رویے پڑھنے کے دعویدار...
الفاظ سمجھنے سے قاصر لوگ...
اظهارالحق خان
#Educationist, #PSED, #Patriot, #Self_contented, #Optimist, #Opportunity_seeker.
ایکسرے کی رپورٹ کے بارے میں چاہے بندہ کچھ بھی نہ جانتا ہو، پر ایک بار اوپر کر کے دیکھتا ضرور ہے...
😂😂😂
✏📌اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا جب وقت نزع آئے دیدار عطا کرنا
اے نور خدا آکر آنکھوں میں سما جانا
🔥🔥🔥🔥🔥👆👆
پہلی بات :-
دعا قبول اللہ کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے ان کو تو یہ بھی خبر نہیں ہے آپ ان کو پکار رہے ہیں
✒دلیل 👇
46 : سورة الأحقاف 5 📙
وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں
✍دوسری بات :-
" دعا " عبادت ہے جب یہی لفظ غیر اللہ کے لیے بولا جائے گا تو وہ شرک اکبر کہلائے گا
✍دلیل 👇
10 : سورة يونس 106
وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے ، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔
👆👆اس آیت میں دعا کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے
دلیل :- 👇🏻
📢📢
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المؤمن: ٦٠)
تمہارا رب کہتا ہے ''مجھے پکارو میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
اِس آیت کی تفسیر رسول اللہ ﷺ اپنی زبان مبارک سے یوں فرماتے ہیں:
عن النعمان بن بشیر قال: سمعت النبیﷺ یقول: الدُّعَاءُ ھُوَ الۡعِبَادَۃُ ثم قرأ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
(الترمذی، مسند احمد، ابن ماجة، وصححه الألبانی)📚
نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’ دُعا ہی تو اصل عبادت ہے ‘‘ اور تب آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
’’تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو۔ میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کرجہنم میں داخل ہوں گے‘'
📢 دُعاء جب عبادت ہے اور عبادت کی جان ہے تو پھر اس کو غیر اللہ کے لیے روا رکھنا غیر اللہ کی عبادت ہوئی اور غیراللہ کی عبادت کرنا شرکِ اکبر۔ 🔥
Sahih Bukhari Hadees # 3445 📖
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ""لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
شرک اکبر کی سزا 🔥🔥
Sahih Bukhari Hadees # 4497 📚
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً، وَقُلْتُ أُخْرَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ""، وَقُلْتُ: أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لَا يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور میں نے ایک اور بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی اس کا شریک ٹھہراتا رہا ہو تو وہ جہنم میں جاتا ہے اور میں نے یوں کہا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا تو وہ جنت میں جاتا ہے۔
✍تیسری بات :-
اس نعت میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے اے نورِ خدا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے نور میں سے نور سمجھنا گویا آنجناب کو اللہ تعالیٰ میں سمجھنا ہے اور اس کا ہم جنس قرار دینا ہے اور یہ نص قطعی*
( لم یلد ولم یولد ) ( اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے ) کے خلاف ہے۔
📢 اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایک ہے ۔ اس نے صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا ہے۔
17 : سورة بنی اسراءیل 111 📖
*وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪ *
*اور یہ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک ساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ__ *
سورہ کہف پارہ نمبر ۱۵ شروع آیات میں اللہ تعالیٰ کیسے عجیب انداز میں فرماتا ہے
📖 وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾
اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اولاد رکھتا ہے ۔ در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو ۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں__
اور یہ تو ایسا ہی ہے جیسا عیسائیوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں 🔥
*9 : سورة التوبة 30*📃
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِئُوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾
یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے ۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں ۔
