• Ishq E Rasool Me Badi Taqat Hai •

• Ishq E Rasool Me Badi Taqat Hai •

Share

OwneR:-
Rubia Ahmed &
Mostufa Ahmed
Çøpý Thí$ Çøðé & Pâ$té úr Wᣣ
@[792242280817012:]

06/01/2023

*اخلاق الصالحین:-5*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جو عمل میں نے ظاہر کردیا ہے میں اس کو شمار میں نہیں لاتا یعنی اس کو کالعدم سمجھتا ہوں کیونکہ لوگوں کے سامنے اخلاص حاصل ہونا مشکل ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایسا لباس پہنتے تھے کہ ان کے احباب کے سوا کوئی ان کو پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ عالم ہیں اور فرمایا کرتے تھے کہ مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسا چھپائے جیسے برائیوں کو چھپاتا ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دیکھا کہ وہ حرم شریف میں ایک بہت بڑے حلقہ درس میں حدیث کا املاء فرما رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قریب ہوکر ان کے کان میں کہا کہ اگر تیرا نفس تجھے عُجب میں ڈالے یعنی اگر نفس کو یہ بات پسندیدہ معلوم ہوتی ہے تو تو اس مجلس سے اُٹھ کھڑا ہو اسی وقت حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں تشریف لے گئے تو آپ کے حلقۂ درس کو دیکھ کر فرمانے لگے:اگر یہ حلقہ کسی صحابی کا ہوتا تو میں اپنے نفس پر عجب سے بے خوف نہ ہوتا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب حدیث کی املاء کے لئے اکیلے بیٹھتے تو نہایت خائف اور مرعوب بیٹھتے ۔ اگر ان کے اوپر سے بادل گزرتا تو خاموش ہوجاتے اور فرماتے کہ میں ڈرتا ہوں کہ اس بادل میں پتھر نہ ہوں جو ہم پر برسائے جائیں ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
ایک شخص حضرت اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں ہنسا تو آپ نے اس کو جھڑکا اور اُٹھا دیا اور فرمایا کہ تو علم طلب کرتا ہوا ہنستا ہے جس علم کے طلب کے لئے اللہ تَعَالٰی نے تجھے مکلف فرمایا ۔ پھر آپ نے دوماہ تک اس کے ساتھ کلام نہ کیا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۸)*

05/01/2023

*اخلاص:-1*
سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہر ایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں میں زاہد عابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصود محض رضائے حق سبحانہ و تَعَالٰی ہوتا تھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں ۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل. *(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴، ج۵، ص ۴۳۵)*
کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔ *(حاکم)*
حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ ناظرین سے مخفی نہیں کہ ایک لڑائی میں ایک کافر پر آپ نے قابو پالیا ۔ اس نے آپ کے منہ مبارک پر تھوک دیا تو آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ وہ حیران رہ گیا کہ یہ بات کیا ہے ؟بجائے اس کے کہ انہیں غصّہ آتا اور مجھے قتل کر دیتے انہوں نے چھوڑدیا ہے ۔ حیران ہوکر پوچھتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ؎
گفت من تیغ از پئے حق مے زنم
بندۂ حقم نہ مامور تنم
شیر حقم نیستم شیر ہوا
فعل من بر دین من باشد گواہ
کہ میں نے محض رضائے حق کے لئے تلوار پکڑی ہے میں خدا کے حکم کا بندہ ہوں اپنے نفس کے بدلہ کے لئے مامور نہیں ہوں ۔میں خدا کا شیر ہوں اپنی خواہش کا شیر نہیں ہوں ۔ چونکہ میرے منہ پر تونے تھوکا ہے اس لئے اب اس لڑائی میں نفس کا دخل ہوگیا اخلاص جاتا رہا، اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے کہ میرا کام اخلاص سے خالی نہ ہو ؎
چونکہ درآمدعلتے اندر غزا تیغ را دیدم نہاں کردن سزا
جب اس جنگ میں ایک علّت پیدا ہوگئی جو اخلاص کے منافی تھی تو میں نے تلوار کا روکنا ہی مناسب سمجھا ۔ وہ کافر حضرت کا یہ جواب سن کر مسلمان ہوگیا ۔اس پر مولانا رومی فرماتے ہیں ؎
بس خجستہ معصیت کاں مرد کرد
نے زخارے بردمد اوراق ورد
وہ تھوکنا اس کے حق میں کیا مبارک ہوگیا کہ اسے اسلام نصیب ہوگیا ۔ اس پر مولانا تمثیل بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح کانٹوں سے گل سرخ کے پتے نکلتے ہیں اسی طرح اس کے گناہ سے اسے اسلام حاصل ہوگیا ۔
حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے: ’’من طلب الدنیا بعمل الٓاخرۃنکس اللّٰہ قلبہ وکتب اسمہ فی دیوان اہل النار‘‘ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۳)*
جو شخص آخرت کے عمل کے ساتھ دنیا طلب کرے ۔ خدا تَعَالٰی اس کے دل کو الٹا کردیتا ہے اور اس کا نام دوزخیوں کے دفتر میں لکھ دیتاہے ۔حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ قول اس آیت سے ماخوذ ہے جو حق تَعَالٰی نے فرمایا:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ *(پ۲۵، الشورٰی:۲۰)*
کہ جو شخص (اپنے اعمال صالح میں )دنیا چاہے ہم دنیا سے اتنا جتناکہ اس کا مقرر ہے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کے لئے کوئی حصّہ نہیں

