Mohmand Advertisers

Mohmand Advertisers

Partager

Promote your business, boost your brand with us. Mohmand Advertisers, your partner in creative growth.

22/04/2026

عزت اور رزق کا انحصار صرف الله کی مہربانی پر ہے. آپ الله کی مخلوق پر مہربانی کرتے رہیں آپ کا رب آپ پر مہربان رہے گا اور الله جس پر مہربان ہو جائے پھر اس کی کوئی تمنا ایسی نہیں رہتی جو پوری نہ ہو. الله ہم سب کو ہمیشہ شاد و آباد رکهے. الله کریم آپ اور ہم سب کو صحت و تندرستی، ایمان، خوشیاں اور وسیع حلال رزق سے خوب نوازے.
آمین یارب العالمین.

22/04/2026

انٹرمیڈیٹ کے امتحانات بھی کلسٹر سسٹم کے تحت منعقد ہونگے، گرلز 3 کلومیٹر جبکہ بوائز 6 کلومیٹر کلسٹر میں رہیں گے۔

21/04/2026

🚨🚨🚨 پشاور میں افغان مہاجرین کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کا معاملہ، سرکاری ملازمین کو نوٹسز جاری

13/04/2026

خیبرپختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز: انٹرمیڈیٹ امتحانات کا شیڈول جاری.
پشاور، مردان ، بنوں، سوات، کوہاٹ، مالاکنڈ، ایبٹ آباد اور ڈی آئی خان سمیت خیبرپختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز کے `انٹرمیڈیٹ (11th اور 12th) کے سالانہ امتحانات 2026 ایک ہی تاریخ سے شروع ہوں گے،` جس کے مطابق امتحانات کا آغاز 06 مئی 2026 سے ہوگا۔ تمام پریکٹیکل امتحانات عید الاضحیٰ کے بعد لیے جائیں گے۔

03/04/2026

D.Com annual Examination 2026 Date Sheet

24/03/2026
17/03/2026

آج بھی مدینہ کے شہری کسی اجنبی کو دیکھتے ہیں تو اُسے محمد کہہ کر پکارتے ہیں اور ساتھی کو یا صدیق - لہٰذا یہ دنیا کا واحد شہر ہے جس میں ہر مہمان، ہر اجنبی کا نام محمد اور ہر ساتھی صدیق ہے ۔ انصار نے حضورﷺ کی تواضح کی اور ان کی نسلیں حضورﷺ کے مہمانوں کی خدمت کر رہی ہیں۔

رمضان میں پورا مدینہ اشیائے خورونوش لے کر مسجد نبوی ﷺ حاضر ہو جاتا ہے - دستر خوان بچھا دیے جاتے ہیں، میزبانوں کے بچے مسجد نبوی ﷺ کے دالانوں، ستونوں اور دروازوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، حضور ﷺ کا جو بھی مہمان نظر آتا ہے وہ اس کی ٹانگوں سے لپٹ کر افطار کی دعوت دیتے ہیں ۔ مہمان دعوت قبول کر لے تو میزبان کے چہرے پر روشنی پھیل جاتی ہے، نامنظور کر دے تو میزبان کی پلکیں گیلی ہو جاتی ہیں -

میں مسجد نبوی ﷺ میں داخل ہوا تو ایک سات آٹھ برس کا بچہ میری ٹانگ سے لپٹ گیا اور بڑی محبت سے کہنے لگا:
’’چچا، چچا آپ میرے ساتھ بیٹھیں گے‘‘

میرے منجمد وجود میں ایک نیلگوں شعلہ سا لرز اٹھا، میں نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور سوچا کہ یہ لوگ واقعی مستحق تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اللہ کے گھر سے اٹھ کر ان کے گھر آ ٹھہرتے اور پھر واپس نہ جاتے۔