🔥 لہذا اللہ نے اس عقیدے کو کفر کا عقیدہ کہا اس لیے یہ روایت وضع کرنے والوں کو علم تھا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا بیٹا تو نہیں کہہ سکتے لہذا انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا بات ایک ہی ہے کہ کوئی کہے یہ فلاں کا بیٹا ہے یا کوئی کہے کہ یہ فلاں میں سے ہے، یہ لوگ اللہ کا بیٹا تو نہ کہہ سکے کیونکہ اس عقیدہ کو کفر کا عقیدہ اللہ نے خود کہا اس لیے الفاظ کو پھیر کر استعمال کیا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا جبکہ اللہ نے اس کا بھی رَد کردیا ہوا ہے کہ:::نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،:::یعنی کوئی بھی اس میں سے پیدا نہیں ہوا ہے اور جو یہ کہے کہ نہیں اللہ میں سے محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے ہیں اس کو ہم ایک مسلم کا عقیدہ کیسے کہیں گے ؟؟؟؟؟🔥اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا جب وقت نزع آئے دیدار عطا کرنا
اے نور خدا آکر آنکھوں میں سما جانا
🔥🔥🔥🔥🔥👆👆
✍پہلی بات :-
دعا قبول اللہ کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے ان کو تو یہ بھی خبر نہیں ہے آپ ان کو پکار رہے ہیں
دلیل 👇
46 : سورة الأحقاف 5 📙
وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں
دوسری بات :-
" دعا " عبادت ہے جب یہی لفظ غیر اللہ کے لیے بولا جائے گا تو وہ شرک اکبر کہلائے گا
دلیل 👇
10 : سورة يونس 106
وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے ، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔
👆👆اس آیت میں دعا کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے
دلیل :- 👇🏻
📢📢
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المؤمن: ٦٠)
تمہارا رب کہتا ہے ''مجھے پکارو میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
اِس آیت کی تفسیر رسول اللہ ﷺ اپنی زبان مبارک سے یوں فرماتے ہیں:
عن النعمان بن بشیر قال: سمعت النبیﷺ یقول: الدُّعَاءُ ھُوَ الۡعِبَادَۃُ ثم قرأ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
(الترمذی، مسند احمد، ابن ماجة، وصححه الألبانی)📚
نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’ دُعا ہی تو اصل عبادت ہے ‘‘ اور تب آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
’’تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو۔ میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کرجہنم میں داخل ہوں گے‘'
📢 دُعاء جب عبادت ہے اور عبادت کی جان ہے تو پھر اس کو غیر اللہ کے لیے روا رکھنا غیر اللہ کی عبادت ہوئی اور غیراللہ کی عبادت کرنا شرکِ اکبر۔ 🔥
Sahih Bukhari Hadees # 3445 📖
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ""لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
شرک اکبر کی سزا 🔥🔥
Sahih Bukhari Hadees # 4497 📚
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً، وَقُلْتُ أُخْرَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ""، وَقُلْتُ: أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لَا يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور میں نے ایک اور بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی اس کا شریک ٹھہراتا رہا ہو تو وہ جہنم میں جاتا ہے اور میں نے یوں کہا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا تو وہ جنت میں جاتا ہے۔
تیسری بات :-
اس نعت میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے اے نورِ خدا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے نور میں سے نور سمجھنا گویا آنجناب کو اللہ تعالیٰ میں سمجھنا ہے اور اس کا ہم جنس قرار دینا ہے اور یہ نص قطعی*
( لم یلد ولم یولد ) ( اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے ) کے خلاف ہے۔
📢 اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایک ہے ۔ اس نے صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا ہے۔
17 : سورة بنی اسراءیل 111 📖
*وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪ *
*اور یہ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک ساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ__ *
سورہ کہف پارہ نمبر ۱۵ شروع آیات میں اللہ تعالیٰ کیسے عجیب انداز میں فرماتا ہے
📖 وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾
اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اولاد رکھتا ہے ۔ در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو ۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں__
اور یہ تو ایسا ہی ہے جیسا عیسائیوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں 🔥
*9 : سورة التوبة 30*📃
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِئُوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾
یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے ۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں ۔
🔥 لہذا اللہ نے اس عقیدے کو کفر کا عقیدہ کہا اس لیے یہ روایت وضع کرنے والوں کو علم تھا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا بیٹا تو نہیں کہہ سکتے لہذا انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا بات ایک ہی ہے کہ کوئی کہے یہ فلاں کا بیٹا ہے یا کوئی کہے کہ یہ فلاں میں سے ہے، یہ لوگ اللہ کا بیٹا تو نہ کہہ سکے کیونکہ اس عقیدہ کو کفر کا عقیدہ اللہ نے خود کہا اس لیے الفاظ کو پھیر کر استعمال کیا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا جبکہ اللہ نے اس کا بھی رَد کردیا ہوا ہے کہ:::نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،:::یعنی کوئی بھی اس میں سے پیدا نہیں ہوا ہے اور جو یہ کہے کہ نہیں اللہ میں سے محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے ہیں اس کو ہم ایک مسلم کا عقیدہ کیسے کہیں گے ؟؟؟؟؟🔥✏📌اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا جب وقت نزع آئے دیدار عطا کرنا
اے نور خدا آکر آنکھوں میں سما جانا
🔥🔥🔥🔥🔥👆👆
پہلی بات :-
دعا قبول اللہ کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے ان کو تو یہ بھی خبر نہیں ہے آپ ان کو پکار رہے ہیں
✒دلیل 👇
46 : سورة الأحقاف 5 📙
وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں
✍دوسری بات :-
" دعا " عبادت ہے جب یہی لفظ غیر اللہ کے لیے بولا جائے گا تو وہ شرک اکبر کہلائے گا
✍دلیل 👇
10 : سورة يونس 106
وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے ، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔
👆👆اس آیت میں دعا کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے
دلیل :- 👇🏻
📢📢
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المؤمن: ٦٠)
تمہارا رب کہتا ہے ''مجھے پکارو میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
اِس آیت کی تفسیر رسول اللہ ﷺ اپنی زبان مبارک سے یوں فرماتے ہیں:
عن النعمان بن بشیر قال: سمعت النبیﷺ یقول: الدُّعَاءُ ھُوَ الۡعِبَادَۃُ ثم قرأ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
(الترمذی، مسند احمد، ابن ماجة، وصححه الألبانی)📚
نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’ دُعا ہی تو اصل عبادت ہے ‘‘ اور تب آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
’’تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو۔ میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کرجہنم میں داخل ہوں گے‘'
📢 دُعاء جب عبادت ہے اور عبادت کی جان ہے تو پھر اس کو غیر اللہ کے لیے روا رکھنا غیر اللہ کی عبادت ہوئی اور غیراللہ کی عبادت کرنا شرکِ اکبر۔ 🔥
Sahih Bukhari Hadees # 3445 📖
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ""لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
شرک اکبر کی سزا 🔥🔥
Sahih Bukhari Hadees # 4497 📚
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً، وَقُلْتُ أُخْرَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ""، وَقُلْتُ: أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لَا يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور میں نے ایک اور بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی اس کا شریک ٹھہراتا رہا ہو تو وہ جہنم میں جاتا ہے اور میں نے یوں کہا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا تو وہ جنت میں جاتا ہے۔
✍تیسری بات :-
اس نعت میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے اے نورِ خدا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے نور میں سے نور سمجھنا گویا آنجناب کو اللہ تعالیٰ میں سمجھنا ہے اور اس کا ہم جنس قرار دینا ہے اور یہ نص قطعی*
( لم یلد ولم یولد ) ( اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے ) کے خلاف ہے۔
📢 اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایک ہے ۔ اس نے صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا ہے۔
17 : سورة بنی اسراءیل 111 📖
*وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪ *
*اور یہ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک ساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ__ *
سورہ کہف پارہ نمبر ۱۵ شروع آیات میں اللہ تعالیٰ کیسے عجیب انداز میں فرماتا ہے
📖 وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾
اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اولاد رکھتا ہے ۔ در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو ۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں__
اور یہ تو ایسا ہی ہے جیسا عیسائیوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں 🔥
*9 : سورة التوبة 30*📃
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِئُوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾
یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے ۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں ۔
🔥 لہذا اللہ نے اس عقیدے کو کفر کا عقیدہ کہا اس لیے یہ روایت وضع کرنے والوں کو علم تھا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا بیٹا تو نہیں کہہ سکتے لہذا انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا بات ایک ہی ہے کہ کوئی کہے یہ فلاں کا بیٹا ہے یا کوئی کہے کہ یہ فلاں میں سے ہے، یہ لوگ اللہ کا بیٹا تو نہ کہہ سکے کیونکہ اس عقیدہ کو کفر کا عقیدہ اللہ نے خود کہا اس لیے الفاظ کو پھیر کر استعمال کیا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا جبکہ اللہ نے اس کا بھی رَد کردیا ہوا ہے کہ:::نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،:::یعنی کوئی بھی اس میں سے پیدا نہیں ہوا ہے اور جو یہ کہے کہ نہیں اللہ میں سے محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے ہیں اس کو ہم ایک مسلم کا عقیدہ کیسے کہیں گے ؟؟؟؟؟🔥اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا جب وقت نزع آئے دیدار عطا کرنا
اے نور خدا آکر آنکھوں میں سما جانا
🔥🔥🔥🔥🔥👆👆
✍پہلی بات :-
دعا قبول اللہ کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے ان کو تو یہ بھی خبر نہیں ہے آپ ان کو پکار رہے ہیں
دلیل 👇
46 : سورة الأحقاف 5 📙
وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں
دوسری بات :-
" دعا " عبادت ہے جب یہی لفظ غیر اللہ کے لیے بولا جائے گا تو وہ شرک اکبر کہلائے گا
دلیل 👇
10 : سورة يونس 106
وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے ، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔
👆👆اس آیت میں دعا کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے
دلیل :- 👇🏻
📢📢
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المؤمن: ٦٠)
تمہارا رب کہتا ہے ''مجھے پکارو میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
اِس آیت کی تفسیر رسول اللہ ﷺ اپنی زبان مبارک سے یوں فرماتے ہیں:
عن النعمان بن بشیر قال: سمعت النبیﷺ یقول: الدُّعَاءُ ھُوَ الۡعِبَادَۃُ ثم قرأ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
(الترمذی، مسند احمد، ابن ماجة، وصححه الألبانی)📚
نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’ دُعا ہی تو اصل عبادت ہے ‘‘ اور تب آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
’’تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو۔ میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کرجہنم میں داخل ہوں گے‘'
📢 دُعاء جب عبادت ہے اور عبادت کی جان ہے تو پھر اس کو غیر اللہ کے لیے روا رکھنا غیر اللہ کی عبادت ہوئی اور غیراللہ کی عبادت کرنا شرکِ اکبر۔ 🔥
Sahih Bukhari Hadees # 3445 📖
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ""لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
شرک اکبر کی سزا 🔥🔥
Sahih Bukhari Hadees # 4497 📚
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً، وَقُلْتُ أُخْرَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ""، وَقُلْتُ: أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لَا يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور میں نے ایک اور بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی اس کا شریک ٹھہراتا رہا ہو تو وہ جہنم میں جاتا ہے اور میں نے یوں کہا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا تو وہ جنت میں جاتا ہے۔
تیسری بات :-
اس نعت میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے اے نورِ خدا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے نور میں سے نور سمجھنا گویا آنجناب کو اللہ تعالیٰ میں سمجھنا ہے اور اس کا ہم جنس قرار دینا ہے اور یہ نص قطعی*
( لم یلد ولم یولد ) ( اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے ) کے خلاف ہے۔
📢 اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایک ہے ۔ اس نے صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا ہے۔
17 : سورة بنی اسراءیل 111 📖
*وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪ *
*اور یہ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک ساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ__ *
سورہ کہف پارہ نمبر ۱۵ شروع آیات میں اللہ تعالیٰ کیسے عجیب انداز میں فرماتا ہے
📖 وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾
اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اولاد رکھتا ہے ۔ در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو ۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں__
اور یہ تو ایسا ہی ہے جیسا عیسائیوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں 🔥
*9 : سورة التوبة 30*📃
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِئُوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾
یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے ۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں ۔
🔥 لہذا اللہ نے اس عقیدے کو کفر کا عقیدہ کہا اس لیے یہ روایت وضع کرنے والوں کو علم تھا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا بیٹا تو نہیں کہہ سکتے لہذا انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا بات ایک ہی ہے کہ کوئی کہے یہ فلاں کا بیٹا ہے یا کوئی کہے کہ یہ فلاں میں سے ہے، یہ لوگ اللہ کا بیٹا تو نہ کہہ سکے کیونکہ اس عقیدہ کو کفر کا عقیدہ اللہ نے خود کہا اس لیے الفاظ کو پھیر کر استعمال کیا کہ محمد ﷺ کو اللہ نے اپنے نور میں سے پیدا کیا جبکہ اللہ نے اس کا بھی رَد کردیا ہوا ہے کہ:::نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،:::یعنی کوئی بھی اس میں سے پیدا نہیں ہوا ہے اور جو یہ کہے کہ نہیں اللہ میں سے محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے ہیں اس کو ہم ایک مسلم کا عقیدہ کیسے کہیں گے ؟؟؟؟؟🔥
آج عید کا دن ہے ایک جنازہ پڑھنے کا اتفاق ہوا، اللہ کی مرضی ہے کب کس کو اپنے پاس بلا لے، انسان آنے والے وقت کے کیا کیا منصوبے بنا کر بیٹھا ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پل کی خبر نہیں،
آج جنازہ پڑھا آگے پڑھانے والا وہی ختم شریف والا مولوی تھا،
نماز شروع کرنے سے پہلے مولوی صاحب نے نیت کی،
چار تکبیر نماز جنازہ فرض کفایہ،
ثناء واسطے اللہ پاک کے،
درود واسطے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے،
دعا واسطے حاضر اس میت کے،
منہ طرف قبلہ شریف "پیچھے اس امام کے"
،
جب مولوی صاحب نے یہ کہا کہ" پیچھے اس امام کے" تو میں نے ایڑیاں اٹھا کر دیکھا کہ مولوی صاحب کے آگے بھی کیا کوئی امام کھڑا ہے، لیکن مجھے آگے صرف میت کی چارپائی ہی نظر آئی،
خیر پھر مولوی صاحب نے نماز شروع کی، ابھی میں نے ثناء ہی پڑھی تھی کہ مولوی صاحب نے اگلی تکبیر کہہ دی،
میں نے تکبیر نہ کہی بلکہ سورہ فاتحہ پڑھ کر تکبیر کہی لیکن سورہ فاتحہ پڑھنے تک مولوی صاحب تیسری تکبیر کہہ چکے تھے اور چوتھی اور آخری کی تیاری میں تھے،
میں نے فاتحہ کے بعد تیسری تکبیر کہہ کر جلدی جلدی جنازہ کی دعا پڑھی اور چوتھی تکبیر کہہ کر سلام پھیرا،
سلام پھیرا ہی تھا کہ مولوی صاحب نے اعلان عام کیا،
سب لوگ تین بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھو،
میں نے کہا مولوی جہاں فاتحہ پڑھنی تھی وہاں تو تم نے پڑھنے نہیں دی اب کہہ رہے ہو فاتحہ پڑھو،
میرے خیال سے تیس چالیس سیکنڈ میں مولوی نے جنازہ پڑھا کر کپڑے جھاڑ کر میت پرے کر دی،
مجھے مولوی پر غصہ تو بڑا آیا پر اکیلا وہابی کیا کرتا بس کڑھتا ہی رہا،
اب شریعت کیا کہتی ہے نماز جنازہ کے طریقے کے بارے یہ بھی سن لیں،
ایسے ہی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ ادا کی اور فاتحہ کو بلند آواز سے پڑھا، نماز کے بعد ساتھ کھڑے شخص نے پوچھا کیا جنازہ میں فاتحہ پڑھی جاتی ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے یہ بلند آواز سے اسی لیے پڑھی ہے تاکہ تو جان لے یہ سنت ہے،
رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ایک صحابی کا جنازہ پڑھا رہے ہیں، اور اتنی کثرت سے آپ میت کے لیے دعائیں فرما رہے تھے کہ پیچھے کھڑا ایک صحابی بیان کرتا ہے،
کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم میت کے لیے اتنی کثرت سے دعائیں فرما رہے تھے کہ پیچھے کھڑے ہوئے میرے دل میں خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش یہ میت میری ہوتی اور میرا نبی میرے لیے یوں دعائیں کرتا،
اللہ پاک ہمیں رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
(منقول)
11/06/2018
زیتون ( OLIVE ) کی کاشت :
زیتون کا باغ لگائیں ۔ ہزار سال تک بھر پور منافع کمائیں
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون کا باغ لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.
زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے.
لیکن فی الحال زیتون کی کاشت کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی ساری توجہ پوٹھوہار کے علاقوں پر مرکوز ہے.
زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کا پودا ہر طرح کی زمینوں مثلاََ ریتلی، کچی، پکی، پتھریلی، صحرائی زمینوں میں کامیابی سے لگایا جا سکتا ہے. صرف کلر والی زمین یا ایسی زمینیں جہاں پانی کھڑا رہے، زیتون کے لئے موزوں نہیں ہیں.
زیتون کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟
زیتون کے پودے کو شروع شروع میں تقریبا دس دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے. جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی جاتی ہے.
دو سال کے بعد زیتون کے پودے کو 20 سے 25 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے.
زیتون کے پودے کب لگائے جا سکتے ہیں؟
زیتون کے پودے موسمِ بہار یعنی فروری، مارچ , اپریل یا پھر مون سون کے موسم یعنی اگست، ستمبر ، اکتوبر میں لگائے جا سکتے ہیں.
زیتون کے پودے لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
زیتون کا باغ لگاتے ہوئے پودوں کا درمیانی فاصلہ 10×10 فٹ ہونا ضروری ہے. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 400 پودے لگائے جا سکتے ہیں. یہ بھی دھیان رہے کہ زیتون کے پودے باغ کی بیرونی حدود سے تقریباََ 8 تا 10 فٹ کھیت کے اندر ہونے چاہیئں.
پودے لگانے کے لئے دو فٹ گہرا اور دو فٹ ہی چوڑا گڑھا کھودیں. اس کے بعد زرخیز مٹی اور بھل سے گڑھوں کی بھرائی کر دیں. اب زیتون کا پودا لگانے کے لئے آپ کی زمین تیار ہے.
پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں تاکہ گاچی وغیرہ ٹوٹ کر جڑوں کو ہوا نہ لگ جائے. گڑھے کی مٹی کھود کر پودا لگائیں اور اس کے بعد پودے کے چاروں طرف مٹی کو پاؤں کی مدد سے دبا دیں تاکہ پودا مستحکم ہو جائے. چھوٹے پودے کا تنا ذرا نازک ہوتا ہے اس لئے پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے. سہارے کے لئے لکڑی کا استعمال نہ کریں کیونکہ لکڑی کو دیمک لگ سکتی ہے جو بعد میں پودے پر بھی حملہ آور ہو سکتی ہے.
زیتون کی کون کون سی اقسام کہاں کہاں کاشت کی جا سکتی ہیں؟
پوٹھوہار اور اس کے ملحقہ اضلاع کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کی جا سکتی ہیں.
نمبر 1. لسینو
نمبر 2. گیملک
نمبر 3. پینڈولینو
نمبر 4. نبالی
نمبر 5. آربو سانا
نمبر 6. کورونیکی
نمبر 7. آربیقوینہ
پنجاب اور سندھ کے گرم علاقوں سمیت دیگر گرم علاقوں کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کرنی چاہئیں.
نمبر 1. آربو سانا
نمبر 2. کورونیکی
نمبر 3. آربیقوینہ
یاد رکھیں زیتون کا باغ لگاتے وقت کم از کم دو یا دو سے زائد اقسام لگانی چاہئیں اس طرح بہتر بارآوری کی بدولت پیداوار اچھی ہوتی ہے.
زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟
کھاد دوسرے سال کے پودے کو ڈالیں. دوسرے سال کے پودے کے لئے:
گوبر کی کھاد . . . . 5 کلوگرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 5 کلو گرام کا اضافہ کریں
نائٹروجن کھاد . . . . 200 گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 100 گرام کا اضافہ کریں
فاسفورس کھاد . . . . 100گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
پوٹاش کھاد . . . . . . 50 گرام فی پودا ڈالیں . . . . .. اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
زیتون کے پودے کو پھل کتنے سال بعد لگتا ہے؟
عام طور پر 3 سال میں زیتون کے پودے پر پھل آنا شروع ہو جاتا ہے.
