🍿
Malkot (HAZARA)
This page is a non political Platform to share the latest news, Stories and other posts related to Malkot and surroundings.
Welcome to all people of UC PLUK MALKOT, (MURREE,HAZARA,AYUBIA,and surroundings)
Malkot is a village of Abbottabad District in Khyber-Pakhtunkhwa province of Pakistan. Until the local government reforms of 2000 it was a Union Councils of the district. There is also a very beautiful picnic spot at Knair (a stream) as well as waterfalls and lush green meadows due to all the fertility that gathers in
16/02/2026
Proud of Malkot ❤️
جنازے والے گھر میں کھانے پینے پر مکمل پابندی لگائی جائے اہل خانہ غم کی حالت میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن انہیں ساتھ ہی مہمانوں کے کھانے کی فکر بھی ہوتی ہے۔ بطور مسلم ہمیں دوسروں کا احساس کرنا چاہیے اور اس فضول روایت کے خلاف تحریک چلانی چاہیے۔
کون کون متفق ہے۔ شیرٔ کریں اور اپنی راۓ بھی دیں۔
08/09/2025
دوسری اور تیسری قسط!!
دکانوں کی بات ہو رہی تھی تو میں اس سوچ میں غرق ہو گیا کہ سماج میں موجود ہر شخص کے رویے کیسے سماج کی تعمیر یا بگاڑ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک دکان دار کا روزمرہ معاملات میں لوگوں سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ دکان دار ایمان دار ہو، لوگوں کو ملاوٹ سے پاک اعلی معیار کی مصنوعات فراہم کرے، لالچی اور حریص نہ ہو یہ بھی ضروری خوبیاں ہیں لیکن کچھ اور خوبیاں بھی دکان دار کے لیے ناگزیر ہیں کیونکہ اس کا پالا بچوں سے بھی پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا کردار ایک معلم کا بن جاتا ہے۔
ویسے تو کسی کو بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے لیکن دکاندار کو ہرگز نہیں۔ اگر اس کے پاس کوئی چیز موجود ہو اور کسی بچے کو ادھار مانگنے پر وہ کہے گا کہ یہ چیز موجود نہیں ہے تو بچے کی کیا تربیت ہو گی؟۔
دوسری خوبی جو دکان دار میں ناگزیر ہے وہ خوش اخلاقی اور خوش کلامی ہے۔ اسے سب کے ساتھ نرمی کا رویہ رکھنا چاہیے۔
جب کاروبار پھیل جائے اور مال و دولت توقعات سے بڑھ کر ہاتھ آ جائے تو اکثر دکان دار اپنی اوقات بھول کر غرور، تکبر اور نخوت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ سماجی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔
دکان دار کا امیر کے سامنے زمین بوس ہو جانا اور سب کے سامنے غریب کے ساتھ تکبر سے بات کرنا اور اس کی توہین و تذلیل کرنا جہاں اس کی شخصیت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے وہیں سماج میں منافرت اور تعصب کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔
