Azeem Logo Ki Sunehri Baatain

Azeem Logo Ki Sunehri Baatain

Share

Quotes and Famous Sayings.

26/02/2024

ساڈے ۔۔۔۔۔ اسلام نال مذاق اے

یہ جملہ اچھرہ بازار میں خالصتاً اسلامی فرط جذبات سے مغلوب ھجوم میں بار بار سننے کو ملا ۔۔۔۔ دل ملول تھا ۔۔۔ اسلام کے ساتھ ایسا مذاق ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟
کیسا شعور رکھتا تھا یہ ھجوم ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
کتنی محبت تھی اسے اسلام سے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ھماری بدقسمتی کہ ھر کوئی شعور اٹھا کر ھمارے وطن میں چلا آتا ھے بانٹنے کو ۔۔۔۔۔ اور ھمیں مفت میں جو بھی کچھ دے ھم بشکلِ ھجوم اپنوں کو ھی روندھتے ھوئے لینے کے لئے دوڑ پڑتے ھیں ۔۔۔۔۔

بچپن سے سنتے آرھے ھیں "جس کی لاٹھی اس کی بھینس"
مگر یہاں تو بھینس ھی نہیں مگر پھر بھی ھر شخص لٹھ اٹھائے پھرتا ھے ۔۔۔۔ قوم کے نام پر ایک بےھنگم ھجوم ھے جو بے سمت، بلا مقصد اندھا دھند دوڑا پھرتا ھے ۔۔۔ نہ کوئی روکنے والا ھے نہ یہ رک رھا ھے ۔۔۔۔ لگتا ھے یہ ھجوم پاکستانی انسانوں کو ملک بدر کرنے کی کوئی پلاننگ ھے ۔۔۔ جو استطاعت رکھتے ھیں وہ ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں اور "بد استطاعت" یونہی خوف میں مبتلا ھو کر یا تو خود ھی مر مرا جائیں یا پھر ایسے ھی کسی اسلامی ھجوم کے ھاتھوں مار دئیے جائیں ۔۔۔۔۔
ریاست ماں جیسی ۔۔۔۔ پہلے پہل تو یہی سمجھتے رھے کہ سوتیلی مائیں بھی تو ھوتی ھیں ممکن ھے ھماری ریاست سوتیلی ماں جیسی ھو ۔۔۔۔۔ مگر نہیں ۔۔۔۔ یہ کوئی ڈائین ہے شائد جو سات گھر چھوڑنے کی بجائے اپنے ھی گھر کو چمٹ گئی ھے ۔۔۔ مگر توبہ! توبہ! توبہ! اسے ڈائن کہنے سے کہیں ڈائن کی توھین نہ ھو جائے ۔۔۔۔۔ اور ڈائینوں کا ھجوم ھی نہ پل پڑے ۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ھے کہ ریاست کو گدھ سے تشبیہہ دی جا سکتی ھے ۔۔۔۔۔ اس پر نہ گدھ کو کوئی اعتراض ھو گا اور نہ ھی ریاست کو ۔۔۔۔۔
ایسے حالات میں مشکل صرف ان انسانوں کو ھے جو وطن عزیز سے فرار کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس خوف کے متحمل بھی نہیں ھو سکتے ۔۔۔۔ ان لے لئے بلھے شاہ صاحب کا ایک مشورہ ھے ۔۔۔۔

چل بلھیا، چل اوتھے چلیے
جتھے سارے اَنّے
نہ کوئی ساڈی ذات پچھانڑے
نہ کوئی سانوں منّے

14/02/2024

ویلنٹائن ڈے کیا ھے :

ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا نے شادی کے بغیر لڑکے اور لڑکی کو ساتھ رہنا جائز قرار دیا تھا جس پر اسے 14 فروری کو پھانسی دی گئی تھی آہستہ آہستہ ایک ٹولا ایسا بنا جو ویلنٹائن کے نظریات کا قائل تھا جیسے آج کل کچھ لوگ مانتے ہیں کہ ان کے والدین بندر تھے اور ایک ارتقاء کے زریعے وہ انسان بنے میں نے پوچھا اچھا ٹھیک ہے تو تیری ماں یا والد کی اتنے سالوں میں کوئی دم کیوں نہیں نکلی ؟ اتنے ہزاروں سالوں میں کم سے کم ایک عدد عضو تو نکلنا چاہیئے تھا ، خیر اس بے راہ ٹولے نے ویلنٹائن کو یاد کرنے کی غرض سے ویلنٹائن ڈے منانا شروع کیا ، اگر ھم یہ دن منائیں تو اسلام قرآن اور احادیث اس بارے میں کیا رائے رکھتے ھے ؟ ایمان والو ! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وہ بےحیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالٰی جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے سورہ نور ۲۱ ،، آپ سے یہودی اور نصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں (١) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے (٢) اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آ جانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اور نہ مددگار (٣) سورہ بقرہ ۱۲۰ ،، جو جس قوم کی مشاہبت پیدا کرے ان جیسا عمل کرے وہ اسی قوم میں شمار ہو گا ، اور وہ آیت تو سب کو یاد ہوگی کہ جو مسلمانوں میں برائی پھیلانے کا خواہاں ہے اسے چاہیے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ،،

26/01/2024

خدا بول رہا ہے !

