Baloch Voice For Justice بلوچ وائس فار جسٹس

Baloch Voice For Justice    بلوچ وائس فار جسٹس

Teilen

Official account of Baloch Voice for Justice (BVJ)

07/06/2026

Baloch Voice for Justice demands the immediate and unconditional release of Mir Zehri Khan Mosiyani and other forcibly disappeared individuals.

Mir Zehri Khan Mosiyani, Shakar Khan, Sanaullah Mosiyani, Umeed Ali Khan, Dost Muhammad, and Irshad Ahmed, along with others who were forcibly disappeared during the military aggression in Zehri Bulbul, must be safely recovered without delay.

Human rights organizations must play an effective and urgent role in securing the recovery of all forcibly disappeared persons, as their lives remain under serious threat in military custody.

There are grave concerns that, just as Mir Khalil Mosiyani was martyred after being subjected to torture in custody while injured, other forcibly disappeared individuals may also face torture and severe harm.

This is a serious human rights crisis that demands immediate attention and action.

Baloch Voice for Justice appeals to the United Nations, Human Rights Watch, Amnesty International, and other human rights organizations to raise their voices for an end to the military siege of Zehri. Due to curfew and the ongoing military blockade, the people of Zehri are being deprived of basic necessities of life, raising fears of an emerging humanitarian crisis.


29/05/2026

📢 X Campaign Announcement

Baloch Voice for Justice will launch a campaign on X against the threatening statements made by the puppet Chief Minister Sarfraz Bugti targeting Baloch PhD holders, scholars, writers, and poets, as well as against actions taken against them and state repression.

We appeal to all social media activists, students, lawyers, political and social workers, and people from all walks of life to join this campaign and raise your voice against the state oppression of the educated Baloch community.

🗓 Date: 2nd June
⏰ Time: 7:00 PM – 12:00 Midnight

29/05/2026

Baloch Voice for Justice condemns the repeated enforced disappearance of Abdul Rauf by Pakistani forces. At around 3 AM last night, Pakistani forces raided his home , detained him, and forcibly disappeared him. His whereabouts remain unknown, leaving his family in severe anguish and uncertainty.

Abdul Rauf was previously forcibly disappeared on September 8, 2018, and remained in the custody of Pakistani forces for two and a half years before being released. His latest abduction reflects the continuing policy of enforced disappearances in Balochistan, where victims and their families are subjected to constant fear, intimidation, and suffering.

Baloch Voice for Justice demands the immediate release of Abdul Rauf and calls on the United Nations, international human rights organizations, and the global community to urgently intervene against the ongoing crimes of enforced disappearances in Balochistan. Pakistan must be held accountable for these grave human rights violations.

24/05/2026

‏بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کی ماورائے قانون قید نہ صرف انصاف کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ان تمام خاندانوں کے زخموں کو مزید گہرا کرتی ہے جو پہلے ہی جبری گمشدگیوں کے کرب سے گزر رہے ہیں۔
عید خوشیوں، مسکراہٹوں اور اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے کا نام ہے، مگر بلوچستان کے بے شمار گھروں میں یہ دن بھی صدیوں کی طرح طویل انتظار، اداسی اور خاموش آنسوؤں میں بدل جاتا ہے۔ جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ ہر تہوار پر اپنے پیاروں کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہیں۔ ہر دروازے پر امید، ہر آہٹ پر بے چینی اور ہر لمحہ ایک ہی دعا اپنے عزیزوں کی واپسی۔
عید کا دن ہمیں انسانیت، رحم اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں ان آوازوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو انصاف کے لیے بلند ہو رہی ہیں۔ آئیں، اس عید پر ہم ان خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں اور ان کی امید کو اپنی آواز دیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور بی وائی سی کے رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔



24/05/2026

Raise Your Voice This Eid!

Eid al-Adha is a time of sacrifice and reflection. Stand in solidarity with the families of the forcibly disappeared.

Join the X campaign by Baloch Voice for Justice demanding:
• An end to enforced disappearances
• Recovery of forcibly disappeared persons
• Release Dr. Mahrang Baloch, Imaan Mazari and all detained activists.

Be the voice for the voiceless.

Date: May 27, 2026
Time: 12 PM – 12 AM



24/05/2026

‏عنایت اللہ چنگیز بلوچ تاحال جبری لاپتہ ہیں۔ 7 مارچ 2014 سے ان کے اہلِ خانہ انصاف اور بازیابی کے منتظر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل ہے کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے پر فوری اور مؤثر کردار ادا کریں۔
عید الاضحیٰ جیسے خوشیوں کے موقع پر جب دنیا بھر میں لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں، ہزاروں جبری لاپتہ افراد کے خاندان درد، آنسوؤں، آہوں اور طویل انتظار میں یہ دن گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے عید خوشی نہیں بلکہ اجتماعی سزا کی علامت بن چکی ہے۔ عنایت اللہ چنگیز بلوچ سمیت بے شمار لاپتہ افراد کے گھروں میں عید کی رونقیں نہیں بلکہ خاموشی، کرب اور امید کی ٹوٹی ہوئی کرنیں موجود ہیں۔
آئیے اس عید الاضحیٰ پر ہم سب اپنی آواز بلند کریں، انصاف کا مطالبہ کریں، اور ان خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں جن کے پیارے برسوں سے جبری لاپتہ ہیں۔





