﺗﻮﮞ ﻭﯼ ﺭﺱ ﭼﻠﮯ ﺁ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺳﻤﺠﮭﺆﺍﻧﺎ ﺳﯽ ﺗﻮ
ﺁﭘﮯ ﺍﻭﮎ ﭼﻠﮯ ﺁ
ﺟﮓ ﻭﯾﮑﮭﺪﮮ ﺗﻤﺎﺷﻪ
ﮬﺎﺋﮯ ﻭﯾﮑﮭﺪﮮ ﺗﻤﺎﺷﻪ
ﮔﻞ ﻻﺅﻭ ﮐﻮﻥ ﮬﮯ ؟
ﺍﭘﺎﮞ ﺩﻭﻭﯾﮟ ﺭﺱ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﺎﮞ ﻣﻨﺎﺅﻭ ﮐﻮﻥ
ﺍﮮ ؟؟
ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﮞ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﻨﻮﮞ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮮ
ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﺟﻮﮞ ﺩﻝ ﺩﯾﺎﮞ
ﺻﺪﺭﺍﮞ ﺍﺩﺍﺱ ﻭﮮ
ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮬﻨﺠﺆﺍﮞ ﺍﭺ ﮈﺑﻨﮍﺍ
ﺑﭽﺎﺅﻭ ﮐﻮﻥ ﻭﮮ ؟
ﺍﭘﺎﮞ ﺩﻭﻭﯾﮟ ﺭﺱ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﺎﮞ
ﻣﻨﺎﺅﻭ ﮐﻮﻥ ﺍﮮ ؟؟
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮎ ﻭﭺ ﺑﻮﻭﮬﺎ
ﭨﻮﻭﯾﺎ ﮐﺪﯼ ﮐﮭﻮﻟﯿﺎ
ﮬﭽﮑﯽ ﺍﭺ ﮬﻮﮐﯿﺎﮞ ﻧﻮﮞ
ﺩﺏ ﻟﯿﯿﺎ ﮈﮬﻮﻟﯿﺎ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺍﻩ ﻭﭺ ﭘﻠﮑﺎﮞ
ﻭﭼﮭﺎﺅﻭ ﮐﻮﻥ ﮬﮯ؟
ﺍﭘﺎﮞ ﺩﻭﻭﯾﮟ ﺭﺱ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﺎﮞ
ﻣﻨﺎﺅﻭ ﮐﻮﻥ ﺍﮮ______؟؟ !
21/05/2016
یہ جو سانپ سیڑھی کا کھیل ہے
ابھی ساتھ تھے دونوں ہم نوا
وہ بھی ایک پہ
میں بھی ایک پہ
اُسے سیڑھی ملی وہ چڑھ گیا
مجھے راستے میں ًہی ڈس لیا
میرے بخت کے کسی سانپ نے
بڑی دور سے پڑا لوٹنا
زخم کھا کے اپنے نصیب کا
وہ ننانونے پہ پہنچ گیا
میں دس کے پھیر میں گھر گیا
اسے 1 نمبر تھا چاہے
جو نہیں ملا سو نہیں ملا
میں بڑھا تو بڑھتا چلا گیا
بس ایک چوکے کی بات تھی
پر اس سے جیتنا میری مات تھی
میں نے جان کے گوٹ غلط چلی
اور سانپ کے منہ میں ڈال دی
یہ جو پیار ہے ..
کبھی سوچنا ..
یہ بھی سانپ ____ سیڑھی کا کھیل ہے __!!!