میں نے میٹرک تک سائنس پڑھی۔ پھر معاشیات پڑھی۔ تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا۔ ادب کا میں اب بھی ایک ادنی سا طالب علم ہوں۔ بڑے بڑے دانشوروں اور اہل علم کے قدموں میں بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا ان سے سوال تھا کہ ایک آٹھ دس سال کے بچے کو دکان دار کئی بوریاں آٹا موجود ہونے کے باوجود ادھار آٹا نہ دیتے ہوئے دیگر گاہکوں کی موجودگی میں جو خالی تھیلی واپس پھینکتا ہے اس کا زخم گہرا ہوتا ہے یا جو غرور، تکبر اور نخوت بھرا اس کا رویہ اور ہتک آمیز سلوک ہوتا ہے اس کا؟
آپ سے بھی قاری کے طور پر ایک سوال ہے۔۔۔۔۔ کیا آپ ان قدموں کے بوجھ کو لفظوں میں بیان کر سکتے ہیں جو ایک بچہ دکان سے خالی تھیلی اٹھائے ہوئے گھر واپس آتے ہوئے اٹھاتا ہے؟؟؟؟
والد صاحب کا نام رحیم داد عباسی تھا لیکن انھیں سب لالی کہتے تھے۔ پوری زندگی محنت مشقت میں گزاری۔ بجری کوٹی۔ زمین داری کی۔ باورچی کے طور پر طویل عرصے تک ملازمت کی۔ دکان داری کی۔ دبئی میں تعمیراتی کام کیا۔ آخری عمر تک صادق آباد چوک راولپنڈی میں کریانہ سٹور چلاتے رہے، جہاں اکثر ان کے ہم عمر بزرگ ان کے پاس بیٹھتے اور ان کے ہاتھوں کا بنا قہوہ پیتے۔
اولاد کو انھوں نے حلال کھلایا اور دیانت داری، شرافت، ایمان داری اور خودداری کی تعلیم دی۔ کڑے سے کڑے وقت میں بھی کبھی کسی کا احسان لینا گوارا کیا نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا۔ سوکھی روٹی پر پیاز رکھ کر بھوک مٹا لی یا فاقہ کر لیا لیکن کسی پر اپنی حالت ظاہر نہ ہونے دی۔ وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ ہمارے چچا حکم داد اپنے وقت کے پڑھے لکھے اور قابل آدمی تھے۔ کراچی ہوتے تھے، جہاں چولھا پھٹنے سے جل گئے تھے اور کچھ عرصے بعد اللہ کو پیارے ہوئے۔ ہمارے دوسرے چچا کا نام خاقان تھا۔ اللہ پاک تینوں بھائیوں کو غریق رحمت فرمائے۔
ہمارے بڑے بھائی زاہد عباسی ہیں۔ خوبیوں اور اوصاف سے مزین ایسی شخصیات ہمارے ہاں بہت کم ملتی ہیں۔ جوانی میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ فٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے اس لیے وہاں بھی کچھ آسانی کا سامان ہو گیا۔ لانس نائیک ہوئے لیکن طبیعت اس طرف آئی نہیں۔ انھوں نے استعفی دے دیا جس کے قبول ہونے میں خاصی مشکل پیش آئی لیکن کسی نہ کسی طرح آخر فوج والوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ اگر مواقع میسر ہوتے اور اعلی تعلیم حاصل کرتے تو یقینا علاقے اور ملک کا نام روشن کرتے۔ ان جیسا ادبی ذوق اور شعر فہمی شاید ہمارے اکثر شعراء میں بھی مفقود ہے۔ بچپن چونکہ کراچی میں گزرا اس لیے اہل زبان کے لہجے میں اردو بولتے۔ ان کے مقابلے میں انگریزی لکھنا، پڑھنا اور بولنا آج کے ایم اے پاس نوجوانوں کے بس کی بات نہیں۔ دوست دار آدمی ہیں۔ سعودی عرب میں رہے یا پاکستان میں ان کا دسترخوان ہمیشہ وسیع رہا۔ بہت عرصے تک تصوف اور روحانیت سے واسطہ رہا۔ باقاعدہ ایک بزرگ کے مرید بھی رہے۔ اس ربط نے ان کے انداز فکر پر گہرا تاثر چھوڑا۔ جاہ پرستی، غرور و تکبر اور حرص و ہوس جیسی بیماریوں سے دور رہنا روحانیت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہوا۔ مال و اسباب کو جمع کرنے اور سینت سینت کر رکھنے کے بجائے انھوں نے اسے ہمیشہ ذات اور اہل خانہ پر خرچ کیا۔ یہی نہیں اپنے احباب، عزیز و اقارب اور ضرورت مندوں کو بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔ اللہ پاک ان کو عمر خضر عطا فرمائے۔