04/01/2023

*आज ‌की नसीहत ज़ुबान की हिफ़ाज़त**
फिर तुम पर ज़ुबान को क़ाबू में रख कर उसकी हिफ़ाज़त करना भी लाज़िम है
*क्योंकि*
तमाम आ'ज़ा में सबसे ज़्यादा सरकश व हटधर्मी और फ़साद व दुश्मनी इसी में है ।
यही वजह है कि जब बारगाहे रिसालत में अर्ज़ की गई कि या रसूलुल्लाह ﷺ!
*आपको हम पर सबसे ज़्यादा ख़ौफ़ किस चीज़ का है?*
तो हुज़ूर नबी करीम सल्लल्लाहु तआला अलैहि वसल्लम ने अपनी मुबारक ज़ुबान पकड़ कर फ़रमाया:*
*"इस चीज़ का।"*
एक बुज़ुर्ग रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं:
"मेरा नफ़्स शदीद गर्मी में रोज़े का बोझ उठाने को तैयार है मगर फ़ुज़ूल गोई का कोई कलमा (बात) छोड़ने को तैयार नहीं।"
जब मामला ये है तो तुम पर इसकी इंतिहाई हिफ़ाज़त और ख़ूब कोशिश करना ज़रूरी है।
हज़रत सैयदना मालिक बिन दीनार रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं:
"जब तुम अपने दिल में सख़्ती , बदन और दीन में सुस्ती और रिज़्क़ में तंगी देखो तो समझ लो कि तुमने ज़रूर फ़ुज़ूल गुफ़्तगू की है।"
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -६७)*

04/01/2023

*محب ِمولاعلی کی پہچان :-
حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ ’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے محبت کرنے والے برُدبار، علم والے ،خشک ہونٹوں والے، ایسے نیکوکار ہوتے ہیں جو عبادت کی وجہ سے گوشہ نشین معلوم ہوتے ہیں
حضرتِ سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’ ہم سے محبت کرنے والے خشک ہونٹوں والے ہوتے ہیں اور ہم میں سے امام وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طاعت وعبادت کی طرف بلانے والا ہو ۔ ‘‘
*محبانِ اہل بیت کی علامات :-
حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہان یقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : اہل ِبیت ِاطہار کے محبین خشک ہونٹوں والے ہوتے ہیں وہ اپنی پیشانیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جھکائے رکھتے اور موت کو یاد رکھتے ہیں دنیا دار ظالموں اور مالداروں سے کنارہ کشی اختیارکرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے دنیوی راحتوں اور آسائشوں لذتوں اور شہوتوں انواع واقسام کے کھانوں اور لذیذ شربتوں کو ترک کر دیا اور رسولوں ولیوں اور صدیقوں کی راہ پر گامزن ہوئے ، فناوزوال پذیر ہونے والی دنیا کے تارِک، ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت میں راغب رہے بالآخر انعام واکرام، فضل و احسان فرمانے والے ربِّ حنّان ومنّان، رحیم ورحمن عَزَّوَجَلَّ کے حضور جا پہنچے ۔
*[2] فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل ، باب ومن فضائل امیرالمؤمنین علی ، الحدیث : ۱۱۴۴ ، ج۲ ، ص۶۷۱۔*