15/05/2016
میں کہتی تھی مجھے ٹُوٹے ستارے آزماتے ہیں
وہ کہتا تھا نہیں اکثر سہارے آزماتے ہیں
میں کہتی تھی کوئی صحرا سُلگتا ہے میرے اندر
وہ کہتا تھا کوئی دریا بِلکتا ہے میرے اندر
میں کہتی تھی مجھے دریا کنارے یاد رہتے ہیں
وہ کہتا تھا مجھے سُلگتے شرارے یاد رہتے ہیں
میں کہتی تھی چلو رشتوں کی گرہ کھول دیتے ہیں
وہ کہتا تھا چلو آنکھوں میں دریا گھول دیتے ہیں
میں کہتی تھی کہانی میں کوئی کردار باقی ہے؟
وہ کہتا تھا محض اک خواب کا انگار باقی ہے
میں کہتی تھی میں خوابوں کا بھلا عنوان کیا رکھوں؟
وہ کہتا تھا اِسے تم ذات کا زندان کہہ دینا
میں کہتی تھی کہ میرے بعد سانس کیسے لیتے ہو
وہ بولا خار سا سینے کو چُھو کر ٹوٹ جاتا ہے
میں کہتی تھی مجھے کچھ پَل تو خود میں سانس لینے دو
وہ بولا تھا کہ جاناں اِس حصارِ ذات سے نکلو
میں کہتی تھی کہ کیا ہوگا اگر یہ وقت تھم جائے
وہ بولا کچھ نہیں بس یہ لمحے صدیاں رقم ہوں گے
میں بولی تم نے میری آنکھوں میں حسرت کوئی دیکھی؟
وہ بولا ہاں سُلگتے زخم کی نسبت کوئی دیکھی
میں بولی میں کہوں کہ میں نے دیکھا کیا اِن آنکھوں میں
بہت ہی درد سے بولا، بُھلا دو جو ہے آنکھوں میں
میں کہتی تھی میرے ساحر کی آنکھیں بولتی کیوں تھیں؟
وہ کہتا ہے تمہیں خاموشیاں پڑھنے کی عادت تھی
میں کہتی تھی میرے لہجے کی شدت بھول جاؤ گے؟
وہ میری بات پر چونکا مگر کُچھ بھی نہیں بولا
میں کہتی، بُت کدوں میں کس طرح دن رات کرتے ہو؟
وہ بولا، بت شکن ہوں میں سو خود کو توڑ دیتا ہوں
میں کہتی تھی کہ ہم تم خاک ٹھہریں گے محبت میں
وہ بولا ہاں یہی سچ ہے نہ میں پارس نہ تُو سونا
میں کہتی تھی کہ آنکھوں سے کُہر کب جائے گی آخر؟
وہ بولا جس لمحے سینے سے آخر سانس جائے گی
میں کہتی تھی سُلگتی ہیں جبینوں میں کیوں تقدیریں؟
وہ بولا آستانوں میں دیے جلتے ہی رہتے ہیں
میں کہتی تھی کہ کب صحرا سے گزرے گا وہ بنجارہ
وہ بولا جب اُسے رشتوں سے کٹ کر ہارنا ہوگا
میں کہتی تھی درختوں کے لِبادے زرد کیوں ٹھہرے؟
وہ بولا کہ خزاں ہونا ہر اِک جنگل کی قسمت ہے
میں کہتی تھی کہ چہروں میں کوئی اپنا نہیں ملتا
وہ بولا کہ کئی چہرے مگر اپنوں میں ملتے ہیں
میں کہتی تھی کناروں پر دِیے اب کیوں نہیں جلتے؟
وہ بولا کہ کناروں نے ہوا سے دوستی کرلی
میں کہتی تھی ہوا کے ہاتھ میں کیا ہے بھلا رکھا؟
وہ بولا جگمگاتے سب دیوں کا فیصلہ رکھا
میں کہتی تھی کہ دریا کی اُداسی سے کہوں گی کیا؟
