05/10/2024
نورِ قرآن 57
اُحد میں شکست کا فائدہ
_____________________________________
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان لوگوں کی بات مانو گے جنہوں نے کفر کیا ہے، تو وہ تم کو اُلٹے پاؤں پھیر دیں گے، پھر تم نقصان اٹھاتے ہوئے لوٹوگے۔ (149) بلکہ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔ (150) ہم عنقریب اُن لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے جنہوں نے کفر کیا ہے، اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ اورظالموں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے۔ (151) اور یقیناً اللہ نے تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، جب تم ان کو اس کی اجازت سے نیست و نابود کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور تم نے حکم کے بارے میں آپس میں جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تم کو وہ چیز دکھا دی تھی جسے تم پسند کرتے تھے۔ تم میں سے کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور تم میں سے کچھ آخرت کے طلب گار تھے۔ تب اس نے تم کو ان کے مقابلہ میں پسپا کر دیا، تاکہ تم کو آزمائے۔ اور بے شک اس نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ (152) جب تم چڑھے چلے جارہے تھے، اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہے تھے۔ تو اس نے تم کو غم پر غم پہنچایا، تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس پر جو تمھارے ہاتھ سے نکل گیا اور نہ اس مصیبت پر جو تمہیں پہنچی۔ اور اللہ اس کی پوری خبر رکھنے والا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (153) پھر اس نے تم پر غم کے بعد ایک امن نازل فرمایا، ایک ایسی اونگھ، جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی۔ اور کچھ لوگ وہ تھے جن کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔ وہ اللہ کے بارے میں ناحق گمان کر رہے تھے، جاہلیت والے گمان۔ وہ کہتے تھے، کیا اس معاملے میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے؟ کہہ دو، بے شک سارا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو وہ تمہارے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں، اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ بھی اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ دو، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا لکھا جا چکا تھا، وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کے رہتے۔ یہ اس لئے ہوا کہ اللہ اسے آزما لے جو تمہارے سینوں میں ہے، اور اسے صاف کر دے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی بات کو۔ (154) بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں آپس میں ٹکرائی تھیں، شیطان نے ان کو پھسلا دیا تھا، ان کے بعض کاموں کی وجہ سے۔ اور بے شک اللہ نے ان کو معاف کر دیا ہے۔ یقیناً اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے۔ (155)
سورہ : آل عمران .... رکوع: 16 .... آیت: 149- 155.... پارہ: 4
جنگ اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مشرکین و منافقین کہنے لگے کہ مسلمانوں کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے ان کے ساتھ ہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بدر کے بعد اس بار بھی کامیاب ہوجاتے مگر یہ تو بس دنیا کی تدبیریں ہیں، کبھی وہ آگے تو کبھی ہم آگے۔ اس کا خدائی تقدیر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں غزوہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ بدر کی طرح احد میں بھی تم ابتدائی مرحلوں میں جنگ جیت ہی رہے تھے مگر تمہاری جماعت کے کچھ لوگوں نے رسولؐ کا حکم ماننے میں کوتاہی کی تو اللہ نے تمہیں سبق سکھانے کیلئے اور تمہارے عقائد و اعمال کو بہتر بنانے کیلئے تمہاری فتح کو شکست سے بدل دیا۔ یہ کوئی عذاب الٰہی نہیں ہے بلکہ محض ایک ابتلا و آزمائش ہے جس سے تم کو اس لئے دوچار کیا گیا ہے تاکہ تم آئندہ اللہ و رسولؐ کی نافرمانی سے بچو۔ تو جو لوگ اُحد کی ناکامی کی وجہ سے بے تکی باتیں بنارہے ہیں ان کی طرف توجہ مت دو۔ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اللہ ہی تمہارا مولا و مددگار ہے۔ اللہ بہت جلد کافروں کے دلوں میں پھر سے تمہاری ہیبت اور تمہارا رعب ڈال دے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس شکست سے ملنے والے سبق کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی بھی جنگ میں اللہ کے رسولؐ کی نافرمانی کا تصور تک نہیں کیا اور اللہ و رسولؐ کی مکمل اطاعت کے ساتھ مسلمانوں کی کامیابیوں کا سلسلہ دراز ہوتے ہوئے فتح مکہ اورغلبۂ اسلام تک پہنچ گیا۔ یہاں اس رکوع میں بہت وضاحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو غم پر غم سے کیوں دوچار کیا اور یہ کتنا بڑا صدمہ تھا کہ جیتی ہوئی جنگ مسلمان ہارنے لگے اور اسی کے ساتھ یہ خبر بھی پھیل گئی کہ اب اللہ کے رسولؐ بھی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ مگر اس مرحلۂ غم میں بھی اللہ نے اپنے نیک بندوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ وہ انہیں ایسی نیند سلاتا رہا جو ان کیلئے امن و اطمینان کا سبب بنے اور وہ پھر سے تازہ دم ہوکر حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوسکیں، البتہ ان لوگوں کی نیند اڑگئی جن کے دلوں میں بیماری تھی اور وہ لوگ بھی اس جنگ میں پہچان لئے گئے جن کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا تھا اور وہ صرف زبانی اسلام کا دعویٰ کرتے پھرتے تھے۔ بلاشبہ اللہ اپنے بندوں بڑا رحم فرمانے والا، ان کے گناہوں کو بخشنے والا اور لگاتار ان کی مدد فرمانے والا ہے۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(4اکتوبر 2024 )
26/04/2024
نورِ قرآن 35
کرسی ِ الٰہی اور ارض و سماوات
_________________________________________
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اس میں سے خرچ کرو جو کچھ ہم نے تم کو رزق دیا ہے ، اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ کوئی سودا ہوگا اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی سفارش چلے گی، اور کافر لوگ ہی ظالم ہیں۔ (254) اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ جاوید ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے، اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے، وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں ہے، اور وہ سب سے اعلیٰ ہے، بڑی عظمت والا ہے۔ (255) دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، بہت اچھی طرح واضح کردی گئی ہے سمجھ داری ناسمجھی سے، تو جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان رکھے تو اس نے مضبوط کڑا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے، اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (256) اللہ ان لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لائے، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اولیاء طاغوت ہیں، وہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ (257)
سورہ : بقرہ .... رکوع: 34 .... آیت: 254- 257 .... پارہ: 3
یہاں پہلی آیت میں انفاق کا حکم دیتے ہوئے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تم کو جس مال سے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے وہ تمہارا اپنا نہیں بلکہ اسی خدا کا بخشا ہوا ہے اور اس میں سے بھی تم کو پورا نہیں بلکہ حسب توفیق ہی خرچ کرنا اور اس سے ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تم کو رزق عطا کیا پھر وہ تم کو اس لئے اس میں سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ وہ ثواب کما سکو جو قیامت کے دن تمہارے کام آئے، ایک ایسے دن میں جہاں ثواب کے سوا کوئی دوسری چیز کسی کے کچھ کام نہیں آئے گی۔ اس دنیا میں تو تم لین دین، دوستی رشتہ داری اور سفارش و شفاعت کے ذریعہ اپنا کام نکال بھی لیتے ہو آخرت میں یہ چیزیں بھی نافرمانوں کے کام آنے والی نہیں ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کا دیا ہوا مال اس کی رضا کیلئے خرچ کرو تاکہ کل قیامت کے دن نقصان کے بجائے نفع اٹھانے والے بن سکو۔
دوسری آیت ’آیة الکرسی‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں اللہ جل شانہٗ کی عظمت وجلالت کا نہایت صاف لفظوں میں بیان ہوا ہے۔ کرسی کا لفظ حکومت و اقتدار کی تعبیر کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے، مطلب یہ کہ اللہ کی حکومت پوری کائنات میں ہے۔ وہی اکیلا خالق و مالک ہے، وہی تنہا معبود برحق ہے، اس نے پوری کائنات کو سنبھال رکھا ہے اور وہ ایک لمحہ کیلئے بھی اس سے غافل نہیں ہوتا ہے۔ وہ اپنے فیصلوں کیلئے کسی کی معلومات یا شفاعت کا محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ سب کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ اس کے سوا اگر کوئی کچھ جانتا ہے تو وہ بس اتنا ہی ہے جتنا اس نے بتانا چاہا ہے۔
یہاں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ اس کو تو اپنی خوشی سے قبول کرنا ہے۔ جہاں تک بات سمجھ داری اور عقل مندی کی ہے تو وہ پوری طرح واضح کردی گئی ہے۔ اب جو اللہ کا سہارا پکڑے گا اس نے ایسا سہارا پکڑ لیا جو کبھی ٹوٹنے اور چھوٹنے والا نہیں ہے۔ اللہ اپنے ماننے والوں کا سرپرست و رہنما ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کو اندھیروں میں بھٹکنے نہیں دیتا، وہ ان کو اس روشنی کی طرف لے آتا ہے جو ان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(26اپریل 2024 )
19/04/2024
نورِ قرآن 34
طالوت، جالوت اور داؤد
