15/04/2026
عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جب مشال خان کو مار دیا گیا اور اسکی لاش کو اسکے گاؤں لایا گیا تو مساجد سے اعلانات ہوئے کہ مشال خان کا جنازہ کوئی نہیں پڑھائے گا نا ہی کوئی اس میں شرکت کرے گا کیونکہ وہ کا*فر ہے، مرتد ہے ۔ خوف اور ڈر کا ایک ماحول تھا ۔ لوگ خوف کے مارے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اور مشال کی تدفین اور جنازے کیلئے چند ایک مٹھی بھر افراد ہی حاضر ہوسکے ۔ شنید تھی کہ مشتعل ہجوم مشال کے گھر پر حملہ کرکے اسکی مسخ شدہ لاش کو اور مسخ کرے گا ۔
ایسے میں جب شیرین یار یوسفزئی کو پتہ چلا تو کئی کلومیٹر دور واقع اپنے گاؤں سے وہ اپنی AK-47 بندوق سر عام کندھے پر رکھ کر مشال کے گاؤں آیا اور اسکے گھر والوں کو تسلی دی کہ آپکو کچھ نہیں ہونے دونگا، مشال خان کی نماز جنازہ بھی ہوگی اور باعزت تدفین بھی کی جائے گی ۔
پھر وہیں کھڑے ہوکر انہوں نے کچھ لڑکوں کو مشال کے گھر کے پہرے پر کھڑا کیا کہ کہیں کوئی گھر کی طرف آ نا جائے اور خود اپنی بندوق سمیت کھڑے ہوکر مشال خان کی نماز جنازہ اپنی نگرانی میں پڑھوائی ۔ ان صاحب کو بھی سلام ہے جنہوں نے ایسے ماحول میں آگے بڑھ کر مشال کی نماز جنازہ کی امامت کا رسک لیا ۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ کوئی صاحب تھے، جنکا نام ابھی یاد نہیں آرہا ۔
شیرین یار یوسفزئی سے بعد میں پوچھا گیا کہ آپکا تعلق تو خدائی خدمت گاروں کی تحریک سے ہے جو عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں، آپ کو اپنے نظریات کے خلاف جاکر ا*سلحہ کیوں اٹھانا پڑا ۔ شیرین یار لالا بولے کہ جو خوف، ڈر اور وحشت کا ماحول بنا دیا گیا تھا اسکا مقابلہ میں قلم اور کتاب سے نہیں کرسکتا تھا، اُس دن اگر مشال کو نماز جنازہ کے بغیر دفنا دیا جاتا تو انسانیت کا جنازہ نکل جاتا اور انسانیت کا جنازہ نا نکلے اس لئے مجھے اس دن ا*سلحہ اٹھانا پڑا ۔
شیرین یار یوسفزئی پرسوں گزر گئے ۔
خدا مغفرت کرے پختون غیرت کے اس سچے استعارے کی❤️