وہ بولا بس میری آنکھیں اُنہیں پڑھ کر سُنا دینا
میں کہتی تھی میرے آنگن میں کوئی پیڑ جلتا ہے
وہ بولا غور سے دیکھو کہیں نہ ذات ہو میری
میں کہتی تھی کہ زِنداں میں صبا شب بھر نہیں آتی
وہ بولا اور یہاں تو سانس اکثر نہیں آتی
میں کہتی تھی میرے سینے میں سانسیں کم ہیں تیری یاد زیادہ ہے
وہ بولا گر یہی سچ ہے تو تُو برباد زیادہ ہے
میں کہتی تھی تیری سانسوں میں میرا دل دھڑکتا ہے
وہ بولا ہاں میرا دل زَد پہ طوفانوں کی رہتا ہے
میں کہتی تھی کہ آنکھوں میں تیری یہ روشنی کیسی؟
بہت بے ساختہ بولا کہ تیری روح تک میں خود کو پایا ہے
میں کہتی تھی میری آنکھیں تبھی محروم مدھم ہے
وہ تھوڑے وقف سے بولا میرے اندر بسی ہو تم
میں کہتی تھی بھلا کیا پاؤ گے مجھ سے جدا ہوکے
وہ بولا گُم تھا تیرے ساتھ مجھے اب خود سے ملنا ہے
میں کہتی تھی چلو اُنگلی پہ اپنے درد کو گِن لیں
وہ بولا درد کی شِدّت سے شریانیں نہ کٹ جائیں
میں کہتی تھی سناؤ حال اُس شب کا جب ہم بچھڑے تھے
وہ بولا، تھی وہ ایسی شب میں اُس شب ٹوٹ کے رویا
میں کہتی یاد ہے اُس دن تیرے کاندھے پہ روئی میں
وہ بولا آج تک شانے تیرے آنسو سے گھائل ہیں
سُنو پھر تم پہ کیا گزری وہ خوابِ زندگی کھو کر
کہا کل اپنی آنکھوں کو بہت بے جان دیکھا ہے
کہو اُس عشق کی بابت بھلا کیا حَد رہی ہوگی
کہا وہ عشق جیسے رُوح کا سرطان دیکھا ہے
کہو پھر سے بچھڑنے کی تمہیں منظور یہ ہوگا؟
!کہا جینے کی خواہش کو کبھی قربان دیکھا ہے
میں کہتی تیرے نقشِ پا میرے رستوں پہ اب بھی ہیں
وہ بولا میرے رستوں پہ بھی یہ دُکھ درد حائل ہیں
میں کہتی تھی کہ ذرّوں میں بھی کوئی حُسن دیکھا ہے؟
وہ بولا ایک ذرّے میں کئی ماہتاب دیکھے تھے
کہا میں نے کہ کب یہ زندگی خوشبو لگی تم کو؟
وہ بولا بے خیالی میں تجھے جب چھو لیا میں نے
میں کہتی تھی کہ تم نے ڈوبتا سورج کبھی دیکھا؟
وہ بولا ہاں تیری آنکھوں کو اکثر ڈوبتے دیکھا
میں کہتی تھی کوئی چہرہ جو تجھ کو یاد ہو اب تک؟
وہ بولا اِک کنول رخ پر بہت ساحر سی آنکھیں تھیں
میں کہتی خواب کے مقتل کو کیسے جانتے ہو تم
وہ بولا یوں کہ تیری آنکھوں میں اِک شام کاٹی ہے
میں کہتی تھی اذّیت کے کسی لمحے سے واقف ہو؟
وہ بولا جس لمحے جاناں تُو مجھ سے دور ہوتا ہے
میں کہتی تھی بھلا اب داؤ پہ کیا کچھ لگایا ہے؟
وہ بولا کچھ نہیں تھا پاس، میں خود کو ہار آیا ہوں
میں کہتی کب سمندر چپ تیری دھڑکن کو سنتا ہے؟
