The Bhakkar

Directions

The Bhakkar Discovering Bhakkar : A Journey Through Heritage

دریائے سندھ ڈیرہ اسماعیل خان  سے کشتی پل کے ذریعے پار کرتے اونٹ دریاخان کی طرف آرہے ہیں۔ کابل سے دہلی و کلکتہ جانے کے لی...
23/10/2026

دریائے سندھ ڈیرہ اسماعیل خان سے کشتی پل کے ذریعے پار کرتے اونٹ دریاخان کی طرف آرہے ہیں۔ کابل سے دہلی و کلکتہ جانے کے لیے soft route اس راستے کو کہا جاتا تھا جس میں پہاڑی سلسلہ بہت کم ہے۔
Publication: The Sphere
​Date: June 28, 1902

دلکشا باغ بھکر جس نے ایک پتن سے باغ کا درجہ حاصل کیا۔ کابل پشاور سے ملتان کے لیے بھکر کا راستہ استعمال ہوتا تھا اس کے عل...
21/10/2026

دلکشا باغ بھکر جس نے ایک پتن سے باغ کا درجہ حاصل کیا۔ کابل پشاور سے ملتان کے لیے بھکر کا راستہ استعمال ہوتا تھا اس کے علاوہ دہلی جانے کے لیے دو راستے تھے hard route جو پہاڑی راستے سے ہوتے ہوئے آتا تھا دوسرا soft route جو ڈیرہ بھکر کے دریا سے ہوتا بھیرہ لاہور اور دہلی کو جاتا تھا۔ ان راستوں کے استعمال کے لیے دلکشا ایک پتن تھا جو تاجر لشکر کو دریا پار کرواتا رہا ساتھ ہی حفاظتی قلعہ بھکر بھی تھا اور اس قلعے کے اندر سرائے بھی تھی ان میں سے ایک کے نشان آج بھی باقی ہیں جسے گورنمنٹ پوری کوشش کر رہی ہے ختم کر دیں۔ اس پتن پر ایک خاص قسم کی لال کھجور کے درخت ہونے کی وجہ سے اس باغ کا درجہ ملا اور اس بہترین پتن بنا دیا گیا۔ مشہور ہے یہاں مہرالنساء مغل شہزادی دوران سفر اس پتن سے گزر رہی تھی جہاں ان کا گھوڑا اسی جگہ مر گیا یہاں اس کو دفن کر کے ایک مینار بنا دیا مینار تو سیلاب کی وجہ سے نہ رہا لیکن اس کا ٹیلے نما ایک نشان باقی ہے۔ اس باغ کا رقبہ بہت سا ہے چاہیے تو یہ تھا یہاں مزید پھل دار درخت لگائے جاتے ایک حصہ مخصوص کر دیا جاتا عوام کے لیے لیکن اس کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے باغ دن بدن اپنی شناخت کھو رہا ہے اور پاس ہی باغ کی ندی پر قبضے ہو گئے ہیں جن کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ Tourism, Archaeology and Museums Department, Punjab Punjab Walled Cities and Heritage Areas Authority Directorate General of Archaeology, Punjab Maryam Nawaz Sharif

مقبرہ بکھر خان بلوچ اس نام پر بہت قیاس آرائی ہیں کہ یہ اصل نام بکھو تھا کوئی بکھو کو بلوچ تو کوئی اترا لکھتے ہیں کوئی لک...
19/10/2026

