06/09/2022
تعلیم، تعلیمی ادارے اور قومی ریاست کی نیشن بلڈنگ پراجیکٹ کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک قومی ریاست کو فرمانبردار، ڈسپلنڈ اور تعبدار شہری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعبدار اور فرمانبردار شہری بنانے میں تعلیمی اداروں کا کردار سر فہرست ہے۔ یاد رکھیں کہ تعبدار شہری وہ ہوتا ہے جو اندھا ہوتا ہے۔ یعنی ایسا شہری کہ جو ریاست کی ہر فعل، بد معاشی، نا انصافی اور دہشت گردی کو جائز مانے اور اس کو قومی و ملکی مفاد کا نام دے۔
اسی وجہ سے اکثر مفکرین نے تعلیمی اداروں کے اوپر کام کیا ہے کہ یہ کوئی معمولی جگہیں نہیں ہیں۔
تعلیمی اداروں کے اندر ڈسپلن کے نام پر سٹوڈنٹس کو پاور کے ذریعے مختلف ذلالتوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر تعلیمی ادارے اور ان اداروں میں موجود سٹاف نے یہ بات ذہن نشین کرائی ہے کہ ہر آنے والا سٹوڈنٹ برائی کا پیکر ہے اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اس کی برائی کو پکڑ لوں۔
ایک استاد، پراکٹر اور چوکیدار کے پاس ریاستی جواز ہے کہ وہ اچھا شہری بنانے کیلیے ہر طالب علم کو فرمانبرداری پر مجبور کرے۔ ریاست کی طرح یہ لوگ بھی اپنے آپ کو ہر برائی سے مبراء سمجھتے ہیں اور سٹوڈنٹس کو ہر برائی کا جڑ۔
ریاست کی طرح یہ لوگ اپنے آپ کو Sovereign سمجھتے ہیں جو اقتدار اعلی کے نام پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے آج ہر طرف ڈسپلن پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ ڈسپلن خوف و ہراس کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح ایک قومی ریاست خوف و ہراس کے ذریعے اپنی نا اہلی چھپاتی ہے اسی طرح تعلیمی ادارے بھی اپنی نا اہلی چھپانے کیلیے سارا زور ڈسپلن پر دیتے ہیں۔

21/08/2022