Social Poverty

Social Poverty

Partager

To create a sense of social service for the socially impoverished۔

29/01/2023

حاکم وقت تیرے ھر کردار پہ تُھو !

28/01/2023

یہ یتیم بچے کبوتر کے غار میں رہنے والی روٹی کیلئے سردی میں رات کے دیر تک انڈے بیچتی ہے ۔۔۔

25/01/2023

انتہائی افسوس
کراچی سے ڈاکٹر وسیم آفندی صاحب بتاتے ہیں کہ چند دن پہلے میرے پاس ایک نوجوان کو لایا گیا تھا جسے سر پر گولی لگی تھی خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا مگر نوجوان کے حواس ابھی قائم تھے۔
میری یونیفارم دیکھ کر اس نے مجھ سے التجا کی کہ ڈاکٹر صاحب میری موت کی خبر میرے گھر والوں کو نہ دیجئے گا اور ساتھ ہی میرے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے تھے۔ مجھے حیرت تھی کہ میں اسے بچانے کے لیے پر امید تھا اور وہ شخص یقینی موت دیکھ کر بات کر رہا تھا۔ خیر میں نے اسے تسلی دی اور آپریشن تھیٹر پہنچے جہاں اسے بیہوش کرنے کے لئے انجیکشن دیا گیا اور ساتھ ہی میں اس کی روداد بھی سنتا رہا۔ کہانی سناتے سناتے لڑکا بیہوش ہو گیا اور اسی بیہوشی کے دوران اس کی موت ہو گئی مگر اس کے موت مجھے جھنجوڑ کر رکھ گئی شاید پڑھنے والوں کو بھی جھنجوڑ دے اس لئیے واقعہ بتا رہا ہوں کہ جب لڑکے نے التجا کی کہ میری موت کی خبر میرے گھر والوں کو نہ دیجئے گا بلکہ لاش ایدھی سینٹر یا چھیپا کے حوالے کر دیجئیے گا تو میں نے اس سے پوچھا ایسی کیا وجہ ہے۔؟

اس نے بتایا کہ میرے والد صاحب فوت ہو چکے ہیں میری تین چھوٹی بہنیں ہیں جنہوں نے پچھلے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ مجھے آج دو دن بعد مزدوری ملی اور میں دیہاڑی لگا کر آ رہا تھا کہ راستے میں ڈاکوؤں نے مجھے لوٹنے کی کوشش کی۔
میرے پاس کل دولت وہ آج کی دیہاڑی لگ جانے والی مزدوری اور یہ ایک پرانا سا موبائل تھا۔
اگر صرف میری بات ہوتی تو میں شاید یہ تیرہ سو روپے ڈاکوؤں کو دے دیتا مگر مجھے پتہ تھا گھر میں دو دن سے بھوکی بیٹھی میری بہنیں روٹی کے انتظار میں میری راہ دیکھ رہی ہیں یہ پیسے ڈاکو لے گئیے تو میری بہنیں کیا کھائیں گی۔؟
جب کہ یہ لوگ خوف خدا سے عاری ہیں یہ تو کسی اور کو بھی لوٹ لیں گے لہذا میں نے مزاحمت شروع کر دی اور ان ظالموں نے محض اس تیرہ سو روپے کی خاطر مجھے گولی مار دی۔
ڈاکٹر صاحب مجھے پتہ ہے میں مر جاؤں گا مگر مجھے فکر ہے کہ میرے گھر والے جن کے پاس روٹی تک کے پیسے نہیں ہیں وہ میرے لئیے کفن کے پیسے کہاں سے لائیں گے۔؟
قبر کے پیسے کہاں سے لائیں گے۔؟ لہذا میرے گھر والوں کو میری موت کی خبر نہ دی جائے ساتھ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے اور موبائل میرے ہاتھ پر رکھتے ہوئے گھر کا ایڈریس بتایا اور کہا یہ پیسے گھر پہنچا دینا اور یہ موبائل ںیچ کر میری چھوٹی بہن کو نئی جوتی خرید دینا۔
بہت دنوں سے ضد کر رہی تھی اگر میری والدہ کا حوصلہ بلند ہوا تو انہیں تسلی دیتے ہوئے میری موت کی خبر دے دینا ورنہ کہہ دینا کہ آپ کا بیٹا کسی دوسرے شہر مزدوری کے لئیے چلا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ نوجوان حالت غنودگی میں چلا گیا اور وہیں سے موت کی آغوش میں جا پہنچا۔