وہاں روضہ اطہر کے قریب ایک دروازہ ہے "باب جبرائیل" - آپ ﷺ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا کے حجرہ مبارک میں قیام فرماتے تھے - افطار کا وقت ہوتا، دستر خوان بچھتا، گھر میں موجود چند کھجوریں اور دودھ کا ایک آدھا پیالہ اس دستر خوان پرچن دیا جاتا -

سیدنا حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:
’’عائشہ باہر دیکھئے باب جبرائیل کے پاس کوئی مسافر تو نہیں‘‘
آپؓ اٹھ کر دیکھتیں، واپس آ کرعرض کرتیں:
"یا رسول اللہ ﷺ وہاں ایک مسافر بیٹھا ہے۔‘‘

آپﷺ کھجوریں اور دودھ کا وہ پیالہ باہر بھجوا دیتے -

میں جونہی باب جبرائیل کے قریب پہنچا، میرے پیروں کے ناخنوں سے رانوں کی ہڈیوں تک ہر چیز پتھر ہو گئی، میں وہی بیٹھ گیا، باب جبرائیل کے اندر ذرا سا ہٹ کر حضرت عائشہؓ کے حجرے میں میرے حضور ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔

میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا،
"آج بھی رمضان ہے، ابھی چند لمحوں بعد اذان ہو گی، ہو سکتا ہے آج بھی میرے حضور ﷺ حضرت عائشہؓ سے پوچھیں:
’’ذرا دیکھئے باہر کوئی مسافرتو نہیں‘‘

اور ام المومنین عرض کریں گی:

’’یا رسول اللہﷺ باہر ایک مسافر بیٹھا ہے، شکل سے مسکین نظر آتا ہے، نادم ہے، شرمسار ہے، تھکا ہارا ہے، سوال کرنے کا حوصلہ نہیں، بھکاری ہے لیکن مانگنے کی جرأت نہیں، لوگ یہاں کشکول لے کر آتے ہیں‘ یہ خود کشکول بن کر آ گیا، اس پر رحم فرمائیں یا رسول اللہﷺ، بیچارہ سوالی ہے، بے چارہ بھکاری ہے‘‘ -

اور

پھر میرا پورا وجود آنکھیں بن گیا
اور
سارے اعضاء آنسو !

