Abdul Wahab

Call Website Contact the organisation

Abdul Wahab Official Page of Mufti Abdul Wahab
Islamic Scholar | Exploring Islamic history through travels & bayans | Motivational Speaker | Philanthropist

Mufti Abdul Wahab is a leading global Islamic scholar and a motivational speaker.

30/10/2026

🇧🇦 Why Bosnia? Because some places have it all! ✨

Breathtaking landscapes, rich Islamic heritage, charming old towns and a sense of peace that makes you want to stay a little longer. 🤍

شعور بانٹنے کی قیمت اور میری زندگی کا ایک اہم فیصلہایک فیصلہ، جو تلخ تجربات، مسلسل خیرخواہی اور زندگی سے سیکھے گئے اسباق...
30/10/2026

شعور بانٹنے کی قیمت اور میری زندگی کا ایک اہم فیصلہ

ایک فیصلہ، جو تلخ تجربات، مسلسل خیرخواہی اور زندگی سے سیکھے گئے اسباق کا نتیجہ ہے۔

میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لوگوں کو سمجھانے، ان کی فکری رہنمائی کرنے اور انہیں شعور دینے کی کوشش میں گزار دیا۔ دوست ہوں یا خاندان کے افراد، بھائی ہوں یا رشتہ دار، بھتیجے ہوں یا بھانجے، بھتیجیاں ہوں یا بھانجیاں، عزیز و اقارب ہوں یا کولیگز، میرے مقتدی ہوں یا میرے ساتھ صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے لوگ—جہاں مجھے محسوس ہوا کہ کوئی غلط سمت میں جا رہا ہے، اپنی صلاحیتیں ضائع کر رہا ہے یا اپنی زندگی کے قیمتی لمحات برباد کر رہا ہے، میں نے اسے روکنے، سمجھانے اور صحیح راستہ دکھانے کی کوشش کی۔

میرا مقصد کبھی کسی پر اپنی برتری ثابت کرنا نہیں تھا۔ میں نے ہمیشہ خیرخواہی کی نیت سے بات کی۔ کوئی سگریٹ نوشی میں مبتلا تھا، کوئی وقت ضائع کر رہا تھا، کسی کی زندگی میں کوئی واضح مقصد نہیں تھا، کوئی ٹائم مینجمنٹ نہیں کر رہا تھا، کسی کا فوکس منتشر تھا، کوئی بار بار لوگوں پر اندھا اعتماد کرکے نقصان اٹھا رہا تھا، اور کوئی اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ میں نے جہاں ممکن ہوا، انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ زندگی بہت قیمتی ہے، وقت واپس نہیں آتا، غلطیوں سے سیکھنا چاہیے اور انسان کو اپنی زندگی کسی مقصد کے تحت گزارنی چاہیے۔

لیکن وقت کے ساتھ میں نے ایک عجیب نفسیاتی حقیقت کا مشاہدہ کیا۔ بعض اوقات آپ جن لوگوں کو جگانے کی کوشش کرتے ہیں، وہی آپ سے دور ہونے لگتے ہیں۔ آپ کی باتوں سے بچنے لگتے ہیں، آپ کی موجودگی انہیں ناگوار گزرنے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ آپ کو اپنا خیرخواہ سمجھنے کے بجائے ایک ناپسندیدہ شخص سمجھنے لگتے ہیں۔

اس کے برعکس ایک دوسرا کردار بھی ہوتا ہے، جو کہتا ہے:

”یار! تمہیں کیا پڑی ہے لوگوں کی؟ دفع کرو سب کو، ہر کوئی اپنے حال میں خوش ہے۔ کوئی سگریٹ پیتا ہے تو پینے دو، کوئی وقت ضائع کرتا ہے تو کرنے دو، کوئی اپنی زندگی برباد کر رہا ہے تو اسے کرنے دو۔ تم کیوں اپنا دماغ خراب کرتے ہو؟ اپنی زندگی جیو، دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑ دو!“

اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر یہی شخص سب کا پسندیدہ بن جاتا ہے۔ لوگ اس کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے ہیں، اس کی محفل سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسے اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ انہیں ان کی کمزوریوں کا احساس نہیں دلاتا، ان کی غلطیوں کی نشاندہی نہیں کرتا اور انہیں اپنی زندگی پر نظرثانی کرنے کے لیے نہیں کہتا۔

گویا جو آپ کو نیند سے جگانے کی کوشش کرے، وہ آپ کو برا لگنے لگتا ہے؛ اور جو آپ پر کمبل ڈال کر آپ کو سونے دے، وہ آپ کا سب سے اچھا دوست بن جاتا ہے!

یہی وہ تلخ تجربہ ہے جس نے مجھے بارہا سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر انسان اپنی اصلاح کی کوشش کرنے والے سے ناراض اور اپنی کمزوریوں کو نظرانداز کرنے والے سے خوش کیوں رہتا ہے؟ شاید اس لیے کہ حقیقت کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا، اپنی عادت بدلنا، اپنی ترجیحات درست کرنا اور اپنی زندگی کی ذمہ داری قبول کرنا انسان سے محنت اور حوصلہ مانگتا ہے۔ اس کے برعکس، کوئی ایسا شخص جو آپ کو ہر حال میں درست قرار دے، آپ کی غلطیوں پر خاموش رہے اور آپ کو کسی تبدیلی کے لیے آمادہ نہ کرے، وقتی طور پر زیادہ اچھا محسوس ہوتا ہے۔

یہ رویہ میں نے صرف دوستوں میں نہیں دیکھا؛ کبھی اپنے قریبی رشتوں، بھتیجوں، بھانجوں، بھتیجیوں، بھانجیوں اور عزیز و اقارب میں بھی یہی صورتِ حال محسوس کی۔ جن کے مستقبل کے لیے فکر مند ہوا، کبھی وہی مجھ سے دور ہوئے؛ اور جو انہیں ان کے حال پر چھوڑتے رہے، وہ ان کے زیادہ قریب رہے۔ یہ تجربات انسان کو اندر سے تھکا دیتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب اس کی نیت کسی ذاتی مفاد کے بجائے محض خیرخواہی ہو۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ہر مشورہ درست ہوتا ہے یا ہر نصیحت کرنے والا لازماً خیرخواہ ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات ہماری بات کہنے کا انداز غلط ہو سکتا ہے اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خلوص کے ساتھ کسی کی بہتری چاہنا اور اس کی اصلاح کی کوشش کرنا ہمیشہ پسند نہیں کیا جاتا۔