جس کمپنی کا پراڈکٹ ہوتا ہے وہی کمپنی اپنے پراڈکٹ کے فنکشن کو سمجھتی ہے ، وَيَدْعُ الإنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ ، شر مانگ بیٹھتے ہو بعض اوقات اپنی دعاؤں میں ، چونکہ تم ہمارے ہی بنائے ہوئے پراڈکٹ ہو اس لیے ہم ہی تیرے پروگرامنگ ایکسپرٹ ہیں کہ کب تمہارے ساتھ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ، ہم نے تم کو پیدا کیا اور پھر تم ہم سے ہی جھگڑنے لگے ، وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ تیری قسمت تیری گردن میں گلینڈ کی شکل مائیکرو کمپیوٹر چپکا دی ہے ، جو بھی اچھا برا تجھے ملنا ہے تیرا جو بھی مقسوم و مقدور ہے تمہارا جو بھی کھاتہ ہے وہ ہم نے " ام الکتاب " نامی ڈیوائس میں سٹور رکھا ہے ، تمام مخلوقات میں تم ہماری پیاری مخلوق ہو دلاری مخلوق ہو تم ہمیں سب سے عزیز ہو اس لیے تیرے ساتھ شرف المخلوقات کا ٹیگ مارک لگایا ہے لیکن تم ہی ہو جو نہ ہماری بات مانتے ہو نہ ہماری کسی بات کی تصدیق کرتے ہو ، جانتے ہو کچھ اپنی پیدائش کے بارے میں ؟ من ای شئً خلقہ ؟ ہم نے کس چیز سے پیدا کیا تم کو ؟ من نطفہ ! نطفے سے !! ایک ایسے نطفے سے تمہیں پیدا کیا جسے تم ٹچ کرنا پسند نہیں کرتے لیکن اسی نطفے سے چومنے چاٹی والی شکل ہم پیدا کرتے ہے یا تم نے ؟ تم کو بطور امانت سنبھال سنبھال کر آدم کی پسلی سے ہزاروں سال کا سفر ایک کمر سے دوسرے کمر تک کرایا ، اور پھر نہایت احتیاط سے تمہیں تمہارے والد کی کمر سے تمہاری ماں کی کوکھ میں شفٹ کیا پھر تم کو دنیا کے فرینڈلی ماحول میں بھیج کر ہم نے کہا جاو اور جا کر ہمارے نام کی دھوم مچا کر جھنڈے گاڑ آو ، لیکن اَفَتَتَّخِذُوْنَهٝ وَذُرِّيَّتَهٝٓ اَوْلِيَـآءَ مِنْ دُوْنِىْ تم نے تو شیطان کے ساتھ الائنس جائن کر لیا اور پارٹی بدل کر ہمارے مخالف دشمن سے ہی مل گئے اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ نا شکرے تو تم بڑے ہی زیادہ ہو قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَکۡفَرَہٗ لیکن اے انسان بہت بڑا گولہ لگے تجھے ، مارا جاو تم انسان ، نَسُوا اللّٰهَ دنیا میں آ کر تم ہمیں بھول گیے ، ہمممم بتاؤ ہمیں مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے تم کو ہم سے ہی دور کر دیا ،، تم ہمیں اتنے عزیز تھے گویا اور کوئی نہیں لیکن تم ہم کو بھول گئے ، اور اپنا وہ عہد بھی جب ہم نے تم سے فرشتوں کے سامنے پکا عہد لیا تھا کہ تمہارا رب کون ہے ؟ تب تم نے بڑی خوشی خوشی سے کہا تھا میرا رب اللہ ہے ،،

ہم نے تجھے دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا تھا تاکہ تیرے عہد کی آزمائش ہو سکے ہم جان لیں تم کو ہم سے کتنی محبت ہے تم اس کا کتنا حق ادا کرتے ہو اور تم کمرہ امتحان کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے ، تیرے رشتے ، تعلق ، ناتے ، یار ، دوست ، دولت صرف چار دن کی چاندنی تک محدود ہے بَلْ زَعَمْتُـمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا اور تم بھول گئے کہ تیرے لوٹ آنے کے لیے کوئی وقت مقرر نہ ہوگا جبکہ تیری زندگی کے کلائمکس کا ٹرننگ پوائنٹ ہم نے ہی مقرر کیا تھا ،

تیری موت کا دن تیرا ٹرننگ پوائنٹ ہے ، لَّـقَدْ جِئْتُمُوْنَا لو آ گئے ہو نا اب تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے ، تمہیں تو گمان تک نہیں تھا کہ تم ہمارے سامنے پیش بھی کئے جاو گے ، اب بتاؤ آ گئے ہو ہمارے سامنے اکیلے اور تنہا ، وَعُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا اب کھڑے ہو جاو ہمارے سامنے صف میں اور شور نہ مچا ، آج بس ہم اور تم ہے ، ہم تیرا پورا ڈیٹا بیس بنا چکے ہیں ، تم اپنے حساب کو دیکھ کر لرزاں و ترساں رہ جاو گے ، وَوُضِعَ الْكِتَابُ تیرے سامنے تیری زندگی کی مکمل ریکارڈ شدہ ویڈیو رکھ دیں گے کہ تم چیخ اٹھو گے لَا يُغَادِرُ صَغِيْـرَةً وَّّلَا كَبِيْـرَةً اِلَّآ اَحْصَاهَا ۚ کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ نہ تو کوئی چھوٹی بات رہ چکی ہے نہ بڑی بات بلکہ سب کچھ ہی اس نے ریکارڈ کر کے سیو کیا ہوا ہے ، تیرے بارے میں کلیکٹ کیا ہوا ڈیٹا بیس " اعمال نامہ " ہمارے پاس موجود ہے پس آج تم آپ ہی اپنے حساب کتاب کے لیے کافی ہو ،

02/12/2023

. #اعزازاتِ_مستورات

سب سے پہلے جو سب سے زیادہ بڑے ظالم و جابر خدائی کا دعوی کرنے والے فرعون کے مقابل شجاعانہ انداز میں کهڑا ہوا، وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تھیں۔ (حضرت آسیہ) ...

سب سے پہلے جس نے مکہ اور کعبہ کو آباد کیا۔ وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تھیں۔ (حضرت ہاجرہ خاتون) ...

سب سے پہلے جس نے روئے زمین کا مبارک ترین زمزم نوش فرمایا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تھیں۔ (حضرت ہاجرہ خاتون) ...

سب سے پہلے جو ہمارے نبی حضرت محمد المصطفی ﷺ پر ایمان لائی وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تھیں۔ (حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا ) ...

سب سے پہلے جس کا خون اسلام کی راہ میں بہایا گیا اور شہید ہوا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تھیں۔ (حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا) ...

سب سے پہلے جس نے اپنا مال اسلام کی راہ میں دیا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تھیں۔ (حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا) ...