ان سے چھوٹے بھائی ارشد عباسی ہیں۔ جوانی میں جماعت اسلامی کے گرویدہ ہوئے لیکن بعد میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ ہوگئے اور اب اسے اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ نہایت شریف النفس اور بااخلاق انسان ہیں۔ آج کے مادیت پرست دور میں عبادات کا اہتمام کرنے والے تو بہت مل جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی دینی احکام پر عمل پیرا ہونے والے ان جیسے لوگ اب عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔ اللہ پاک ان کی سعی کو مشکور فرمائے۔ دونوں بھائیوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سعودی عرب میں گزارا لیکن اب مستقل طور پر پاکستان میں قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہمارے بڑوں نے بہت پر مشقت زندگی گزاری۔ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں ایک پہاڑی علاقے میں زندگی گزارنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت کیونکہ لوگ اپنی دھرتی سے جڑے تھے اس لیے انھیں اپنا علاقہ، اپنی ثقافت، اپنی ماں بولی اور اپنی روایتیں، قدریں بہت عزیز تھیں۔ وہ رشتے ناطے نبھانے کا فن جانتے تھے۔ وہ "لیتری” کے ذریعے باہم مل کر بڑے سے بڑا کام کم ترین وقت میں بغیر کسی اجرت کے کر لیتے تھے۔ اس طرح سب کی زندگی آسان ہو جاتی تھی۔ کچے مکان کی دیواریں تیار ہونے پر گاؤں کے مردوں (خصوصا اپنی برادری کے) کو "پہچھی” (کچے مکان کی چھت کی تیاری) کے لیے دو چار دن پہلے مطلع کیا جاتا اور مجوزہ دن پر علی الصبح سب آ کر کام شروع کر دیتے۔ دن کے کھانے میں ابلے چاول، شکر اور دیسی گھی شامل ہوتے۔ شام تک مکان تیار ہو جاتا۔
لیکن شدت کے برادری ازم نے لوگوں کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بھی گزارا اور اس ضمن میں نفرت اور تعصب کو بھی عام کیا۔ آج بھی اکثر علاقے اسی اندھی برادری ازم کے زیر اثر ہیں، جس کا نقصان علاقے اور عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ خصوصا سیاست میں "برادری” اور "پگ” کو لے کر علاقے کو پسماندگی کے شکنجے سے نکلنے کے تمام راستے مسدود کیے گئے۔ نیز ہاتھ سے کام کرنے والے لوگوں (جن کو اسلام نے اللہ کا دوست کہا ہے) ہمارے ہاں بھی کمتر سمجھا جاتا رہا۔ ان سے رشتے ناطے نہیں کیے گئے۔ انھیں برابر کے انسانی حقوق نہیں دیے گئے۔ بلکہ سیاسی شخصیات تو انھیں زمین پر بیٹھنے پر مجبور کرتی رہیں۔ یہ انسانیت کی بدترین توہین و تذلیل تھی۔
ایک اور منفی پہلو جس پر کوئی بات نہیں کرتا وہ خواتین کی تعلیم اور دیگر حقوق کا مسئلہ ہے۔ جب سے لوگوں نے شہروں کی طرف نقل مکانی کی ہے تعلیم نسواں پر توجہ دینا مجبوری ٹھہرا ورنہ بچیوں کو پرائمری تک پڑھا دینا کافی سمجھا جاتا تھا۔ وہ بھی ان لوگوں تک محدود تھا جو گرلز سکول کے نزدیک رہائش پذیر تھے ورنہ دور دراز علاقوں کی بچیاں تعلیم سے یکسر محروم رہتی تھیں۔ وراثت میں بیٹیوں کو اسلام نے حصہ دار بنایا ہے اور اس کے واضح احکام موجود ہیں لیکن ہمارے ہاں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دار بنانے کی گزشتہ وقتوں کی کیا بات کی جائے، آج بھی شعور عام نہیں ہے۔
