Islam is the greatest

Islam is the greatest

Share

Assalam-o-alaikum! my aim to spread the islam towards all of u. i hope u will be coperated with me.

Mobile uploads 03/12/2014
02/10/2014

PARA 2ND :
PAGE NO : 22
بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے (۲۴۶) اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے (۲۴۷) اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے (۲۴۸) غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے (۲۴۹)

28/02/2014

jo namaz nae parhta deen islam main uska koi hissa nae.

28/12/2013

PAGE NO:21
اور سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے کچھ کچھ فائدہ پہنچانا (مقرر ہے) قاعدہ کے موافق (اور یہ) مقرر ہوا ہے ان پر جو (شرک و کفر سے) پرہیز کرتے ہیں۔ (۲۴۱) اسی طرح حق تعالیٰ تمھارے لیے اپنے احکام بیان فرماتے ہیں اسی توقع پر کہ تم سمجھو (اور عمل کرو)۔ (۲۴۲) (اے مخاطب)تجھ کو ان لوگوں کو قصّہ تحقیق نہیں ہوٴا جو اپنے گھروں سے نکل گئے تھے اور وہ لوگ ہزاروں ہی تھے موت سے بچنے کے لیے سو الله تعالیٰ نے ان کے لیے (حکم) فرمادیا کہ مرجاوٴ (سب مرگئے) پھر ان کو جِلادیا بےشک الله تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں کے (حال پر) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ (۲۴۳) (اس قصّہ میں غور کرو) اور الله کی راہ میں قتال کرو اور یقین رکھو اسبات کاکہ الله تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں۔ (۲۴۴) کوں شخص ہے (ایسا ) جو الله تعالیٰ کو قرض دے اچھے طور پر قرض دینا پھر الله تعالیٰ اس (کے ثواب) کو بڑھاکر بہت سے حصے کر دیوے اور الله کمی کرتے ہیں اور فراخی کرتے ہیں اور تم اسی کی طرف (بعد مرنے کے) لیجائے جاوٴگے۔ (۲۴۵) (ا

23/12/2013

PAGE NO : 20
محافظت کرو سب نمازوں کی (عموماً) اور درمیان والی نماز کی (خصوصاً) اور کھڑے ہوا کرو الله کے سامنے عاجز بنے ہوئے۔ (۲۳۸) پھر اگر تم کو اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے (پڑھ لیا کرو) پھر جب تم کو اطمینان ہوجاوے تو تم خدا تعالیٰ کی یاد اس طریق سے کرو کہ جو تم کو سکھلایا ہے جس کو تم نہ جانتے تھے۔ (۲۳۹) اور جو لوگ وفات پاجاتےہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیبیوں کووہ وصیت کرجایا کریں اپنی ان بیبیوں کے واسطے ایک سال تک منتفع ہونے کی اس طور پر کہ (وہ گھر سے) نکالی نہ جاویں ہاں اگر خود نکل جاویں تو تم کوکوئی گناہ نہیں اس قاعدہ کی بات میں جس کو وہ اپنے بارے میں کریں اور الله تعالیٰ زبردست ہیں (اور)حکمت والے ہیں۔ (۲۴۰)

21/12/2013

PAGE NO:19
تم پر (مہر کا) کوئی موٴاخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لیے کچھ مہر مقرر کیا ہے اور (صرف) ان کو (ایک) فائدہ پہنچاوٴ صاحب وسعت کے ذمہ اسکی حیثیت کے موافق ہے اور تنگدست کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے ایک خاص قسم کا فائدہ پہنچانا جو قاعدہ کے موافق واجب ہے خوش معاملہ لوگوں پر۔ (۲۳۶) اور اگر تم ان بیبیوں کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاوٴ اور ان کے لیے کچھ مہر بھی مقرر کر چکے تھے تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا نصف (واجب ہے) مگر یہ کہ وہ عورتیں (اپنا نصف) معاف کردیں یا یہ کہ وہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق (رکھنااور توڑنا) ہے اور تمھارا معاف کردینا (بہ نسبت وصول کرنے کہ ) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو بلاشبہ الله تعالیٰ تمھارے سب کاموں کو خوب دیکھتے ہیں۔ (۲۳۷)