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جس کا مسئلہ اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سنا وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں۔ (سوره مجادله آیه 1) ... (حضرت خولۃ رضی اللہ عنھا) ...

سب سے پہلے جس نے صفا و مروه کی سعی انجام دی، وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تھیں۔ اب ہر سال لاکهوں حاجیوں پر لازم ہے کہ ایک عورت کے انجام دئیے گئے فعل کو بجا لائیں ورنہ ان کا حج قبول نہیں ہوگا۔ (حضرت ہاجرہ خاتون) ...

سب سے پہلے جو سب کی مخالفت کے باوجود بیت المقدس میں داخل ہوا, وہ کوئی مرد نہیں تھا عورت تھیں۔ (حضرت مریم ) ...

جس نے قصر یزیدی کو لرزا دیا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ وہ عورت تھیں۔ (حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنہ )

" "

20/07/2023

ایک شخص روزانہ گھوڑے پر سوار ہو کے مدینہ منورہ سے باہر جا کے ٹیلوں پہ چڑھ کے قافلوں کے مدینہ میں داخل ہونے والے رستے کو دیکھتا رہتا تھا۔ کئی کئی گھنٹے اسی طرف نظر جمائے انتظار کرتا رہتا تھا۔ کوئی بھی آتا اس سے سوال ہوتا کہ :
" ...؟ "

تو جواب آتا کہ :
...

میرے پیارو! گُھڑ سوار کی نظریں دوبارہ اسی طرف لگ جاتیں کہ شاید اگلا آنے والا کوئی میرے سوال کا جواب دے دے ...

عزیز دوستو! ایک دن ایک شتر سوار گرد اڑاتا ہوا اسی رستے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ گھڑ سوار بھی اسی رستے پہ منتظر تھا۔ فوراً آگے بڑھا کہ :
...؟

وہ مدینہ سے باہر کسی علاقے کا نوجوان تھا اس نے بغیر رُکے جواب دیا کہ :
...

دوبارہ سوال ہوا :
...؟

اب گُھڑ سوار نے گھوڑے کو اس نوجوان کے اونٹ کے ساتھ بھگانا شروع کر دیا اور پوچھا کہ :
#مُجھے_محاذ_کی_خبر_سناؤ_نا_کیا_بنا_اسلامی_لشکر_کی_کیا_صورت_حال_ہے ...؟

میرے پیارو! وہ نوجوان جلد از جلد امیر المومنین کے دربار میں پہنچنا چاہتا تھا، لیکن یہ کپڑوں میں پیوند لگا شخص اپنے سوالات سے اس کی رفتار میں خلل ڈال رہا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ اسے سرسری جوابات دے رہا تھا کہ :
...

گھڑ سوار کی زبان سے شکر کے الفاظ ادا ہوئے اور سوالات کرتے کرتے اس شتر سوار کے ساتھ بھاگے جا رہے تھے۔
مدینہ میں داخل ہوئے۔ لوگوں نے دیکھا امیرالمومنین ایک گھڑ سوار کے ساتھ اس حالت میں تیز تیز گھوڑا بھگاتے آ رہے ہیں۔ لوگوں نے مخاطب کیا، یا امیر المومنین دوسرا شخص پکارا یا امیر المومنین ۔ شتر سوار حیرت سے گھڑ سوار کو دیکھنے لگا کہ :
...؟


جواب ملا :
...

قارئین کرام! لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے قیصر و کسری کے تخت کو الٹا دینے والے خلیفہ وقت امیر المومنین کی یہ حالت تھی کہ کپڑوں میں پیوند لگے ہوئے ہیں، باہر کی ریاستوں کے سفیر آ کے پوچھتے ہیں کہ :
" ...؟ "

تو جواب ملتا ہے کہ :
" "

اور پھر جا کے دیکھتے ہیں تو سر کے نیچے پتھر رکھ کے درخت کی چھاؤں میں لیٹے ہیں ...

جی! یہ تھے میرے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ...

04/07/2023

. #قصہِ_حضرت_یُوسف_علیہ_السّلام

حضرت یوسف علیہ السّلام کا زمانہ کم وبیش دو ہزار سال قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ آپ کے والد گرامی حضرت یعقوب علیہ السّلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور جلیل القدر نبی تھے۔ حضرت یوسف علیہ السّلام کی پیدائش کے وقت حضرت یعقوب علیہ السّلام کی عمر 73 سال تھی۔ حضرت یوسف علیہ السّلام کا نسب نامہ اس طرح ہے :
" یوسف علیہ السّلام بن یعقوب علیہ السّلام بن اسحٰق علیہ السّلام بن ابراہیم علیہ السّلام ... "

آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل بنت لابان تھا۔ والدین کو آپ سے بے پناہ محبت تھی۔ نورِ نبوّت کی چمک اوائلِ عمر سے آپ کی پیشانی سے جھلک رہی تھی۔ آپ کا حسن و جمال اسی نورِ نبوّت کا پرتَو تھا۔ آپ کی دماغی اور فطری اِستعداد دوسرے بھائیوں کے مقابلے میں نمایاں اور ممتاز تھی۔ حسن و جمال اور خداداد صلاحیتوں کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ والدین کی توجہ کا مرکز ہونے کی بناء پر آپ کے سوتیلے بھائی آپ سے حسد کرتے تھے۔ قرآنِ حکیم میں ایک مکمل سورۃ حضرت یوسف علیہ السّلام کے نامِ گرامی سے منسوب ہے۔ جس میں آپ کے حالات زندگی کا تذکرہ ہوا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السّلام کے قصّہ کو قرآنِ حکیم میں #اَحسنُ_القِصّص کہا گیا ہے۔ یہ قصّہ حضرت یوسف علیہ السّلام کے خواب سے شروع ہوتا ہے۔حضرت یوسف علیہ السّلام نے اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ السّلام سے کہا :
" اے میرے باپ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے، :چاند اور سورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں ... "

حضرت یوسف علیہ السّلام کے والد حضرت یعقوب علیہ السّلام نے فرمایا :
" میرے بیٹے جس طرح تو نے دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند تیرے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ اسی طرح تیرا پروردگار تجھے برگزیدہ کرنے والا ہے ... "