_________________________________________
پھر جب طالوت لشکر کو لے کرنکلا تو اس نے کہا، بے شک اللہ تمہیں ایک نہر کے ذریعے آزمانے والا ہے چنانچہ جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں اور جو اس کو نہیں چکھے گا تو بے شک وہ میرا ساتھی ہے، سوائے اس کے کہ کوئی ایک چلو بھر پانی اپنے ہاتھ سے لے۔ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس سے خوب پیا۔ پھر جب وہ اورجو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے نہر کے پار ہوگئے تو انہوں نے کہا، آج ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا، کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ ئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (249) اور جب جالوت اور اس کی فوجوں سے ان کا سامنا ہوا تو انہوں نے دعا کی، اے ہمارے رب ! ہم پر صبرانڈیل دے اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافر قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ (250) تو انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اس کو بادشاہت اور حکمت عطا کی اور اس کو علم بھی عطا فرمایا جتنا اس نے چاہا ۔اور اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کے ذریعہ بعض کو دفع نہ کرتا رہتا تو زمین یقیناً فساد سے بھر جاتی، لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ (251) یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ کو حق کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ (252) یہ سب رسول ہیں، ان میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور بعض کو اس نے درجات میں بلند کیا، اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح نشانیاں دیں اور روح القدس سے ہم نے اس کی تائید کی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد کے لوگ آپس میں نہ لڑتے، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آچکی تھیں ، لیکن انہوں نے اختلاف کیا، تو ان میں سے کوئی ایمان لایا اور ان میں سے کسی نے کفر کیا، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (253)
سورہ : بقرہ .... رکوع: 33 .... آیت: 249- 253 .... پارہ: 2/3
جب اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر فرمادیا اور سموئیل نبی نے بالآخر بنی اسرائیل کے سرداروں کو ان کی بادشاہت اور قیادت پر رضامند کرلیا تو اب وہ فلسطینی لشکر کے مقابلے کیلئے آگے بڑھے مگر طالوت نے جنگ سے قبل اپنے ساتھیوں کا امتحان لیا۔ اس امتحان میں زیادہ تر لوگ ناکام ہوگئے اور انہوں نے اس لشکر سے لڑائی کرنے سے انکار کردیا جس کا سردار جالوت نامی انتہائی مشہور اور خطرناک آدمی تھا۔ تورات میں اس کا نام جاتی جولیت آیا ہے۔ جو اللہ پر ایمان رکھنے والے تھے انہوں نے کہا کہ تعداد اصل چیز نہیں ہے، اصل چیز اللہ پر ایمان ہے۔ جب کوئی جماعت اللہ کا نام لے کر میدان جنگ میں اترتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے اذن سے ان کو کامیابی عطا فرماتا ہے اور ایسا بہت مرتبہ ہوا ہے۔ یہی بات بعد میں مسلمانوں کے حق میں بھی سامنے آئی جب وہ قلیل جماعت کے ساتھ قریش کے مقابلہ میں میدان بدر میں اترے تو اللہ نے ان کو اسی طرح فتح و نصرت سے نوازا جس طرح طالوت کی فوج کو جالوت کے مقابلے میں کامیابی عطا فرمائی۔
اس مقابلے کی خاص بات یہ تھی کہ اللہ نے اس میدان جنگ میں نوجوان داؤد کے ہاتھوں ظالم جالوت کو جہنم رسید کیا اور بعد میں ان کو مزید علم و حکمت اور قوت و بادشاہت عطا فرمائی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ”اور اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کے ذریعہ بعض کو دفع نہ کرتا رہتا تو زمین یقیناً فساد سے بھر جاتی، لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔“ یعنی بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کے ذریعہ برے لوگوں کا خاتمہ کرتا ہے اور دنیا والوں کو ان کے شر و فساد سے نجات دیتا ہے۔
اخیر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے دنیا میں بہت سارے رسولوں کو بھیجا ہے اور ان میں سے بعض کو بعض پر ایسی فضیلت دی ہے جو صرف انہی کی خصوصیت تھی۔ اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ دنیا میں جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں اور کفر و انکار کی روش پر گامزن ہیں اس میں بھی اللہ کی مرضی اور حکمت شامل ہے، اگر اللہ ان کو اس کیلئے چھوٹ نہ دیتا تو وہ ہرگز خدا کی دنیا میں خدا کی نافرمانی کا کوئی بھی کام نہیں کرسکتے تھے۔ ”لیکن اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے“۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(19 اپریل 2024 )
14/04/2024
Noor-e-Quran 34
Taloot, Jaloot aur Dawud