میں نے اس خیرخواہی کی قیمت ادا کی ہے۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص کو جگانا میری ذمہ داری نہیں، خصوصاً اس وقت جب وہ خود جاگنا ہی نہ چاہتا ہو۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اپنا اجتماعی مشن چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بحیثیتِ امام، عالم، خطیب اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں دینی و فکری گفتگو کرنے والے شخص کے، میری ذمہ داریاں اپنی جگہ برقرار ہیں۔ جمعے کا خطبہ ہو، عوامی تقریر ہو یا ٹی وی پروگرام، علم، شعور، اصلاح اور رہنمائی کا میرا اجتماعی سفر جاری رہے گا۔ یہ میرا فرض ہے اور میں اسے ادا کرتا رہوں گا۔

البتہ انفرادی سطح پر اب میں اپنے رویّے میں تبدیلی لاؤں گا۔ اب میں ہر شخص کے پیچھے جا کر اسے سمجھانے، بار بار نصیحت کرنے اور اس کی زندگی درست کرنے کی کوشش نہیں کروں گا۔ جب تک کوئی شخص خود میرے پاس آ کر خلوص کے ساتھ دو تین مرتبہ رہنمائی کی درخواست نہیں کرے گا، میں حتی الامکان غیر ضروری مشورے اور مداخلت سے گریز کروں گا۔

میں اب یہ سمجھ چکا ہوں کہ خیرخواہی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی ذہنی توانائی، اپنا وقت اور اپنا سکون ہر اس شخص پر خرچ کرتے رہیں جو آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں۔

میرا کام روشنی دکھانا ہے، کسی کی آنکھیں زبردستی کھولنا نہیں۔ میرا کام راستہ بتانا ہے، کسی کو زبردستی اس راستے پر چلانا نہیں۔ جو خود رہنمائی چاہے گا، میں آج بھی اس کے لیے حاضر ہوں؛ لیکن جو اپنی مرضی سے آنکھیں بند رکھنا چاہے، اب میں اس کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھ جاؤں گا۔

کیونکہ زندگی نے مجھے یہ سبق سکھایا ہے:

ہر شخص کو آپ کی سچائی نہیں، بعض اوقات صرف آپ کی تائید چاہیے ہوتی ہے۔ ہر شخص کو رہنمائی نہیں، بعض اوقات صرف اپنی مرضی کی توثیق چاہیے ہوتی ہے۔ اور ہر شخص کو جگانے کی کوشش کرنے والا پسند نہیں آتا؛ بعض اوقات لوگ اس شخص کو زیادہ چاہتے ہیں جو انہیں ان کی نیند سے محروم نہ کرے۔

اب میں اپنا فرض ادا کروں گا، اپنا اجتماعی سفر جاری رکھوں گا، حق بات کہوں گا اور علم بانٹتا رہوں گا۔ مگر انفرادی زندگی میں اب ہر شخص کی اصلاح کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھاؤں گا۔

کیونکہ میں نے بہت وقت دوسروں کو جگانے میں گزار دیا؛ اب میں نے یہ بھی سیکھنا ہے کہ کب کسی کو اس کی اپنی نیند پوری کرنے دینی ہے، اور کب خاموشی سے اپنے راستے پر آگے بڑھ جانا ہے۔

29/10/2026

استنبول کی سب سے بڑی مسجد کون سی ہے؟ آئیے، اس کی سیر کرتے ہیں۔

Do you know which is the largest mosque in Istanbul? Come along and explore it with us.

اسرائیل میں عرب مسلمان کون ہیں؟ میرے پچیس دوروں کا مشاہدہ اور ایک دلچسپ انتخابی نظاممفتی عبدالوھاب لندنمیں اب تک تقریباً...
29/10/2026

اسرائیل میں عرب مسلمان کون ہیں؟ میرے پچیس دوروں کا مشاہدہ اور ایک دلچسپ انتخابی نظام
مفتی عبدالوھاب لندن
میں اب تک تقریباً پچیس مرتبہ فلسطین جا چکا ہوں۔ ان دوروں کے دوران کئی مرتبہ اسرائیل کے مختلف شہروں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ پہلی مرتبہ جب میں وہاں گیا تو ایک بات نے مجھے خاصا حیران کیا۔ اسرائیل میں بڑی تعداد میں عرب مسلمان آباد تھے۔ ان کے اپنے محلے، بازار، کاروبار، مساجد اور روزمرہ زندگی کے معمولات تھے۔

جب میں واپس آکر لوگوں کو بتاتا کہ اسرائیل میں لاکھوں عرب مسلمان بھی رہتے ہیں تو بہت سے لوگ میری بات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ ان کے ذہن میں اسرائیل کا تصور ایک ایسی ریاست کا تھا جس میں صرف یہودی آباد ہیں۔ پھر سوال اٹھتا کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرتا رہا ہے تو یہ عرب مسلمان وہاں کیسے رہ گئے؟ ان کے پاس اسرائیلی شہریت کیسے ہے؟ اور یہ لوگ اسرائیل کی پارلیمان کے انتخابات میں حصہ کیسے لیتے ہیں؟

اسرائیل کے حالیہ انتخابات نے ان سوالات کو ایک مرتبہ پھر اہم بنا دیا ہے۔ عرب جماعتوں کی نمایاں انتخابی کامیابی نے نہ صرف اسرائیل کے سیاسی منظرنامے کو متاثر کیا ہے بلکہ دنیا کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا ہے کہ اسرائیل کے اندر موجود عرب آبادی کی اصل کہانی کیا ہے۔

یہ عرب اسرائیلی آخر ہیں کون؟

سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ اسرائیل کے عرب شہریوں کی اکثریت کسی دوسرے عرب ملک سے ہجرت کرکے وہاں نہیں آئی۔ ان کے خاندان اسی سرزمین پر آباد تھے جسے تاریخی طور پر فلسطین کہا جاتا تھا۔

1948 میں اسرائیل کے قیام اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کے دوران لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے یا وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ فلسطینی اس واقعے کو ’’نکبہ‘‘ یعنی عظیم تباہی کہتے ہیں۔ تاہم تمام فلسطینی اپنی سرزمین سے نہیں نکلے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ فلسطینی ان علاقوں میں رہ گئے جو بعد میں اسرائیل کا حصہ بنے۔ ان میں سے بیشتر اور ان کی اولاد نے اسرائیلی شہریت حاصل کرلی۔

آج اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ عرب ہے۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، جبکہ مسیحی عرب، بدوی اور دوسری برادریاں بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ ناصرت، الجلیل، ام الفحم، صحرائے نقب اور حیفا و عکا جیسے شہروں میں آباد ہیں۔

ان میں سے بہت سے لوگ اپنی شناخت فلسطینی شہریِ اسرائیل کے طور پر کرتے ہیں۔ ان کے لیے اسرائیلی شہریت اور فلسطینی قومی شناخت دو الگ حقیقتیں ہیں، جو بیک وقت موجود ہوسکتی ہیں۔