حضرت یعقوب علیہ السّلام نے جنہیں اللہ کی طرف سے بصیرت عطا ہوئی تھی اپنے لختِ جگر کو یہ بھی کہا کہ :
" "

حضرت یعقوب علیہ السّلام کی حضرت یوسف علیہ السّلام سے الفت و محبت، حضرت یوسف علیہ السّلام کے سوتیلے بھائیوں کو ناگوار گزرتی تھی۔ ایک روز حضرت یوسف علیہ السّلام کے سوتیلے بھائیوں نے پروگرام بنایا کہ انہیں راستے سے ہٹا دیا جائے اس مقصد کے لئے سب بھائیوں نے مل کر باپ سے اجازت طلب کی کہ حضرت یوسف علیہ السّلام کو اپنے ساتھ جنگل میں لے جائیں۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام حضرت یوسف علیہ السّلام سے ان کے بھائیوں کی مخاصمت سے باخبر تھے، بھائیوں کے بےانتہا اصرار کے بعد انہوں نے نیم دلی سے اجازت دے دی۔ سوتیلے بھائی سیر کے بہانے حضرت یوسف علیہ السّلام کو ساتھ لے گئے اور واپس آتے ہوئے انہیں ایک اندھے کنوئیں میں ڈال دیا اور مکر و فریب سے روتے ہوئے گھر لَوٹ آئے۔ باپ کے سامنے حضرت یوسف علیہ السّلام کی عدم موجودگی کا یہ عُذر پیش کیا کہ انہیں بھیڑیا کھا گیا ہے اور ثبوت کے طور پر بکری کے خون میں رنگے ہوئے حضرت یوسف علیہ السّلام کے کپڑے باپ کو دکھائے۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام گو کہ ان کا حیلہ سمجھ گئے تھے لیکن رضائے الٰہی سمجھ کر خاموش ہو رہے اور بشری تقاضے کے تحت اپنے لخت جگر کی جدائی میں اتنا روئے کہ آنکھیں جاتی رہیں ...

اب میرے پیارو! جس اندھے کنوئیں میں حضرت یوسف علیہ السّلام کو ڈالا گیا تھا اس کے قریب سے اِسمعیلی عربوں کا مصر جانے والا قافلہ گزرا۔ قافلے والوں نے پانی کے لئے کنوئیں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السّلام اسے پکڑ کر کنوئیں سے باہر نکل آئے۔ قافلہ والے آپ کو مصر ساتھ لے گئے اور مصر کے بازار میں نیلام کر دیا۔ مصری فوج کے سپہ سالار #فوطیفار نے آپ کو خریدا۔ فوطیفار فرعون کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور لوگ اسے #عزیزِ_مصر کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ دَور حضرت یوسف علیہ السّلام کی جوانی کا دَور تھا۔ حسن و خوبروئی کا کوئی پہلو ایسا نہ تھا، جو ان کے اندر موجود نہ ہو۔ عزیزِ مصر کی بیوی #زلیخا دل پر قابو نہ رکھ سکی اور حضرت یوسف علیہ السّلام پر پروانہ وار نثارہو گئی۔ عصمت و حیا کے پیکر حضرت یوسف علیہ السّلام نے ایک لمحہ کے لئے بھی زلیخا کی حوصلہ افزائی نہ کی، بلکہ اسے بےقراری کی حالت میں چھوڑ کر کمرے سے باہر جانے لگے، زلیخا نے انہیں روکنا چاہا۔ جس سے آپ کی قمیض پھٹ گئی۔ دروازہ کُھلا تو عزیز ِمصر کی بیوی کا چچا زاد بھائی سامنے کھڑا تھا۔ زلیخا نے مکّر سے کام لیا اور حضرت یوسف علیہ السّلام پر الزام لگا دیا کہ آپ نے اس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ شخص ذکی، فطین، ہوشیار اور معاملہ فہم تھا۔ اس نے کہا کہ :
" یوسف علیہ السّلام کا پیراہن دیکھنا چاہئے اگر سامنے سے چاک ہے تو زلیخا سچ بولتی ہے۔ اگر پیچھے سے چاک ہے تو یوسف علیہ السّلام بے گناہ ہیں ... "

دیکھا کہ پیراہن پیچھے سے چاک تھا۔ عزیزِ مصر کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے معاملہ رفع دفع کر دیا مگر خاندان میں یہ بات کسی نہ کسی طرح پھیل ہی گئی۔ عورتوں نے زلیخا پر لعن طعن کرنا شروع کر دیا۔ زلیخا نے حقیقت حال ان پر آشکارا کرنے کے لئے ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ تواضع کے لئے پھل رکھے گئے۔ زلیخا نے مہمانوں کو پھل کاٹنے کو کہا اور عین اسی وقت حضرت یوسف علیہ السّلام کو قریب سے گزارا گیا۔ حسن و جمال کے مجسمہ اور مردانہ وجاہت کے پیکر یوسف علیہ السّلام پر جب عورتوں کی نگاہ پڑی تو ان کے حواس معطل ہو گئے اور انہوں نے پھلوں کے ساتھ اپنی انگلیاں کاٹ ڈالیں۔ زلیخا نے مقصد براری کے لئے حضرت یوسف علیہ السّلام کو تنگ کرنا جاری رکھا اور بالآخر آپ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر جیل بھجوا دیا ...