Phir jab Taloot lashkar ko le kar nikla to us ne kaha, be shak Allah tumhein ek nahar ke zariye aazmane wala hai, chunancha jis ne us mein se pani pi liya wo mera sathi nahi aur jo us ko nahi chakhe ga to be shak wo mera sathi hai, siwae iske keh koi ek chulloo bhar pani apne hath se le. To un mein se thode logon ke siwa sab ne us se khoob piya. Phir jab wo aur jo us ke sath iman laye the nahar ke paar ho gaye to unho ne kaha, aaj hum mein Jaloot aur us ki faujon ka muqabla karne ki taqat nahi. Jo log ye guman rakhte the ke wo Allah se mulaqat karne wale hain. Unho ne kaha, kitni hi chhoti jamaten hain jo Allah ke hukm se badi jamaton par ghalib aayi hain. Aur Allah sabr karne walon ke sath hai. (249) Aur jab Jaloot aur us ki foaujon se un ka samna hua to unho ne dua ki, ae hamare Rab! Hum par sabr undel de aur hamein saabit qadam rakh aur kafir qauum ke muqabla mein hamari madad farma. (250) To unho ne Allah ke hukm se unhein shikast di aur Dawud ne Jaloot ko qatl kar diya aur Allah ne us ko badshahat aur hikmat ata ki aur us ko ilm bhi ata farmaya jitna us ne chaha. Aur agar Allah logon mein se baaz ke zariye baaz ko dafa na karta rehta to zameen yaqinan fasad se bhar jati, lekin Allah dunya walon par bada fazl farmane wala hai. (251) Ye Allah ki aayaten hain jo hum aap ko haq ke sath parh kar sunate hain aur be shak aap rasoolon mein se hain. (252) Ye sab rasool hain, in mein se baaz ko hum ne baaz par fazilat di hai. In mein wo bhi hain jin se Allah ne kalaam kiya aur baaz ko us ne darajaat mein buland kiya, aur hum ne Isa ibn Maryam ko waazeh nishaniyan di hain aur Rooh ul-Qudus se hum ne us ki taeed ki. Aur agar Allah chahta to in ke baad ke log aapas mein na ladte, is ke baad keh in ke paas waazeh nishaniyan aa chuki thin, lekin unho ne ikhtilaf kiya, to un mein se koi iman laya aur un mein se kisi ne kufr kiya, aur agar Allah chahta to wo aapas mein na ladte, lekin Allah karta hai jo Wo chahta hai. (253)
Surah: Baqarah .... Ruku: 33 .... Aayat: 249- 253 .... Para: 2/3
Jab Allah Ta'ala ne Taloot ko Bani Israel ka badshah muqarrar farma diya aur Samuel Nabi ne bilaakhir Bani Israel ke sardaron ko un ki badshahat aur qiyadat par razamand kar liya to ab woh Filistini lashkar ke muqable ke liye aage badhe magar Taloot ne jung se qabl apne sathiyon ka imtehan liya. Is imtehan mein zyadatar log naakam ho gaye aur unhon ne is lashkar se ladaai karne se inkar kar diya jis ka sardar Jaloot naam ka intehai mashhoor aur khatarnak aadmi tha. Taurat mein is ka naam Goliath aya hai. Jo Allah par iman rakhne wale the unhon ne kaha ke tadad asal cheez nahi hai, asal cheez Allah par iman hai. Jab koi jamat Allah ka naam le kar maidan-e-jung mein utarti hai to Allah Ta'ala apne izn se un ko kamyabi ata farmata hai aur aisa bohat martaba hua hai. Yehi baat baad mein musalmanon ke haq mein bhi samne aayi jab woh qaleel jamat ke sath Quraish ke muqabla mein maidan-e-Badr mein utre to Allah ne un ko isi tarah fath o nasrat se nawaza jis tarah Taloot ki fouj ko Jaloot ke muqable mein kamyabi ata farmayi.
Is muqable ki khaas baat yeh thi ke Allah ne is maidan-e-jung mein naujawan Dawud ke hathon zaalim Jaloot ko jahannam raseed kiya aur baad mein un ko mazeed ilm o hikmat aur quwwat o badshahat ata farmayi. Yahan Allah Ta'ala ne yeh baat wazeh farmayi hai ke "aur agar Allah logon mein se baaz ke zariye baaz ko dafa na karta rahata to zameen yaqeenan fasaad se bhar jati, lekin Allah duniya walon par bada fazl farmane wala hai." Yani baaz dafa aisa hota hai ke Allah apne nek bando ke zariye bure logon ka khatma karta hai aur duniya walon ko un ke sharr o fasaad se najat deta hai.
Aakhir mein bataya gaya hai ke Allah ne duniya mein bohat sare rasoolon ko bheja hai aur un mein se baaz ko baaz par aisi fazilat di hai jo sirf unhi ki khasiyat thi. Aur yeh bhi wazeh kiya gaya hai ke duniya mein jo log buraiyan kar rahe hain aur kufr o inkaar ki rawish par gaamzan hain is mein bhi Allah ki marzi aur hikmat shamil hai, agar Allah un ko is ke liye chhoot na deta to woh hargiz khuda ki duniya mein khuda ki nafrmani ka koi bhi kaam nahi kar sakte the. "Lekin Allah karta hai jo Woh chahta hai."