کیونکہ زمین سے لوگ سال بھر کا اناج حاصل کرتے تھے اس لیے اس کی بہت اہمیت تھی۔ لوگ اپنی حدوں کی واضح نشانیاں رکھتے تھے۔ لیکن اگر کوئی طے شدہ حد سے متجاوز ہو تو اکثر جرگے بٹھائے جاتے تھے۔ لیکن اس وجہ سے لوگوں میں لڑائیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ اگر کیس عدالت میں چلا جائے تو پانچ سو روپے مالیت کی زمین پر پچاس ہزار روپے اور تین نسلیں لگ جاتی تھیں۔ یاد رہے اس وقت کے پچاس ہزار روپے کا مطلب آج کے پانچ کروڑ روپے ہیں۔ آج وہی گاؤں علاقہ مکینوں کی بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے اجڑ کر رہ گئے ہیں اور بد قسمتی سے زمینیں بنجر پڑی ہوئی ہیں۔
گراں جے اس اجاڑی تے نہ اشنے
حیاتی اس طرحے آزار ویہہ آ؟
تحریر: راشد عباسی
01/09/2025
محترم راشد عباسی صاحب ہمارے خطہ کوہسار کے معروف لکھاری اور شاعر ہیں۔
ان کا انداز تحریر سادہ اور دلنشین ہوتا ہے۔پہاڑی زبان میں شاعری بھی کرتے ہیں۔اپنے علاقے کا درد لئیے ہوئے ہیں۔معاشرے کی خرابیوں اور کمی کوتائیوں پر انکا قلم تلخ بھی ہوجاتا ہے۔
راشد صاحب ایک خوبصورت شخصیت ہیں۔
ملکوٹ سے تعلق رکھنے والے راشد صاحب نے کچھ عرصہ پہلے کوہسار نیوز اور اپنی فیس بک وال پر اپنی آپ بیتی شائع کی تھی۔یہ آپ بیتی 80 اور 90 کی دہائی کا ایک مکمل احوال ہے۔
آج سے راشد صاحب کی آپ بیتی قسط وار شائع کی جارہی ہے۔احباب کی دلچسپی اور کمنٹس حوصلہ افزائی کا باعث بنیں گے۔
شکریہ
آئیے راشد صاحب کی کہانی انہی کی زبانی سنتے ہیں۔
⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩⏩
میری پیدائش ضلع ایبٹ آباد ، سرکل بکوٹ کے ایک دور افتادہ گاؤں ملکوٹ میں ہوئی۔ ملکوٹ اس وقت بجلی، سڑک، ہسپتال، ہائی سکول جیسی بنیادی سہولیات سے محروم تھا (ہائی سکول اور صحت کی سہولیات کی اب بھی یہی صورت حال ہے). گاؤں کے لوگ کھیتی باڑی سے وابستہ تھے۔ اس کے علاوہ ہر گھر میں جانور پالنا معمول تھا۔ مرغیاں بھی ہر گھر میں موجود تھیں۔
اکثر لوگ سردیوں میں گاؤں میں جب کہ گرمیوں میں بہکاں (بلند مقام) قیام کرتے۔ سبزیاں اور دالیں عام کاشت کی جاتیں۔ پھل دار درخت بھی عام تھے۔ سیب کے باغات لوگوں کے لیے اچھی آمدن کا بھی ذریعہ تھے۔
پرائمری سکول ملکوٹ ہال نما ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ دراصل یہ ٹین کی چادروں سے بنی ایک بیرک تھی جس کے فرش نہ صرف کچے تھے بلکہ غیر ہموار بھی۔ سکول مسجد کے بالکل قریب واقع تھا۔ *بچے پہلے مسجد میں ناظرہ قرآن پڑھتے اور پھر سکول آ جاتے*۔ مسجد سے نیچے اتریں تو راستے کے دائیں طرف سکول کا چھوٹا سا میدان تھا۔ میدان کے سرے پر درخت تھے جن کی چھاؤں میں میدان بھی اوپن کلاس روم بن جاتا۔ خصوصا آخری پیریڈ میں پہاڑے میدان میں ہی بیٹھ کر پڑھے جاتے اور پھر چھٹی کی گھنٹی بجنے پر بچے وہیں سے باہر کی سمت بھاگ کھڑے ہوتے۔