اسرائیل کا انتخابی نظام دنیا سے کس طرح مختلف ہے؟

عرب جماعتوں کی انتخابی کامیابی کو سمجھنے کے لیے اسرائیل کے انتخابی نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس نظام کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاں پارلیمان کے انتخابات میں پورا ملک ایک ہی انتخابی حلقہ ہوتا ہے۔ نہ ہمارے ہاں کی طرح الگ الگ قومی اسمبلی کے حلقے ہوتے ہیں اور نہ ووٹر اپنے حلقے سے کسی ایک امیدوار کو منتخب کرتا ہے۔

اسرائیل کی پارلیمان کو کنیسٹ کہا جاتا ہے اور اس کے ارکان کی تعداد 120 ہے۔ انتخابات سے پہلے ہر سیاسی جماعت اپنے امیدواروں کی ایک فہرست تیار کرکے جمع کراتی ہے۔ بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے انفرادی نام نہیں ہوتے، بلکہ سیاسی جماعتوں یا انتخابی فہرستوں کے نام اور ان کی شناختی علامات ہوتی ہیں۔ ووٹر جس جماعت کو پسند کرتا ہے، اس کے نشان والی پرچی منتخب کرکے ووٹ ڈال دیتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر پارلیمان میں کون پہنچتا ہے؟

فرض کیجیے کسی پارٹی نے اپنی فہرست میں پہلے نمبر پر احمد، دوسرے نمبر پر محمود، تیسرے نمبر پر خالد اور چوتھے نمبر پر یوسف کو رکھا ہے۔ اگر انتخابات میں اس جماعت کو اتنی نشستیں ملیں کہ اس کے پہلے تین امیدوار منتخب ہوسکیں تو احمد، محمود اور خالد پارلیمان میں پہنچ جائیں گے۔ یوسف چوتھے نمبر پر ہونے کی وجہ سے اس وقت رکن نہیں بن سکے گا۔

یعنی ووٹر پارٹی کو ووٹ دیتا ہے، لیکن پارلیمان میں پہنچنے والے افراد کا تعین پارٹی کی پہلے سے طے شدہ فہرست کی ترتیب سے ہوتا ہے۔

یہاں ایک اور اہم بات بھی سمجھنے کی ہے۔ امیدواروں کی فہرست کون بناتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر جماعت کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ بعض جماعتوں میں کارکن پرائمری انتخابات کے ذریعے امیدوار اور ان کی ترتیب طے کرتے ہیں، بعض میں مرکزی کمیٹی یہ کام کرتی ہے، جبکہ بعض جماعتوں میں پارٹی سربراہ یا مذہبی قیادت کو امیدوار منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔

اس طرح ووٹر امیدواروں کے نام الگ الگ منتخب نہیں کرتا، لیکن اس کا ووٹ یہ طے کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے کہ پارٹی کی فہرست میں سے کتنے افراد پارلیمان تک پہنچیں گے۔

ووٹوں کے تناسب سے نشستیں کیسے ملتی ہیں؟

اسرائیل کے انتخابی نظام کو متناسب نمائندگی کہا جاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ کسی جماعت کو ملک بھر میں جتنے ووٹ ملیں گے، اسے اسی تناسب سے پارلیمان میں نشستیں ملیں گی۔

مثلاً اگر کسی جماعت کو اہل جماعتوں کے مجموعی ووٹوں کا تقریباً دس فیصد حاصل ہو تو اسے تقریباً 12 نشستیں مل سکتی ہیں، کیونکہ پارلیمان میں کل 120 نشستیں ہیں۔ البتہ اصل تقسیم میں انتخابی حد اور باقی ماندہ ووٹوں کی تقسیم کا حساب بھی شامل ہوتا ہے۔

اسرائیل میں کسی جماعت کو پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے کم از کم 3.25 فیصد درست ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی جماعت اس حد سے نیچے رہ جائے تو اسے کوئی نشست نہیں ملتی، خواہ اسے خاصی تعداد میں ووٹ کیوں نہ ملے ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ چھوٹی جماعتیں اکثر انتخابات سے پہلے دوسری ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے مشترکہ انتخابی فہرست بناتی ہیں۔ اس سے ان کے ووٹوں کے انتخابی حد عبور کرنے اور پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرنے کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔

عرب جماعتوں نے اس نظام سے فائدہ کیسے اٹھایا؟

اب آئیے اصل سوال کی طرف۔

اسرائیل میں عرب شہری مختلف شہروں اور علاقوں میں آباد ہیں۔ اگر انتخابی نظام مکمل طور پر حلقہ وار ہوتا تو ان کی سیاسی نمائندگی کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا کہ کسی مخصوص حلقے میں ان کے ووٹ کتنے ہیں اور ان کے امیدوار کو دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں کتنی حمایت حاصل ہوتی ہے۔

لیکن اسرائیل کے موجودہ قومی متناسب نظام میں عرب شہریوں کے ووٹ مختلف علاقوں میں بکھرے رہنے کے باوجود ایک ہی عرب جماعت یا مشترکہ انتخابی فہرست کے حق میں جمع ہوسکتے ہیں۔ اس طرح قومی سطح پر ان کی مجموعی انتخابی قوت نشستوں میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

اس لیے عرب جماعتوں کے لیے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عرب شہری ووٹ ڈالنے نکلیں، ان کے ووٹ بڑی تعداد میں ان جماعتوں کو ملیں اور متعلقہ جماعتیں انتخابی حد عبور کریں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زیادہ ووٹ ڈالنا ہی کافی نہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ ووٹ مختلف جماعتوں میں کس طرح تقسیم ہوتے ہیں، کون سی جماعت انتخابی حد عبور کرتی ہے اور باقی نشستوں کی تقسیم کیسے ہوتی ہے۔

حکومت بنانے میں عرب جماعتوں کا کردار

اسرائیل میں پارلیمان کی 120 نشستیں ہیں، اس لیے حکومت کو پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کے لیے عموماً کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ کسی اتحاد کا سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا لازماً اس بات کی ضمانت نہیں کہ اسی کا سربراہ وزیراعظم بنے گا۔

انتخابات کے بعد مختلف جماعتیں حکومت بنانے کے لیے مذاکرات کرتی ہیں۔ وہ مشترکہ حکومت، وزارتوں کی تقسیم اور پالیسیوں پر معاہدے کرتی ہیں۔ اگر کسی بڑے اتحاد کے پاس مطلوبہ حمایت نہ ہو تو نسبتاً چھوٹی جماعتوں کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔

عرب جماعتوں کی نمایاں نشستیں اسی وجہ سے اہم ہیں۔ تاہم ان تمام جماعتوں کو ایک ہی سیاسی بلاک سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ان کے سیاسی مؤقف اور حکومت میں شامل ہونے یا باہر سے حمایت دینے کی ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ کسی انتخابی اتحاد کی نشستوں کے ابتدائی اعدادوشمار کو حتمی نتیجہ نہ سمجھا جائے۔ انتخابی نتائج اور حکومت سازی کی صورتِ حال سرکاری گنتی اور بعد کے سیاسی مذاکرات کے ساتھ واضح ہوتی ہے۔

آخر اس کہانی کا اصل پہلو کیا ہے؟

میرے لیے اسرائیل کے مختلف شہروں میں عرب مسلمانوں کی موجودگی پہلی مرتبہ دیکھنا ایک حیران کن تجربہ تھا۔ اس کے بعد جب بھی میں نے لوگوں کو بتایا کہ اسرائیل کے اندر لاکھوں عرب شہری آباد ہیں اور وہ اپنی جماعتوں کے ذریعے پارلیمان میں نمائندگی بھی حاصل کرتے ہیں تو اس موضوع پر مزید سوالات سامنے آئے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اکثر اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کو صرف جنگ، سرحدوں، قبضے اور بے دخلی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لیکن اس سرزمین پر رہنے والے عرب شہریوں کی اپنی ایک تاریخ بھی ہے، ان کی شہریت کی ایک قانونی حیثیت بھی ہے اور ان کے سیاسی حقوق اور مطالبات بھی ہیں۔

ان کی موجودگی اس تاریخی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اسرائیل کے قیام کے بعد بھی فلسطینی عرب آبادی کا ایک حصہ اسی سرزمین پر رہ گیا تھا۔ آج ان کی اولاد اسرائیل کی سیاست، معیشت اور معاشرت کا حصہ ہے، اگرچہ ان کی قومی شناخت، شہری مساوات اور فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق سوالات بدستور موجود ہیں۔

اسرائیل کے عرب شہریوں کی کہانی محض یہ نہیں کہ وہ وہاں کیسے رہ گئے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ہی سرزمین پر شہریت، قومی شناخت، مساوات اور سیاسی نمائندگی کے مختلف تصورات کس طرح ایک دوسرے سے ٹکراتے اور ساتھ ساتھ موجود رہتے ہیں۔مفتی عبدالوھاب لندن

28/10/2026

خواتین اللہ تعالیٰ کی خوبصورت تخلیق ہیں، جنہیں عزت اور احترام دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ ❤️

مفتی عبد الوہاب صاحب کی یہ اہم گفتگو اور مکمل کلپ ضرور دیکھیے۔

Women are Allah's most beautiful creation, deserving of dignity and respect. ❤️

ہمارا سفرنامہ ترقی — قسط نمبر 4استنبول کی عظیم جامع مسجد، تاریخِ فتحِ قسطنطنیہ اور سلطان محمد فاتح کی داستانبورصہ سے است...
28/10/2026