حضرت یوسف علیہ السّلام سات برس جیل میں قید رہے۔ حضرت یوسف علیہ السّلام خدائے بزرگ و برتر کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ دینِ ابراہیمی کی دعوت و تبلیغ منصبِ نبوّت کا تقاضہ تھا چنانچہ قید کے دوران آپ قیدیوں کو توحید کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ نیک عمل کی تلقین اور برائیوں سے دامن بچانے کی نصیحت کرتے تھے۔ دوران قید آپ کے وعظ و تلقین کا تذکرہ قرآن میں ان الفاظ میں ہوا ہے :
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (39) مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (40)
ترجمہ : اے رفیقو بندی خانے کے! بھلا کئی معبود جدا جدا بہتر؟ یا اللہ اکیلا زبردست۔ کچھ نہیں پوجتے ہو سِوا اُس کے مگر نام ہیں کہ رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ داداؤں نے، نہیں اتاری اللہ نے اُن کی کوئی سند، حکومت نہیں ہے کسی کی سوا اللہ کے، اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اُس کو یہی ہے راہ سیدھی پر بہت لوگ نہیں جانتے ...
(سورہ یوسف: 39 – 40)

جیل خانہ کے دوسرے قیدی حضرت یوسف علیہ السّلام کی پرہیز گاری، عبادت اور نیک اعمال کی بدولت ان کا ادب و احترام کرتے تھے اور ان کو برگزیدہ شخصیت مانتے تھے۔ ان میں سے دو قیدیوں نے خواب دیکھے۔ قیدیوں نے جن میں سے ایک بادشاہ کا ساقی اور دوسرا باورچی تھا اور وہ بادشاہ کو زہر سے ہلاک کرنے کی سازش میں پکڑے گئے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السّلام کو اپنے اپنے خواب سنائے۔ ایک نے بتایا :


دوسرے نے کہا :
ُٹھائے_ہوئے_ہوں_اور_پرندے_اسے_کھا_رہے_ہیں ...

حضرت یوسف علیہ السّلام نے تعبیر میں فرمایا کہ :
" انگور نچوڑنے والا بَری ہو جائے گا اور اسے پھر ساقی گری سونپ دی جائے گی اور دوسرا سُولی پر چڑھایا جائے گا اور اس کا گوشت مردار جانور کھائیں گے ... "
(حوالہ: سورۃ یوسف – آیت نمبر 41)

حضرت یوسف علیہ السّلام کے قصّہ میں بیان کردہ چوتھا خواب بادشاہ مصر ’’ملِک الرّیان‘‘ کا ہے۔ بادشاہ نے تمام درباریوں کو جمع کر کے کہا :
" میں نے خواب دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انہیں سات دبلی گائیں نگل رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات دوسری سوکھی ... "
(حوالہ: سورۃ یوسف – آیت نمبر 43)

بادشاہ کے دربار میں ماہرین خواب نے اس خواب کو بادشاہ کی پریشان خیالی کا مظہر قرار دیا۔ اس خواب سے بادشاہ ِمصر’’فرعون‘‘ ہر وقت پریشان رہنے لگا۔ بادشاہ کو پریشان دیکھ کر ساقی کو اپنا خواب اور اس کی تعبیر یاد آ گئی۔ اس نے جیل میں قید حضرت یوسف علیہ السّلام کے علم و حکمت سے بادشاہ کو آگاہ کیا۔ بادشاہ نے ساقی کو خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لئے حضرت یوسف علیہ السّلام کے پاس بھیجا۔ حضرت یوسف علیہ السّلام نے اس خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات برس تک تم لگاتار کھیتی کرتے رہو گے۔ ان سات برسوں میں غلے کی فراوانی خوب ہو گی اور اس کے بعد سات برس بہت سخت مصیبت کے آئیں گے اور سخت قحط پڑ جائے گا۔ ایک دانہ بھی باہر سے نہیں آئے گا۔ ان سات سالوں میں وہی غلہ کام آئے گا جو پہلے سات سالوں میں ذخیرہ رکھا کیا ہو گا۔
(حوالہ: سورۃ یوسف – آیت 43 تا 47)

حضرت یوسف علیہ السّلام کے اس پورے قصے میں اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ خواب مستقبل کی نشاندہی کا ذریعہ ہیں۔ خواب میں حضرت یوسف علیہ السّلام کی بیان کردہ
تعبیر کے مطابق چَودہ سال کا مستقبل سامنے آ گیا۔ غور و فکر کے بعد دوسری بات یہ ظاہر ہوتی ہے کہ عام آدمی بھی مستقبل کے آئینہ دار خواب دیکھتا ہے۔ یہ بالکل الگ بات ہے کہ علمِ تعبیرِ خواب پیغمبروں کا معجزہ ہے۔
" اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السّلام کو اس ملک میں سلطنت عطا فرمائی اور اس کو خواب کی تعبیر کا علم سکھایا ... "

خواب میں پوشیدہ حکمت اور حضرت یوسف علیہ السّلام کی بیان کردہ تعبیر سے بادشاہِ مصر بے حد متاثر ہوا۔ اس نے ایسے صاحب علم آدمی کو رہا کر کے دربار میں حاضر کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت یوسف علیہ السّلام نے رہا ہونے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اس الزام کی تحقیق کی جائے جس کے تحت وہ قید کئے گئے تھے۔ بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ قیدی صاحبِ حکمت اور بزرگ ہے اور یہ صاحبِ علم برگزیدہ شخص یقیناً بے گناہ ہے ورنہ الزام کی تحقیق کا مطالبہ نہ کرتا اور بخوشی جیل سے باہر آ جاتا۔ شاہِ مصر نے تحقیقات کا حکم دیا اور نتیجہ میں حضرت یوسف علیہ السّلام بے قصور ثابت ہوئے۔

خواب کی تعبیر معلوم ہونے کے بعد بادشاہ نے دربار میں موجود ماہرین کو اس صورتِ حال سے نمٹنے کی ہدایت کی۔ یہ خواب جس طرح انوکھا تھا اسی طرح تعبیر بھی عجیب تھی اور سارے دربار میں ایک بھی فرد ایسا نہ تھا جو اس کام سے عہدہ برآ ہو سکتا۔تب حضرت یوسف علیہ السّلام نے اس قحط سالی سے بچنے کی تدابیر بھی بتا دیں۔ بادشاہ ان کے علم و حکمت اور بزرگی کا پہلے ہی معترف تھا۔ اب اس کے دل میں حضرت یوسف علیہ السّلام کی عزت و عظمت گھر کر گئی۔ اس نے ان تدابیر کو نہ صرف قبول کر لیا بلکہ حضرت یوسف علیہ السّلام کو ان پر عمل کرنے کا اختیار بھی دے دیا اور کہا :
آج سے تو میرا نائب ہے،
آج سے تیرا حکم میری رعایا پر چلے گا،
آج سے میں نے تجھے ساری سلطنت کا مختار بنایا،
آج سے تو اپنی مرضی کا مالک ہے۔

