16/11/2025
*اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی روک تھام اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے “अल्पसंख्याक कल्याण समिती”کے قیام سے متعلق اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جناب پیارے خان صاحب سے ملاقات*
ناگپور ، 13 اکتوبر 2025:
ریاستِ مہاراشٹر میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت کے پیشِ نظر جماعتِ اسلامی ہند، حلقۂ مہاراشٹر اور فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کا ایک نمائندہ وفد آج مہاراشٹر اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین جناب پیارے خان صاحب سے ناگپور میں ملا۔
وفد نے جناب پیارے خان صاحب کو ریاست بھر میں اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعات، گئو رکشکوں کی غنڈہ گردی، اور مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز فضا سے آگاہ کیا۔
اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایسے واقعات پر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو ریاست میں خوف و حراس اور عدمِ اعتماد کا ماحول پیدا ہو جائے گا، جو مہاراشٹر کی گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ ہی ریاست کی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔
وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
1. گئو رکشہ کے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔
2. وزیرِاعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کو مؤثر طور پر روبہ عمل لانے کے لیے ضلع سطح پر “अल्पसंख्याक कल्याण समिती” (اقلیتی فلاح کمیٹی) قائم کی جائے۔
3. اقلیتوں کے تحفظ، انصاف اور فلاح کے لیے ایک ریاستی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جو براہِ راست اقلیتی کمیشن سے رابطہ میں رہے۔
جناب پیارے خان صاحب نے وفد کی باتوں کو نہایت سنجیدگی اور غور سے سنا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی سطح پر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی خصوصی اقدامات کر رہے ہیں، اور ان امور پر تیزی سے عمل درآمد کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفد کی جانب سے پیش کیے گئے تمام نکات پر غور کر کے انہیں حکومتِ مہاراشٹر تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ پیغام دیا کہ مسلمان جذباتیت کا شکار نہ ہوں بلکہ امن و بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں تاکہ ریاست میں امن و امان برقرار رہے۔
وفد میں جناب عبدالحسیب بھاٹکر (معاون امیرِ حلقہ، جماعت اسلامی ہند، مہاراشٹر)، جناب شیخ عبدالمجیب (کنوینر، فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمز)، جناب فرید شیخ (صدر، امن کمیٹی ممبئی)، ڈاکٹر انوار (ناظم شہر، جماعت اسلامی ہند، ناگپور)، اور جناب عمر خان (سیکریٹری، جماعت اسلامی ہند، ناگپور) شامل تھے۔
15/11/2025
Police Public meeting at MRA police station...
16/11/2024
Kolaba halke ke congress ke umeedwaar Heera devasi ne Mumbai A man committee office mai hazri di aur unko Farid shaikh ne MAHARASHTRA DEMOCRATIC FORUM ka supporting letter pesh kiya.
26/09/2024
ملی تنظیموں کا وفد جوائنٹ پارلمنٹری کمیٹی سے ملا ـ مجوزہ وقف ترمیمی بل مسترد کرنے کا مطالبہ
ــــــــــــ
ممبئی ـ ۲۴ ستمبر، آج شام تین بجے مہاراشٹر کی چنندہ ملی تنظیموں کا ایک موقر وفد جے پی سی سے ملا ـ سانتاکروز کے تاج ہوٹل میں ہونے والی اس ملاقات میں ملی تنظیموں کی جانب سے کمیٹی کو میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں مکمل وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ کو دستور کے خلاف بتاتے ہوئے اُسے واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا،