ہمارا سفرنامہ ترقی — قسط نمبر 4

استنبول کی عظیم جامع مسجد، تاریخِ فتحِ قسطنطنیہ اور سلطان محمد فاتح کی داستان
بورصہ سے استنبول کی طرف سفر
الحمدللہ، بورصہ میں تاریخی مقامات کی سیر مکمل کرنے کے بعد اب ہمارا سفر استنبول کی طرف جاری تھا۔ ہماری کوشش تھی کہ جمعہ کی نماز سے پہلے استنبول پہنچ جائیں اور وہاں کی نئی عظیم الشان جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں۔
بورصہ سے استنبول تک سڑک کے راستے کا فاصلہ تقریباً 138 کلومیٹر ہے۔ راستے میں خوبصورت مناظر، پہاڑیاں، سرسبز علاقے اور ترکی کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ سفر کے دوران یہی احساس ہوتا ہے کہ ترکی کی خوبصورتی صرف اس کے تاریخی شہروں میں نہیں بلکہ ان شہروں کو آپس میں ملانے والے راستوں میں بھی پوشیدہ ہے۔
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم جمعہ کی نماز سے پہلے استنبول پہنچ گئے۔
بویوک چاملجا جامع مسجد — استنبول کی نئی عظیم الشان مسجد
ہماری منزل بویوک چاملجا جامع مسجد (Büyük Çamlıca Camii) تھی، جو استنبول کے ایشیائی حصے میں چاملجا پہاڑی پر واقع ہے۔
جیسے ہی ہم مسجد کے قریب پہنچے، اس کی عظیم الشان عمارت، بلند میناروں اور شاندار گنبد نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ مسجد کی وسعت اور فنِ تعمیر واقعی قابلِ دید ہے۔ یہاں پہنچ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جدید دور میں بھی ترکی نے اپنے روایتی اسلامی فنِ تعمیر کو کس خوبصورتی سے برقرار رکھا ہے۔
اس مسجد کا باقاعدہ افتتاح 3 مئی 2019ء کو ہوا۔ اسے ترکی کی سب سے بڑی مساجد میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کے پورے کمپلیکس میں تقریباً 63 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ اس کے چھ مینار ہیں اور اس کے ڈیزائن میں عثمانی اور سلجوقی فنِ تعمیر کے عناصر کو جدید طرز کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔
یہ صرف ایک مسجد نہیں بلکہ ایک وسیع ثقافتی مرکز بھی ہے، جس میں لائبریری، عجائب گھر، آرٹ گیلری اور دیگر سہولتیں موجود ہیں۔ مسجد کی بلند جگہ سے استنبول کے وسیع علاقے اور باسفورس کے خوبصورت مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ہم مسجد میں داخل ہوئے تو اس کی خوبصورتی، وسعت اور ترتیب نے بہت متاثر کیا۔ الحمدللہ، ہم نے وہاں نمازِ جمعہ ادا کی۔ سفر کے دوران کسی عظیم مسجد میں نماز ادا کرنے کی خوشی اپنی جگہ ہوتی ہے، لیکن جمعہ کے دن اتنی خوبصورت مسجد میں نماز پڑھنے کا تجربہ ہمارے لیے خاص طور پر یادگار رہا۔
نماز کے بعد ہم نے مسجد اور اس کے ماحول کو دیکھا، استنبول کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوئے اور پھر اگلی منزل، فاتح، کی طرف روانہ ہو گئے۔
فاتح میں دوپہر کا کھانا اور نمازِ عصر
فاتح استنبول کا ایک تاریخی علاقہ ہے، جس کا نام ہی سلطان محمد فاتح سے منسوب ہے۔ یہاں پہنچ کر ہم نے تقریباً ایک گھنٹے کا فارغ وقت لیا۔
دوپہر کے کھانے کے لیے ہم ایک شامی ریسٹورنٹ میں گئے اور وہاں لنچ کیا۔ سفر میں مختلف ممالک کے کھانوں کا تجربہ بھی اپنی جگہ ایک خوشگوار یاد بن جاتا ہے۔ کھانے کے بعد ہم فاتح مسجد پہنچے تاکہ نمازِ عصر ادا کر سکیں۔
مسجد میں پہنچے تو وہاں نمازِ جنازہ بھی ہو رہی تھی۔ ہم نے اس نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کی۔ یہ لمحہ انسان کو زندگی کی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ دنیا کا سفر عارضی ہے اور بالآخر ہر انسان کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔
نمازِ عصر کے بعد ہم سلطان محمد فاتح کے مزار پر حاضری دینے کے لیے روانہ ہوئے۔ اب ہم اس عظیم حکمران کی داستان کے قریب تھے جس نے کم عمری میں تاریخ کا رخ بدل دیا تھا۔
سلطان محمد فاتح — ایک کم عمر شہزادے سے فاتحِ قسطنطنیہ تک
سلطان محمد ثانی، جنہیں تاریخ میں محمد فاتح (Mehmed the Conqueror) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، 30 مارچ 1432ء کو پیدا ہوئے۔ وہ سلطان مراد ثانی کے بیٹے تھے اور عثمانی سلطنت کے سب سے مشہور حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ صرف 12 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ تختِ سلطنت پر بیٹھے۔
1444ء میں ان کے والد سلطان مراد ثانی نے اقتدار چھوڑ کر اپنے بیٹے کو سلطان بنا دیا۔ لیکن ایک کم عمر حکمران کے لیے اتنی بڑی سلطنت کے معاملات سنبھالنا آسان نہیں تھا۔ اندرونی سیاسی مسائل اور بیرونی خطرات بڑھنے لگے، خصوصاً یورپ کی جانب سے عثمانی سلطنت کو ایک نئے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
بالآخر 1446ء میں سلطان مراد ثانی دوبارہ اقتدار میں آگئے اور نوجوان محمد کو حکومت سے الگ کر کے منیسا بھیج دیا گیا۔
اس واقعے نے محمد کی شخصیت اور مستقبل کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے اپنے تجربات سے سیکھا، علم حاصل کیا اور فوجی و سیاسی معاملات کو سمجھنے کی کوشش جاری رکھی۔
1451ء میں سلطان مراد ثانی کے انتقال کے بعد محمد ثانی، تقریباً 19 سال کی عمر میں، دوبارہ سلطان بنے۔ اس مرتبہ ان کے سامنے ایک بہت بڑا مقصد تھا: قسطنطنیہ کی فتح۔
یہی وہ شہر تھا جو صدیوں سے بازنطینی سلطنت کا مرکز رہا تھا اور جسے مضبوط فصیلوں کی وجہ سے فتح کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا۔
قسطنطنیہ کی فتح — تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ
اس وقت قسطنطنیہ میں بازنطینی شہنشاہ قسطنطین یازدہم (Constantine XI Palaiologos) حکمران تھے۔
قسطنطنیہ کی جغرافیائی اہمیت غیر معمولی تھی۔ یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع تھا اور بحری تجارت کے اہم راستوں پر اس کی پوزیشن اسے سیاسی اور عسکری اعتبار سے بھی نہایت اہم بناتی تھی۔
سلطان محمد فاتح نے شہر کو فتح کرنے کے لیے محض فوجی طاقت پر انحصار نہیں کیا بلکہ ایک منظم منصوبہ تیار کیا۔
سب سے پہلے انہوں نے باسفورس کے یورپی کنارے پر رومیلی حصار (Rumeli Hisarı) تعمیر کروایا، تاکہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت پر نگرانی اور کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
اس کے بعد عثمانی فوج نے شہر کا محاصرہ شروع کیا۔ محاصرے کے دوران بڑی توپوں کا استعمال کیا گیا، جن سے قسطنطنیہ کی مضبوط فصیلوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ عثمانی فوج نے زمینی اور بحری دونوں محاذوں پر کارروائیاں کیں۔
اس مہم کا ایک نہایت دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ عثمانی فوج نے اپنے کچھ جہاز خشکی کے راستے لکڑی کے تختوں اور چکنا کیے گئے راستوں پر منتقل کر کے گولڈن ہارن (Golden Horn) کے اندر پہنچائے۔ اس حکمتِ عملی نے شہر کے دفاع کرنے والوں کو حیران کر دیا، کیونکہ انہوں نے اس سمت سے حملے کی توقع نہیں کی تھی۔
محاصرہ تقریباً 53 دن جاری رہا۔ بالآخر 29 مئی 1453ء کو عثمانی فوج شہر میں داخل ہو گئی اور قسطنطنیہ فتح ہو گیا۔
اس وقت سلطان محمد فاتح کی عمر صرف 21 سال تھی۔
یہ فتح صرف ایک فوجی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس نے خطے کی سیاسی تاریخ بدل دی۔ بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور قسطنطنیہ عثمانی سلطنت کا اہم دارالحکومت بن گیا۔ اسی کامیابی کی وجہ سے محمد ثانی کو تاریخ میں محمد فاتح کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔
فاتح مسجد — سلطان کی یادگار اور علم کا مرکز
قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے شہر کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی۔ انہی کے حکم سے فاتح مسجد (Fatih Mosque) اور اس کا وسیع کمپلیکس تعمیر کیا گیا۔
مسجد کی تعمیر 1463ء میں شروع ہوئی اور 1470ء میں مکمل ہوئی۔ یہ مسجد ایک ایسے مقام پر تعمیر کی گئی جہاں بازنطینی دور میں چرچ آف دی ہولی اپاسٹلز واقع تھا۔
فاتح مسجد کا کمپلیکس صرف عبادت گاہ پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں مدارس، ہسپتال، مہمانوں کے قیام کی جگہ، کتب خانے اور دیگر تعلیمی و فلاحی ادارے بھی شامل تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عثمانی دور میں ایک بڑی مسجد کو مذہبی عبادت کے ساتھ ساتھ تعلیم اور سماجی خدمت کا مرکز بھی بنایا جاتا تھا۔
1766ء کے تباہ کن زلزلے میں اصل مسجد کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ آج موجودہ عمارت میں اصل عثمانی منصوبے کی روایت برقرار ہے، اگرچہ اس کی تعمیراتی شکل میں بعد کے ادوار کے اثرات بھی شامل ہیں۔
ہم نے فاتح مسجد میں نمازِ عصر ادا کی، وہاں موجود نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور پھر سلطان محمد فاتح کے مزار پر حاضری دی۔
اس مقام پر کھڑے ہو کر یہ سوچنا اپنے اندر ایک خاص کیفیت رکھتا ہے کہ جس نوجوان نے 21 سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا، اسی کے نام سے آج استنبول کا ایک پورا تاریخی علاقہ پہچانا جاتا ہے۔ اس کی مسجد اور مزار ہمیں اس دور کی عظمت، سیاست، علم اور تاریخ کی یاد دلاتے ہیں۔
سلطان محمد فاتح کا انتقال 1481ء میں ہوا، لیکن ان کی فتوحات اور ان کے دور کے اثرات آج بھی تاریخ کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
ایک یادگار دن کا اختتام
فاتح مسجد اور سلطان محمد فاتح کے مزار پر حاضری کے بعد ہم نے اس تاریخی علاقے کا مشاہدہ کیا۔ اس دن ہم نے ایک طرف جدید ترکی کی عظیم الشان چاملجا جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی، اور دوسری طرف عثمانی سلطنت کے اس حکمران کی یادگار دیکھی جس نے قسطنطنیہ کی فتح کے ذریعے تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے درج کروا دیا۔
الحمدللہ، یہ دن ہمارے لیے عبادت، تاریخ اور سفر کے خوبصورت تجربات سے بھرپور تھا۔ استنبول کا یہ سفر ہمیں بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی شہر کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی عمارتیں دیکھنا کافی نہیں، بلکہ ان عمارتوں کے پیچھے چھپی داستانوں کو جاننا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنے، علم میں اضافہ کرنے اور ہر سفر کو خیر و عافیت کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ڈپریشن اور بربادیمفتی عبد الوہاب، لندنزندگی ہمیشہ طوفانوں سے نہیں اجڑتی، کبھی کبھی ایک خاموش اداسی، ایک مسلسل فکر، اور د...
27/10/2026

