24/09/2026
*ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی 2030-2026 کے نفاذ کے حوالے سے ڈویژنل مشاورتی ورکشاپ*
خیبر پختونخوا میں ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (Desaster Risk Reduction) پالیسی 2030-2026 کے اجراء اور نفاذ کے حوالے سے ریجنل سطح پر مشاورتی ورکشاپ جمعرات کے روزایبٹ آباد کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی اس مشاورتی ورکشاپ کی صدارت ایڈیشنل کمشنر ہزارہ ڈویژن جاوید اقبال نے کی۔ ورکشاپ میں ڈی آر ایم ایڈوائزر ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ پی ڈی ایم اے اسماعیل یوسف زئی، ہزارہ ڈویژن کے آٹھ اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، مختلف محکموں کے افسران اور متعلقہ ماہرین نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصدتمام اسٹیک ہولڈرزکے ساتھ مشاورتی نشست کا اہتمام کر نا اور قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور عوام کے تحفظ کے لیے علاقائی و ضلعی سطح کی ترجیحات، عملی اقدامات، اداروں کی ذمہ داریوں، باہمی رابطہ کاری اور وسائل کی ضروریات کا تعین کرنا تھا تاکہ ان سفارشات کو صوبائی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کے پانچ سالہ منصوبے میں شامل کیا جا سکے۔مشاورتی ورکشاپ کے شرکاء نے مختلف اضلاع میں قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات، موجودہ انتظامات، درپیش مسائل اور ترجیحی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا اور آفات سے قبل مؤثر تیاری، بروقت رسپانس اور نقصانات میں کمی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ ورکشاپ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ہزارہ ڈویژن کے مختلف اضلاع کی جغرافیائی، موسمی اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی سطح پر مخصوص ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اقدامات کومجوزہ پالیسی کے منصوبے کا حصہ بنایا جائے۔ڈی آر ایم ایڈوائزر پی ڈی ایم اے اسماعیل یوسف زئی نے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کی ترقی اور مؤثر نفاذ کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی اور پالیسی کے تحت ترجیحات، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور آفات کے خطرات میں کمی کے لیے مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ایڈیشنل کمشنر ہزارہ ڈویژن جاوید اقبال نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے اور ان کے خطرات میں کمی کے لئے اس طرح کی مشاورتی نشستوں کاانعقاد پالیسی سازی میں اہم کردار اداکر تا ہے۔انھوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے، اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری کو یقینی بنانے اور ضلعی سطح پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، مربوط حکمت عملی اور تمام متعلقہ اداروں کی مؤثر شمولیت ناگزیر ہے۔