زبانی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے وفد کے شرکاء نےکمیٹی کو بتایا کہ تقریبا سارے مسلمان اس وقف ترمیمی بل کے مخالف ہیں، چنانچہ پورے ملک سے تقریبا ساڑھے پانچ کڑوڑ سے زائد مسلمانوں نے جے پی سی کی ہدائت کے مطابق اس بل کی مخالفت میں ایمیل کئے ہیں، اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں ڈاک اور کورئر سے بھی خطوط بھیجے ہیں، ساڑھے پانچ کڑوڑ کی تعداد کم نہیں ہوتی، ہندوستان میں مسلم آبادی کے ایک تہائی حصہ یعنی ۳۳ فیصد نے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اس کے علاوہ ایسے مسلمان جو گاوں دیہات میں رہتے ہیں یا اُن کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہیں اگرچہ وہ میل نہیں بھیج سکے، لیکن وہ سب بھی اس سیاہ بل کو مسترد کرانا چاہتے ہیں، وفد کے اراکین نے یہ بھی کہا کہ پچھلے کچھ عرصےمستقل یہ جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ وقف بورڈ جس زمین یا جائداد پر دعویٰ کردے حکومت وہ زمین وقف کو دینے پر مجبور ہوجاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود وقف کی ہزاروں ایکڑ زمینوں پر دوسروں کا غیرقانونی قبضہ ہے، جس کو چھڑانے کے لئے جدوجہد کی جارہی ہے، مگر اس بل کے پاس ہونے کے بعد وہ ساری مقبوضہ زمینیں وقف کے قبضے سے نکل سکتی ہیں ـ یہ بھی بتایا گیا کہ اب تک وقف کے لئے کئی سطح پر مشتمل عدالتی نظام ہے، وقف ٹربیونل کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جانے کی گنجائش ہے، مگر موجودہ ترمیم کے بعد عدالتوں کے سارے امور ضلع کے کلکٹر کو منتقل ہوجائیں گے، ظاہر ہے ملک کا کوئی بھی کلکٹر حکومت کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا، اسی طرح وقف بورڈ میں غیرمسلم ممبران کی شمیولیت، سی ای او کے لئے مسلم کی شرط ختم کرنے کی تجویز پر بھی اعتراض کیا گیا، نیز اس ترمیمی بل کی مزید خامیوں کو بھی اُجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں لگتا ہے کہ وقف کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے یہ قانون لایا جارہا ہے، یہ ہمارے لئے قطعا ناقابل قبول ہے، مسلمان اس مجوزہ بل میں ترمیم کے بجائے اس پورے بل کو ہی مسترد کرتے ہیں، شرکاء وفد نے کہا کہ وقف کی زمینیں کوئی عوامی جائداد نہیں ہیں بلکہ پرائیویٹ پراپرٹی ہیں، جن کے مالک مسلمان تھے، اور اُنھوں نے ان جائداوں کو اپنی ملکیت سے نکال کر اللہ کی ملکیت میں دے دیا تھا تاکہ ان کی آمدنی سے بھلائی اور خیر کے کام ہوتے رہیں ـ لہذا مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ کو فورا واپس لے، نیز جوائنٹ پارلمنٹری کمیٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی ایسی تنظیموں یا ایسے افراد سے ملاقات کرے جو مسلمانوں میں زمینی سطح پر کام کرتے ہیں، بہت سی کاغذی تنظیمیں بھی کمیٹی کے سامنے آرہی ہوں گی، کمیٹی کے ممبران کو خود ہی اندازہ ہوجاتا ہوگا ان لوگوں کی حیثیت کیا ہے ـ ہم امید رکھتے ہیں کہ جوائنٹ پارلمنٹری کمیٹی وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں حکومت کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرے گی نیز اس بل کو مسترد کرنے کی سفارش بھی کرے گی ـ اگر زور زبردستی کرکے خدانخواستہ بل پاس کرالیا جاتا ہے توملک کے مسلمان دستور میں دئے گئے حقوق کے مطابق آخر دم تک اس بل کے خلاف ہر قسم کی جدوجہد پر مجبور ہوجائیں گے ـ
ملاقات میں آل انڈیا علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود احمد خاں دریابادی، مہاراشٹر جماعت اسلامی کے صدر مولانا الیاس خاں فلاحی، انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیرقاضی، ممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ، مولانا فہیم فلاحی سکریٹری وقف سیل جے ایچ آئی، مومنٹ پیس اینڈ جسٹس کے صدر محمدسراج، شیعہ عالم دین آغا روح ظفر، مبین احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ،جماعت اسلامی ممبئی کے سکریٹری شاکر شیخ، بمبئی ایجوکیشن اینڈ شوشل ٹرسٹ کے مینجنگ ٹرسٹی سلیم موٹر والا، افسر عثمانی سکریٹری ایم پی جے،میمن جماعت کے حافظ اقبال چوناوالا اور دیگر حضرات شریک تھے ـ
جوائنٹ پارلمیٹری کمیٹی کی طرف سے چیئرمین مسٹر جگدمبیکاپال، ممبر مولانا محب اللہ ندوی، ممبراسدالدین اویسی، ممبر نشی کانت دوبے، ممبراروند ساونت، ممبربالیاماما،ممبر کلیان بینر جی،وغیرہ
23/09/2024
*Empowering Maharashtra: Strategic Meeting on Election Preparedness*
A team of young IT professionals from Bengaluru with hands-on experience from Karnataka's recent Assembly & Lok Sabha elections visited Mumbai.