03/01/2023

*آج کی نصیحت تقوی اختیار کرنا عام غلطیاں فضولیات میں وقت بربار کرنا۔۔*
" بندہ کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی نظرِ عنایت پھیر لی ہے۔ اور جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ،اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گیا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عرصہ حسرت دراز کر دیا جائے۔ اور جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو جائے اور اِس کے باوجود اُس کی برائیوں پر اُس کی اچھائیاں غالب نہ ہوں، تو اُسے جہنّم کی آگ میں جانے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
*(الفردوس بمأثور الخطاب : باب المیم ج ۳ ص ۴۹۸ رقم الحدیث ۵۵۴۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)*

*سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔*

02/01/2023

*اللہ کے بندو موت سے غفلت موت اور عذاب سے نہیں بچاتی :-
حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَد سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایک جنازہ میں شریک ہوئے تدفین کے بعد میت کے ورثاء پر گر یہ طاری ہوگیا اور وہ رونے لگے ، تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : تم کیوں روتے ہو ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اگر تم ان احوال کا مشاہدہ کر لیتے جن کا مشاہدہ میت نے کیا ہے تو تم اس مردے کو بھول جاتے اور اپنے آپ پر روتے یاد رکھو موت تمہارے پاس آتی رہے گی یہاں تک کہ تم میں کوئی ایک بھی زندہ نہ ر ہے گا ۔ اتنا بیان کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے تمہارے لئے بہت سی مثالیں بیان فرمائیں اور تمہاری موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے ۔اس نے تمہیں ایسے کان عطاکئے ہیں کہ وہ جو سن لیتے ہیں اسے یاد کر لیتے ہیں اور ایسی آنکھیں بخشیں ہیں کہ جس چیز کو ان آنکھوں سے دیکھ لیا جاتا ہے وہ واضح ہو جاتی ہے اس نے تمہیں ایسے دِل بھی دئیے ہیں جو معاملات کو سمجھ لیتے ہیں بے شک اُس نے تمہیں بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ کا مل نعمتوں اور عمدہ اشیاء کے ساتھ تمہیں عزت بخشی، تمہارے لئے ہر چیز کی مقدار مقرر فرمائی اور تمہارے اعمال کے مطابق جزا مقرر فرمائی ۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو ! اسے پانے کی کوشش کرو خواہشات کا دم توڑنے والی موت سے ہمکنار ہونے سے پہلے پہلے ( نیک ) عمل کے ذریعے اس کے لئے تیاری کرو کیونکہ دنیا کی نعمتیں عارضی و فانی ہیں اس کی آفتوں سے نہ کسی متکبر ومغرور کا غرور بچا سکتا ہے تو نہ ہی کسی اَفواہ ساز کی بات اور نہ باطل و ناحق کی طرف میلان رکھنے والے کسی شخص کا سہارا امن دے سکتا ہے کہ جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیتا اور ہر وقت شہوت میں بدمست ہو کر خود فریبی کا شکار رہتا ہے ۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو ! آیات واَحادیث سے عبرت و نصیحت حاصل کرو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈر و ! وعظ و نصیحت سے نفع حاصل کرو ! موت تم میں اپنے پنجے گاڑ چکی اور تمہیں مٹی کے گھر سے ملا کر رہے گی پھر صور
