بڑا خوشبخت دنیا میں رہا میں
ترے اپنوں میں اک اپنا جو تھا میں
یہ پوچھا وقت نے، کیا جُستجو ہے
ہوا حیران میں، اور کہہ دیا 'میں'
چُھپانا آنکھ میں تھا ایک آنسو
بچا اُس کو لیا، خود گِر گیا میں
A L M A S t h i n k s
دل سے نِکل کے روشنی جانے کِہاں گئی، لیکن جہاں ہے ابر یہ آیا وہیں سے ہے
10/11/2024
دل کو میں نے جدا کیا خود سے
اور میں آخر میں آ ملا خود سے
کیا کہاں کس لئے میں آیا ہوں
اک تجسس میں پڑ گیا خود سے
کیسے ممکن تھا ارتقاء از خود
کیسے ٹھہرے گی اِنتہا خود سے
اُس کا دل تو کہیں نہیں لگتا
جسکا اِک بار لگ گیا خود سے
میں جنہیں پیشوا سمجھتا تھا
بن گئے وہ میرے خُدا خود سے
بوجھ شانوں پہ رکھ کے پھرتا ہے
جو تُو مومن ہے سر کٹا خود سے
دل سے سب کچھ نکال کر پھینکا
کام اِک کار کا ہوا خود سے
سہنا زیادہ ہے، کہنا کم کم ہے
تب بنے گا تُو با وفا خود سے
باغباں اِس کو کاٹ پر پھینکو
گل چمن میں ہے اِک کِھلا خود سے
ہاں میں مجرم سہی مگر پھر بھی
شاھدوں نے بھی ہے گھڑا خود سے
کاش ایسے نہ کرتے، یوں ہوتا
رنج یہ بانٹا ہے بارہا خود سے
لفظ از خود کہاں سے آئے ہیں
چل پڑا ہے یہ سلسلہ خود سے
باتیں الماس کی نہ دل پر لو
یوں لگا ہے یہ سر پِھرا خود سے
30/10/2024
شکستہ دل لئے پھرتے ہیں اب بے نام ہوئے
کبھی جو خاص تھے وہ لوگ آج عام ہوئے
جو دیکھے اشک ہمارے تو مسکرا کے کہا
بتاؤ گِن کے ذرا اِن کے کتنے دام ہوئے
کوئی بھی بات اب اِس دل پہ تو نہیں لگتی
ہوئے ہیں سال بہت تم سے بھی کلام ہوئے
اُٹھا ہے درد نیا دل میں، اللہ خیر کرے
ابھی تو ایک پل گزرا نہ تھا آرام ہوئے
رہے جو عیش میں وہ ساتھ اپنے دفن ہوئے
جو بن کے خاک جئے، لوگ وہ دوام ہوئے
ابھی سنبھل نہ سکے تھے، جل کے طُور ہوئے
پلک جھپکنا تھا اُن کا کہ ہم تمام ہوئے
یہ شیخ علم سے محروم رام رام کہے
غرور دیکھو ذرا اِس کا تم حرام ہوئے
ویراں مکان تھے بستی میں جو مزار بنے
جو گھر آباد تھے چند اِک، وہی نیلام ہوئے
یہ درد و حق بھی حقیقت میں ایک دونوں ہیں
اِسی کے شمس اور منصور تھے غُلام ہوئے
نہ جانےکون ہے الماس، کس کو روتا ہے
یہ اِس کے درد و الم کس پری کے نام ہوئے
23/10/2024
آپ کے ساتھ جو رونق تھی، کہاں ہوتی ہے
اب میرے گھر میں فقط آہ و فغاں ہوتی ہے
دل کی اور مہر کی آتش میں تضاد اتنا ہے
آگ اُٹھتی ہے یہاں، اور وہاں ہوتی ہے
ایک پل وہ کئے دیتے ہیں سُرمہ دل کا
تیر بنتی ہے نظر، آنکھ کماں ہوتی ہے
ہجر میں آپ سے کٹ جائے، کہاں ممکن ہے
کٹ بھی جائے جو کوئی عمر، زِیاں ہوتی ہے
آتے ہیں، گھوم کے جاتے ہیں پتنگے سارے
رونقِ شمّع تو بس مرگِ نہاں ہوتی ہے
جو کریں خود سے محبت، وہ سِتم ہوتا ہے
یہ علالت نہیں کی جاتی میاں، ہوتی ہے
یہ بھی توفیق ہے الماس، کہاں ممکن ہے
بات اُن کی ہے مگر، ہم سے بیاں ہوتی ہے
19/10/2024
آسمانوں میں جو اشارے ہیں
سب تیری یاد کے سہارے ہیں
آپ کا تو نہیں ہے حل کوئی
آپ تو زندگی کے مارے ہیں
16/06/2024
If it were just alike
It were unbeautiful
14/06/2024
12/06/2024
Sometimes
Just "being"
is more than enough
18/05/2024
Stay... Look at you
دل یہ اِک پل میں جلا، بےطُور جلتا رہ گیا
بعد پھر اِس سنگ سے بس ابر اُٹھتا رہ گیا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Abbottabad
22044
