Revelations with Altaf Hussain

Call Website Contact the organisation

Revelations with Altaf Hussain Founder & Leader of Muttahida Quami Movement (MQM) Mr. Altaf Hussain’s Official Facebook Channel

This privacy policy sets out how RevelationswithAltafHussain uses and protects any information that you give when you use this page. RevelationswithAltafHussain is committed to ensuring that your privacy is protected. Should we ask you to provide certain information by which you can be identified when using this page, then you can be assured that it will only be used in accordance with this privacy statement. RevelationswithAltafHussain may change this policy from time to time by updating this page. You should check this page from time to time to ensure that you are happy with any changes. This policy is effective from January 7, 2021

Security
We are committed to ensuring that your information is secure. In order to prevent unauthorised access or disclosure, we have put in place suitable physical, electronic and managerial procedures to safeguard and secure the information we collect online.

29/10/2026

انقلابی تحریکوں کو ناکام کرنے کے لئے ان کے خلاف طاقتور ادارے کیسے کیسے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں ،
ایم کیو ایم کے خلاف کیا کچھ کیا گیا، اسے جاننے کے لئے ٹک ٹاک پر میری تازہ فکری نشستوں کا سلسلہ ضرور سنئیے۔
29 اکتوبر 2026

To understand the various tactics employed by powerful institutions to thwart revolutionary movements—and to learn about what was done specifically against the MQM—be sure to listen to my latest series of analytical discussions on TikTok.
29 October 2026

‏اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‏انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ کورنگی سیکٹر کے سینئر کار...
28/10/2026

‏اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

‏انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ کورنگی سیکٹر کے سینئر کارکن، محمد عامر سنارہ بھائی، آج بروز بدھ انتقال فرما گئے ہیں۔

‏عامر سنارہ بھائی قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے وفاپرست ساتھی تھے اور گزشتہ کئی برسوں سے علیل تھے۔

‏اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

‏نمازِ جنازہ اور تدفین کی تفصیلات:

‏نمازِ جنازہ کل بروز جمعرات، بعد نمازِ عصر، کورنگی نمبر 2 کی قادری مسجد میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین شبانہ قبرستان، ملیر 15 میں ہوگی۔

27/10/2026

👆🌹👆🌹👆🌹👆🌹👆
میرا قصور ،میرا گناہ یہ ہے کہ میں
نے ظالمانہ ،جاگیر دارانہ ،وڈیرانہ سسٹم کےخلاف نہ صرف جہاد کیا بلکہ غریب اور مڈل کلاس نوجوانوں کو اسمبلیوں میں بھیج کر اس سسٹم کو توڑا۔
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کاٹِک ٹاک پر490وےں فکری نشست سے خطاب تفصیلا ت ملاحظہ فرمائیں خبر نامہ “مظلوموں کی آواز “میں
شکریہ
جاری کردہ
ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ
لندن
منگل 27التوبر 2026ء
🔹🔺🔹🔺🔹🔺🔹🔺🔹

26/10/2026

جہاں ظلم وبربریت کاراج ہو،آئین و قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں،کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کہا جاسکتا ہے؟
………………………………………………………