Sole aim is to share expertise in narrative management, community engagement, voter enrollment and more to peacefully and democratically defeat forces of hate.
Every involvement can make a difference in building a future that reflects the values of unity and justice.
🗓️ *Date & Time:* 23-Sep-2024, Monday 1:00 PM
📍 *Location:* Mumbai Aman Committee
Following dignitaries attended the meeting :
Farid Shaikh, Maulana Zaheer Kazi, Shakir Shaikh, Sarfaraz Arzu, Maulana Anis Ashrafi, Maulana Agha Ruhe Zafar, Maulana Ghulam Abbas, Naeem Shaikh, Humayun Shaikh, Maulana Taha Dhanbadi, Juzer Golwala and Others
21/09/2024
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا وفد مہاراشٹر گانگریس کے صدر نانا پٹولے سے ملا ـ مجوزہ وقف ترمیمی بل کی واپسی کے لئے حکومت پر دباو بنانے کا مطالبہ
ــــــــــــ
ممبئی ـ ۲۰ ستمبر، آج شام پانچ بجے آل انڈیا مسلم ہرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی کی قیادت میں بورڈ کا ایک موقر وفد مہاراشٹر کانگریس کے صدر مسٹر نانا پٹولے سے ملا ـ باندرہ کرلا کمپلیکس کے ہوٹل صوفی ٹیل میں ہونے والی اس ملاقات میں بورڈ کی جانب سے انھیں میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں مکمل وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ کو دستور کے خلاف بتاتے ہوئے اُسے واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا،
بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے زبانی طور پر گفتگو کرتے ہوئے مسٹر پٹولے کو بتایا کہ پچھلے کچھ عرصےمستقل یہ جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ وقف بورڈ جس زمین یا جائداد پر دعویٰ کردے حکومت وہ زمین وقف کو دینے پر مجبور ہوجاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود وقف کی ہزاروں ایکڑ زمینوں پر دوسروں کا غیرقانونی قبضہ ہے، جس کو چھڑانے کے لئے جدوجہد کی جارہی ہے، مگر اس بل کے پاس ہونے کے بعد وہ ساری مقبوضہ زمینیں وقف کے قبضے سے نکل جائیں گی ـ پرسنل لاء بورڈ کے ممبران نے مزید بتایا کہ اب تک وقف کے لئے کئی سطح پر مشتمل عدالتی نظام ہے، وقف ٹربیونل کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جانے کی گنجائش ہے، مگر موجودہ ترمیم کے بعد عدالتوں کے سارے امور ضلع کے کلکٹر کو منتقل ہوجائیں گے، ظاہر ہے ملک کا کوئی بھی کلکٹر حکومت کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا، اسی طرح وقف بورڈ میں غیرمسلم ممبران کی شمیولیت، سی ای او کے لئے مسلم کی شرط ختم کرنے کی تجویز پر بھی اعتراض کیا گیا، نیز اس ترمیمی بل کی مزید خامیوں کو بھی اُجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں لگتا ہے کہ وقف کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے یہ قانون لایا جارہا ہے، یہ ہمارے لئے قطعا ناقابل قبول ہے، مسلمان اس مجوزہ بل میں ترمیم کے بجائے اس پورے بل کو ہی مسترد کرتے ہیں، مولانا نے کہا کہ وقف کی زمینیں کوئی عوامی جائداد نہیں ہیں بلکہ پرائیویٹ پراپرٹی ہیں، جن کے مالک مسلمان تھے، اور اُنھوں نے ان جائداوں کو اپنی ملکیت سے نکال کر اللہ کی ملکیت میں دے دیا تھا تاکہ ان کی آمدنی سے بھلائی اور خیر کے کام ہوتے رہیں ـ لہذا مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ کو فورا واپس لے، نیز اپوزیشن پارٹیوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ سرکار پر دباو بنائیں اور اس سیاہ بل کو واپس لینے کے لئے مجبور کریں ـ ورنہ مسلمان دستور میں دئے گئے حقوق کے مطابق آخر دم تک اس بل کے خلاف جدوجہد کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ـ