09/09/2013

PAGE NO:18اور جب تم نے عورتوں کو (ر جعی) طلاق دی (ہو) پھر وہ اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جاویں تو یا تم ان کو قاعدے کے مواقف (رجعت کرکے) نکاح میں رہنے دو یا قاعدے کےمواقف ان کو رہائی دو۔ اور ان کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے مت رکھو اور اس ارادہ سے کہ ان پر ظلم کیا کروگے اور جو شخص ایسا (برتاوٴ) کرے گا سو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور حق تعالیٰ کے احکام کو لہو و لعب(کی طرح بے وقعت) مت سمجھو اور حق تعالیٰ کی جو تم پر نعمتیں ہیں ان کو یادکرو (خصوصاً) اس کتاب اور (مضامینِ) حکمت کو جو الله تعالیٰ نے تم پر اس حیثیت سے نازل فرمائی ہیں کہ تم کو ان کے ذریعہ سے نصیحت فرماتے ہیں اور الله تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ الله تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ (۲۳۱) اور جب تم (میں ایسے لوگ پائے جائیں کہ وہ) اپنی بیبیوں کو طلاق دیدیں پھر وہ عورتیں اپنی میعاد (عدت)بھی پوری کرچکیں۔ تو تم ان کو اس امر سے مت رو کو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جبکہ باہم سب رضامند ہوجاویں قاعدے کے موافق اس (مضمون) سے نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو کہ تم میں سے الله تعالیٰ پر اور روزِقیامت پر یقین رکھتا ہو۔ یہ (اس نصیحت کا قبول کرنا) تمھارے لیے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور الله تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔ (۲۳۲) اور مائیں اپنے بچوں کو دوسال کامل دودہ پلایا کریں۔یہ (مدت) اس کے لیے ہے جو کوئی شیر خوار گی کی تکمیل کرنا چاہے اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے ذمہ ہے اُن (ماوٴں) کا کھانا اور کپڑا قاعدے کے موافق کسی شخص کو حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق کسی ماں کو تکلیف نہ پہنچانا چاہیے اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ کِسی باپ کو تکلیف دینی چاہیے اس کے بچہ کی وجہ سے اور مثل طریق مذکور کے اس کے ذمہ ہے جو وارث ہو پھر اگر دونوں دودہ چھڑانا چاہیں اپنی رضامندی اور مشورہ سے تو دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اگر تم لوگ اپنے بچوں کو (کسی اور انّا کا) دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ ان کہ حوالہ کردو جو کچھ ان کو دینا کیا ہے قاعدہ کے موافق۔ اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ حق تعالیٰ تمھارے کیے ہوئے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں۔ (۲۳۳) اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی میعاد (عدت) ختم کرلیں تو تم کو کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لیے کچھ کاروائی (نکاح کی) کریں قاعدے کے موافق اور الله تعالیٰ تمھارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں۔ (۲۳۴) اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو ان مذکورہ عورتوں کو پیغام (نکاح) دینے کے بارے میں کوئی بات اشارةً کہو یا اپنے دل میں (ارادہٴ نکاح کو) پوشیدہ رکھو الله تعالیٰ کو یہ بات معلام ہے کہ تم ان عورتوں کا (ضرور) زذکر مذکور کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہٴ خفیہ(اور گفتگو) مت کرو مگر یہ کہ کوئی بات قاعدے کے موافق کہو اور تم تعلق نکاح کا (فی الحال) ارادہ بھی مت کرو یہاں تک کہ عدت مقررہ اپنی ختم کو پہنچ جاوے اور یقین رکھو اس کا کہ الله تعالیٰ کو تمھارے دلوں کی بات کی اطلاع ہے سو الله تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ الله تعالیٰ معاف بھی کرنے والے ہیں حلیم بھی ہیں۔ (۲۳۵)

02/09/2013

PAGE NO:17
وہ طلاق دو مرتبہ (کی) ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ اور تمھارے لیے یہ بات حلال نہیں کہ (چھوڑنے کے وقت) کچھ بھی لو (گو) اس میں سے (سہی) جو تم نے ان کو (مہر میں) دیا تھا مگر یہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہوکہ الله تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ کرسکیں گےسو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہوکہ وہ دونوں ضوابطِ خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اُس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دےکر عورت اپنی جان چھڑالے۔ یہ خدائی ضابطے ہیں سو تم ان سے باہر مت نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے سو ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں۔ (۲۲۹) پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دیدے عورت کو تو پھر وہ اُس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے پھر اگر یہ اس کو طلاق دیدےتو ان دونوں پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ بدستور پھر مل جاویں بشرطیکہ دونوں غالب گمان رکھتے ہوں کہ (آئندہ) خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں۔ (۲۳۰)

06/08/2013

PAGE NO:16
اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے (۲۲۲) تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو (۲۲۳) اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (۲۲۴) خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے (۲۲۵) جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۶) اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے (۲۲۷) اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

05/08/2013

PAGE NO:15
جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے (۲۱۸) (اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (۲۱۹) (یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو)۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے (۲۲۰) اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں ...

Want your business to be the top-listed Government Service in Athens?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Athens
12131