By: Dr. N. Sabah Ismail (Nadvi, Alig)
(14th April 2024)
05/04/2024
نورِ قرآن 33
صاحب ِعلم و جسم طالوت
_________________________________________
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے نکل گئے تھے موت کے ڈر سے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ تو اللہ نے ان سے کہا کہ مر جاؤ، پھر اس نے ان کو زندہ کردیا۔ بے شک اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ (243) اور اللہ کی راہ میں قتال کرو اور جان لو کہ اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (244) کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے ، تو وہ اس کو بڑھا چڑھا کر اس کے لئے کئی گنا کر دے، اور اللہ ہی گھٹاتا اور بڑھاتاہے، اورتم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (245) کیا تم نے موسیٰ کے بعد ، بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا، جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لئے کسی کو بادشاہ مقرر کردیجئے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں قتال کریں۔ اس نے کہا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر قتال فرض کر دیا جائے تو تم قتال نہ کرو، وہ بولے، ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں حالانکہ ہم ہمارے گھروں سے اور ہمارے بچوں سے نکالے گئے ہیں ؟ پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو ان کی ایک قلیل تعداد کے سوا سب نے منہ موڑ لیا۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ (246) اوران کے نبی نے ان سے کہا ،بے شک اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ وہ بولے، اس کو ہم پر بادشاہت کیسے مل سکتی ہے جب کہ ہم اس سے زیادہ بادشاہت کے حق دار ہیں اور اس کو تو مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی ہے؟ اس نے کہا ، بلاشبہ اللہ نے تمہارے مقابلہ میں اس کو چن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ فراخی عطا کی ہے اور اللہ اپنی سلطنت جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (247) اوران کے نبی نے ان سے کہا، بے شک اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ تابوت آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین کا سامان ہے اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کی باقی ماندہ یادگاریں ہیں، اس کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے، بے شک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم مومن ہو۔ (248)
سورہ : بقرہ .... رکوع: 32 .... آیت: 243- 248 .... پارہ: 2
اس رکوع میں بنی اسرائیل کے دو اہم واقعات کا ذکر ہے۔ ایک کا مختصر ذکر ہے جبکہ دوسرا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ یہ دونوں واقعات اللہ کی راہ میں جانی و مالی قربانی کی ضرورت و اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ اسی لئے یہاں درمیان میں یہ بھی فرمایا گیا ہے ”اور اللہ کی راہ میں قتال کرو اور جان لو کہ اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے، تو وہ اس کو بڑھا چڑھا کر اس کے لئے کئی گنا کر دے، اور اللہ ہی گھٹاتا اور بڑھاتاہے، اورتم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“
یہاں اس رکوع میں مذکور پہلے واقعہ کے تعلق سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے واقعہ خروج کی طرف اشارہ ہے اور بعض کے مطابق بنی اسرائیل کی اس ابتر حالت کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر صحیفہ سموئیل میں ہے۔ دوسرا واقعہ تورات میں موجود تفصیلات کے مطابق تقریباً ایک ہزار برس قبل مسیح کا ہے۔ اس وقت سموئیل نبی بنی اسرائیل کے سربراہ تھے اور ان کی حالت بہت خراب تھی۔ چاروں طرف سے دشمن ان پر حملہ آور تھے اور عمالقہ نے ان کے اکثر علاقے ان سے چھین لیے تھے بلکہ ان کا وہ تابوت جسے تورات میں ’خدا کا صندوق‘ یا ’خدا کے عہد کا صندوق‘ کہا گیا ہے اور جس میں موسیٰ ؑو ہارونؑ کے بہت سارے تبرکات محفوظ تھے، بنی اسرائیل کے دشمنوں نے ان سے چھین لیا تھا۔
جب اللہ کے نبی نے یہ اعلان کیا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے تو انہوں نے اس کو قبول کرنے میں بہت پس و پیش سے کام لیا۔ طالوت کا نام تورات میں ’ساؤل‘ آیا ہے۔ اللہ نے ان کو علم اور جسم کی دولت سے مالا مال کیا تھا اور یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو عام لوگوں سے ممتاز کرتی ہیں اور اس کو قائدانہ رول ادا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اللہ نے طالوت کی بادشاہت کے ثبوت کے طور پر بنی اسرائیل کو ان کا صندوق ایک خاص انداز میں فرشتوں کے ذریعہ واپس کردیا۔ اس تابوت نما صندوق کی واپسی نے بنی اسرائیل کی ٹیڑھی کمر سیدھی کردی اور وہ پھر سے نئے عزم و قوت کے ساتھ اپنے مقبوضہ علاقے واپس لینے کیلئے تیار ہوگئے۔ یہ واقعہ تورات میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(5اپریل 2024 )