وہ بولا جب بکھرتا ہے کنارا تیرے لہجے پر
میں کہتی تھی مجھے دن کے کنارے بوجھ لگتے ہیں
وہ بولا ہاں مجھے بھی شام سے اب خوف آتا ہے
میں کہتی خوابوں کی دہلیز پہ کیوں اب بھی جاتے ہو؟
وہ بولا اس لئے کہ نیند کا دَر وا نہیں ملتا
میں کہتی تھی کہ خوابوں کا بدن کیوں کانچ جیسا ہے؟
وہ بولا اس لئے جاناں کہ حسرت کا لہو جھلکے
میں کہتی تھی کبھی ایسا ہوا کہ نیند ٹوٹی ہو؟
وہ بولا ہاں اُسی لمحے، مجھے جب یاد کرتی ہو
کہا میں نے کہ میری جاں، تیری یادیں مُسلسل ہیں
وہ بولا کہ اسی باعث یہ رَتجگے مُسلسل ہیں
میں کہتی تھی کہ آنکھوں سے تمہیں آواز دیتی ہوں
وہ بولا ہاں مجھے آنسو بکھرنے کی کوئی آواز آتی ہے
میں کہتی رات کے سینے پہ میں سر رکھ کے روتی ہوں
وہ بولا ہاں سُنا ہے چاند پچھلی شب کو رویا ہے
میں کہتی تیرے ماتھے پر دُعائیں لکھتی رہتی ہوں
وہ بولا ہاں مجھے سانسیں تیری محسوس ہوتی ہیں
میں کہتی تھی کہ دھڑکن کا ہے دل سے فاصلہ کتنا؟
وہ کچھ پل سوچ کے بولا خدا اور اِک دُعا جتنا
میں کہتی تھی لگاؤ اور دُعا کا رابطہ کیا ہے؟
وہ بولا بس وہی جو روحوں کا جسموں سے ناطہ ہے
میں کہتی روح کو اور جسم کو کیا جانتے ہو تم؟
کہا اُس نے جدائی جسم کی قسمت، محبت روح کی قسمت
میں کہتی تھی، سُنو مجھے تم سے محبت ہے
وہ بولا جان لے لے گی لگاؤ میں جو شدّت ہے
میں کہتی تھی چلو کاتِب سے کہہ کر مانگ لوں تم کو
وہ میری بات پر چونکا مگر کچھ بھی نہیں بولا
میں کہتی تھی دریچوں پر ہَوا کو کب بلاؤ گے؟
وہ بولا جس لمحے اُمید کی شمعیں جلاؤں گا
میں کہتی تھی کہ میرا شاہِ من اب کیوں نہیں ملتا
وہ کہتا تھا کہ اب دربار دل کا جو نہیں سجتا
میں کہتی تھی تیری آنکھیں بھلا کیوں کانچ جیسی ہیں
وہ بولا اِس لئے جاناں کہ پہلو میں تیرے اتریں
میں کہتی تھی میں شب بھر چاند کے ہمراہ چلتی ہوں
وہ بولا رات بھر تارے تبھی جلتے ہیں بجھتے ہیں
میں کہتی تھی ملے جب ہم وہی قِصّہ تو دوہراؤ
وہ آنکھیں مُوند کر بولا بڑی لمبی کہانی ہے
میں کہتی تھی کہانی کو بھلا کس موڑ پر چھوڑیں گے؟
وہ بولا جب یہ دو کردار رشتہ سانس کا توڑیں گے
میں کہتی تھی کہ ہر لمحہ یہ دل میں وسوسہ کیوں ہے؟
وہ بولا تھا پرندوں سے بھی نازک دل تمہارا ہے
میں کہتی تھی کہ اپنے آپ اُداسی کا میں گوشہ ہوں
وہ بولا غم زدہ ہوں میں مجھے گوشہ نشیں کر دو
میں کہتی تھی تیرے لہجے کی رم جِھم کا سبب کیا ہے؟
وہ بولا اِس لئے کہ جَل ترنگ دل جھیل میں بکھرے