حضرت یوسف علیہ السّلام نے سلطنتِ مصر کی باگ ڈور سنبھال لی اور چَودہ سال کی غذائی پلاننگ کر دی۔ زرعی زمینوں کے قریب غلہ ذخیرہ کرنے کے لئے گودام تیار کرائے گئے۔ یہ گودام اہرام مصر کے طرز پر بنائے گئے تھے۔ جن کے اندر رکھی ہوئی اشیاء پر موسمی اثرات اثر انداز نہیں ہوتے۔ سات سال بارشیں خوب ہوئیں اور بہترین فصل حاصل ہوئی۔ پھر کھیتیاں سوکھنے لگیں۔ جوہڑوں اور تالابوں میں جمع شدہ پانی ختم ہو گیا۔ لوگوں کے پاس جمع شدہ غذائی اجناس کی قلت ہو گئی۔ مصر کی ساری زمین سوکھ گئی اور قرب و جوار میں شدید قحط پڑا۔ اس وقت حضرت یوسف علیہ السّلام کے حسنِ انتظام کی بدولت غلہ وافر مقدار میں موجود رہا۔

کنعان کے باشندے مصر آ کر سرکاری گوداموں سے غلہ لے کر گئے تو حضرت یعقوب علیہ السّلام نے بھی اپنے بیٹوں کو مصر سے غلہ لانے کے لئے بھیجا۔ حضرت یوسف علیہ السّلام ان گوداموں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً تقسیمِ اجناس کا جائزہ لیتے رہتے تھے۔ ایک بار جائزہ لینے پہنچے تو ایک جیسے لباس اور ایک جیسی شکل و صورت کے حامل دس کنعانیوں کو قطار میں انتظار کرتے دیکھا۔

حضرت یوسف علیہ السّلام نے ان کو پہچان لیا اور اِستفسار پر انہوں نے بتایا کہ ہم سب آپس میں بھائی ہیں اور کنعان سے آئے ہیں۔ ہم دس بھائیوں کے علاوہ ایک اور بھائی اور باپ کنعان میں ہیں۔ گیارہواں بھائی غلہ لینے اس لئے نہ آسکا کہ ہمارے والد آنکھوں سے معذور ہیں۔ باپ کی معذوری کی وجہ یہ بتائی کہ ہمارے ایک اور بھائی یوسف کو بچپن میں بھیڑیا اٹھا کر لے گیا تھا۔ باپ کو اس سے بے انتہا محبت تھی وہ اس کے غم میں روتے روتے بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔

حضرت یوسف علیہ السّلام کو یہ سن کر صدمہ پہنچا کہ ان کے باپ ان کی جدائی کے غم میں بینائی کھو چکے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے چھوٹے بھائی کی فکر بھی لاحق ہوئی۔ آپ نے اپنے بھائیوں سے کہا۔’’تم لوگ کنعان سے آئے ہو ممکن ہے تمہیں یہاں کے قانون کا علم نہ ہو، غلہ صرف انہی لوگوں کو دیا جاتا ہے جو یہاں موجود ہوتے ہیں۔ اس بار تم کو معذور باپ اور بھائی کے حصّے کا غلہ دے دیا جاتا ہے۔ لیکن آئندہ جب غلہ لینے آؤ تو اپنے باپ اور بھائی کو بھی ساتھ لے کر آنا۔‘‘ بھائیوں نے کہا کہ ہمارے والد تو بیٹے کے غم میں گوشہ نشین ہو گئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ آنکھوں سے بھی معذور ہیں۔ ان کے لئے ہم معذرت خواہ ہیں۔ چھوٹا بھائی باپ کی خدمت میں لگا رہتا ہے اور وہ بھی اسے خود سے دور کرنا گوارا نہیں کرتے۔

حضرت یوسف علیہ السّلام نے باپ کی معذوری کا عذر قبول کر لیا لیکن بھائی کے نہ آنے کی وجہ کو قبول نہ کیا اور کہا کہ تمہارے بھائی کو اپنے حصّے کا غلہ لینے یہاں آنا پڑے گا اگر وہ نہیں آیا تو تم کو بھی غلہ نہیں دیا جائے گا۔

مصر سے واپسی پر تمام بھائی اپنے نابینا باپ کے پاس پہنچے اور انہیں والئِ مصر کے حکم سے آگاہ کیا۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام نے ان کی بات سن کر کہا :
" کیا تم پر اس طرح اعتماد کروں جس طرح اس کے بھائی یوسف کے معاملے میں کر چکا ہوں ... "

حضرت یوسف علیہ السّلام کی جدائی کے بعد حضرت یعقوب علیہ السّلام کے دل کا سکون ’’بن یامین‘‘ تھا۔ آنکھوں کی روشنی سے محروم ہونے کے بعد بن یامین ہی باپ کی ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السّلام کے سوتیلے بھائی باپ کا جواب سن کر شرمندہ ہوئے اور بڑے بھائی نے نہایت عاجزی سے کہا۔’’آپ کو ہم پر اعتماد نہیں رہا لیکن ہم مجبور ہیں۔ اگر آپ نے بن یامین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجا تو کسی کو بھی غلہ نہیں ملے گا۔‘‘ حضرت یعقوب علیہ السّلام نے اپنے بیٹوں سے اس بات کا وعدہ لیا کہ وہ بن یامین کو صحیح سلامت باپ کے پاس لے آئیں گے۔

دوسری مرتبہ برادرانِ یوسف کا قافلہ جب مصر کو روانہ ہونے لگا تو حضرت یعقوب علیہ السّلام نے بیٹوں کو نصیحت کی کہ دیکھو ایک ساتھ جَتھا بنا کر شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو داخل ہونا۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام کی بیٹوں کو یہ نصیحت اس وجہ سے تھی کہ جب وہ پہلی بار مصر داخل ہوئے تھے تو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لئے گئے تھے اور بعد ازاں الزام ثابت نہ ہونے پر رہا ہوئے تھے۔