25/02/2024
Noor-e-Quran 28
Chand Ahem Sawalat Ke Jawabat
Woh tum se sawal karte hain hurmat wale mahine mein ladaai ke bare mein. Keh do, is mein ladaai karna bada gunah hai. Aur Allah ki raah se rokna aur us ke sath kufr karna aur Masjid e Haram se rokna aur us ke baashindon ko us se nikaal dena Allah ke nazdeek is se bhi bada gunah hai aur fitnah qatl se bhi ziyada badi burai hai. Aur woh log barabar tum se ladte rahenge yahan tak ke tum ko tumhare deen se pher dein agar un ka bas chale, aur tum mein se jo apne deen se phir jayega phir is haal mein mare ga ke woh kafir ho to yehi log hain jin ke aamal dunya aur aakhirat mein zaya ho gaye aur yehi log aag wale hain, woh is mein hamesha rahenge. (217) Beshak jo log iman laye aur jinhon ne hijrat ki aur Allah ki raah mein jihad kiya, wohi log Allah ki rehmat ki umeed rakhte hain aur Allah bakhshne wala, reham karne wala hai. (218) Woh tum se sawal karte hain sharab aur juye ke bare mein. Keh do ke in donon mein bada gunah hai aur logon ke liye kuch faide bhi hain, aur in donon ka gunah un ke faide se zyada bada hai. Aur woh tum se sawal karte hain ke kya kharch karein? Keh do ke jo zarurat se zyada ho. Isi tarah Allah tumhare liye aayaton ko saaf saaf bayan karta hai takey tum ghour o fikr karo. (219) Dunya aur aakhirat ke muamlaat mein. Aur woh tum se sawal karte hain yateemon ke bare mein. Keh do ke jis mein un ki bhalai ho woh behtar hai aur agar tum un ko apne sath mila lo to woh tumhare bhai hain aur Allah ko maloom hai ke kaun bigaar chahne wala hai aur kaun bhalai karne wala. Aur agar Allah chahta to tumhein mushaqqat mein daal deta, bilashuba Allah ghalba wala, hikmat wala hai. (220)
Aur mushrik auraton se nikah na karo yahan tak ke woh iman le aayen, aur momin kaneez behtar hai ek mushrik aurat se agarche woh tumhein bahut pasand aaye. Aur mushrik mardon se kisi ka nikah na karao yahan tak ke woh iman le aayen, aur momin ghulam behtar hai mushrik mard se agarche woh tumhein achchha lage. Yeh log aag ki taraf bulate hain aur Allah apne hukm se jannat o maghfirat ki taraf bulata hai, aur logon ke liye apni aayatein saaf saaf bayan karta hai takey woh naseehat qubool karein. (221)
Surah: Baqarah .... Ruku: 27 .... Aayat: 217- 221 .... Para: 2
Is ruku mein chaar ahem sawalat mazkoor hue hain, woh tum se sawal karte hain hurmat wale mahine mein ladaai ke bare mein. Woh tum se sawal karte hain sharab aur juye ke bare mein. Woh tum se sawal karte hain ke kya kharch karein? Woh tum se sawal karte hain yateemon ke bare mein. Phir Allah ne un ke jawabat bhi sarahat o wazahat ke sath diye hain, is ke ilawa yahan nikah ke talluq se bhi yeh waazeh kiya gaya hai ke musalman mard o aurat ko nikah ke waqt sab se pehle kya baat dhyan mein rakhni chahiye.
Qabil e ehtiraam mahinon ke talluq se kuch hidayatein pehle bhi aa chuki hain, yahan bataya gaya hai ke is mein ladaai karna mamooli baat nahi hai magar jo log musalmanon ke, Masjid e Haram ke aur mubarak shahar Makkah aur is ke rehne walon ke jaani dushman bane hue hain un ka jurm o gunah itna bada hai ke un ke khilaf kabhi bhi aur kahin bhi karwai ki ja sakti hai. Isi ke sath yeh bhi bataya gaya hai ke jo log irtidaad ke murtakib honge aur isi haal mein wafat pa jayenge woh dunya o aakhirat donon ka nuqsan karenge.
Sharab aur juye mein dher saare nuqsanat hain magar mushrikeen e Makkah ke ameeron ka ek mamool yeh tha ke woh qahat aur tangdasti ke zamanon mein aisi mehfilein jamate jis mein woh sharab peete aur juye khelte the, phir woh raqam jo woh is mein jeette the muhtajon mein taqseem kar dete the, yahan is ka bhi jawab aagaya ke is mein jo nafaa hai woh thoda hai magar is ka jo gunah hai woh bahut bada hai. Isi ke sath yeh bhi bata diya gaya ke zaroorat padne par zyada se zyada raqam barae imdad o taawun kharch karna chahiye magar apni zaroorat bhar samaan apne paas rakh lena chahiye takey madad karne wala khud doosron ke aage haath phailata na phire.