مسلم نمائندوں کی گفتگو سننے کے بعد مسٹر پٹولے نے یقین دلایا کہ میں ضرور اپنی پارٹی کے اعلی کمان کو مہاراشٹرا کےمسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرونگا، ہماری پارٹی نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا ہے، اور سچائی کی اس لڑائی میں کانگریس ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی ـ مسٹر پٹولے نے ذاتی طور پر بھی اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ـ
ملاقات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، مولانا محمود احمد خاں دریابادی، ڈاکٹر ظہیرقاضی، فرید شیخ، مولانا برہان الدین قاسمی، مولانا انیس احمد اشرفی، شیعہ عالم دین آغا روح ظفر، پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی، شاکر شیخ، ڈاکٹر عظیم الدین، مولانا رشید احمدندوی،حافظ اقبال چوناوالا، مولانا عباس خان، مولانا غفران ساجد قاسمی،ہمایوں شیخ اور دیگر حضرات شریک تھے ـ
رابطہ · 9820135838
13/05/2023
🚨🏛️ *Jamil Merchant Ne Malad Malwani Ramnavmi Clash Case Mai Jt Cp Satyanarayan Chaudhary Aur Dcp Sahit Kayi Police Officers Par High Court Mai Petition File Kiya*
*Petition mai Jt CP Satyanarayan Chaudhary, Addl Com Rajiv Jain, DCP Ajay Kumar Bansal,ACP Shailendar Divar,PI Shekhar Bhalerao, IO Sunil Jadhav* ko milakar Kul 8 Logo ko Party banaya
📹 *GALLINEWS SHORTS NEWS PRESS LINK* 👇🏼👇🏼
https://bit.ly/44Y56Ti
📄 Jamil Merchant ne apni Petition mai kaha hai ki Malwani dange mai police dwara likhi FIR jhooti hai
🚨 Jamil Merchant ki Petition Malad Malwani Ramnavmi Dange mai Police ki Bhoomika Par Sawal uthaya gaya hai
🚨 *Sec 144 ki Notice na dete hue Police ne Giraftariya ki hai*
📄 Petition mai Jamil Merchant ne bataya ki Police ne jhoote Medical report ka Sahara liya, Taake is Mamle mai IPC ki Nayi Sections *153(A), 120(B) aur 333* jodh kar mamle ko gambhir banaya jaye
🚨 Jamil Merchant ke Mutabiq unhone Court ke saame photographs, Cctv Footage jis mai Saaf taur par dikhayi de raha hai ki us Din Woh Bhid Ko Control karne ke liye police ki Madad kar rahe the aur Police ne unhi par FIR Darj ki
🏛️ Jamil Merchant ne Court se Guhaar lagayi ke is Mamle ki Judicial Enquiry ho aur in Saare Officers ko hata kar Dusri agencies se janch karwane ki Maang ki hai
🪀 *JOIN OFFICIAL WHATS APP GROUP Press Link* 👇
https://chat.whatsapp.com/HzczgT7BOK9E41l16F8N8hhttps://bit.ly/42SqSpG
Jamil Merchant Ne Malad Malwani Ramnavmi Clash Case Mai Jt Cp Satyanarayan Chaudhary Aur Dcp Sahit Kayi Police Officers Par High Court Mai Petition File Kiya
Jamil Merchant Ne Malad Malwani Ramnavmi Clash Case Mai Jt Cp Satyanarayan Chaudhary Aur Dcp Sahit Kayi Police Officers Par High Court Mai Petition File Kiya P