زیتون کے پودے پر پھل پہلے سبز اور پھر جامنی ہو جاتا ہے۔ سبز پھل اچار اور جامنی تیل نکالنے کے لئے استعمال ہوتا ہے
زیتون کے باغ سے فی ایکڑ کتنی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے؟
زیتون کے ایک پودے سے پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ نے پودے کی دیکھ بھال کس طرح سے کی ہے.
اچھی دیکھ بھال کی بدولت ایک پودے سے 60 کلوگرام یا اس سے بھی زیادہ زیتون کا پھل با آسانی حاصل ہو سکتا ہے.
لیکن اگردیکھ بھال درمیانی سی کی گئی تو 40 کلوگرام فی پودا پھل حاصل ہو سکتا ہے. انتہائی کم دیکھ بھال سے پودے کی پیداوار 25 سے 30 کلوگرام فی پودا تک بھی گر سکتی ہے. لہذا ماہرین زیتون کے باغات کی فی ایکڑ پیداوار کا حساب لگانے کے لئے 25 کلو گرام فی پودا پیداوار کو سامنے رکھتے ہیں.
اس طرح ایک ایکڑ میں موجود 400 (اوسط) پودوں سے 10000 ہزار کلوگرام زیتون کا پھل حاصل ہو سکتا ہے.
ایک ایکڑ کے پھل سے کتنا تیل نکل آتا ہے؟
بہتر یہ ہے کہ زیتون کے کاشتکار پھل کو بیچنے کی بجائے اس کا تیل نکلوائیں اور پھر اس تیل کو مارکیٹ میں فروخت کریں. زیتون کے پھل سے 20 سے 30 فی صد کے حساب سے تیل نکل آتا ہے.
20 فی صد کے حساب سے ایک ایکڑ زیتون کے پھل ( 10000 کلوگرام ) سے تقریبا 2000 کلو گرام تیل نکل آتا ہے.
فی ایکڑ آمدن کتنی ہو سکتی ہے؟
یوں تو مارکیٹ میں بڑے بڑے سپر سٹوروں پر آپ کو زیتون کا تیل کوالٹی کے حساب سے 800 روپے سے لیکر 1100 روپے فی کلو تک مل سکتا ہے. لیکن واضح رہے کہ یہ سارے کا سارا تیل باہر سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی کوالٹی پر ماہرین کے شدید تحفظات ہیں. ماہرین کہتے ہیں کہ مختلف برانڈوں کا درآمد شدہ تیل جو پاکستانی مارکیٹ میں بک رہا ہے یہ خالص زیتون کا تیل نہیں ہے بلکہ اس میں کئی دوسرے تیلوں کی ملاوٹ ہوتی ہے .
گرین ایگرو کی معلومات کے مطابق چکوال میں تحقیقاتی ادارے کے پلانٹ سے نکالا جانے والا تیل کم از کم 2 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے بک رہا ہے. واضح رہے کہ چکوال کا زرعی تحقیقاتی ادارہ کسانوں کو تیل نکالنے کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے.
اگر ریٹ واقعی دو ہزار روپے فی کلو گرام ہو تو آمدن کا حساب آپ خود لگا سکتے ہیں. گرین ایگرو نے آمدن معلوم کرنے کے لئے 800 روپے فی کلو گرام کے ریٹ کو سامنے رکھا ہے.
اس طرح سے 2000 کلو گرام تیل سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباََ 16 لاکھ روپے بنتی ہے. اگر باغ کی اچھی دیکھ بھال کی جاے تو امدن دوگنا ھو سکتی ھے
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زیتون کے پھل سے تیل کے علاوہ اچار اور مربع جات بھی بنائے جاتے ہیں. اور ویسے بھی جس درخت کی اللہ نے قرآن میں قسم کھائی ہے اس میں نقصان کیسے ہوسکتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Satellite Town
Bahawalpur