میں کہتی تھی عقیدت کیا؟ عبادت کس کو کہتے ہیں؟
کہا جُھکتی جبینوں کو، اُٹھے ہاتھوں کو کہتے ہیں
میں کہتی تھی جبین و ہاتھ کا تعلق بھلا کیا ہے عبادت میں؟
وہ کہتا تھا عقیدت یہ عبادت ہی نہ بن جائے
میں کہتی ہاتھ دو اپنا، جبیں رکھ دوں ہتھیلی پر
وہ کہتا تھا کہ لکھی جاچکی دونوں پہ تقدیریں
میں کہتی تھی سُنو ... میری حسرت تیری آنکھیں
وہ کہتا تھا میں لکھتا ہوں تیری تقدیر یہ آنکھیں
میں کہتی کیا تیرے سینے میں اب بھی زخم جلتے ہیں؟
وہ بولا ہاں کبھی بوجھل کبھی مدھم سے جلتے ہیں
میں کہتی تھی سُنو ! یہ سارے غم مجھے دے دو
وہ بولا پھر کہو گی آنکھوں کے سب نَم مجھے دے دو
میں کہتی ہاں اِن آنکھوں میں ہو نَم اچھا نہیں لگتا
کہا سینے سے دُکھ ہوں کم مجھے اچھا نہیں لگتا
میں کہتی تھی جُنوں اور انتہا اچھے نہیں ہوتے
وہ بولا اِن کے بن جذبے کبھی سچے نہیں ہوتے
میں کہتی تھی چلو اِتنا کہو دُکھ میرے بانٹو گے؟
بہت حیرت سے تب بولا، تمہیں کس بات کے دُکھ ہیں؟
میں کہتی بے پناہ یادیں تیری دُکھ درد ہیں میرا
وہ بولا راہ چلتی یادوں کو کیوں گھر بُلاتے تھے؟
میں کہتی تھی تمہاری آنکھوں کو لکھنے کی چاہت تھی
وہ بولا تھا یہ افسانے کتابوں میں ہی سجتے ہیں
میں کہتی تیری چاہت کی فِضا میں پنکھ بھروں کیسے؟
وہ بولا تھا کہ پنکھڑی کُونج کے ٹوٹے ہوئے پَر سے
میں کہتی تھی سمندر میں خوشی کے کس طرح اتروں؟
کہا بے آب ماہی کا سا پیراہن پہن دیکھو
میں کہتی تھی کہ نَس نَس میں لہو کا زہر پھیلا ہے
کہا اِس زہر کا تریاق ہے بس موت کے بس میں
میں کہتی تھی چلو اتنا تو ہوگا درد کی زنجیر ٹوٹے گی
وہ بولا خوابِ زیست کی تیرے تعبیر ٹوٹے گی
میں کہتی تھی تو کیا یہ طے ہے میرے خواب جھوٹے تھے؟
وہ بولا ہاں یہی طے ہے تُہارے لفظ جھوٹے تھے
میں کہتی تھی سَرابی ہم تھے یا دنیا ہی دھوکہ تھی؟
وہ بولا بات ہے اتنی تمہاری پیاس زیادہ تھی
میں کہتی پیاس ایسی ہے کہ دریا خود پُکارے گا
وہ بولا ہار جاؤگی سُنو واپس پلٹ جاؤ
میں کہتی تھی کہ میرے بعد تم تنہا نہ رہ جاؤ؟
وہ بولا حلقہء یاراں بہت ہے ساتھ دینے کو
میں کہتی تھی بہت ممکن یہ دُکھ جان لے جائے
وہ کہتا تھا تمہیں کتنا ہے دُکھ میں آزماؤں گا
میں کہتی تھی کہو اتنا کہاں تک آزماؤگے؟
وہ بولا بس وہاں تک، جب تم اپنی جاں سے جاؤگے
پھر اُس کے بعد کِتنی دیر تک میں کُچھ نہیں بولی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Dubai
