31/10/2026
یہ ہیں زمین پر سوئے فرشتے۔۔۔۔۔
چین میں ایک مریض کے دماغ میں دو رسولیاں تھیں۔ بچنے کا کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔ چھ بڑے آپریشن، سترہ ماہر ڈاکٹر، اور بتیس گھنٹے مسلسل کھڑے رہ کر ایک نازک دماغ پر کام۔
بتیس گھنٹے۔۔۔ آپ اور میں دو گھنٹے کھڑے ہوں تو ٹانگیں جواب دے جاتی ہیں۔ انہوں نے بتیس گھنٹے ایک انسان کی سانس کو تھامے رکھا۔
اور جب مریض کی جان بچ گئی، جب مانیٹر پر دل کی دھڑکن مستحکم ہو گئی، تو ان ڈاکٹروں میں اتنی ہمت بھی نہیں بچی تھی کہ کمرے تک جائیں۔ وہیں آپریشن تھیٹر کے ٹھنڈے فرش پر، خون آلود کپڑوں میں ہی لیٹ گئے۔ تصویر بنی تو دنیا نے دیکھا
طب نوکری نہیں، عبادت ہے۔ ہم رات کو اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے سوتے ہیں کیونکہ کہیں کوئی اور ہمارے بچوں جیسے کسی بچے کی ماں کو بچانے کے لیے جاگ رہا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں ڈاکٹر کو مریض مارتا بھی ہے، گالی بھی دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اس نے فیس لی، تو احسان کیا؟ نہیں۔ اس نے اپنی نیند، اپنی جوانی، اپنے گھر کے سکون کو ہمارے نام لکھ دیا ہے۔
اس تصویر کو دیکھ کر ایک بار سوچیے۔
اگر وہ سترہ ڈاکٹر تھک کر کہہ دیتے کہ "بہت ہو گیا، کل کریں گے" تو ایک خاندان اجڑ جاتا۔ انہوں نے خود کو توڑ کر ایک گھر جوڑ دیا۔
سلام ہے ان ہاتھوں پر جو کاٹتے ہیں تو زندگی دیتے ہیں، اور سلام ہے ان آنکھوں پر جو جاگتی ہیں تو ہماری دنیا روشن رہتی ہے۔