08/10/2025
A high-level university delegation visited the National Cotton Breeding Institute (NCBI) research farm to strengthen ties between academic research and sustainable cotton development. The visit highlighted ongoing efforts to boost the resilience and yield of cotton, one of the world's most important natural fibers.
The delegation was led by Vice-Chancellor Prof. Dr. Muhammad Kamran and included the Dean of the Faculty of Agriculture and Environment, Prof. Dr. Tanvir Hussain Turabi. They were warmly received by NCBI Director Dr. Usman Aziz, who guided the team through the field facilities and shared updates on innovative cotton breeding research. This research focuses on climate change adaptation and efficient resource use.
“At World Cotton Day, this visit underscores our commitment to a future where cotton continues to be a lifeline for millions,” said Prof. Dr. Muhammad Kamran. “The work at the NCBI is part of a global effort toward sustainable textiles and secure livelihoods for farming communities.”
Prof. Dr. Tanvir Hussain Turabi emphasized the role of science and education in advancing the cotton sector. “The future of cotton lies in innovation. Our collaboration with the NCBI demonstrates how academic research can generate practical solutions across the entire cotton value chain, from farm to fabric,” he said.
Faculty members from the Department of Plant Breeding and Genetics including Dr. Abdul Rehman (Lecturer), Dr. Iftikhar Ali (Lecturer), Dr. Humayun Raza (Assistant Professor), and Dr. Hafiz Ghulam Muhiuddin (Assistant Professor) joined the visit, along with students and NCBI field staff. Their participation reflected the strong collaborative spirit driving these research initiatives.
The visit concluded with a cake-cutting ceremony at the Dean’s office to celebrate World Cotton Day, symbolizing a bright and prosperous future for the cotton industry. The event reaffirmed the university’s commitment to playing a key role in the global cotton community through research, innovation, and partnerships.
The NCBI team extended thanks to Prof. Dr. Makshoof Ahmad (Chairman, Soil Science), Prof. Dr. Muhammad Naeem (Chairman, PBG), Dr. Moin Alam Khan, Dr. Fakhar Uz Zaman, Dr. Azhar Hussain, and others who were present on the occasion.
Additionally, Dr. Usman thanked Dr. Azhar (Associate Professor of Soil Science) and Dr. Hafiz Tanvir (Lecturer, Soil Science), for their support and timely discussions on soil conditioning and climate change, which were key to the research's success.
06/09/2025
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1347312370734195&id=100063663349308&mibextid=CDWPTG
We are delighted to recognize Dr. Azhar Hussain, Associate Professor (BPS-20), Department of Soil Science, The Islamia University of Bahawalpur, as Researcher of the Year 🎖️.
Dr. Azhar’s journey is truly inspiring — becoming one of the youngest PhDs in Pakistan (at just 25 years and 10 months) under the mentorship of the renowned Prof. Dr. Muhammad Arshad (Tamgha-e-Imtiaz, Distinguished National Professor). His dedication to soil and environmental microbiology has earned him national and international recognition.
Key Achievements:
✅ Completed PhD in record time, earning an appreciation letter and award from the University of Agriculture, Faisalabad.
✅ Over 115 international publications with an impressive 300+ impact factor.
✅ Successfully secured 7 research projects worth 22+ million PKR as PI/Co-PI.
✅ Declared Prominent Researcher of IUB (2020) and recipient of the Agricultural Youth Award (2020-21).
✅ Actively contributes as a teacher, researcher, and administrator — leading student societies and advancing applied research in Pakistan.
👏 With his exceptional contributions to soil health, microbiology, and sustainable agriculture, Dr. Azhar stands as a role model for young scientists and a driving force for agricultural innovation in Pakistan.
27/08/2025
https://www.urdupoint.com/en/pakistan/iub-agricultural-researchers-strengthening-so-2036896.html
IUB Agricultural Researchers Strengthening South Punjab’s Cotton Economy - UrduPoint
Islamia University of Bahawalpur (IUB) is advancing Pakistan’s agricultural economy through targeted research and collaboration with farming communities and other institutions.Led by Vice Chancellor Professor Dr. Muhammad Kamran, IUB’s agricultural scientists are focusing on developing and disse...
07/06/2025
دل کی گہرائیوں سے تمام کسان بھائیوں کو عید الاضحیٰ مبارک ہو۔
آپ کی محنت اور قربانیاں ہی وہ بنیاد ہیں جن کی بدولت ہمیں اجناس، سبزیاں اور گوشت بآسانی میسر ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اس عظیم خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے، اور ہمارے حکمرانوں کو یہ سمجھنے کی توفیق دے کہ کسان کی خوشحالی کے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں۔
National Cotton Breeding Institute, IUB
23/05/2025
Cotton Trials at the National Cotton Breeding Institute, The Islamia University of Bahawalpur (IUB) – 2025 Cropping Season
The National Cotton Breeding Institute at The Islamia University of Bahawalpur is conducting vital cotton trials at its Cotton Breeding Block for the 2025 cropping season. This important research aims to tackle the ongoing challenges faced by cotton farmers.