دراصل یہ سکول ملکوٹ کے محسن و مربی منشی نبی صاحب کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ تھا اور شاید انہی کی زمین پر بنا تھا۔ وہ ملکوٹ کے پہلے معلم تھے۔ پورے علاقے پر ان کا احسان ہے کہ انھوں نے اس علاقے میں علم کی شمع روشن کی۔ اللّٰہ پاک ان کو غریق رحمت فرمائے ۔*
سکول میں طلبہ کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ کا انتظام تھا لیکن ان کی تعداد ناکافی تھی۔ صبح سویرے ان ٹاٹوں کو ڈنڈوں کی مدد سے ضربیں لگا کر صاف کیا جاتا تھا۔ سکول یونیفارم ملیشیا کے قمیص شلوار اور کالی ٹوپی پر مشتمل تھا، جو چھٹی کے وقت تک گرد و غبار کی وجہ سے سفید ہو چکا ہوتا۔ سکول میں دو اساتذہ تعینات تھے جو کافی دور سے تشریف لاتے۔ اس لیے کم ہی ہوتا کہ دونوں اکٹھے سکول آئیں۔ شاید انھوں نے آپس میں دن بانٹے ہوئے تھے۔ اس لیے باری باری سکول آتے۔
پہلی سے پانچویں تک ہر کلاس کو اردو، حساب اور سائنس پڑھائی جاتی تھی۔ سائنس بھی نہ ہونے کے برابر تھی، بس اردو اور حساب ہی دو مضامین تھے۔ *حساب کے سوالات سلیٹ پر سلیٹی کی مدد سے حل کیے جاتے اور اردو کی لکھائی پر خصوصی توجہ دی جاتی۔ اس کے لیے روزانہ کلک کی قلم کے ساتھ تختی لکھی جاتی تھی۔ آخری پیریڈ میں مل کر پہاڑے پڑھے جاتے تھے۔*
*ہمارے استاد محترم نثار صاحب کا تعلق کہو ، سرکل بکوٹ سے تھا*۔ کیونکہ ابھی سڑک تعمیر نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ روزانہ کہو سے ملکوٹ تشریف لاتے۔ تھوڑی سی سخت طبیعت تھی۔ *ان دنوں مولا بخش (لاٹھی) کے استعمال پر پابندی نہیں تھی۔ نیز سکول میں بچوں کو مرغا بنانا بھی اساتذہ کا مرغوب مشغلہ تھا۔* سو پرائمری سکول ملکوٹ کو بھی اس ضمن میں کوئی استثناء حاصل نہیں تھا۔
آخری پیریڈ تھا۔ ماسٹر نثار صاحب کی گرج دار آواز گونجی۔ آج سب بچے بیٹھ کر 6 کا پہاڑہ صحیح سے یاد کریں۔ میں کسی کا بھی امتحان لے سکتا ہوں۔ *بچوں نے 6 کے پہاڑے کے بجائے آیت الکرسی اور تیسرے کلمے کا ورد شروع کر دیا*۔ نثار صاحب گراؤنڈ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹہل رہے تھے اور کچھ گنگنا رہے تھے۔ اچانک ان کی آواز تھوڑی بلند ہو گئی۔۔۔۔
*چلو دلدار چلو*
*چاند کے پار چلو*
گھنٹی بجانے پر مامور بچے نے اسے چھٹی کا اشارہ سمجھتے ہوئے توا نما گھنٹی پر ضربیں داغ دیں۔ نثار صاحب نے چلا کر کہا ابھی چھٹی نہیں ہوئی لیکن رستے کے قریب بیٹھے بچے تب تک کئی فرلانگ فاصلہ طے کر چکے تھے۔
ملکوٹ میں اس وقت کوئی مرکزی بازار نہیں تھا۔ "گل تاج صاحب کی ہٹی"، "صوفی رخیم داد صاحب کی ہٹی"، " رمضان صاحب کی ہٹی" ہی بہت عرصہ تک ملکوٹ کی اہم دکانیں رہیں۔
ملکوٹ میں دارا کے مقام پر ڈاک خانہ بھی موجود تھا، جس کا انتظام و انصرام ملک نیاز احمد (برادر اکبر ملک منیر، میڈیکل سٹور والے) کے پاس تھا۔
عصر کے وقت ڈاک تقسیم کرنے کا وقت ہوتا تھا۔ دور دور سے بچے، مرد اور عورتیں اس امید پر عصر کے وقت ڈاک خانے کے پاس جمع ہو جاتے کہ شاید آج ان کے پیاروں کی چٹھی آئی ہو۔