Yateemon ke talluq se bohat saari hidayatein hain. Un ki khair-khwahi bhi laazim hai aur un ka maal haraam tariqe se khane ki mumaniat bhi hai. Aise mein yahan wazeh kar diya gaya hai ke ba-waqt zarurat aur baraye islaah un ka maal apne maal ke sath milaya bhi ja sakta hai magar yaad rahe ke Allah ko sab maloom hai ke kaun gadbadi kar raha hai aur kaun bhalai kar raha hai. Aakhir mein nikah ke talluq se yeh saaf hukm hai ke musalmanon ko nikah sirf iman walon ke sath karna chahiye. Yeh ek ahem amal hai aur insani zindagi par is ke door-ras asraat murattab hote hain. Zindagi ki mamooli raahaton ke liye Aakhirat ki azeem nematon ki qurbani nahi di ja sakti hai.
By: Dr Noorus Sabah Ismail (Nadvi Alig)
(25 February 2024)
26/01/2024
نورِ قرآن 24
روزہ، رمضان اور قرآن
_________________________________________
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔ (182) گنتی کے چند دن ہیں۔ پھر جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہوتو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔ اور ان لوگوں پر جو اس کی طاقت رکھتے ہوں فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ پھر جو کوئی خوشی سے مزید نیکی کرے تو وہ اس کیلئے بہتر ہے۔ اور یہ کہ تم روزہ رکھو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ (183) رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کیلئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور فرق کرنے والے روشن دلائل ہیں، تو تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی نہیں کرنا چاہتا اور تاکہ تم تعداد پوری کرو اور تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر جو اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔ (184) اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو انہیں چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔ (185) تمہارے لئے روزے کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو علم تھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم کو معاف کردیا۔ تو اب تم ان سے مباشرت کرو اور اللہ نے جو تمہارے لئے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو۔ اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری تمہارے لئے سیاہ دھاری سے خوب ظاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزہ پورا کرو، اور ان سے مباشرت نہ کروجب تم مسجد میں اعتکاف میں ہو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں تو ان کے قریب نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ (186) اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ ان کو حاکموں تک پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مالوں میں سے ایک حصہ گناہ کے ساتھ کھا جاؤ، حالانکہ تم اس کو جانتے ہو۔ (187)
سورہ : بقرہ .... رکوع: 23 .... آیت: 183- 188 .... پارہ: 2
روزہ ایک اہم عبادت ہے۔ تقویٰ، پرہیزگاری اور خدا سے وفا شعاری کی راہ میں یہ بے حد مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے پہلے دوسری قوموں کو بھی روزہ کا حکم دیا تھا۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھیں۔ رمضان میں اس لئے کہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔ انسانی دنیا میں نزول قرآن ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ رمضان کی جس رات میں یہ نازل ہوا ہے اللہ نے اسے ہزار مہینوں سے بہتر و افضل رات قرار دیا ہے۔ انسان کی زندگی میں ہدایت و رہنمائی سب سے اہم چیز ہے۔ جس کو ہدایت مل گئی وہ کامیاب ہوگیا اور جو ہدایت سے محروم رہا وہ ہر خیر و فلاح سے محروم ہوگیا اور ہدایت اللہ نے قرآن کے اندر رکھ کر اسے قیامت تک کیلئے محفوظ کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ رمضان میں روزے رکھا کریں۔ اس رکوع میں اس تعلق سے دیگر اہم ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
یہاں درمیان میں ایک خاص بات یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جو لوگ خدائے کائنات کو ڈھونڈتے اور اس کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ بالکل قریب ہے۔ وہ انسانوں کی ہر حالت سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ جب بھی اس کو آواز دیتے ہیں وہ اس کو سنتا بھی ہے اور جواب بھی دیتا ہے۔ انسانوں کو بھی چاہئے کہ وہ خدا کی ہر بات مانیں اور اس پر پورا بھروسہ رکھیں۔ بھلائی اور کامیابی حاصل کرنے کا یہی راستہ ہے۔ ٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(26جنوری 2024 )
07/01/2024
Noor-e-Quran 21