پھونکنے کے ساتھ ہی قبروں سے اُٹھنے ، میدان محشر کی طرف ہانکے جانے اور حساب کے لئے اللہ جبار و قہار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے والے ہولناک قسم کے اُمور پیش آنے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جب ہر نفس کے ساتھ ہانکنے والا ہوگا جو اسے میدان محشر کی طر ف لے جائے گااور ایک گواہ ہوگا جو اس کے اعمال کی گواہی دے گا ۔ چنانچہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۶۹) *( پ۲۴،الزمر : ۶۹ )*
ترجمۂکنزالایمان: اور زمین جگمگا اُٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیا اور یہ نبی اور اُس کی اُمت کے اُن پر گواہ ہوں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور اُن پرظلم نہ ہوگا ۔
اس دن تمام شہر تھر ااُٹھیں گے ۔ منادی ندادے گا ۔ وہ دن ملاقات کا دن ہوگا ۔ پنڈلی سے پردہ اُٹھ جائے گا ۔ سورج بے نور ہوجائے گا ۔ دَرِندے محشر میں جمع کئے جائیں گے ۔ راز ظاہر ہوجائیں گے ۔ بد کاروں کے لئے ہلاکت کا دن ہوگا ۔ دل کانپ اُٹھیں گے ۔اہلِ جہنم کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے پھٹکار ہوگی جہنم ان پر اپنے آنکڑے اور ناخن نکال لے گی اور ان پر چیخے چلائے گی ۔ اس کی آگ کو ہوا مزید بھڑکائے گی ۔ اس میں رہنے والے سانس نہ لے سکیں گے نہ ان پر موت طاری ہو گی اور نہ ان کی تکلیفیں ختم ہوں گی ۔ ان کے ہمراہ فرشتے ہوں گے جو انہیں جہنم میں داخلے اور کھولتے پانی کی خوشخبری سنائیں گے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے محروم نیز اس کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام سے دو ر ہوں گے اور جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے ۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس شخص کی طر ح ڈرو جو ڈرا اور عاجزی اِختیار کی ۔ خوفزدہ ہوا اور کوچ کے لئے چل پڑا ۔ محتا ط نظروں سے دیکھا توکانپ اُٹھا تلاش میں نکلا تو نجات کے لئے بھاگ پڑا ۔ قیامت کی تیاری کے لئے زادِراہ کمر پر رکھ لیا اور یاد رکھو اللہ عَزَّوَجَلَّ بدلہ لینے کے لئے کافی ، ہر عمل کو دیکھنے والا، اعمال نامہ مضبوط فریق اور حجت کے لئے کافی ،جنت ثواب دینے میں اور جہنم عذاب دینے میں کافی ہے ۔ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت طلب کرتاہوں
*[1] صفۃ الصفوۃ،ابوالحسن علی بن ابی طالب،کلمات منتخبۃ من کلامہ و مواعظہ ، ج۱ ،ص۱۷۱۔۱۷۲ ، مختصرًا۔*

