Soba Hazara

Soba Hazara

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Soba Hazara, Government Organization, SOBA HAZARA, Abbottabad.

15/12/2025

ہزارہ صوبے کی ضرورت:
ایک تجزیہ
کچھ لوگوں کے صوبہ ہزارہ کے قیام کے خلاف آواز اٹھانا

پختونخوا کی وحدت اور ہزارہ میں پختون
آبادی کے حوالے سے پیش کیے گئے نکات ایک اہم سیاسی و انتظامی بحث کو جنم دیتے ہیں۔ تاہم ہزارہ ڈویژن میں نئے صوبے کے مطالبے کو صرف نسلی یا لسانی تناظر میں دیکھنا حقیقت پسندی نہیں۔ یہ مسئلہ بنیادی طور پر انتظامی، معاشی اور ترقیاتی عدم توازن سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ کسی قوم یا علاقے سے علیحدگی کے جذبات سے۔

سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہزارہ ایک تاریخی و جغرافیائی وحدت ہے جس میں پختون۔سواتی، ہزاروی، گوجر، تنولی، کوہستانی۔سردار(کرل۔ال) عباسی ۔اعوان ۔سید ۔قریشی اور دیگر برادریاں صدیوں سے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ کسی علاقے کی شناخت کا دارومدار صرف زبان یا نسل پر نہیں بلکہ اس کے تاریخی، تہذیبی اور انتظامی ڈھانچے پر ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ چونکہ ہزارہ میں پختون آبادی موجود ہے اس لیے ہزارہ کا صوبہ بننا پختونخوا کی تقسیم کے مترادف ہے، ایک کمزور دلیل ہے۔ دنیا بھر میں صوبے اور انتظامی اکائیاں قومیت نہیں بلکہ انتظامی ضرورت کی بنیاد پر بنتی ہیں۔

کچھ لوگوں کا یہ دعویٰ کہ پختونخوا پختونوں کا گھر ہے اور ہزارہ کو اس گھر سے الگ نہیں ہونا چاہیے، جذباتی ضرور ہے مگر زمینی حقائق کو نظرانداز کرتا ہے۔ ہزارہ صوبے کا مطالبہ کسی طور نسلی علیحدگی پسندی نہیں بلکہ ترقیاتی محرومیوں کے خلاف ایک جمہوری جدوجہد ہے۔ 2010 میں صوبے کے نام کی تبدیلی کے خلاف ہزارہ میں ہونے والے بڑے پیمانے پر احتجاج اس امر کا ثبوت ہیں کہ یہ مطالبہ کسی سازش کا حصہ نہیں بلکہ گہری عوامی خواہش کا اظہار ہے۔

کچھ حلقوں کا یہ مؤقف بھی سامنے آتا ہے کہ ہزارہ دو ترقی یافتہ اضلاع پر مشتمل ہے، اس لیے اس کی بنیاد پر صوبہ نہیں بن سکتا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہزارہ دو نہیں بلکہ چھ اضلاع پر مشتمل ایک مکمل، منظم اور تاریخی انتظامی اکائی ہے۔ آبادی، خواندگی، امن، دفاعی اہمیت اور سیاحتی و صنعتی میدان میں ہزارہ پورے صوبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹرائن یہ کہتا ہے کہ اگر کسی علاقے میں انتظامی سہولت اور مؤثر گورننس ممکن نہ رہے تو اسے نیا صوبہ دینا ایک فطری اور حقیقت پسندانہ حل ہوتا ہے۔

پسماندگی کا الزام اوگی، کوہستان، بٹگرام یا تورغر پر ڈالنا ایک جذباتی مؤقف ہے جو عملی بنیادوں سے خالی ہے۔ کسی ضلع کی پسماندگی دوسرے ضلع کی خوشحالی سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ صوبائی پالیسیوں اور ترجیحات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہزارہ کے لوگوں کی شکایت یہ ہے کہ بجٹ اور وسائل کی تقسیم میں ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ کو ان کی ضرورت کے مطابق حصہ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہزارہ میں ایک نئے صوبے کا مطالبہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

ایبٹ آباد اور ہری پور ہزارہ کی ترقی اور شناخت میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایبٹ آباد پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول، ایوب میڈیکل کالج اور بڑی تعلیمی و دفاعی تنصیبات کا مرکز ہے۔ دوسری طرف ہری پور صنعتی ترقی کا مینارہ ہے جہاں ہٹڑ انڈسٹریل اسٹیٹ ملک بھر کے صنعتی مراکز میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ سیاحت کے دروازے کے طور پر بھی ایبٹ آباد اور ہری پور پورے ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ہزارہ صوبے کے مطالبے کے حق میں سب سے مضبوط دلیل انتظامی ہے۔ ایک وسیع، متنوع اور جغرافیائی طور پر مشکل صوبہ مؤثر گورننس کے لیے رکاوٹ بنتا ہے۔ دنیا بھر میں بڑے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ فیصلے جلد ہوں، عوام تک ریاستی خدمات بہتر پہنچیں اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہو۔ ہزارہ تاریخی و معاشی طور پر ایسی تمام خصوصیات رکھتا ہے جن کی بنیاد پر اسے ایک مستحکم صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہزارہ صوبہ کسی قوم کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ ہزارہ کے عوام کے مستقبل، ترقی اور حقوق کا مسئلہ ہے۔ یہ مطالبہ انتظامی اصلاحات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ تعصب یا نسلی تقسیم کا۔ ہزارہ کے عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی شناخت، تاریخ اور ضرورتوں کے مطابق ایک الگ صوبے کے لیے آواز اٹھائیں، اور پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں اس مطالبے کو جمہوری روح کے تحت دیکھا جائے۔
کاپی ہزارہ نیوز

Want your business to be the top-listed Government Service in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


SOBA HAZARA
Abbottabad