حضرت یوسف علیہ السّلام جانتے تھے کہ ان کے بھائی جو غلہ لے گئے ہیں وہ زیادہ دن نہیں چلے گا۔ انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ اتنی مدت کے بعد بھائیوں کو دوبارہ غلہ لینے کے لئے آنا چاہئے۔ بھائی کے انتظار میں وہ شہر کے باہر چکر بھی لگایا کرتے تھے۔ بالآخر برادرانِ یوسف پہنچ گئے اور باپ کی نصیحت کے مطابق الگ الگ دروازوں سے داخل ہوئے اور پھر ایک جگہ جمع ہو گئے۔ حضرت یوسف علیہ السّلام نے انہیں شاہی مہمان خانہ میں ٹھہرایا اور اپنے سگے بھائی بن یامین کو تنہائی میں طلب کر کے اسے حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ باپ کی خیر خبر معلوم کی، اپنی ساری روئداد سنائی۔ باپ سے جدائی سے لے کر اب تک کا سارا قصّہ بھائی کو سنایا اور تاکید کی کہ دوسرے بھائیوں پر اس راز کو آشکار نہ کیا جائے کہ میں ہی ان کا وہ بھائی ہوں جس کو اپنی دانست میں وہ ختم کر چکے ہیں۔

اب کی بار حضرت یوسف علیہ السّلام نے تمام بھائیوں کو پہلے سے زیادہ غلہ دیا اور اپنے بھائی بن یامین کو اپنے پاس رکھنے کی یہ ترکیب کی کہ غلہ ناپنے کا شاہی پیالہ اس کے سامان میں رکھ دیا۔

کنعانی جوانوں کا یہ قافلہ ابھی روانہ ہی ہوا تھا کہ چاندی سے بنے شاہی پیمانے کی تلاش شروع ہو گئی۔ جب پیمانہ نہ ملا تو قافلہ والوں پر چوری کا شبہ ظاہر کیا گیا کیونکہ صرف اس قافلہ کو تقسیم کیا گیا تھا۔ قافلہ رکوایا گیا۔ برادران یوسف نے اس پر احتجاج کیا کہ چوری کا الزام بے بنیاد ہے۔ بحث و تمحیص کے بعد یہ طے پایا کہ قافلہ والے واپس چل کر تلاشی دیں گے اگر الزام ثابت نہ ہوا تو انہیں اس غلط شبہ کے نتیجے میں پہنچنے والی تکلیف کے بدلے میں مزید غلہ دیا جائے گا اور اگر الزام ثابت ہوا تو مجرم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی، اور قانون میں اس کی سزا یہ تھی کہ مجرم کو اس شخص کے حوالہ کر دیتے تھے جس کی چیز چوری ہوتی تھی۔ شاہی دروغہ نے تمام بھائیوں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کر دی آخیر میں سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کی خورجی میں سے شاہی پیمانہ برآمد ہو گیا۔ یہ دیکھ کر تمام بھائی پریشان ہو گئے۔

شاہی پہرہ دار بن یامین کو گرفتار کر کے لے جانے لگے تو ان سب کو باپ سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا انہوں نے دروغہ کی منت سماجت شروع کر دی کہ بن یامین کو چھوڑ دیا جائے اور اس کی جگہ جس بھائی کو چاہیں وہ گرفتار کر لیں۔ معاملہ حضرت یوسف علیہ السّلام والئِ مصر کے سامنے پیش ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السّلام نے اس امر سے معذوری ظاہر کی اور کہا :
" اس سے زیادہ ظلم اور کیا ہو گا کہ اصلی مجرم کو چھوڑ کر کسی اور کو پکڑ لیا جائے ... "

ناکام و نامراد برادران یوسف وطن واپس ہوئے۔ لیکن اس سفر میں ان کا بڑا بھائی ان کے ساتھ نہیں گیا کیونکہ اس نے خاص طور پر بن یامین کی بحفاظت واپسی کا ذمہ اپنے سر لیا تھا اور بارِندامت سے باپ کا سامنا کرنے کی ہمت اس کے اندر موجود نہ تھی۔ وہ شہرِ مصر کے باہر ہی رہ گیا۔

باقی بھائیوں نے کنعان پہنچ کر اپنے باپ کو صورتحال سے آگاہ کیا تو حضرت یعقوب علیہ السّلام نے فرطِ غم سے ایک آہ کھینچی اور غمزدہ آواز سے بولے :
" میں جانتا ہوں کہ بات یہ نہیں ہے کہ تم جو کچھ کہتے ہو مان لیتا ہوں۔ اب سوائے صبر کے اور کر بھی کیا سکتا ہوں ... "
(سورۃ یوسف – آیت 83)

حضرت یعقوب علیہ السّلام کے بیٹے جو غلہ لائے تھے، ختم ہو گیا۔ وہ پھر مصر جانے کے بارے میں سوچنے لگے لیکن بن یامین کی حرکت سے جو شرمندگی انہیں ہوئی تھی اس کی وجہ سے دوبارہ جاتے ہوئے ہچکچا رہے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام نے انہیں تسلی دی اور مصر جانے پر آمادہ کیا تا کہ غلہ کے حصول کے ساتھ ساتھ بن یامین کی قید سے رہائی کے بارے میں والئِ مصر سے معافی کی التجا کی جا سکے۔ باپ کے ہمت دلانے پر بیٹے دربارِ شاہی میں حاضر ہوئے اور کہا :
" ہم کو قحط سالی نے پریشان کر دیا ہے۔ اب معاملہ خرید و فروخت کا نہیں ہے، ذرائع آمدنی ختم ہو گئے ہیں۔ ہم غلہ پوری قیمت ادا نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے حاضر ہے اگر تو ہمیں غلہ نہیں دے گا تو ہمارے گھروں میں فاقے شروع ہو جائیں گے ... "

حضرت یوسف علیہ السّلام نے یہ سنا تو بہت رنجیدہ ہوئے اور آبدیدہ ہو کر کہا :
...