مقبرہ بکھر خان بلوچ اس نام پر بہت قیاس آرائی ہیں کہ یہ اصل نام بکھو تھا کوئی بکھو کو بلوچ تو کوئی اترا لکھتے ہیں کوئی لکھتا ہے جس وقت سال بکھو کا ذکر لکھتے ہیں اس وقت یہاں اترا نہیں تھے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے جس سال میں بکھو نام کا ذکر کیا جاتا ہے اس وقت ملتان سے بھکر تک بلوچ کنٹرول میں تھی گورنر بھی بلوچ تھے جنہوں نے دہلی بھی فتح کیا ان حوالے سے بکھو بلوچ ہی سمجھ آتے ہیں۔ سب سے بڑی بات جو تاریخ دان اکثر غلطی کرتے ہیں کہ یہ جگہ بکھو نے آباد کی یہ بلکل غلط ہے یہاں پہلے سے آبادی تھی کیونکہ یہ جگہ پشاور سے ملتان کا راستہ تھا یہاں بہت بڑی پتن موجود تھی اور ہزاروں سال سے یہاں کاشتکاری بھی ہوتی تھی جس کا حوالہ پنینی کی کتاب میں ملتا ہے جو 2500 سال پہلے اس شہر کا نام "آپاکارہ " لکھ گئے ہیں۔ بکھو نے اس نام کا یا اس کا والی ہونی کی وجہ سے اسے بکھر کہا گیا۔ اس مقبرے کی ساتھ ایک باغ اور مسجد بھی تھی جس پر قبضہ ہو گیا ہے اور حکومت اس قبضے کی جگہ خالی کروانے سے قاصر ہے۔ کافی دفعہ Directorate General of Archaeology, Punjab , Tourism, Archaeology and Museums Department, Punjab Punjab Walled Cities and Heritage Areas Authority , سے التجا کی گئی ہے لیکن یہ محکمے بھی یہاں کوئی کام کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی بھکر میں ان کی دلچسپی ہے

قلعہ اموانی حیدرآباد تھل جس کے آثار کچھ سال پہلے ضلع انتظامیہ نے ختم کر دیے۔ حیدرآباد تھل کا پروانہ نام اموانی تھا جسے ح...
18/10/2026

قلعہ اموانی حیدرآباد تھل جس کے آثار کچھ سال پہلے ضلع انتظامیہ نے ختم کر دیے۔ حیدرآباد تھل کا پروانہ نام اموانی تھا جسے حیدر خان بلوچ نے تبدیل کر کے حیدرآباد تو رکھ دیا لیکن تاریخ میں قلعے کا نام آج بھی اموانی ہی لکھا جاتا ہے۔ اس قلعے میں حیدر خان نے اپنی آخری جنگ لڑی سکھوں کے خلاف اور شہید ہو گئے۔ قلعے کی دیوار کے اندر ایک آباد شہر تھا اور اور اندرون قلعہ والی حیدرآباد کی رہائش بھی تھی۔ ضلع انتظامیہ نے اس قلعے کے نشان ختم کر کے حیدرآباد تھل کی تاریخ کو روند دیا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر خاص طور پر پنجاب لاہور اس وقت اپنی تاریخی جگہ کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں کیونکہ ہمیں 1946 کے بعد آج پتا چلا ہے باہر ممالک سے آنے والے لوگ یہاں پاکستان کی تاریخی جگہ دیکھنے آتے ہیں نہ کہ پہاڑ 2019 کی رپورٹ میں درج کیا گیا 90 فیصد غیرملکی سیاح پاکستان کی سیاحت سے خوش نہیں تھے کیونکہ پاکستان دنیا کے چار تاریخی تہذیب میں سے ایک ہے اور ہم نے آج تک کوئی چیز نہیں چھوڑی۔

تاریخی شہر بھکر جب تین دروازوں کے اندر ایک قلعے میں تھا ایک کونے میں بنگلہ جسے بلوچ بنگلہ کہا جاتا تھا تصویر میں نشاندہی...
17/10/2026

تاریخی شہر بھکر جب تین دروازوں کے اندر ایک قلعے میں تھا ایک کونے میں بنگلہ جسے بلوچ بنگلہ کہا جاتا تھا تصویر میں نشاندہی کی گئی ہے اب اس جگہ سٹی پولیس سٹیشن ہے اس بنگلے کا ملبہ آج بھی اس پولیس سٹیشن کے ساتھ پڑا ہے جس میں پرانی وقت میں باریک ٹائل استعمال ہوتی تھی۔ دلکشا اصل میں شہر کا پتن ہوا کرتا تھا جہاں سے عام تجارت ہوتی تھی اسے باغ کا درجہ مغل دور میں ہی حاصل ہو گیا تھا۔ دلکشا اور بکھر قلعے کے درمیان ہی مقابر بھی تھے جو اس جگہ پر حکمران رہے اور اس راستے کو پار کرتے اللہ کو پیارے ہو گئے ان مقابر میں سے ایک ہی مقبرہ جس کے نشان رہ گئے ہیں بھکر یا بکھو خان بلوچ کا مقبرہ تاریخ دان بکھو خان کی تاریخ بلوچ حکمرانی میں درج کرتے ہیں جب ملتان میں خضر خان گورنر تھے اور بعد میں انہوں نے دہلی فتح کیا۔ بکھر خان بلوچ کے مقبرے پر چھوٹا باغ اور مسجد بھی تاریخ کا حصہ تھی لیکن آج قبضہ کی نظر ہو گئی۔ پنجاب آرکیالوجی، والڈ سٹی آتھارٹی پنجاب، ڈی سی بھکر اور اے سی بھکر کو کافی دفعہ ان تاریخی جگہ پر قبضہ اور ان کی بحالی کی درخواست کی لیکن آج تک درخواست نہیں پڑھی گئی۔