17/03/2026

والدین کے جملے — شخصیت بناتے بھی ہیں، توڑتے بھی ہیں
گھر میں کہے گئے جملے دیواروں سے ٹکرا کر ختم نہیں ہوتے…
وہ بچوں کے دل میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
ماں کا ایک جملہ حوصلہ بن سکتا ہے،
باپ کا ایک جملہ شناخت بن سکتا ہے۔
اور کبھی یہی جملے اندر کی خاموش چیخ بھی بن جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے…
الفاظ اتنے طاقتور کیوں ہوتے ہیں؟
بچہ الفاظ نہیں، مطلب اپنے اندر بسا لیتا ہے
جب ماں کہتی ہے:
“میرا بچہ بہادر ہے”
تو بچہ صرف تعریف نہیں سنتا،
وہ خود کو بہادر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
اور اگر بار بار کہا جائے:
“تم سے کچھ نہیں ہوگا”
تو بچہ کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
کیونکہ بچپن میں ماں باپ کی آواز
بچے کی “اندر کی آواز” بن جاتی ہے۔
قرآن ہمیں کیا یاد دلاتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا”
(سورۃ البقرہ 2:83)
ترجمہ: لوگوں سے اچھی بات کہو۔
یہ حکم صرف باہر والوں کے لیے نہیں،
سب سے پہلے گھر والوں کے لیے ہے۔
اور ایک اور جگہ فرمایا:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا”
(سورۃ التحریم 66:6)
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
آگ صرف جہنم کی نہیں،
کبھی کبھی الفاظ کی آگ بھی دل جلا دیتی ہے۔
ایک واقعہ — نرمی کی طاقت
نبی کریم ﷺ بچوں سے محبت اور عزت سے پیش آتے تھے۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی،
آپ ﷺ نے کبھی “اف” تک نہیں کہا۔
(صحیح مسلم)
سوچیں…
اگر سرکار ﷺ چاہتے تو ڈانٹ سکتے تھے،
لیکن انہوں نے عزت کو ترجیح دی۔
یہی عزت شخصیت بناتی ہے۔
سائیکالوجی کیا کہتی ہے؟
ماہرین نفسیات کے مطابق بچپن کے بار بار کہے گئے جملے
“Core Beliefs” بن جاتے ہیں۔
مثلاً:
اگر بچے سے بار بار کہا جائے:
“تم سست ہو”
تو وہ بڑا ہو کر بھی ہر ناکامی کو اپنی سستی سمجھتا ہے۔
اگر کہا جائے:
“تم ذمہ دار ہو”
تو وہ خود کو ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یعنی والدین کا لہجہ، الفاظ اور انداز
بچے کی خودی کا سانچہ بناتے ہیں۔
وہ جملے جو شخصیت بناتے ہیں 🌿
✔️ “مجھے تم پر فخر ہے”
✔️ “غلطی ہوئی ہے، لیکن تم برے نہیں ہو”
✔️ “کوشش جاری رکھو”
✔️ “میں تمہارے ساتھ ہوں”
یہ جملے اعتماد پیدا کرتے ہیں۔
وہ جملے جو توڑ دیتے ہیں 🌿
❌ “تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو”
❌ “دیکھو فلاں بچہ تم سے بہتر ہے”
❌ “تم ہمارے لیے مسئلہ ہو”
❌ “چپ رہو، تمہیں کچھ نہیں آتا”
یہ جملے بچے کو شرمندگی اور موازنہ میں دھکیل دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اکثر والدین نیت سے برا نہیں کہتے،
لیکن غصے میں کہے گئے الفاظ
بچے کی یادداشت میں مستقل ہو جاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں بچہ بھول جائے گا…
لیکن وہ نہیں بھولتا۔
وہ خاموش ہو جاتا ہے۔
والدین کے لیے چند عملی نکات 🌿
1️⃣ بچے کی شخصیت پر حملہ نہ کریں، عمل پر کریں۔
“تم غلط ہو” کی جگہ
“یہ کام غلط تھا” کہیں۔
2️⃣ موازنہ بند کریں۔
ہر بچہ الگ ہے، ہر صلاحیت منفرد ہے۔
3️⃣ روز ایک مثبت جملہ ضرور کہیں۔
یہ بچے کے دل میں حفاظتی دیوار بناتا ہے۔
4️⃣ اگر غلط بول دیا ہو تو معافی مانگ لیں۔
یہ بچے کو بھی سکھائے گا کہ غلطی کے بعد جھکنا کمزوری نہیں۔
آخر میں ایک لمحہ سوچنے کا
آپ کو اپنے والدین کا کون سا جملہ آج تک یاد ہے؟
وہ جملہ آپ کو مضبوط بناتا ہے
یا اب بھی دل دکھا دیتا ہے؟
ہم سب کے اندر ایک بچہ اب بھی زندہ ہے۔
آج اگر آپ والدین ہیں —
تو یاد رکھیں…
آپ کی آواز
آپ کے بچے کی اندرونی آواز بننے والی ہے۔
سوچ کر بولیے…
کیونکہ کبھی کبھی ایک جملہ
پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ 🌿

تمام احباب سے گزارش ہے کہ تحریر کو عمل کی نیت سے پڑھیں اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب تک پہنچائیں اللہ پاک ہمیں عمل کی بہترین توفیق عطا فرمائے

*صالح بچے روشن کل* 🍃💫

Vous voulez que votre entreprise soit Service Du Gouvernement la plus cotée à Democratic Republic of the ?

Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.

Téléphone

Site Web

Adresse


Ghallanai Dist. Mohmand
Democratic Republic Of The