19/10/2026
مقبرہ بکھر خان بلوچ اس نام پر بہت قیاس آرائی ہیں کہ یہ اصل نام بکھو تھا کوئی بکھو کو بلوچ تو کوئی اترا لکھتے ہیں کوئی لکھتا ہے جس وقت سال بکھو کا ذکر لکھتے ہیں اس وقت یہاں اترا نہیں تھے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے جس سال میں بکھو نام کا ذکر کیا جاتا ہے اس وقت ملتان سے بھکر تک بلوچ کنٹرول میں تھی گورنر بھی بلوچ تھے جنہوں نے دہلی بھی فتح کیا ان حوالے سے بکھو بلوچ ہی سمجھ آتے ہیں۔ سب سے بڑی بات جو تاریخ دان اکثر غلطی کرتے ہیں کہ یہ جگہ بکھو نے آباد کی یہ بلکل غلط ہے یہاں پہلے سے آبادی تھی کیونکہ یہ جگہ پشاور سے ملتان کا راستہ تھا یہاں بہت بڑی پتن موجود تھی اور ہزاروں سال سے یہاں کاشتکاری بھی ہوتی تھی جس کا حوالہ پنینی کی کتاب میں ملتا ہے جو 2500 سال پہلے اس شہر کا نام "آپاکارہ " لکھ گئے ہیں۔ بکھو نے اس نام کا یا اس کا والی ہونی کی وجہ سے اسے بکھر کہا گیا۔ اس مقبرے کی ساتھ ایک باغ اور مسجد بھی تھی جس پر قبضہ ہو گیا ہے اور حکومت اس قبضے کی جگہ خالی کروانے سے قاصر ہے۔ کافی دفعہ Directorate General of Archaeology, Punjab , Tourism, Archaeology and Museums Department, Punjab Punjab Walled Cities and Heritage Areas Authority , سے التجا کی گئی ہے لیکن یہ محکمے بھی یہاں کوئی کام کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی بھکر میں ان کی دلچسپی ہے