03/06/2026
سکھر میں اپنے بچے کے انصاف کے لئےوالد کا در در ٹھوکریں کھانا اور انصاف نہ ملنا ایک سوالیہ نشان ہے
🚨 سکھر ہسپتال چلڈرین (SICHN) کی غفلت نے بچہ مار دیا - ہمیں انصاف چاہیے! 🚨
میں سکھر کا ایک غریب باپ ہوں۔ میرے معصوم بچے غیور عباس کو 15 اپریل 2026 کو بخار کی حالت میں SICHN ہسپتال سکھر لے کر گیا تھا۔ ملیریا ٹیسٹ منفی ہونے کے باوجود ڈاکٹرز نے اس پر تجربات کیے اور 'Artisurge 120mg' انجکشن لگا دیے، جس سے بچے کو اندرونی بلیڈنگ شروع ہو گئی۔
میں نے 36 گھنٹے میں 14 بوتلیں خون کی ارینج کیں، مگر خون نہ رکا۔ ڈاکٹر شیراز نے فائل دیکھ کر کہہ دیا 'He is no more' جبکہ بچے کی سانسیں چل رہی تھیں، اور پھر ہمیں گمبٹ ریفر کر دیا جہاں راستے میں میرے بچے کی ڈیتھ ہو گئی۔
ہسپتال والوں نے اپنی غفلت چھپانے کے لیے میڈیکل ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی ہے۔ داخلے کی تاریخ 15 اپریل کی جگہ 20 اپریل کر دی اور غلط انجکشن کا ذکر بھی سمری سے غائب کر دیا۔
میں نے 5 مئی 2026 کو وزيراعظم پورٹل (PMDU) پر بھی شکایت (CODE: SD050526-92554568) درج کی، جو 6 مئی کو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو فارورڈ ہوئی، لیکن 25 دن گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور افسران سو رہے ہیں۔
میں غریب ہوں، میرے پاس وکیل کے پیسے نہیں ہیں۔ خدارا میری اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ یہ نصرت سحر عباسی (MPA) اور اعلیٰ حکام تک پہنچے اور میرے بچے کے قاتل ڈاکٹرز کو سزا ملے۔

30/05/2026