مگر میں تب سے سوچ رہا کہ اب تک ہم پر پتھروں کی بارش کیوں نہیں ہوئی۔؟
سیلاب ہم کو کیوں بہا نہیں لے گیا۔؟
سرکش جنّات کی طرح ہمارا قلع قمع کرنے کے لئے فرشتے کیوں نہیں اتر رہے۔؟
ہم لوگ اب تک قہر الٰہی سے محفوظ کیوں ہیں۔؟
جبکہ مسلمانوں والے اعمال ہماری اکثریت کب کی چھوڑ چکی ہے۔
بد دیانت حکمران بد دیانت عوام، لٹیرے حکمرانوں لٹیری عوام، قاتل حکمران قاتل عوام،
دوسری طرف اسلام نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان و مال عزت کو حرام قرار دیا ہے۔
ان ہی سوالات کو سوچتے ہوئے میں نے ہر چیز اس نوجوان کے گھر والوں تک پہنچائی۔اپنی جیب سے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا۔
ان لوگوں کے لئے مناسب روزگار بنا کر بہت جلد یہ ملک چھوڑ کر بمعہ فیملی کسی اور ملک منتقل ہو رہا ہوں۔کیونکہ جتنی شدت سے اہلیان پاکستان قہر خدا کو آواز دے رہے ہیں مجھے نہیں لگتا ان لوگوں کو توبہ کی مہلت بھی مل پائے گی۔😭