23/05/2026

‏عید الاضحیٰ ایکس مہم

بلوچ وائس فار جسٹس عید الاضحیٰ کے دن جبری گمشدگیوں کے خلاف اور بی وائی سی کے رہنماؤں، نیز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی رہائی کے لیے ایکس پر مہم چلائے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی و سماجی کارکنان، طلبہ، وکلا، صحافیوں سمیت زندگی کے دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مہم میں شامل ہو کر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، ایمان مزاری سمیت دیگر گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں۔

تاریخ: 27 مئی 2026
وقت: دوپہر 12 بجے سے رات 12 بجے تک

‎ ‎ ‎

22/05/2026

‏بلوچ وائس فار جسٹس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر قید رہنماؤں کے مقدمات نے پاکستان کے نظامِ انصاف اور عدالتی ڈھانچے کی حقیقی صورتحال کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی قوانین ہر انسان کو منصفانہ ٹرائل، شفاف قانونی کارروائی اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، تاہم ان مقدمات میں ان بنیادی انسانی حقوق کی تقاضوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ عدالتی نظام پر پاکستانی سیکیورٹی حکام، خصوصاً ریاستی و انٹیلیجنس اداروں کی مداخلت، انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبرگ بلوچ، گل زادی اور بیبو بلوچ کی گرفتاری کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان کے مقدمات میں غیر معمولی تاخیر اور مسلسل التواء اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کو دانستہ طور پر مؤخر کیا جا رہا ہے۔ عدالتی کارروائی میں غیر جانبداری، میرٹ اور شفافیت جیسے بنیادی اصولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی منافی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ مقدمات اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے زیرِ سماعت ہیں، تاہم ماضی کے عدالتی رویوں اور حالیہ آئینی ترامیم (خصوصاً 26ویں اور 27ویں ترامیم) کے بعد عدلیہ کی خودمختاری پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں، جس کے باعث عوامی اعتماد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
اس کے باوجود یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے لیے ایک اہم آئینی و قانونی امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کیس کے فیصلے سے نہ صرف متعلقہ افراد کے بنیادی حقوق کا تعین ہوگا بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام کی ساکھ، خودمختاری اور انصاف کی فراہمی کی حقیقی حیثیت بھی واضح ہو جائے گی۔


16/05/2026

‏پروفیسر، ادیب، مصنف اور براہوئی زبان کے محقق غمخوار حیات کا بہیمانہ قتل بلوچ نسل کشی کی منظم ریاستی پالیسیوں کا حصہ ہے اور ان کے قتل میں براہِ راست آئی ایس آئی ملوث ہے۔ نوآبادیاتی قبضہ گیر ہمیشہ ایسے باشعور اور باعلم اذہان کو قتل کرتے ہیں جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور قومی شعور و فکری دانش کو فروغ دیتے ہوں۔

پاکستانی فوج نے اسی طرز پر بنگلہ دیش میں تعلیم یافتہ طبقے، بالخصوص دانشوروں اور اساتذہ کا قتلِ عام کیا اور اب اسی پالیسی پر بلوچستان میں گامزن ہے، جہاں بلوچ قوم کے باصلاحیت اور روشن دماغوں کو خاموش کیا جا رہا ہے تاکہ قوم میں شعور، علم اور جستجو کی کونپلیں پھوٹ نہ سکیں۔ لیکن پروفیسر غمخوار حیات، پروفیسر صباء دشتیاری اور پروفیسر رزاق زہری نے اپنی علمی صلاحیتوں کی روشنی پہلے ہی بلوچ قوم میں پھیلا دی ہے؛ ان کے جسمانی قتل سے ان کا فکری قافلہ نہیں رکے گا۔

قابض پنجابی فوج ایک طرف بلوچ دانش پر حملہ کر رہی ہے اور دوسری جانب "لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی پر گامزن ہے، اور بلوچ قوم کے شعور کو چھین کر ان پر سرفراز بگٹی، علی مدد جتک، ضیاء لانگو اور ظہور بلیدی جیسے جاہل غلاموں کو مسلط کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن بلوچ قوم ایسے تمام ریاستی حربوں کے باوجود اپنی قومی حقِ حاکمیت کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگی۔

‎ ‎

16/05/2026

The enforced disappearance of University of Gwadar Vice Chancellor Dr. Razzaq Sabir, Pro Vice Chancellor Dr. Manzoor Ahmed, a lecturer, and their driver has now entered its third day. Their disappearance reflects the dangerous reality faced by educated voices in Balochistan, where scholars, students, and intellectuals continue to live under constant fear of unlawful detention and disappearance.

Universities are meant to be spaces of knowledge, dialogue, and intellectual growth. When senior academic figures vanish without any legal process, it sends a chilling message across society that even education and scholarship are no protection against repression. Families are left in pain while authorities refuse to provide answers or accountability.

The systematic use of enforced disappearance has created an environment where fear replaces justice and silence replaces truth. International human rights standards clearly prohibit arbitrary detention and secret imprisonment, yet these violations continue openly in Balochistan with complete impunity for those responsible.

Baloch Voice for Justice strongly condemns the enforced disappearance of Dr. Razzaq Sabir, Dr. Manzoor Ahmed, the lecturer, and their driver. We urge the international community, human rights defenders, and academic institutions to speak out against these ongoing abuses and demand their immediate and safe release. Silence toward enforced disappearances only enables further violations.

Wollen Sie Ihr Service zum Top-Regierungsdienstleistung in Geneva machen?

Klicken Sie hier, um Ihren Gesponserten Eintrag zu erhalten.

Lage

Webseite

Adresse


Geneva