The breeding program focuses on developing varieties that are suitable for late sowing, resistant to pests and diseases, tolerant to heat and drought, and capable of delivering improved yields.
Our mission is to provide sustainable, high-performing cotton varieties that enhance productivity and lower input costs for growers.
18/05/2025
جیسا کہ اندازہ ہو رہا ہے، مئی کا باقی مہینہ شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے گا۔
کپاس کے کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار فصل کو ہلکی آبپاشی ضرور کریں۔
مزید، پودوں کو گرمی کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے امینو ایسڈز، زنک، بوران اور سلفر کا اسپرے کریں۔
یہ اقدامات کپاس کے پودوں کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھنے میں مدد دیں گے۔
Cotton training program led by National Cotton Breeding Institute, IUB
14/05/2025
*آج ہم بات کریں گے کہ کپاس کی فصل پر ڈسکی بگ اور ریڈ کاٹن بگ کے حملے کو کس طرح مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔*
عام طور پر یہ کیڑے کپاس کی فصل کے آخری مراحل میں حملہ آور ہوتے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ سالوں کے دوران مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ڈسکی بگ نے ارلی فصل کے ابتدائی ڈیڑھ سے دو ماہ پر بھی حملے شروع کر دیتے ہیں۔
ان کیڑوں کے حملے کے بعد کپاس میں پھول اور ٹینڈے جھڑنے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹینڈوں کے اندر بننے والے بیجوں کا رس چوستے ہیں، جس سے بیج کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً، ان بیجوں کی جرمینیشن (germination) کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان کیڑوں کا مؤثر تدارک کیسے کیا جائے؟
اگر فی ایکڑ 250 ملی لیٹر *کلوتھیناڈین (Clothianidin)* کو 250 ملی لیٹر *بائی فین تھرین (Bifenthrin)* يا *فیپرونیل (fipronil)* کے ساتھ ملا کر سپرے کیا جائے تو ان کیڑوں پر 80 سے 90 فیصد تک کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، اگر صرف 250 ملی لیٹر کلوتھیناڈین کا استعمال کیا جائے تو بھی تسلی بخش نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
Cotton training program led by National Cotton Breeding Institute, IUB
03/05/2025
*موسمی اپڈیٹ*
موجودہ موسمی حالات کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آئندہ 5 دنوں کے دوران درجہ حرارت نارمل 35 سے 40 کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ جبکہ وسطی اور جنوبی پنجاب کے اضلاع میں آئندہ 10 دنوں کے دوران شدید گرمی کی وارننگ کی صورتحال متوقع ہے۔
اتوار کے روز مری، گلگت، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، ساہیوال، قصور، اوکاڑہ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، ملتان، لیہ، بھکر، تونسہ، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان اور قریبی علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کا امکان ہے۔ کچھ علاقوں میں شدید بارش یا ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
نوٹ: کپاس کی کاشت موجودہ موسمی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوے کریں۔
National Cotton Breeding Institute IUB, Bahawalpur
01/05/2025
گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی کپاس کی موسمی بوائی کے دوران شدید گرمی اور لو چلنے کا امکان ہے۔ پچھلے سال متعدد کسانوں نے شکایت کی تھی کہ بیج اگنے کے فوراً بعد کپاس کے ننھے پودے (سیڈلنگز) جھلسنے لگے تھے۔
اس مسئلے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ فی ایکڑ بیج کی مقدار معمول سے کچھ زیادہ رکھی جائے۔ ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ کپاس کی بوائی 6 انچ کے فاصلے پر کی جائے، اور بعد میں دو مرتبہ چھدرائی کی جائے۔
پہلی چھدرائی کے دوران، ہر چوپے پر موجود کمزور یا جھلسے ہوئے پودوں کو ہٹا دیا جائے، تاکہ صحت مند پودے بہتر طور پر نشوونما پا سکیں۔ دوسری چھدرائی کے دوران پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ یقینی بنایا جائے تاکہ فصل متوازن انداز میں بڑھے اور گرمی کے اثرات کم سے کم ہوں۔
ڈرل کی صورت میں وتر کی حالت میں بوائی کریں.
