Civic Politics of Okara

Civic Politics of Okara

Share

This Page is for Honorable Citizen of Okara District for the Open Discussion on Local Politics.

02/06/2026
02/06/2026

ترجیحات کا فرق

02/06/2026

راؤ سکندر اقبال،کوئٹہ سے اوکاڑہ تک، تحصیلدار سے ڈپٹی وزیراعظم بننے تک کا سیاسی سفر
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند شخصیات ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے مقامی سیاست سے آغاز کرکے قومی سطح کے اہم ترین عہدوں تک رسائی حاصل کی۔ ضلع اوکاڑہ کی سیاست میں راؤ سکندر اقبال کا نام انہی شخصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف وفاقی وزیر دفاع اور ڈپٹی وزیراعظم رہے بلکہ کئی دہائیوں تک اوکاڑہ کی سیاست کا سب سے طاقتور اور بااثر نام سمجھے جاتے رہے۔ ان کی سیاسی زندگی جدوجہد، عوامی رابطے، اقتدار، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی۔راؤ سکندر اقبال 1943ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بنیادی طور پر پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سے تعلق رکھتا تھا، تاہم سرکاری و خاندانی وجوہات کی بنا پر ان کے والدین اس وقت کوئٹہ میں مقیم تھے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے کوئٹہ میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔ انہوں نے فورمین کرسچن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ طالب علمی کے دور میں ہی ان کی قیادت کی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں اور وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ یہی دور ان کی آئندہ سیاسی زندگی کی بنیاد بنا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1969ء میں محکمہ مال میں بطور تحصیلدار سرکاری ملازمت اختیار کی۔ وہ ایک کامیاب سرکاری افسر کے طور پر اپنا کیریئر جاری رکھ سکتے تھے، لیکن ان کی دلچسپی سیاست کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ 1975ء میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اس وقت سے ان کی عملی سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ضیاء الحق کے دور میں وہ پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ پارٹی سرگرمیوں اور آمریت مخالف تحریکوں میں حصہ لینے کے باعث انہیں سیاسی مشکلات اور گرفتاریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے سیاسی سفر جاری رکھا۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں وفاقی وزیر خوراک، زراعت اور کوآپریٹو مقرر ہوئے۔1990ء کے انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ سیاسی میدان سے باہر نہ ہوئے۔ 1993ء میں ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں وفاقی وزیر کھیل، ثقافت اور سیاحت مقرر ہوئے۔ اسی دوران وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین بھی رہے،1997ء سے 2001ء تک وہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے پنجاب میں پارٹی کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2002ء کے عام انتخابات میں وہ این اے 144 اوکاڑہ سے 63 ہزار 713 ووٹ حاصل کرکے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ ان کے اہم حریف رانا اکرام ربانی کو 33 ہزار 366 ووٹ ملے۔2002ء کے بعد پاکستانی سیاست میں ان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔ انہوں نے PPP Patriots گروپ میں شمولیت اختیار کی اور جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وفاقی کابینہ کا حصہ بن گئے۔ انہیں وفاقی وزیر دفاع مقرر کیا گیا اور 2002ء سے 2007ء تک وہ پاکستان کے وزیر دفاع رہے۔ اسی دوران انہیں ڈپٹی وزیراعظم کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ انہوں نے میر ظفر اللہ جمالی، چودھری شجاعت حسین اور شوکت عزیز کے ادوار میں ملک کے اہم ترین سیاسی اور دفاعی معاملات میں کردار ادا کیا۔ضلع اوکاڑہ میں ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کے ترقیاتی منصوبے تھے۔ ان کے دور میں راؤ سکندر اقبال روڈ تعمیر ہوئی، بینظیر روڈ کا منصوبہ مکمل ہوا، اوکاڑہ بائی پاس بنایا گیا، کیڈٹ کالج اوکاڑہ کے قیام میں کردار ادا کیا گیا، کلثوم ہسپتال قائم ہوا جو بعد ازاں سوشل سکیورٹی ہسپتال کے طور پر استعمال ہوا، جبکہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن اوکاڑہ کی بنیاد رکھنے میں بھی ان کی کوششیں شامل سمجھی جاتی ہیں۔ ان منصوبوں نے اوکاڑہ کے تعلیمی، طبی اور مواصلاتی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔مقامی سیاست میں ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2005ء کے بلدیاتی انتخابات سے قبل انہوں نے صدر پرویز مشرف کا اوکاڑہ کا دورہ ممکن بنایا۔ اس دورے کو مقامی سیاست میں ان کی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا گیا۔ اس وقت وہ اپنے چھوٹے بھائی میجر (ر) راؤ ظفر اقبال کو ضلع ناظم کے عہدے پر لانے کی کوششوں میں بھی سرگرم تھے۔ اوکاڑہ میں اس زمانے میں منظور وٹو گروپ، شاہ مقیم گروپ اور راؤ سکندر گروپ کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ جاری تھا۔ذاتی زندگی میں راؤ سکندر اقبال ایک وکیل، سیاست دان اور سماجی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی اہلیہ شفیقہ راؤ سکندر تھیں جبکہ ان کے تین بیٹے راؤ عاطف سکندر، راؤ فیصل سکندر اور راؤ حسن سکندر اور ایک بیٹی تھی۔ ان کا خاندان آج بھی ضلع اوکاڑہ کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔زندگی کے آخری برسوں میں وہ ذیابیطس اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو گئے۔ بعد ازاں گردے فیل ہونے کے باعث انہیں مسلسل ڈائیلاسز کروانا پڑا۔ طویل علالت کے بعد 29 ستمبر 2010ء کو اوکاڑہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر تقریباً 68 برس تھی۔ ان کے انتقال کو اوکاڑہ کی سیاست میں ایک عہد کے خاتمے کے طور پر دیکھا گیا۔راؤ سکندر اقبال کے بعد ان کے سیاسی ورثے کو ان کے صاحبزادے Rao Hasan Sikandar نے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ راؤ حسن سکندر نے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں عملی کردار ادا کیا اور قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخابی میدان میں اترے۔ وہ ضلع اوکاڑہ میں نوجوان سیاسی قیادت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں، عوامی رابطوں اور سماجی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مقامی سطح پر انہیں اپنے والد کے سیاسی جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کی کوشش رہی ہے کہ راؤ سکندر اقبال کے سیاسی اثر و رسوخ اور عوامی خدمت کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے۔راؤ سکندر اقبال کی زندگی دراصل ایک ایسے سیاست دان کی داستان ہے جس نے کوئٹہ کے تعلیمی ماحول سے سفر شروع کیا، اوکاڑہ کو اپنی سیاسی شناخت بنایا، تحصیلدار کی سرکاری ملازمت چھوڑی، ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت میں شامل ہوا، قومی اسمبلی تک پہنچا، وفاقی وزارتوں کی قیادت کی، وزیر دفاع اور ڈپٹی وزیراعظم بنا اور پھر اپنی سیاسی میراث ایک ایسے خاندان کے سپرد کر گیا جو آج بھی اوکاڑہ کی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اوکاڑہ کی سیاسی تاریخ لکھی جائے تو راؤ سکندر اقبال کا نام اس کے اہم ترین ابواب میں ہمیشہ شامل رہے گا۔

02/06/2026

غیر سیاسی پوسٹ

02/06/2026

اوکاڑا: خبردار جو کسی نے جج صاحب کی نیکر پر غلط کمنٹ کیا۔😜

31/05/2026

اوکاڑا: جن کو آپ عید ملن پارٹیاں مل رہے ہیں، یہ ہمارے مستقبل کے دشمن ہیں، یہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو پسماندہ رکھ کر حکمرانی کر رہے ہیں اور مزید کرنا چاہتے ہیں، یہ وہی ہیں جن کو آپ سوال کرنے سے ڈرتے ہو۔

31/05/2026

بتاؤ !!!

31/05/2026

Reality 100%

Want your business to be the top-listed Government Service in London?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


London