پاکستان کانام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان “ہے،اسلام میں انسان کی زندگی اورانسانی حرمت کادرس دیا جاتا ہے،قرآن مجید میں ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ شہریوں کے ساتھ کھلی کھلی زیادتیاں کی جارہی ہیں کہ جس کسی کےگھرپرچھاپہ مارنا ہو، چھاپہ مارو، جس کوبھی گھرسے اٹھانا چاہو اٹھالو اوراگروہ گھرپر نہ ملے تو اس کے بھائی، بیٹے یا بزرگ والد کو اٹھالو، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرو، اس کے گھرکی خواتین کی بے حرمتی کرو۔کیا قرآن مجید کی کسی آیت مبارکہ، کسی حدیث مبارکہ یااسلامی تعلیمات میں کہیں کوئی ایسادرس ہے کہ کسی بھی مطلوبہ شخص کےگھر کے دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہو،گھرمیں تلاشی کےنام پر توڑپھوڑ کرو، مطلوبہ شخص نہ ملے تواس کے بے گناہ گھر والوں کے ساتھ ایسا ظلم کیا جائے؟ پاکستان کواسلامی ملک کہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے تمام شہروں میں اس قسم کی زیادتیوں کے واقعات روز مرہ کامعمول ہیں۔ جہاں بغیر وارنٹ گھروں میں چھاپوں کے نام پر یہ زیادتیاں کی جائیں، ظلم وبربریت کاراج قائم ہو، عوامی مینڈیٹ کااحترام نہ کیا جائے، قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں، تو کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کیسےکہا جاسکتا ہے؟ اگرکوئی ملک اسلامی ہوتو وہاں ریاست کے عام شہری کی بھی اتنی ہی عزت ہوتی ہے جتنی ریاست کے امیرکی ہوتی ہے۔قانون کی نظر میں ریاست کاامیراورعام شہری برابرہیں۔
حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے شہریوں کے حقوق کااحترام کریں، خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق ؓ نےفرمایا تھا کہ ”اگرنہرِ فرات پرکوئی کتا بھی بھوکا ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے“ لیکن ہمارے ملک میں ریاست کے حکمرانوں کا طرزعمل اس کے صریحاً برخلاف ہے۔ ہمارے ہاں انصاف نہیں ہے۔ میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کوپولیس اوررینجرز نے گھرسے گرفتارکر کے تین روز تک تشددکانشانہ بنانے کے بعدکراچی کے علاقےگڈاپ میں لےجا کر بیدردی سےدونوں کوشہید کردیا، وہ ایم کیو ایم کے کارکن نہیں تھے، ان کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا، اسی طرح میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگرفتار کرکے ان پر تشدد کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں، انہیں بھی شہید کردیاگیا۔ میرے بھائی اوربھتیجے کا کیا قصورتھا؟ ان کے ماورائے عدالت قتل کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔
اسی طرح ایم کیوایم کے بزرگ رہنماجنہوں نے کراچی یونیورسٹی کےشعبہ فلاسفی کے پروفیسر کی حیثیت سے 40 تک ہزاروں طلبہ کوفلسفہ کی تعلیم دی وہ ایم کیو ایم میں شامل ہوئے اور22 اگست 2016ء کے بعد جب انہوں نے مجھ سےلاتعلقی کرنےسے انکار کردیا اور ایم کیوایم کی نئی رابطہ کمیٹی میں شامل ہوئے توانہیں بھی پہلے گرفتارکرکے کئی ماہ تک قیدمیں رکھا گیا،جب وہ ضمانت پررہا ہوئے تو 13جنوری 2018ء کوانہیں اغواکرنے کے بعد تشدد کرکےشہید کردیا گیا اوران کی لاش کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں پھینک دی۔ آخرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کا کیا قصورتھا؟
قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہے کہ، اللہ ظلم کوناپسند فرماتا ہے، اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں، ظالموں کاانجام بھیانک ہوگا، ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ چھولے گی۔
اسی طرح نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی مختلف احادیث مبارکہ میں بھی ظلم اورظالموں کی مذمت کی گئی ہے اورایک حدیث میں یہاں تک فرمایا ہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظالم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث بنے گا۔
ہم اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں، قرآن مجید، اللہ کی وحدانیت پرایمان رکھتے ہیں اور حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کواللہ کاآخری نبی مانتے ہیں لیکن پاکستان میں جوظلم ہورہا ہے اسے دیکھ کرخاموش رہتے ہیں، ظلم کو قوم سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں آپ کسی بھی جگہ ہونے والے ظلم کو چھپا نہیں سکتے، وہ زمانے گئے جب ظالم وجابرفرعون، شداد، نمرود، ہامان عوام پر ظلم کیا کرتے تھے اورکسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔ آج جگہ جگہ کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے (CCTV) لگے ہوتے ہیں، ہرفرد کے کیمرے والے موبائل فون ہیں اور جو خبر اخبارات یا ٹی وی چینلز پر شائع یا نشر نہیں ہوتی وہ سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔
حال ہی میں بلوچستان میں سیکوریٹی فورسز کے ایک کیمپ پر بلوچ مزاحمت کاروں کے حملے کی خبرآئی اور کہا گیا کہ پاکستانی فوج نے ایک خاتون سمیت 9 حملہ آوروں کو ہلاک کر ڈالاجبکہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے وڈیو فلم گردش کررہی ہے جس میں دکھایا گیا ہےکہ مزاحمت کاروں اورفوج کے درمیان فائرنگ ہورہی ہے۔

