09/11/2025
Hae Mazloom Hussain Jjh
ﺍَﻟّﻠﮭُﻢ ﺍﻟﻌَﻦ ﻗَﺘَﻠﺘَﮧ ﻓَﺎطمةﺍﻟﺰﮨَﺮﺍ ج
09/11/2025
08/11/2025
22 جمادي الاولى ذكرى وفاة القاسم بن الامام موسى الكاظم عليهم السلام.
عظم الله اجورنا واجوركم بهذا المصاب الجلل.
28/08/2025
شہید راہ ولایت حضرت محسنؑ
ناحلہ الجسم کا معنی ایسی سخت بیماری ہے جس سے صرف ہڈیاں باقی رہ جائیں اور گوشت پوست ختم ہو جائے جناب سیدہ ع پر ایسے مصائب آئے جس کے باعث صرف ہڈیاں رہ گئیں۔
مکسورہ الضلع رضیض الصدر
مخدومہ کبریؑ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور پھتروں کی ضربات سینہ اقدس کی ہڈیاں چور چور ہوئیں
مقتول الولد
فرزند قتل کیا گیا صرف ایک محسنؑ ہی نہیں بلکہ شہزادہ محسنؑ سے لے کر حضرت حسن عسکریؑ تک تمام فرزندان زہراؑ شہید ہوئے حتی امام العصرؑ بھی شہید ہوں گے حضرت محسنؑ کم سن تھے جب انکو شہید کیا گیا۔
کثیر روایات میں سقط محسنؑ کا ذکر موجود ہے یہاں حمل اور سقط کا مفہوم واضح کرنا ضروری ہے
١.معنی حمل
اَلَّـذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَـهٝ يُسَبِّحُوْنَ بِحَـمْدِ رَبِّـهِـمْ وَيُؤْمِنُـوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْن
(سورہ غافر آیت 7)
ملائکہ نے عرش خداوندی کو اٹھا رکھا ہے یہاں حمل سے مراد کسی شے کا اٹھانا ہے حاملاں عرش کے الفاظ یحملوں العرش انہوں نے عرش کو اٹھا رکھا ہے عرش خداوندی کو ملائکہ مقربین اپنے کندھوں پر لیے ہوئے ہیں نہ کہ ان کے شکم و بطن میں ہیں حاملاں عرش خداوندی نے عرش کو اپنے ہاتھوں پر یا کندھوں پر اٹھا رکھا ہے پس حمل محسنؑ سے مراد یہ ہے کہ مخدومہ کائنات مظلومہ نے حضرت محسنں کو ہاتھوں پر اٹھا رکھا ہے حمل معصوم شکم میں نہیں ہے
حضرت امام حسن عسکریؑ کا فرمان
ہم گروہ اوصؑیاء کا حمل شکم مادر نہیں ہوتا ہم رحم یہی مادر سے پیدا نہیں ہوتے
(صحیفتہ الابرار)
لہذا حمل شکم میں ہے بلکہ پہلو اٹھائے ہوئے کو کہا
سقط سے مراد
ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(سورہ انعام آیت 59)
کوئی درخت سے پتہ نہیں گرتا مگر اللہ تعالی کے علم میں ہے یہاں سقط کا معنی ہے گرنا اور ان اشجار کا درختوں کے پتوں کا گرنا تب صیح ہو گا جب پتا نہیں ٹہنی شاخ پر ہوں پتا ہمیشہ شاخ پر ہوتا ہے اور اور شاخ ہی سے گرتا ہے
سقط حضرت محسنؑ سے مراد
مظلومہ کبریؑ نے اپنے فرزند حضرت محسن بن حضرت علیؑ کو جو چند ماہ کے تھے ہاتھوں پر اٹھایا ہوا تھا جب جلتا ہوا دروازہ شہزادی پر گرایا گیا تو شہزادہ محسنؑ کا سقط ہوا یعنی شجرہ طیبہ کی شاخیں ٹوٹ گئیں حضرت زہراؑ زمین پر گر گئیں جب والدہ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں تو حضرت محسنؑ شہید ہو گئے۔
حضرت محسنؑ کی دنیا میں تشریف آوری
علماء اہل سنت کے بیانات
١.علامہ ابن اسحاق لکھتے ہیں فی اولاد فاطمہ بن علی محسنا و مات صغیرا
سیرتہ ابن اسحاق
٢.علامہ دو لابی
الذریتہ الطاہرہ
٣.علامہ سبط ابن جوزی
صفتہ الصفوہ جلد٢
٤.علامہ ابن اثیر
تاریخ کامل جلد ٣
٥.علامہ ابن فندق البھیقی
حضرت محسنؑ کی آمد حیات ظاہری حضرت محمدؐ میں ہوئی۔
لباب الانساب جلد١
حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا روز سقیفہ حضرت امیر المرمنینؑ حسنؑ و حسینؑ زینبؑ ام کلثومؑ اور فضہؑ کے گھر کے دروازے کی جلائے جلانے اور حضرت محسنؑ کو پاؤں کی ٹھوکروں سے شہید کرنے کا دن سب سے بڑی مصیبت کا دن ہے کیونکہ تمام مصائب کی بنیاد ہے۔
(چشمہ اشک بحوالہ نوائب الدھور)
صدر المحقیق آغا سید عطا اللہ مہاجرانی
حضرت محسنؑ بہت کم سن دو سال کے شہزادے تھے اپنی والدہ گرامی کے پیچھے دوڑے اور در و دیوار کے درمیان اپنی والدہ مظلومہ کبری سیدہ طاہرہؑ کے ساتھ گر گئے جب مخالفین نے گھر پر حملہ کیا تو یورش جمعیت آپؑ کی شہادت کا باعث بنی اسکی وضاحت ابن اسحاق نے کی ہے کہ وقت شہادت حضرت محسنؑ بہت کم سن شہزادے تھے جو والدہ مظلومہ کے ہاتھوں دروازہ جلائے جانے کے وقت آکر شہید ہو گئے۔
کتاب.معارف فاطمیہؑ و مقتل حضرت محسنؑ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karbala'