01/01/2023

*آج کی نصیحت دل میں شہوت کا بیج بونے والی:-*
حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے مروی ہے کہ:
’’اپنی نظر کی حفاظت کرو کیونکہ یہ دل میں شہوت کا بیج بوتی ہے اور نظر ڈالنے والے کے لئے اس کافتنہ کافی ہے۔‘‘
لہٰذا اگرتم نظر نیچی رکھو گے تو سینہ صاف اور دل کثیر وسوسوں سے خالی ہو کر پُرسکون ہو جائے گا، نفس کثیر آفات سے محفوظ ہوگا اور تم نیکیوں میں اضافہ کروگے۔
نیز آیت مبارَکہ کےاس حصے:
اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾
یعنی بےشک اللہ کو ان کےکاموں کی خبرہے۔“
میں بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔
*(مختصر منہاج العابدین از حجتہ الاسلام امام محمد بن غزالی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ -٦٦_٦٧)*

31/12/2022

*آج کی نصیحت آنکھ کی حفاظت:*
سب سے پہلے تجھ پر آنکھ کی حفاظت ضروری ہے کہ یہ ہر آفت اور فتنے کا سبب ہے۔
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:*
قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا اَبْصَارِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ﴿۳۰
*(پ۱۸،النور:۳۰)*
ترجمہ کنزالایمان:
"مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ اُن کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو اُن کے کاموں کی خبر ہے۔"
یہاں نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور بندے پر لازم ہے کہ اپنے مالک کے حکم پر عمل کرے ورنہ وہ بے ادب قرار پائے گا اور اُسے روک کر مالک کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آیت طیبہ میں یہ جو فرمایا گیا:
’’ ذٰلِکَ اَزْکٰی ‘‘یہ ان کے لئے ستھرا ہے یعنی ان کے دلوں کو ستھرا کرنے اور ان کی بھلائی کو بڑھانے والا ہے۔
اس فرمان سےآگاہ فرمایا گیا کہ نگاہوں کو نیچا رکھنے میں دل کی پاکیزگی اور عبادت وبھلائی کی کثرت ہے۔ کیونکہ اگر تم اپنی نگاہ کو نہیں روکو گے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دو گے تو وہ لایعنی چیزوں کو دیکھے گی اور اگر اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت شامِلِ حال نہ ہوئی تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔اس لئے کہ یا تو تم حرام کو دیکھو گے تو گناہ میں پڑ جاؤ گے یا پھر مباح کی طرف نظر کرو گے تو تمہارا دل اس میں مشغول ہو جائے گا اور تمہیں اس کے سبب وسوسے اور خیالات آئیں گے،بالآخر تمہارا دل بھلائی سے غافل ہو کر انہی میں لگا رہے گا۔
*( مختصر منہاج العابدین از حجتہ الاسلام امام محمد بن غزالی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ آن لائن-64_65)*

30/12/2022

*شیرِخدارَ ضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دنیا سے بے رغبتی:-*
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی نیکوں اور زاہدوں کی زینت سے مزین تھے ۔
حضرت سیِّدُناعمّار بن یاسر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی ٔاَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں ایسی زینت سے مزین کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر پسندیدہ زینت سے اس نے کسی کو آراستہ نہیں کیا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں نیک لوگوں کی زینت ہے یعنی دنیا سے بے رغبتی پس اب دنیا کو تجھ سے کوئی مطلب نہ تمہیں اس سے کوئی سروکار اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے مساکین کی محبت عطا فرمائی لہٰذا تم ان کے پیر وکار اور وہ تمہارے امام ہونے پر راضی ہیں
*دُنیاکی مذمت : -*
حضرت سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : بروزِ قیامت دنیا حسین وجمیل صورت میں آئے گی اور عرض کرے گی اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ مجھے اپنا کوئی ولی عطا فرما، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : جا تیری کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی میری بارگاہ میں کوئی مقام ہے کہ میں تجھے اپنا کوئی ولی عطا کروں چنا نچہ، اسے بو سیدہ کپڑے کی
طرح لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ ‘‘
*نگاہِ علی میں دنیا کی حقیقت:-*
امیر المؤمنین مولا مشکل کشا، شہنشاہِ اولیا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تارک ِدنیا تھے ،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے دنیا کی حقیقت سے پردہ اُٹھ گیا، ہدایت وبصارت نصیب ہوئی او رضلالت و گمراہی سے محفوظ رہے ۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دنیا میں زُہدا ختیار کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے علم لدُنی سے نوازتا اور بغیر کسی واسطہ کے ہدایت عطافرما تا ہے ، نورِ بصیرت عطا فرماتااور ضلالت وگمراہی سے بچاتاہے
*[3] مجمع الزوائد ،کتاب المناقب ،باب جامع فی مناقب علی، الحدیث :۱۴۷۰۳ ، ج۹ ، ص۱۶۱ ، بتغیرٍ۔*