صوبہ پنجاب میں جولوگ موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ان کے گھروں پر چھاپوں اوراس دوران اہل خانہ سے بدسلوکی کےواقعات کی وڈیوز سامنے آتی رہی ہیں، حکومتی مظالم اوربدسلوکی سے متاثرہ لوگوں کو جہاں موقع ملا وہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اورمغربی ممالک چلےگئے۔ آج حکومت اور ریاست کے ظالمانہ اقدامات کے باعث لوگوں کے پاس دوہی راستے بچے ہیں کہ وہ یاتو جیل میں قید کردیئے جائیں یاجلاوطن ہوجائیں۔ صوبہ پنجاب اور کشمیر کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد اپنی جان بچانے کیلئے ہجرت کرگئے، وہاں انہوں نے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اورمغربی ممالک کے شہریوں کےساتھ مل کر ریاستی مظالم کے خلاف احتجاجی جلسے جلوس کئے تو ان کی وڈیو بناکر نادرا مظاہرین کاریکارڈ نکالا گیا، پاکستان میں ان کے گھروں پر چھاپے مارےگئے،ان کےاہل خانہ کو ہراساں کیا گیا اور گرفتار کیا گیا۔قرآن مجید یا احادیث مبارکہ میں کہاں لکھا ہے کہ جو مطلوب فرد نہ ملےاس کےوالد یابھائیوں کو گرفتار کرلیا جائے؟ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنےوالی منتخب حکومت کے خاتمہ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر اسمبلی بابرسلیم سواتی کواغواء کرنے کا عمل کس اسلامی اورجمہوری قوانین کے تحت کیا گیا؟ اس عمل پر اعتراض کرنے والے یوٹیوبرز کی جانب سے کہا جاتا رہا کہ اگروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوبرطرف کرکے صوبے میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو قیامت آجائے گی لیکن جب یہ غیرقانونی اورغیرجمہوری عمل کیا گیا تو بلندوبانگ دعوے کرنے والوں کی جانب سے کچھ بھی نہ ہوا۔آخر لوگ اپنے گھروں سے کیوں باہرنہیں نکلے؟ اگرپی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں عمران خان کے نظریئے کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔
الطاف حسین پاکستان کو اس وقت تک اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں کہے گا جب تک ملک کواسلامی اور جمہوری اصولوں کے مطابق نہ چلایاجائے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ کفرکی حکومت چل سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔
پاکستان میں عوام پر اس قدرظلم ہورہا ہے لیکن کسی مفتی، کسی عالم،کسی گدہ نشین یاعلماء کے کسی بھی گروہ نے اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، کسی نے ظلم کوظلم نہیں کہا، انہیں اپنے جبہ، عمامے اوردستارکی لاج رکھتے ہوئے ظلم کوظلم کہناچاہیے۔
میں پوچھتا ہوں کہ میرا قصورکیا تھا، میرا گناہ یہ ہے کہ میں نے حکمراں اشرافیہ طبقہ کے ظالمانہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ سسٹم کے خلاف نہ صرف جہاد کیا بلکہ غریب اورمڈل کلاس نوجوانوں کو اسمبلیوں میں بھیج کراس سسٹم کوتوڑا، میں نے پورے ملک سے اس کرپٹ سسٹم کوختم کرنے کی کوشش کی لیکن مجھ پر اورمیری تحریک پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، اگرمیں اس سسٹم کوبدل دیتا توآج پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا۔میں ملک کو دو فیصد مراعات یافتہ طبقہ کے قبضہ سے آزاد کرانا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتاہوں کہ پاکستان کی بقاء اورسلامتی اسی میں ہے کہ ملک کاہرادارہ، ہرشخص اپنے ضمیر اور ملک کے آئین اورقانون کے سامنے جوابدہ ہو،کوئی قانون سے بالاترنہ ہو۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر490 ویں فکری نشست سے خطاب
25، اکتوبر2026ء

26/10/2026

قرآن و حدیث تعلیمات اور
اسلامی جمہوریہ پاکستان
فکری نشست نمبر 490
25 اکتوبر 2026

Teachings of the Quran and Hadith and the Islamic Republic of Pakistan Intellectual Session No. 490
October 25, 2026

26/10/2026

مجھ پر غیرآئینی و غیرقانونی پابندی کیوں لگائی گئی؟ میرا قصور کیا تھا ؟
بانی و قائد متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین 26 اکتوبر 2026

Why was an unconstitutional and illegal ban imposed on me? What was my fault? Founder and Leader of the Muttahida Qaumi Movement, Altaf Hussain – October 26, 2026

25/10/2026

فوج کشی کی پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
باقیماندہ پاکستان کوقائم رکھنا ہے تو حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
حقائق بیان کرنے پر مجھے غدار قرار دینا درست نہیں
فکری نشست نمبر 489
24 اکتوبر 2026
A policy of military intervention will not solve Pakistan’s problems. If the remaining Pakistan is to be preserved, the facts must be acknowledged. It is not right to label me a traitor for stating the facts. Intellectual Session No. 489 October 24, 2026

24/10/2026

‏🚨🚨🚨میں نواب شاہ سبزی مارکیٹ کی دکانوں کو تجاوزات قرار دیکر مسمار کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ نوابشاہ مارکیٹ روڈ پر یہ دکانیں قانونی تھیں جو 60 سال قبل بلدیہ کے منظور شدہ نقشے کے مطابق قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں، اس مارکیٹ کے دکاندار بلدیہ کو باقاعدگی سے ہر ماہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت نے ان دکانوں کو تجاوزات قرار دے کر گرادیا ہے۔اس سلسلے میں دکانداروں کو کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا۔دوسال قبل نوابشاہ کے علاقے منوآباد میں بھی اردو بولنے والوں کی دکانیں توڑ دی گئیں تھیں اور اب نوابشاہ کے مارکیٹ روڈ پر قائم 60 سال پرانی سبزی مارکیٹ کی دکانیں مسمار کردی گئی ہیں۔
‏نوابشاہ کے شہریوں کی قانونی دکانوں کو مسمار کرنا سراسر ظلم ہے۔ پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت ایک طرف تو شہریوں کو روزگار فراہم نہیں کر رہی ہے دوسری طرف شہریوں سے ان کا روزگار چھین کر ان کا معاشی قتل کررہی ہے۔میں نوابشاہ کے شہریوں خصوصاً جن لوگوں کی دکانیں مسمار کی گئی ہیں ان سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ مارکیٹ کی دکانیں گرانے کا عمل بند کیا جائے، دکانیں بحال کی جائیں، دکانداروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور نوابشاہ کے شہریوں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔

Address

London

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Revelations with Altaf Hussain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Revelations with Altaf Hussain:

Shortcuts

Share