نیاز احمد صاحب برآمدے میں کھڑے ہو کر بہ آواز بلند نام پڑھتے اور اگر وصول کنندہ موجود ہوتا تو چٹھی ہوا میں اچھال دیتے۔ وصول کنندہ کسی نہ کسی طرح بھاگ دوڑ کے بعد چٹھی وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔
اس وقت ایک گھمبیر مسئلہ یہ بھی تھا کہ چٹھی کس سی پڑھوائی اور لکھوائی جائے کیونکہ گاؤں میں خواندہ لوگ بہت کم تھے۔
نیاز احمد صاحب کی وفات کے بعد ڈاک خانے کا انتظام شاید صوفی گل تاج صاحب کے پاس چلا گیا تھا لیکن *اب کچھ برسوں سے ملکوٹ ڈاک خانے جیسی اہم سہولت سے محروم ہے۔*
جامع مسجد ملکوٹ، جو کہ اب خاصی وسیع اور پرشکوہ ہو گئی ہے، اس وقت چھوٹی اور سادہ تھی۔ مسجد کے نیچے ہی مولانا نذیر صاحب کی رہائش تھی۔
جب کہ پہلے مسافروں کی رہائش گاہ کے طور پر مسجد سے متصل ایک حجرہ بھی ہوا کرتا تھا۔ *کسی مسافر کی آمد کی صورت میں نماز مغرب کے بعد مولانا صاحب نمازیوں کو آگاہ فرما دیا کرتے تھے اور مسافر کے رات کے کھانے اور ناشتے کا بندوبست ہو جاتا تھا۔*
اس وقت پورے ملکوٹ میں کل پانچ مساجد تھیں۔ تین اپر ملکوٹ میں اور دو لوئر ملکوٹ میں۔ *فرقوں اور مسالک کے جھگڑوں سے پاک ماحول تھا اس لیے اپنے کم ترین دینی علم پر عمل کو سادہ لوح لوگ یقینی بناتے تھے*۔ جمعہ کے دن صبح سے ہی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایسے تیاری شروع ہو جاتی جیسی آج کل نماز عید کے لیے بھی نہیں کی جاتی۔ آرواڑ اور لونگال سے بھی کئی لوگ ملکوٹ کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے طویل سفر کر کے تشریف لاتے تھے۔
مولانا نذیر صاحب کی ملکوٹ آمد اور جامع مسجد کا انتظام سنبھالنے سے پیشتر ملکوٹ کے لوگ سادہ انداز رکھتے تھے۔
ہر جمعرات کو عصر اور مغرب کے درمیان مختلف پکوان سامنے رکھ کر مرحومین کی مغفرت کے لیے دعا کرنا سارے لوگوں کا معمول تھا۔ رسومات مرگ میں بھی جمعرات کا ختم اور چالیسواں ناگزیر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ چالیس دن تک مرگ والے گھر پر پڑوسی اور رشتہ دار روزانہ شام کو آتے اور رات گئے تک بیٹھتے۔
ایسی محافل میں لوگ نور نامہ، قصہ یوسف زلیخا اور سیف الملوک شوق سے پڑھتے اور سنتے تھے۔ پھر سالانہ ختم کا بھی رواج عام تھا۔
ہزار دو ہزار مکئی کے دانے سفید چادروں پر رکھ دیے جاتے۔ ختم پڑھنے والے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے جاتے اور ایک ایک دانہ اپنے سامنے گراتے جاتے۔
جب سارے دانے ختم ہو جاتے تو پھر انھیں ایک جگہ جمع کر کے مکرر پڑھائی شروع ہو جاتی۔ عموما ظہر کی نماز کے بعد دعا کی جاتی اور پھر دیگیں کھل جاتیں۔
مولانا نذیر صاحب نے لوگوں کو تعلیم دی کہ مرگ کی ان رسومات کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
نور نامہ اور قصہ یوسف زلیخا کے بارے میں تو مجھے زیادہ علم نہیں
لیکن *میاں محمد بخش کی "سفر العشق" یعنی "سیف الملوک" جو کئی گھروں میں غلاف میں عقیدت کے ساتھ رکھی جاتی تھی اسے مسلک کے ساتھ منسلک کر کے علاقے سے ہی نکال دیا گیا۔ حال آنکہ ایسی شعری تصنیفات سے جہاں لوگوں کی تربیت نفس ہوتی تھی وہیں ان میں شعری ذوق بھی پیدا ہوتا تھا۔*