والسلام
منقول

25/01/2023

چترال ۔ انتہائی درناک واقعہ
میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں۔ ( اقرارالدین خسرو )
یہ بچہ تنویر ضیاء جسکی عمر بمشکل بارہ تیرہ سال ہے ریشن کے ایک دوکان میں داخل ہوتاہے دوکاندار موجود نہیں تھا جسکی وجہ سے وہ باہر نکلتا ہے کچھ سوچ کے دوبارہ دوکان میں داخل ہوتا ہے وہاں سے ایک پرفیوم اور ایک گھڑی اٹھا کے باہر نکلتا ہے باہر کوئی شخص بچے کو دیکھ رہا تھااسے کیمرے میں محفوظ کرتا ہے۔ اچانک چور چور کا شور مچا کے بچے کو پکڑ لیتے ہیں آس پاس کے دوکاندار اکھٹے ہوتے ہیں پولیس کو بلایا جاتا ۔ مختلف دوکاندار دعویٰ کرنا شروع کرتے ہیں کوئی کہتا ہے ایک مہینہ پہلے میرے دس ہزار روپے چوری ہوے تھے کوئی کہتا ہے پندرہ ہزار کوئی کہتا ہے میرے گاڑی کا جیگ گم ہوگیا تھا یہ سارے الزامات تیرہ سالہ بچے کے اوپر لگاکے اسے مجرم ٹھرایا جاتا ہے زدوکوب کیا جاتاہے اتنے میں پولیس والے بچے کو اٹھاکر لے جاتے ہیں گرین لشٹ چوکی میں بند کیا جاتا ہے بچے کا باپ ریٹائرڈ صوبیدار ضیاء الحق کو بلایا جاتا مدعیان میں سے ایک شخص تو انتہا کرتا ہے کہ دو مہینہ پہلے میرا 80 کلو وزنی ترازو گم ہوگیا تھا اسے بھی اس نے چرایا ہوگا۔ جس کی قیمت 25 ہزار روپے تھی۔ معروف سماجی کارکن اور شاعر اسلم شیروانی اس وقت مداخلت بھی کرتا ہے کہ 80 کلو وزنی ترازو یہ بچہ کیسے اٹھا سکتا ہے ؟ بلآخر بچے کا باپ اپنی شرافت اور خاندانی عزت کے پیشِ نظر ساروں کے نقصانات کے ازالے کا وعدہ کرتا ہے اسلم شیروانی صاحب ترازو کی قیمت 25 کے بجائے پانچ ہزار لگاتا ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران ریشن میں کیے گیے چوری کے الزامات بچے پر لگائے جاتے ہیں بچے کا باپ نقصانات کے ازالے کا وعدہ کرکے صلح کرتا ہے ۔ بچے کو گھر لے جاتے ہیں گھر میں بچے کے ساتھ کوئی جھگڑا نہ کریں اسلیے بچے کا ماموں بھی ساتھ آتا ہے ۔ بچہ گھر میں رات گزارتا ہے صبح امی ناشتے کے لیے بچے کو بلاتی ہے بچہ ایک منٹ میں واپس آتا ہوں کہہ کر باہر نکلتا ہے سیدھا پرپیش گاوں کی طرف جاتا ہے امی گھر کے صحن میں بچے کو دیکھ رہی ہے اسے شک پڑتا ہے بھائیوں کو فون کرتا ہے کسی کا بھی نمبر نہیں لگتا بچہ پرپیش پل کے وسط میں جاکے کھڑا ہوجاتا ہے امی دیکھ رہی ہے امی ہاتھ ہلا کر واپس آنے کو کہتی ہے بچہ ایک نظر امی کی طرف دیکھ کے ایک ہاتھ ہلا کے چھلانگ لگاتا ہے خود کو دریاء کے بے رحم موجوں کے حوالے کرتا ہے ۔ امی بے بسی کی تصویر بنی دیکھ رہی ہے بچے کی لاش برنس میں برآمد ہوتی ہے اسے منوں مٹی تلے دفنایا جاتا ہے ۔ بچے کے سرہانے سے ایک رقعہ برآمد ہوتا ہے جس میں چھوٹی بہن کے نام لکھا ہوا ہے ۔
I love you my dear sister sorry ۔
معزز ناظرین یہ افسانہ یا کوئی فرضی کہانی نہیں دو دن پہلے رونما ہونے والا ایک ایسا واقعہ ہے جسے سن کے درندے بھی شائد کانپ اٹھے۔
اب یہاں میرے ذہہن میں چند سوالات ہیں۔ یعنی جتنے بھی لوگوں نے اس بچے پر چوری کا الزام لگایا ہے کیا ان کے پاس ثبوت موجود ہیں ؟
کیا ان لوگوں نے چوری شدہ اشیاء سے متعلق کوئی رپورٹ درج کروایا تھا ؟
ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے ۔ اب پولیس والوں سے میرا سوال ہے کہ جو مدعیان آپ کے پاس آئے تھے آپ نے ان لوگوں سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھا کہ آپ کی چیزیں چوری ہوئی تھی آپ لوگوں نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کروائی تھی ؟ اس کے باوجود آپ نے محض جھوٹے الزامات کی بنیاد پر بچے کو ملزم سے مجرم کیسے ٹھرایا ؟
لہذا تیرہ سالہ تنویر نے خودکشی نہیں کی ہے اسے قتل کیا گیا ہے مگر مجھے نہیں معلوم تنویر کی بےبس امی جس کی آنکھوں کے سامنے اسکا بچہ قتل ہوا وہ کس کے ہاتھ میں اپنے بیٹے کا لہو تلاش کرے؟
قاتلوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں کیونکہ انہوں نے دستانے تو نہیں پہنے ہیں ۔ یہاں اہالیان ریشن سے بھی شکوہ ہے ریشن میں مہذب تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کی کمی نہیں انہوں نے اس مسئلے کو خوبصورتی سے ختم کیوں نہیں کیا؟
آخر میں یہ بتاتے ہوئے یہ مضمون مکمل تحقیقات اور عینی شاہدین کی آراء لینے کے بعد میں نے لکھا ہے اس بیچاری اور بے بس ماں کی طرف سے چائلڈ پروٹیکشن کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس بچے کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے اپر چترال انتظامیہ اور ڈی پی او اپر چترال کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے سب سے پہلے اپنے پولیس والوں سے ایکشن لینا چاہیے اس کے بعد جتنے بھی لوگوں نے بچے کے خلاف بے جا الزامات لگاکے اسے خودکشی پر مجبور کیا ہے ان سب کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔

24/01/2023

Humanity at its best ✌‍❤️

22/01/2023

نظام کا 75 سالہ تاریخی حقیقت
صرف ایک فیصد امیروں کا پاکستان
کراچی گرائمر سکول، لاہور Aitchison کالج، حسن ابدال کیٍڈٹ کالج سمیت دو تین امریکن سکولوں کا پاکستان

22/01/2023

مدد درکار ہے
علاج کی غرض سے اسلام آباد ریفر کیا تھا بےچارہ اسلام آباد تو پہنچ گیا مگر علاج کرانے کیلئے پیسہ نہیں ہے مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل ہے اس کے ساتھ تعاون فرمائیں رابطہ نمبر03554564020

Vous voulez que votre entreprise soit Service Du Gouvernement la plus cotée à Democratic Republic of the ?

Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.

Site Web

Adresse


Democratic Republic Of The