ڈپریشن اور بربادی
مفتی عبد الوہاب، لندن

زندگی ہمیشہ طوفانوں سے نہیں اجڑتی، کبھی کبھی ایک خاموش اداسی، ایک مسلسل فکر، اور دل میں پلنے والی نا امیدی بھی انسان کی پوری دنیا ویران کر دیتی ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ باقی رہتی ہے، لبوں پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر دل کے اندر ایک ایسی خاموش جنگ برپا ہوتی ہے جس کی خبر نہ کسی دوست کو ہوتی ہے، نہ کسی رشتے دار کو!

یہی وہ کیفیت ہے جسے آج کی دنیا میں ڈپریشن کہا جاتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر اداس شخص ڈپریشن کا شکار ہو، لیکن جب اداسی طویل ہو جائے، زندگی بے معنی محسوس ہونے لگے، نیند اور بھوک متاثر ہوں، دل کسی کام میں نہ لگے اور امید کے چراغ بجھنے لگیں، تو انسان کو محض نصیحت نہیں، بلکہ محبت، توجہ اور مناسب مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈپریشن کمزور ایمان کی علامت نہیں، اور نہ ہی یہ محض کمزور ارادے کا نام ہے۔ یہ ایک حقیقی ذہنی کیفیت ہے، جس کے پیچھے مختلف نفسیاتی، معاشرتی اور جسمانی عوامل ہو سکتے ہیں۔

افسوس! ہمارا معاشرہ ایسے انسان کو اکثر یہ کہہ کر خاموش کرا دیتا ہے: ’’اتنا کیوں سوچتے ہو؟‘‘، ’’تمہارے پاس تو سب کچھ ہے!‘‘
زبان سے اتنا کہنا کافی نہیں اسے کسی ایسے دل کی ضرورت ہوتی ہے جو اسکی بات سنے، کسی ایسے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سہارا دے، اور کسی ایسی آواز کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے یقین دلائے کہ تمہاری تکلیف حقیقی ہے، تم تنہا نہیں ہو، اور تمہاری زندگی اب بھی قیمتی ہے۔
ذرا سوچیے! ہم جسم کے زخم پر مرہم رکھتے ہیں، مگر دل کے زخم پر طنز کے نشتر چلاتے ہیں۔ کسی کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ دیکھ کر سہارا دیتے ہیں، مگر جب کسی کا حوصلہ ٹوٹ جائے تو اسے کمزور کہہ کر تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے معاشرتی شعور کی شکست نہیں؟
اسلام انسان کو زندگی کی مشکلات سے بے خبر نہیں رکھتا، بلکہ ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید غم زدہ دلوں کو امید کا پیغام دیتے ہوئے فرماتا ہے:
لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ
’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔‘‘

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ گناہوں کی کثرت ہو یا حالات کی سنگینی، زندگی کی ناکامیاں ہوں یا دل کے زخم، اللہ کی رحمت کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔
اور ایک مقام پر ارشاد ہے:
(فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا)
’’پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘

غور کریں قرآن یہ نہیں کہتا کہ زندگی میں کبھی مشکل نہیں آئے گی، پریشانی نہیں آئے گی، حالات کے کٹھن مراحل پیش نہیں آئیں گے، بلکہ یہ امید دلاتا ہے کہ مشکل آخری حقیقت نہیں ہے۔ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اسے صبح کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔
ہو سکتا ہے آپ کے گھر میں کوئی ایسا شخص موجود ہو جو بظاہر خاموش ہے، مگر اندر ہی اندر بکھر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کا کوئی دوست ہنستا تو ہو، مگر تنہائی میں آنسو بہاتا ہو۔ ہو سکتا ہے کسی نوجوان کے چہرے پر بے فکری دکھائی دیتی ہو، مگر اس کے دل میں ناکامیوں، مستقبل اور ذمہ داریوں کا ایک طوفان اٹھ رہا ہو۔
اس لیے کسی کے غم کو معمولی نہ سمجھیے، اس کی بات کا مذاق نہ اڑائیے، اور اسے اپنی تکلیف بیان کرنے پر شرمندہ نہ کیجیے۔
اس کے پاس بیٹھ جائیے، اس کی بات سنیے، اسے احساس دلائیے کہ وہ آپ کے لیے اہم ہے۔

کیونکہ کبھی کسی انسان کو بچانے کے لیے بڑے بڑے خطبوں کی نہیں، ایک نرم جملے، ایک مخلصانہ توجہ اور ایک بے غرض سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم کسی کی تکلیف کو سمجھنے سے انکار کر دیں، اسکی فریاد کو کمزوری سمجھیں اور اسکے زخموں پر نمک چھڑک کر آگے بڑھ جائیں۔
آئیں ہم ایسا معاشرہ بنائیں جہاں غم زدہ انسان کو شرمندہ نہ کیا جائے، جہاں پریشان دل کو صرف نصیحت نہیں بلکہ رفاقت بھی ملے، جہاں بیمار ذہن کا علاج بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کیا جائے جتنا بیمار جسم کا۔