Momin Allāh kā dīwānah hotā hai
Yaqīnan āsmānon aur zamin kī takhlīq mein aur rāt din ke badalne mein aur un kashtiyon mein jo insānon ko naf'a pahunchāne wālī cheezain le kar samundar mein chaltī hain aur us pāni mein jis ko Allāh ne āsmān se nāzil kiyā phir us se murdah zamin ko zindah kardiyā aur us mein har qism ke jāndār phailādiye, aur hawāon kī gardish mein aur badal mein jo āsmān aur zamin ke darmiyān musakhkhar hain, un logon ke liye bahut sārī nishāniyān hain jo aqal se kām lete hain. (164) Aur logon mein se kuch aise hain jo Allāh ke siwā doosron ko us ke barābar thehrāte hain, woh un se us tarah mohabbat karte hain jis tarah Allāh se mohabbat karnī chahiye. Aur jo īmān laaye hain woh sab se ziyādah Allāh se mohabbat karte hain. Aur kāsh woh log jinhon ne zulm kiyā hai us waqt ko dekh lein jab woh azāb ko dekhen ge to jān lein ke be shak quwwat sab ki sab Allāh ke liye hai aur Allāh sakht azāb dene walā hai. (165) Jab woh log jin ki peirvī kī gaī thī, un logon se bezār hojāyen ge jinhon ne peirvī kī thī aur woh azāb ko dekh lein ge aur un ke sab ta'alluqāt toot jāyen ge. (166) Aur jin logon ne peirvī kī thī woh kahen ge, kāsh hum ko phir ek mauq'a diyā jātā to hum bhī un se usi tarah bezārī zāhir karte jis tarah unhon ne hum se bezārī dikhāī hai. Is tarah Allāh un ke a'māl ko unhen hasrat banā kar dikhāye gā aur woh aag se nikal nah pāyen ge. (167)
Sūrah: Baqarah .... Rukū': 20 .... Āyat: 164- 167 .... Pārah: 2
Rahmān o Rahīm Khudā'e Wāhid Allāh Subhānahu wa Ta'ālā kaun hai, kahān hai aur Usey kaise dekhā aur samjhā jā saktā hai, yahān is jagah us kā jawāb maujūd hai ke Khudā'e Alīm o Hakīm kāīnāt ke har hisse mein maujūd hai aur insān agar apnī aqal kā istemāl kar sake to woh Us ke jalwe duniyā kī har shay mein dekh sakta hai. Is mein kya shak hai ke Allāh ne har insān ko aqal atā kī hai aur woh apne har ma'āmle mein apnī aqal istemāl karta hai aur phir us kī aqal jo faislā sunāti hai wohī haṭtamī aur yaqīnī baat hotī hai. Khudā kī zāt is kāīnāt kī sab se barī haqīqat hai aur is baat ko har woh ādmī samajh sakta hai jo apnī aqal kā sahīh istemāl kare aur zamin o āsmān kī banāwat mein, din o rāt ke āne jāne mein, kashtiyon ke samundar kī satah par doṛne mein, āsmān se bārish ke nāzil hone aur mukhtalif ashyā' aur jāndār ke paidā hone mein aur baadalon ke zamin o āsmān ke darmiyān muallaq hone mein ghaur o fikr kare. Jis tarah hamārī aqal din ko rāt nahīn kahti aur zamin ko āsmān taslīm nahīn kar saktī usī tarah hamārī aqal hum ko yeh bhī bātāti hai ke is kāīnāt kā koi khāliq o mālik bhī hai aur Woh akelā is duniyā kā Hukmarān hai. Sharṭ bas yeh hai ke aqal salāmat ho aur insān us kā durust istemāl kar sake. Rasūl Allāh ﷺ ke jadd e amjad Ibrāhīm Alaihis Salām kā wāq'iah is silsilah mein behtarīn misāl hai ke un ko khudā kī marifat us waqt hāsil huī jab unhon ne ashyā'e kāīnāt par ghaur o khouz kiyā aur apnī aqal kā behtarīn istemāl kar key unhon ne khudā kī marifat, qurbat aur mohabbat hāsil kī.
Jab insān khudā kī rahmat, mohabbat aur 'azmat kā andāzah lagātā hai to woh apne āp ko us kī shadīd mohabbat mein ghirā huā pātā hai aur apnā sar aur dil sirf usī ke āge jhukāne par majboor hojātā hai. Yahan un logon par hairat zāhir kī gaī hai jo Allāh ke siwā doosron ko bhī ma'būd banā lete hain aur un se us tarah mohabbat karte hain jaisī mohabbat sirf aur sirf Allāh Rahmān o Rahīm kā haq hai. Yahan Allāh Ta'ālā ne sāf lafzon mein yeh bāt bayān farmāī hai ke woh ādmī jis ke dil mein khudā ke siwā kisī aur kī mohabbat ho woh momīn nahīn ho saktā hai. Mohabbat Ilāhī īmān kā woh buniyādī aur lāzimī taqāzā hai jis ke baghair koī sāhib e īmān nahīn ho saktā hai. Woh log jo Allāh ke siwā doosron se mohabbat karte aur un se ummīd lagāye baithe hain, kal Qiyāmat ke din un kī hasrat o na'umīdī kī koī intehā nahīn hogī jab woh yeh dekh lein ge ke un kī sārī 'aqīdaten, mohabbaten aur 'ibādaten rā'igān chalī gayīn aur woh jin se ummīd lagāye baithe the unhon ne un se apnā dāman jhāṛ liyā.
By: Dr. Noorus Sabah Ismail (Nadwi, Alig)
7 January 2024