اسد جعفری پاکستان کے مایہ ناز شاعر اور بھکر کے بہترین معلم
14/10/2026

اسد جعفری پاکستان کے مایہ ناز شاعر اور بھکر کے بہترین معلم

10/10/2026

لیہ کی عوام کا مطالبہ تھا میڈیکل کالج ملے ان کو میڈیکل کالج ملا بھکر کی عوام کا مطالبہ ہے نالی ملے ان کو نالی ملی

06/10/2026

تھل میں ہر جگہ پھیلا کوڑ تمہ کس طرح اس کا کاروبار کیا جا رہا ہے۔

دریاخان کی تاریخی مساجد دریاخان شہر تاریخ کے حوالے سے حضرت پیر بڈھایا سرکار کے آنے سے تبلیغ اسلام زیادہ ہوئی۔ مساجد کے ح...
01/10/2026

دریاخان کی تاریخی مساجد
دریاخان شہر تاریخ کے حوالے سے حضرت پیر بڈھایا سرکار کے آنے سے تبلیغ اسلام زیادہ ہوئی۔ مساجد کے حوالے سے بات کریں تو شاید دربار پیر بڈھایا کے ساتھ مسجد دریاخان شہر کی قدیم ترین مسجد ہو گی۔
مقامی لوگ تاریخی مساجد کے حوالے سے بتاتے ہیں:
شیخ الفت سلیم بتاتے ہیں دریاخان محلہ بنگیال آباد میں تاج مسجد سب دے قدیم ہے جس کی تعمیر 1876 میں ہوئی اس کا حوالہ یہ بھی دیا جاتا ہے جب اس مسجد کی دوبارہ تعمیر ہوئی پرانی عمارت سے اتارے گئے شہتیر پر 1876 درج تھا۔
صاحبزادہ محمد زین عثمانی بتاتے ہیں دریاخان شہر میں گلشن انوار السراج دربار پیر پٹھان کی مسجد بھی قدیم مساجد میں سے ایک ہے جس کی تعمیر 1904 میں ہوئی۔
دانش اس حوالے سے بتاتے ہیں موتی مسجد اور فردوسی مسجد بھی قدیم ہیں جو 1947 میں بنی۔
سید قندیل حیدر بغیر کسی حوالے کے بیان کرتے ہیں مین بازار دریاخان میں جامع شعیب مسجد قدیم ترین ہے جس کا اندازہ بتاتے ہیں 300 سال پرانی۔

30/09/2026

پاکستان کے ایک شہر میں کھدائی کے دوران یہ ایک چھوٹی مٹکی نکل آئی جب اسے کھول کر دیکھا گیا تو اس میں 32 سکے تھے اس کو فروخت کے لیے لگایا گیا تو ہماری نظر پڑ گئی ہم نے اس مٹکی کو اسی حالت میں خرید لیا۔ مٹکی مٹی سے بھری تھی سکوں پر مٹی تھی جن کا پتا نہیں چل رہا تھا کس دور کے ہیں۔ سکے صاف کرنے کے بعد پتا چلا مٹکی میں ہندو شاہی کے 32 سکے ہیں جو اس وقت ہمیں بہت ہی کم قیمت میں مٹکی کے ساتھ مل گئے تھے۔ آج یہ ہماری کولیکشن کا حصہ ہیں۔

Address

Bhakkar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Bhakkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share