29/12/2022

Urdu hindi post
*फ़रिश्तों को नेकी व बदी का इल्म कैसे होता है?*
हज़रत सैयदना सुफ़ियान बिन उययनह रहमतुल्लाहि अलैहि से पूछा गया कि मलाइका बंदे का इरादा किस तरह लिखते हैं?
यानी वह फ़रिश्ते जो नेकी व बदी लिखने पर मामूर हैं वह बंदे का इरादा कैसे जानते हैं हालांकि उसने अब तक अमल नहीं किया होता?
आप ने इर्शाद फ़रमाया: "वह (फ़रिश्ते) इस तरह जानते हैं कि जब बंदा नेकी करने का इरादा करता है तो उससे मुश्क की ख़ुशबू निकलती है और वह फ़रिश्ते ख़ुशबू से मालूम कर लेते हैं कि इसने नेकी का इरादा किया है और जब बंदा बुराई का इरादा करता है तो उससे बदबू निकलती है तो उन फ़रिश्तों को मालूम हो जाता है कि इसने बदी का इरादा किया है।" यहां इरादा से पक्का इरादा मुराद है।
*(تنبیہ المغترین، ص، 48)*
*فرشتوں کو نیکی و بدی کا علم کیسے ہوتا ہے؟*
حضرت سیّدنا سفیان بن عیینہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ ملائکہ بندے کا ارادہ کس طرح لکھتے ہیں؟
یعنی وہ فرشتے جو نیکی و بدی لکھنے پر مامور ہیں وہ بندے کا ارادہ کیسے جانتے ہیں حالانکہ اس نے اب تک عمل نہیں کیا ہوتا؟
آپ نے ارشاد فرمایا: "وہ اس طرح جانتے ہیں کہ جب بندہ نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے مُشک کی سی خوشبو نکلتی ہے اور وہ فرشتے خوشبو سے معلوم کر لیتے ہیں کہ اس نے نیکی کا ارادہ کیا ہے اور جب بندہ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے بدبو نکلتی ہے تو ان فرشتوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے بدی کا ارادہ کیا ہے۔" یہاں ارادہ سے عزمِ مُصمّم (یعنی پکا ارادہ) مراد ہے۔ *(تنبیہ المغترین، ص، 48)*

28/12/2022

*आज ‌की नसीहत तक़्वा की वज़ाहत(वर्णन)**
🌷 *कभी तक़्वा कुफ़्र से बचने को कहते हैं*
🌷 *कभी गुनाह से बचने और दूर रहने को तक़्वा कहा जाता है और*
🌷 *कभी अल्लाह तआला के सिवा हर चीज़ से मुंह मोड़ लेने को तक़्वा कहा जाता है* मगर ये अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल के ख़ास उल ख़ास बंदों का तक़्वा होता है।
बा'ज़ उल्मा फ़रमाते हैं:
🌷 *हर वह शै छोड़ देना तक़्वा है जिससे तुम्हें अपने दीन में नुक़सान का ख़ौफ़ हो* जैसे बुख़ार का मरीज़ खाने पीने और फल वग़ैरह में से अपने लिए नुक़सान पहुंचाने वाली चीज़ को छोड़ देता है।
तक़्वा की एक वज़ाहत ये भी है कि:
🌷 *अहकामात को बजा लाने और ममनूआत से बचने का नाम तक़्वा है।*
बहरहाल *तक़्वा तुम्हें तौबा, इबादत, ख़शियत और कामयाबी से हमकिनार कर देगा।*
फ़रमाने बारी तआला है:
तर्जुमा कंज़ुल ईमान: "और जो हुक्म माने अल्लाह और उसके रसूल का और अल्लाह से डरे और परहेज़गारी करे तो यही लोग कामयाब हैं।" *(सूरह अल् नूर-५२)*
फिर ये कि जिन चीज़ों से नुक़सान का अंदेशा है वह हराम, गुनाह और ज़ायद अज़ ज़रूरत हलाल का इस्तेमाल है क्योंकि ज़रूरत से ज़ायद हलाल में मशग़ूल व मुन्हमिक होना बंदे को हराम की जानिब ले जाता और गुनाहों पर उभारता है और ऐसा नफ़्स के शर और उसकी सरकशी और ख़्वाहिश और उसकी नाफ़रमानी की आदत की वजह से होता है।
लिहाज़ा जो अपने दीनी मामले में नुक़सान से मह़फ़ूज़ रहना चाहता है वह इस ख़तरे से यूं बचे कि ज़रूरत से ज़ायद हलाल को इस डर से छोड़ दे कि ये हराम की तरफ़ ले जा सकता है।
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -६३_६४)*

Want your business to be the top-listed Government Service in Mumbai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Jogeshwari West
Mumbai
400102