14/04/2026
امام صادق علیہ السلام کی جامع رہبری :-
مرحوم کلینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) نے نقل کیا ہے کہ مفضل بن عمر نے کہا:
حضرت امام صادق (علیہ السلام) نے ایک خیراتی صندوق قائم کیا، اس صندوق میں ایک بجٹ (رقم) رکھی، اور مجھے اس صندوق کا ذمہ دار بنایا۔
آپ نے فرمایا:
"شہر میں تحقیق کرو — جہاں کہیں خاندان کے افراد کے درمیان کوئی اختلاف ہو، یا دو افراد کے درمیان کوئی اختلاف ہو۔
· اگر تم وعظ و نصیحت کے ذریعے اس اختلاف کو اتحاد میں تبدیل کر سکتے ہو — تو بہت اچھا۔
· اگر معاملہ مالی تھا، اور مال کی وجہ سے اختلاف ہوا ہے — تو اس خیراتی صندوق سے یہ مال لے کر انہیں دو، اور ان کا اختلاف حل کرو۔
**یہ تھا حضرت امام صادق (ع) کا کام — ایک امتِ واحدہ کی تعمیر میں۔
امام صادق (ع) ان ہشام بن حکم جیسے لوگوں کو اس طرح پروان چڑھاتے تھے،
تودۂ مردم (عام لوگوں) کو اس طرح (دوسرے طریقے سے) بناتے تھے،
اور اپنے خاص شاگردوں کو بہت سے علوم سے تربیت دیتے تھے:
· ایک حصے کو فقہی مسائل میں،
· ایک حصے کو تفسیری مسائل میں،
· ایک حصے کو کلامی مسائل میں۔
اسی طرح انہوں نے تشیع کو بچایا، ولایت کو بچایا، امامت کو بچایا۔
پھر وہ تحریفیں جو (دین میں) داخل ہو گئی تھیں — انہوں نے سب کچھ اس کی اصل جگہ پر واپس پھیر دیا — تحریف زدائی کی۔
اور اسی طرح وہ "امام صادق (ع)" بن گئے۔
(دشمنوں) نے دیکھا کہ اس نور کو بجھایا نہیں جا سکتا۔
مرحوم کلینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) نے نقل کیا ہے کہ منصور دوانیقی نے حکم دیا کہ رات کے وقت امام صادق (ع) کو ان کے گھر سے لا کر (ایذا دی جائے)۔
اور کلینی (رح) ہی نقل کرتے ہیں کہ ان عباسی ماموروں نے اس گھر کو آگ لگا دی — اور اسے جلا دیا۔
وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ امام صادق (ع) ان آگ کی لہروں کے اندر سے کیسے گزرتے ہیں۔
مرحوم کلینی نے نقل کیا کہ حضرت امام صادق (ع) آگ کی ان لہروں کے اندر سے گزر رہے تھے — اور فرما رہے تھے:
«أَنَا ابْنُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ»
"میں ابراہیم خلیل اللہ کا بیٹا ہوں۔"
یعنی وہی ﴿يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا﴾ (سورہ انبیاء: ۶۹) — "اے آگ! تو ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا" — یہاں بھی وہی ہے!
مقام: دیدار با اقشار مختلف مردم
📅 داموند: ۱۳۹۲/۰۶/۱۱
ٰ_جوادی_آملی

17/03/2026
15/03/2026