برادرانِ یوسف اس بات پر کہ عزیزِ مصر ہمارے باپ کو اپنا باپ کہہ رہا ہے ، حیرت زدہ ہو رہے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السّلام نے مزید کہا :
" تم لوگوں نے یوسف اور اس کے بھائی بن یامین کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ...؟ "

یہ جملہ سن کر ان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ عزیزِ مصر کو یوسف اور بن یامین سے کیا واسطہ ہے۔


حضرت یوسف علیہ السّلام کے اس انکشاف سے ان کے رہے سہے حواس بھی جاتے رہے۔ خوف، شرمساری اور ندامت کے احساس سے ان کی گردنیں جھک گئیں۔ حضرت یوسف علیہ السّلام نے پیغمبرانہ طرزِ فکر سے درگزر سے کام لیا اور فرمایا کہ :
" میں تمہارا بھائی ہوں۔ ہم ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ میں آج بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔ تم سے کوئی سرزنش نہیں، کوئی شکوہ نہیں، کوئی شکایت نہیں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہارے گناہ بخش دے کیونکہ وہ بڑا رحیم و کریم ہے ... "

فرعونِ مصر کو حضرت یوسف علیہ السّلام کے بھائیوں کی آمد کا پتہ چلا اور یہ کہ ان کے والد اللہ کے برگزیدہ بندے حضرت یعقوب علیہ السّلام ہیں۔

حضرت یعقوب علیہ السّلام کنعان میں اسرائیل کے نام سے پکارے جاتے تھے اور آپ سے کئی معجزے منسوب تھے۔ جن سے فرعون بھی واقف تھا۔ فرعون کو جب یہ پتہ چلا کہ یوسف علیہ السّلام اس برگزیدہ ہستی کے بیٹے ہیں تو اس نے حضرت یعقوب علیہ السّلام کو ان کے پورے خاندان سمیت مصر میں آباد ہونے کی دعوت دی اور سہولت کے لئے فوج کا ایک دستہ برادران یوسف علیہ السّلام کے ہمراہ کنعان بھیجا۔ جس میں مال برداری کے جانور بھی شامل تھے۔

قافلے کی کنعان روانگی سے قبل حضرت یوسف علیہ السّلام نے اپنا پیراہن بھائیوں کو دیتے ہوئے کہا کہ اسے میرے محترم و مقدس باپ کی آنکھوں سے لگانا۔ خداوندِ قدوس اپنا فضل کرے گا۔

قافلہ ابھی کنعان میں داخل نہیں ہوا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السّلام نے اہلِ خاندان سے کہا کہ مجھے اپنے گمشدہ بیٹے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔ اہلِ خاندان نے حضرت یعقوب علیہ السّلام کی اس بات کو پیرانہ سالی کی وجہ سے ضعفِ دماغ پر محمول کیا اور کہا کہ برسوں کا گمشدہ بیٹا جس کو بھیڑیا لے گیا تھا۔ بھلا اس کی خوشبو کیسے آنے لگی؟ حضرت یعقوب علیہ السّلام نے کہا:

(سورۃ یوسف – 96)

شاہی دستہ کے ہمراہ قافلہ شہر میں جب داخل ہوا تو حضرت یعقوب علیہ السّلام اپنے گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام کے بیٹے سر جھکائے ان کے پاس پہنچے۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام نے خوشی اور بے قراری سے کہا :
" تم سب آگئے مجھے یوسف کی مہک محسوس ہو رہی ہے "

’’یوسف ہمارے ساتھ نہیں آیا ہے۔‘‘ ایک بھائی نے جھکے ہوئے سر کے ساتھ جواب دیا اور پیراہن نکال کر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا :
" "

حضرت یعقوب علیہ السّلام نے پیراہن ہاتھ میں لیا اور یہ کہتے ہوئے چومنا اور آنکھوں سے لگانا شروع کر دیا۔’’میرا یوسف زندہ ہے۔ میں نہ کہتا تھا کہ میرا یوسف زندہ ہے، مجھے اس کی مہک آ رہی ہے۔‘‘

پیراہن آنکھوں سے مس ہو رہا تھا اور رفتہ رفتہ بینائی لوٹ رہی تھی۔

بھائیوں نے اول تا آخر سارا قصّہ کہہ سنایا ...

حضرت یعقوب علیہ السّلام تمام خاندان والوں کے ہمراہ جن کی تعداد ستر بتائی جاتی ہے، مصر روانہ ہو گئے۔ توریت کی تصریح کے مطابق والد سے بچھڑتے وقت حضرت یوسف علیہ السّلام کی عمر 17 سال تھی اور حضرت یعقوب علیہ السّلام نوے سال کے تھے اور میرے پیارو! جس وقت حضرت یعقوب علیہ السّلام مصر تشریف لائے اس وقت ان کی عمر 130 سال تھی گویا باپ بیٹا چالیس سال ایک دوسرے سے جدا رہے۔
(واللہ تعالٰی اَعلم)

12/05/2023

ﮨﺮﻗﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ لے کر ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﻮ میرے پیارو ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﺝ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ ...؟

اسی طرح اﮔﺮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁپ کی ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺘﮯ ﮔﯽ ...؟

اور ﺍﮔﺮ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺻﻮﻓﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ...؟

ﺍﻭﺭ طرح ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺷﺘﺮ ﻣﺮﻍ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺟﻦ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﻨﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﯾﮟ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ...؟

میرے دوستو ایک اور تصور کیجئے کہ آپ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﺎﺭ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮯ، تو مجھ کم فہم کی رہنمائی فرمائیں کہ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﻮﮔﺎ ...؟

اور ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ذرا لمحے بھر کو سوچئیے کہ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ گیزر ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ ...؟

میرے دوستو! ﺁﭖ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺭﮨﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ معذرت کے ساتھ! ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﻻﮞ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﺍﺣﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﻌﺘﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...

ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ رب العالمين کہئیے، ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ! ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻦ ﮐﺎ ہم سے ﺷﻤﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ...

Want your business to be the top-listed Government Service in Bahawalpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Bahawalpur