اور اگر آپ خود اس کیفیت سے گزر رہے ہیں تو یہ بات دل میں بٹھا لیجیے: آپ کی موجودہ حالت آپ کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں، آپ کی ناکامی آپ کی پہچان نہیں، اور آپ کے آج کے اندھیرے آپ کے کل کی روشنی کو ختم نہیں کرتے۔
اپنے آپ کو وقت دیجیے، مدد طلب کرنے میں ہچکچائیے نہیں، اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیے۔

کیونکہ زندگی صرف ان دنوں کا نام نہیں جب ہم ہنستے ہیں، زندگی ان دنوں میں بھی ہمارے ساتھ ہوتی ہے جب ہم روتے ہیں، تھک جاتے ہیں اور کسی سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

اور شاید انسانیت کا سب سے خوب صورت چہرہ یہی ہے کہ جب کسی کی زندگی میں امید کا چراغ بجھنے لگے تو ہم اسے ملامت کرنے کے بجائے اپنے خلوص کی روشنی سے اس کے قریب بیٹھ جائیں۔
کیا معلوم، آپکا ایک محبت بھرا جملہ کسی کے لیے دوبارہ جینے کی وجہ بن جائے!

ہمارا سفرنامہ ترقی — قسط نمبر 3بورصہ کی تاریخی یادگاریں اور استنبول کی طرف روانگیالحمدللہ، ہمارا ترکی کا سفر جاری تھا۔ ہ...
27/10/2026

ہمارا سفرنامہ ترقی — قسط نمبر 3

بورصہ کی تاریخی یادگاریں اور استنبول کی طرف روانگی

الحمدللہ، ہمارا ترکی کا سفر جاری تھا۔ ہم نے رات بورصہ میں گزاری۔ مغرب کی نماز جامع مسجد میں ادا کرنے کے بعد ہوٹل میں چیک اِن کیا۔ اس کے بعد رات کے کھانے کے لیے نکلے۔ ہوٹل کے بالکل ساتھ ایک اچھا سا ریسٹورنٹ تھا۔ وہاں کھانا بھی اچھا تھا اور ریسٹورنٹ کے صاحب کا اخلاق بھی بہت عمدہ تھا۔ ایسے لوگ سفر کی یادوں کو مزید خوبصورت بنا دیتے ہیں۔

رات کے کھانے کے بعد ہم سلطان مراد اوّل کے مزار کی طرف روانہ ہوئے۔ سلطان مراد اوّل سلطنتِ عثمانیہ کے اہم حکمرانوں میں سے تھے۔ ان کا نام 1389ء کی جنگِ کوسوو کے حوالے سے تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے۔ مشہور تاریخی روایت کے مطابق میلوش اوبیلیچ (Miloš Obilić) نے جنگ کے دوران سلطان پر خنجر سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوئے۔ اس واقعے کی تفصیلات مختلف تاریخی روایات میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔

رات کو ہم نے ہوٹل میں قیام کیا۔ صبح جلدی اٹھے، ناشتہ کیا اور بورصہ کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔

گرین مسجد اور سلطان محمد اوّل کا مزار

صبح ہمارا پہلا پڑاؤ بورصہ کی مشہور گرین مسجد (Yeşil Camii) تھا۔ یہ مسجد عثمانی فنِ تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے، جس کی تعمیر پندرھویں صدی کے آغاز میں سلطان محمد اوّل، المعروف چلبی سلطان محمد، کے دور میں ہوئی۔ مسجد کی خوبصورت ٹائلیں، نفیس نقش و نگار اور عثمانی طرزِ تعمیر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

گرین مسجد سے الگ، اسی تاریخی علاقے میں سلطان محمد اوّل کا مزار (Yeşil Türbe) بھی واقع ہے۔ سلطان محمد اوّل نے 1402ء کی جنگِ انقرہ کے بعد عثمانی سلطنت کو دوبارہ متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہم نے ان کے مزار پر بھی حاضری دی۔ اس تاریخی علاقے کی بلندی سے بورصہ شہر کا خوبصورت نظارہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

بورصہ پینوراما میوزیم

گرین مسجد کی زیارت اور تاریخی علاقے کے مشاہدے کے بعد ہم بورصہ پینوراما میوزیم (Panorama 1326 Bursa Fetih Müzesi) پہنچے۔

میں نے دنیا کے مختلف ممالک میں بہت سے عجائب گھر دیکھے ہیں، لندن میں بھی، مصر میں بھی اور حال ہی میں توپ قاپی پیلس کے تاریخی ذخیرے کا بھی مشاہدہ کیا۔ ہر میوزیم کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، چاہے وہ تاریخی نوادرات ہوں یا تاریخ کو پیش کرنے کا منفرد انداز۔

بورصہ کا پینوراما میوزیم بھی بہت خوبصورت اور منفرد ہے۔ یہاں 1326ء میں بورصہ کی فتح کو ایک وسیع، 360 درجے کے پینوراما میں پیش کیا گیا ہے۔ اس منظرکشی کے ذریعے دیکھنے والا خود کو تاریخ کے درمیان محسوس کرتا ہے۔ میوزیم میں بورصہ کی تاریخ اور اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

میرے نزدیک کسی میوزیم کی اصل اہمیت یہی ہوتی ہے کہ وہ تاریخ کو محض دکھاتا نہیں بلکہ اسے سمجھنے اور محسوس کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہم نے وہاں وقت گزارا، مختلف مناظر دیکھے اور بورصہ کی تاریخ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔

بورصہ سے استنبول کی طرف روانگی

اس طرح بورصہ میں ہمارا قیام مکمل ہوا۔ اس تاریخی شہر نے ہمیں سلطنتِ عثمانیہ کے ابتدائی دور، اس کے حکمرانوں اور خوبصورت فنِ تعمیر کی بہت سی یادیں دیں۔

اب ہمارا اگلا سفر استنبول کی طرف تھا۔ ہماری پوری کوشش تھی کہ جمعہ کی نماز سے پہلے وہاں پہنچ جائیں تاکہ استنبول کی نئی عظیم الشان جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہو سکے۔

الحمدللہ، ہم بورصہ سے استنبول کی طرف روانہ ہوئے۔ استنبول میں ہمارا قیام، وہاں کی عظیم مساجد، سلطان محمد فاتح کی یادگاریں اور دیگر تاریخی مقامات کی تفصیلات ان شاء اللہ اگلی قسط میں آپ کے ساتھ شیئر کریں گے۔

26/10/2026

Discover Chefchaouen, Morocco’s Blue City 💙🇲🇦. Watch the full video on our YouTube channel.