اول حمد ثنا الہی، جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام چتارن والا ہر میدان نہ ہردا
۔۔۔
واہ کریم امت دا والی، مہر شفاعت کردا
جبرائیل جیئے جس چاکر، نبیاں دا سرکردہ
جے لکھ واریں عطر گلابوں، دھوئیے نت زباناں
نام انھاں دے لائق ناہیں کی قلمے دا کاناں
جاری ہے
( آج اس سلسلے کی پہلی قسط پوسٹ کی گئی ہے۔آپ دوستوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے انشاءاللہ اگلی اقساط بھی پوسٹ کی جائیں گی)
یکم ستمبر 2025
ماشاءاللہ، مولانا عبدالرشید صاحب کا قبر کی یاد دلانے والا روح پرور کلام۔
کیا ہی قدآور شخصیات تھیں جن کا ذکر حافظ صاحب نے کیا، جو آج قبر میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے والدین اور بزرگوں کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو آخرت کی تیاری کی توفیق بخشے۔
“ملکوٹ ڈکیتی کیس – ہماری عزت اور اتحاد کا امتحان”
بہت سے لوگ اسے صرف ایک ڈکیتی کا واقعہ سمجھ رہے ہیں، لیکن ہماری نظر میں یہ اقدام قتل ہے۔ مجرم پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے، اگر اہلِ خانہ مزاحمت کرتے تو وہ گولی چلانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ وہ ہر حد پار کرنے کے لیے تیار تھے۔
ہم صرف آپ کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ ملکوٹ کے ہر فرد کے لیے ایک امتحان ہے۔ چاہے کوئی نوجوان ہو یا بزرگ، کسی بھی برادری سے تعلق رکھتا ہو — یہ لمحہ ہم سب کی پہچان بنے گا
یہ اُن لوگوں کے لیے بھی امتحان ہے جو گاؤں میں اختیار اور اثر رکھتے ہیں۔ ہمارے اردگرد سیکڑوں گاؤں ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہم انصاف کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا ایک بار پھر رشتے داری اور برادری کا سہارا لے کر مجرم کو بچانے کی کوشش کی جائے گی۔
اگر اس بار بھی ذاتی تعلقات یا برادری کے نام پر مجرم کو بچانے کی کوشش کی گئی، تو ہم کبھی خود کو معاف نہیں کر سکیں گے۔ ہم اپنے بچوں کو کیا جواب دیں گے؟ کہ ہم اپنے مظلوم بھائی کا ساتھ بھی نہ دے سکے؟
آئیے آج سب وعدہ کریں:
اگر مجرم ہمارا اپنا رشتہ دار یا دوست بھی ہوا، تب بھی ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
آئیے متحد ہو کر دنیا کو دکھائیں کہ ملکوٹ کے لوگ اپنی عزت، غیرت اور حق کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
یاد رکھیں: مجرم کا کوئی دوست، رشتہ دار یا برادری نہیں ہوتی — وہ صرف خود غرض اور بیمار ذہنیت کا مالک ہوتا ہے۔
آئیے اس کیس کو ملکوٹ کے لیے فخر کی علامت بنائیں۔
براہِ کرم اس پیغام کو ہر جگہ شیئر کریں اور متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
ثابت کریں کہ آپ حق اور انصاف کے ساتھ ہیں۔
Ayubia - Darwaza Aerial View
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Malkot, Hazara, Khyber Pukhtoon Khawa
Abbottabad
