Q: T V قرآن ٹی وی

Q: T V  قرآن ٹی وی

Share

Learn Correct Tajweed with Shaikh Abdul bais Astori.

23/05/2025
23/05/2025

مرکب حروف کیا ہوتے ہیں؟ | Secret of Haroof-e-Murakkab | ما هو الحرفُ المركب؟

18/05/2025

بِسْمِ اللّٰہِ :
قرآن کا دروازہ

قرآن مجید کا پہلا جملہ، “بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ”، وہ مقدس عبارت ہے جو ہر سورت کے آغاز میں سوائے سورہ توبہ کے آتی ہے۔ یہ جملہ اپنے اندر نہ صرف زبان کی گہرائی اور خوبصورتی کو سموئے ہوئے ہے بلکہ معانی کے بحرِ بیکراں کو بھی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔

بسم (ب + اسم)

یہ لفظ “بسم” دو حصوں پر مشتمل ہے: “با” اور “اسم”۔ یہاں “با” حرفِ جر ہے، جس کا بنیادی مطلب “ساتھ” یا “کے وسیلے سے” ہوتا ہے، مگر قرآن کے سیاق میں یہ بہت وسیع معانی کا حامل ہے۔

“با” اصل میں “ابتداء”، “تسبیب” اور “استعانت” کے مفہوم کو سموئے ہوئے ہے۔ یعنی یہاں “ب” کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہر کام اللہ کے نام سے شروع ہو، اسی کے وسیلے سے ہو اور اسی کی مدد سے ہو۔ بعض مفسرین نے یہاں “با” کو “ملاپ” کے معنی میں بھی لیا ہے، یعنی اللہ کے نام سے جڑ کر ہی ہر عمل میں برکت اور کامیابی ہے۔

“اسم” خود ایک دلچسپ لفظ ہے، جو “وَسَمَ” سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “نشانی” یا “علامت”۔ یعنی اللہ کا نام اس کی ذات اور صفات کی علامت ہے۔ اصل میں یہ “سموّ” سے بھی ماخوذ ہے، جس کا مطلب “بلندی” اور “رفعت” ہے، کیونکہ نام کسی بھی چیز کی پہچان اور اس کی عظمت کا نشان ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ “بسم” دراصل “بِاسْمِ” تھا، مگر عربی زبان کی روانی اور اختصار کے اصولوں کے تحت “الف” کو حذف کر دیا گیا۔ اس حذف کی حکمت یہ ہے کہ اللہ کے نام سے آغاز میں بھی عاجزی اور انکساری کا پہلو شامل ہو جائے، جیسے کہ انسان عاجزی کے ساتھ اللہ کے نام سے اپنی زبان کو شروع کرتا ہے۔

اللّٰہ

اب آتے ہیں “اللّٰہ” پر، جو اس جملے کا مرکزی حصہ ہے اور سب سے زیادہ اہم بھی۔ “اللّٰہ” وہ ذاتی نام ہے جو صرف اور صرف حقیقی معبود کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ اپنی ساخت میں بھی منفرد ہے، کیونکہ اس کا کوئی جمع یا مؤنث نہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ اللہ واحد، لاشریک اور بے مثال ہے۔

“اللّٰہ” کی اصل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ “الٰہ” سے نکلا ہے، جس کے معنی “معبود” یا “پوجے جانے کے لائق” ہیں، اور اس پر “ال” کا اضافہ ہوا تو یہ “اللّٰہ” بن گیا، یعنی وہ واحد ذات جو حقیقی معبود ہے۔

ایک اور رائے یہ ہے کہ “اللّٰہ” بذاتِ خود ایک مستقل اور جامع نام ہے، جو ہر قسم کی کمی، نقص اور شرک سے پاک ہے۔ اس میں “رحمت”، “محبت”، “حکمت” اور “جلال” سب کچھ جمع ہے۔

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پھر آتے ہیں “الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ” کی طرف، جو اللہ تعالیٰ کی دو عظیم صفات ہیں۔ یہاں “ال” پھر وہی “تعریف” اور “تخصص” کے لیے آیا ہے، یعنی اللہ ہی وہ ذات ہے جو حقیقی معنوں میں رحمن اور رحیم ہے۔

“الرَّحْمٰن” وہ ذات جو اپنی رحمت میں بے حد وسیع ہے، جس کی رحمت ہر مخلوق پر محیط ہے، چاہے وہ مؤمن ہو یا کافر۔ یہ وہ صفات ہیں جو صرف اللہ کے لیے مختص ہیں، کیونکہ کسی اور کی رحمت اس حد تک وسیع اور دائمی نہیں ہو سکتی۔

“الرَّحِیْم” کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی رحمت خاص طور پر مؤمنین کے لیے مخصوص ہے۔ یعنی “رحمٰن” کی رحمت عام ہے اور “رحیم” کی رحمت خاص، جو آخرت میں مؤمنین کے لیے خاص رحمت کے طور پر ظاہر ہوگی۔

بعض مفسرین نے “رحمٰن” کو “مبالغہ” کے طور پر لیا ہے، جو “بے حد رحم کرنے والا” کے مفہوم کو ادا کرتا ہے، جبکہ “رحیم” تسلسل اور دوام کی علامت ہے، یعنی ہمیشہ رحم کرنے والا۔

ایک دلچسپ نکتہ:
“رحمٰن” اور “رحیم” دونوں ہی “رحمت” کے بنیادی مادے “ر-ح-م” سے نکلے ہیں، جو عربی میں محبت، شفقت اور نرمی کا انتہائی گہرا مفہوم رکھتا ہے، اور اسی مادے سے “رحمِ مادر” بھی نکلا ہے، جو ماں کی گود جیسا محفوظ اور محبت بھرا مقام ہے۔

یوں “بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ” کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ہر کام اللہ کے نام سے، اس کی مدد سے اور اس کی رحمت کے سائے میں شروع کیا جائے، جو نہ صرف تمام مخلوقات پر مہربان ہے بلکہ اپنے مومن بندوں کے لیے خاص محبت اور شفقت رکھتا ہے۔

22/01/2025

1. شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔

2. والدین کا احترام ضروری ہے، مگر اللہ کی نافرمانی میں ان کی اطاعت نہیں۔

3. نماز، صبر، اور عاجزی انسان کی شخصیت کا حصہ ہونی چاہیے۔

4. اللہ کی تخلیق پر غور انسان کو اللہ کی معرفت کے قریب لے آتا ہے۔

5. قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس لیے اس پر بھروسہ کرو۔

24/10/2024

قاری عبدالباعث کی آواز میں سورۃ الکہف کی دلنشین تلاوت | Beautiful Recitation of Surah Al-Kahf by Qari Abdul Basit

30/09/2024
Want your business to be the top-listed Government Service in Sharjah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


UAE
Sharjah