مذہبی شخصیات، مالیاتی ادارے اور عوام کا اعتمادمفتی عبدالوہاب جب کسی مفتی، عالم، شیخ یا معروف اسلامی اسکالر کو کسی مالیات...
26/10/2026

مذہبی شخصیات، مالیاتی ادارے اور عوام کا اعتماد
مفتی عبدالوہاب

جب کسی مفتی، عالم، شیخ یا معروف اسلامی اسکالر کو کسی مالیاتی ادارے، انویسٹمنٹ کمپنی یا خیراتی تنظیم کے پروگرام میں مدعو کیا جاتا ہے، تو اس شرکت کے اثرات صرف اسٹیج تک محدود نہیں رہتے؛ وہ عوام کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عام آدمی کسی معروف عالم کو دیکھ کر ادارے کے بارے میں اعتماد قائم کر لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر اتنی بڑی مذہبی شخصیت اس پروگرام میں شریک ہے تو یقیناً یہ ادارہ قابلِ اعتماد ہوگا۔ حالانکہ کسی پروگرام میں شرکت، کسی ادارے کی تشہیر اور اس کے مالیاتی یا شرعی معاملات کی مکمل توثیق، تین الگ الگ چیزیں ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی شخصیات کو اپنی سماجی ذمہ داری کا زیادہ احساس کرنا چاہیے۔

کسی مالیاتی ادارے یا انویسٹمنٹ کمپنی کے لیے معروف عالم کی شرکت محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ایک مؤثر مارکیٹنگ حکمتِ عملی بھی بن سکتی ہے۔ ایک معروف شخصیت کی موجودگی ادارے کو وہ اعتماد فراہم کر سکتی ہے جو عام اشتہار سے حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی معاملہ خیراتی اداروں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، جہاں کسی ممتاز عالم کی شرکت عطیات جمع کرنے اور ادارے کی ساکھ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ علماء ایسے پروگراموں میں شریک کیوں ہوتے ہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اس بات کا پورا احساس ہوتا ہے کہ ان کی موجودگی کو عوام کس معنی میں لے سکتے ہیں؟

یہ بھی ضروری ہے کہ کسی تقریب میں شرکت کو خود بخود کسی غلط مقصد کی علامت نہ سمجھا جائے۔ بہت سے پروگرام حقیقی علمی، فلاحی اور سماجی مقاصد کے لیے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ لیکن نیک مقصد کا دعویٰ کسی ادارے کو مالی شفافیت اور جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔

کسی ممتاز عالم کو مدعو کرنے کے لیے سفر، رہائش اور دیگر اخراجات برداشت کیے جا سکتے ہیں۔ یہ انتظامات بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن ان کی نوعیت اور ادائیگی میں شفافیت ہونی چاہیے، خصوصاً جب تقریب کا تعلق عوام سے چندہ جمع کرنے، سرمایہ کاری کی تشہیر یا کسی مالیاتی سروس پر اعتماد قائم کرنے سے ہو۔ عوام کو یہ سمجھنے کا حق ہے کہ ایک مذہبی شخصیت کس حیثیت سے شریک ہے، اس کی شرکت کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے، اور کیا اس کا ادارے کے ساتھ کوئی مالی یا کاروباری تعلق بھی ہے۔

سرمایہ کاری کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ شرعی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کی کوشش اپنی جگہ اہم ہے، لیکن شرعی مطابقت منافع کی ضمانت نہیں ہوتی۔ سرمایہ کم بھی ہو سکتا ہے، مارکیٹ میں نقصان بھی ہو سکتا ہے، اور بعض اوقات لوگوں کو اپنی توقعات کے برعکس نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سرمایہ لگانے سے پہلے خطرات، فیس، سرمایہ کاری کے طریقۂ کار اور ذمہ داریوں کو کتنی وضاحت سے بیان کیا گیا تھا۔

عوامی اعتماد کو قائم رکھنا صرف مالیاتی اداروں کی ذمہ داری نہیں؛ مذہبی شخصیات پر بھی ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ کسی ایسے ادارے کی تقریب میں شرکت سے پہلے اس کے مقصد، مالیاتی طریقۂ کار، ساکھ اور اپنی شرکت کے ممکنہ اثرات کا مناسب جائزہ لیں۔ اگر ان کا نام یا تصویر تشہیر کے لیے استعمال ہو سکتی ہو، تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ان کی حمایت دراصل کس چیز کے لیے ہے اور اس کی حدود کیا ہیں۔

اسی طرح مالیاتی اداروں اور خیراتی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ مذہبی شخصیات کی شہرت کو عوامی اعتماد حاصل کرنے کا آسان ذریعہ نہ سمجھیں۔ اگر کسی ادارے کا مقصد درست ہے تو اسے اپنے حسابات، انتظامی ڈھانچے، سرمایہ کاری کے خطرات اور مالی مفادات کے بارے میں شفافیت سے کام لینا چاہیے۔ اعتماد صرف بڑے ناموں سے نہیں، قابلِ تصدیق معلومات اور جواب دہی سے پیدا ہوتا ہے۔

پاکستان سمیت مختلف معاشروں میں ایسے مالیاتی اور چندہ جمع کرنے کے معاملات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں لوگوں نے اعتماد کی بنیاد پر رقم دی، مگر بعد میں انہیں نقصان یا مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی تاریخی تجربات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کسی معروف شخصیت کی موجودگی کو مالی تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس تحریر کا مقصد کسی مفتی، عالم، شیخ، اسکالر، مالیاتی ادارے یا خیراتی تنظیم پر الزام لگانا نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ مذہبی احترام اور مالیاتی فیصلوں کے درمیان ایک واضح حد قائم رہے۔ علماء کا مقام اپنی جگہ محترم ہے، مگر ان کی شرکت کو کسی ادارے کی مکمل مالیاتی جانچ کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ اسی طرح عوام کو بھی چاہیے کہ وہ چندہ دینے یا سرمایہ کاری کرنے سے پہلے ضروری سوالات پوچھیں اور دستاویزات دیکھیں۔

مذہب اعتماد پیدا کرتا ہے، لیکن اس اعتماد کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ کسی عالم کی موجودگی سے متاثر ہونا فطری بات ہے؛ اپنی جمع پونجی کا فیصلہ تحقیق، شفافیت اور سمجھ بوجھ کی بنیاد پر کرنا دانش مندی ہے۔

آخرکار، اصل مقصد علماء کی عزت کم کرنا یا کسی ادارے کی نیت پر فیصلہ صادر کرنا نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد کی حفاظت کرنا ہے۔ کیونکہ جب مذہبی اعتماد اور مالی معاملات ایک ہی جگہ جمع ہوں تو احتیاط، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

Address

16 Village Way East
Harrow
HA27LU

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Wahab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Abdul Wahab:

Shortcuts

Share