Cotton training program led by National Cotton Breeding Institute, IUB
17/04/2025
کپاس کی پیداوار کے لیے کھاد کی سالانہ مقدار کا تعین درج ذیل عوامل پر مبنی ہونا چاہیے:
✓ ایک حقیقت پسندانہ پیداوار کا ہدف
✓ ہر سال دو فٹ گہرائی تک مٹی کا تجزیہ تاکہ نائٹریٹ (NO₃) کی بچی ہوئی مقدار کا پتا لگایا جا سکے
✓ ہر دوسرے سال دیگر ضروری غذائی اجزاء (جیسے فاسفورس، پوٹاشیم، زنک وغیرہ) کے لیے مٹی کا تجزیہ
✓ نائٹروجن (N) کو مختلف مرحلوں میں تقسیم کر کے دینا، تاکہ اس کے استعمال کی مؤثریت بڑھے، خاص طور پر ریتلی زمینوں میں۔
1. نائٹروجن (N)
کپاس میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اور مہنگا غذائی جز نائٹروجن ہے، جس کا مؤثر استعمال سب سے زیادہ مشکل بھی ہوتا ہے۔
نائٹروجن کی کمی کی علامات:
پتوں کا چھوٹا ہونا
پھل دار نوڈز کی کم تعداد
پھل کا گر جانا
پیداوار اور ریشے کے معیار میں کمی
پانی اور دیگر غذائی اجزاء کے جذب میں رکاوٹ
نائٹروجن کی زیادتی کے نقصانات:
غیر ضروری سبز شاخوں کی افزائش
بولز کا گرنا
ریشے کے معیار میں کمی
کیڑوں کے حملوں میں اضافہ
بولز کے کھلنے میں تاخیر
زیر زمین و سطحی پانی کی آلودگی
اور نتیجتاً پیداوار میں کمی
کپاس کے لیے نائٹروجن کی سفارش دینا اس لیے مشکل ہے کیونکہ صرف کل مقدار نہیں بلکہ پودے کی بڑھوتری اور پھل کی تشکیل کے تمام مراحل میں درست وقت پر درست مقدار دینا ضروری ہے۔ کپاس کی جڑیں گہرائی تک جاتی ہیں اور 2 فٹ سے نیچے کے حصے سے بھی نائٹریٹ جذب کر سکتی ہیں۔ نائٹریٹ چونکہ مٹی میں متحرک ہوتی ہے، اس لیے یہ گزشتہ فصلوں کی آبپاشی کے دوران نیچے کی سطح میں جا سکتی ہے.
ابتدائی مرحلے میں کپاس نائٹروجن کی بہت کم مقدار استعمال کرتی ہے۔ نائٹروجن کی زیادہ ضرورت عام طور پر پھول بننے اور بولز کی تشکیل کے دوران (بوائی کے تقریباً 80 دن بعد) ہوتی ہے، جو کپاس کی قسم اور موسم کی حرارت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبپاشی والی زمینوں میں نائٹروجن اکثر تقسیم شدہ مقدار میں دی جاتی ہے۔
فاسفورس (P):
فاسفورس کپاس میں ابتدائی جڑوں کی نشوونما اور ابتدائی پھل لگنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسے بوائی سے پہلے بینڈ ایپلیکیشن کے ذریعے جڑوں کے قریب دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اگر مٹی کا pH 6.0 سے 7.0 کے درمیان ہو تو فاسفورس خزاں میں بھی مٹی میں ملا کر دیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، اسے بوائی کے قریب وقت میں دینا بہتر ہے تاکہ زیادہ یا کم pH کی مٹی میں غیر مؤثر نہ ہو۔
فاسفورس کو نائٹروجن کے ساتھ اسٹارٹر کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ٹھنڈے یا مرطوب موسم میں یا ایسی زمینوں پر جہاں P کی مقدار کم ہو۔ خشک اور گرم موسم میں اس کا اثر نسبتاً کم ہوتا ہے۔
کپاس میں فاسفورس کی کمی عام طور پر نایاب ہے اور یہ اکثر مٹی کے کم pH سے وابستہ ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک مؤثر چونے (liming) کا عمل فاسفورس کی دستیابی بہتر بنا سکتا ہے۔
پوٹاشیم (K):
پوٹاشیم کپاس میں بولز (روئی کے گولے) کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ نائٹروجن کی طرح، اس کی سب سے زیادہ ضرورت بھی پہلے پھول آنے کے بعد ہوتی ہے، اور اس وقت K کی طلب N سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ کل پوٹاشیم کا تقریباً 70٪ حصہ پھول آنے کے بعد جذب ہوتا ہے۔
اگر مٹی میں پوٹاشیم کی مقدار کم ہو تو مکمل تجویز کردہ مقدار بوائی کے وقت دے دینی چاہیے۔ تاہم، ایسی نرم یا ریتلی زمینوں میں جہاں پوٹاشیم بہہ جانے کا امکان ہو، کھاد کو تقسیم کر کے دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے — یعنی کچھ مقدار بوائی کے وقت اور باقی سائیڈ ڈریسنگ کے ذریعے۔
اگر کپاس میں 80٪ یا زیادہ پہلے پوزیشن والے بولز برقرار ہوں، تو پوٹاشیم کی طلب بہت بڑھ سکتی ہے، جس کی وجہ سے عارضی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں، فولیئر اسپرے (پتوں پر سپرے) کے ذریعے اضافی پوٹاشیم دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اعلیٰ پیداوار والے علاقوں میں۔
COTTON TRAINING PROGRAM LED BY NATIONAL COTTON BREEDING INSTITUTE, IUB