عشق تیری ذات سے

عشق تیری ذات سے

Share

Only for sufi ism post .

27/05/2026
26/05/2026

نیک و بد اور پارسا
حاضر تیرے دربار ہیں

جانتا ہے سبھی کو توں
بخشش کے سبھی طلبگار ہیں

حالتِ احرام میں کئی
عدیل جیسے بھی گناہگار ہیں

حاضر ہیں سبھی تیرے دربار
بخشش کے سبھی طلبگار ہیں

ہاتھ باندھے کھڑا ہے عدیل
بخش دیجئے ہم گناہگار ہیں

تیرے سوا اے خدا
کون ہمارا غمگسار ہے

توں ہی رحیم و کریم ہے
توں ہی غفار و قھار ہے

کر دیجئے ہم پہ رحم و کرم
توں ہی پروردگار ہے

جائیں کہاں اور کس سے کہیں
توں ہی بخشنہار ہے

✍️ محمد عدیل احمد
( چنیوٹ )
26 - 05 - 2026

23/05/2026

تم نے سنا ہوگا کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک مطرب چنگ بجانے والا بڑا باکمال گزرا ہے۔ بلبل اس کی آواز سے مست ہوجاتے تھے۔ اس کی دل کش آواز کی ایک بینڈ میں سے سو آوازیں نکلتی تھیں۔ جہاں وہ گاتا تھا وہاں لوگ محو رہ جاتے تھے اور اس کی دردناک آواز سے قیامت برپا ہوجاتی تھی۔ اسی طرح زمانہ گزرتا گیا اور وہ بڈھا ہوگیا حتیٰ کہ تان میں جان نہ رہی اور اس کے نغمے میں مچھروں کی بھنبھناہٹ پیدا ہوگئی۔ گھڑے کے پیندے کی طرح اس کی پیٹھ خم اور گھوڑوں کی دمچی کی طرح بھویں آنکھوں پر لٹک پڑیں۔ وہ رسیلی آواز بالکل بے سُری، بھدّی اور دل خراش ہوگئی۔
وہ درد انگیز الاپ جس پر زہرہ کو بھی رشک آتا تھا بڈھے گدھے کی آواز کی مانند ہوگئی کہ اب اس کا کوئی قدردان نہ رہا اور رفتہ رفتہ وہ بالکل مفلس اور روٹی کپڑے تک کو محتاج ہوگیا۔ اسی پریشانی میں اس نے ایک روز درگاہِ الٰہی میں مناجات کی کہ اے بارِ الہٰ تونے اپنے ذلیل بندے پر بڑے کرم کیے۔ عمرِ دراز بھی عطا کی اور اپنے عادات واطوار درست کرنے کی مہلت بھی دی۔ میں نے ستّر سال تک گناہ کیا پھر بھی تونے کسی دن مجھ سے اپنی بخشش واپس نہ لی۔ لیکن آج میرے پاس کمائی میں سے کچھ نہیں ہے۔

آج میں تیرا مہمان ہوں چونکہ میں تیرا ہوں اس لئے چنگ بھی اب تیرے ہی حضور میں بجاتا ہوں۔ چنگ لیا اور خدا کی تلاش میں روتا ہوا مدینے کے قبرستان میں پہنچا اور کہا آج میں صلے کا طالب صرف خدا سے ہوں جو اپنے احسان واکرام سے کھوٹے سکے بھی قبول کرلیتا ہے۔ چنگ جی کھول کر بجایا اور روتے روتے سر جھکا کر ایک قبرپر پڑ گیا۔ اسی حالت میں آنکھ لگی گئی۔ دنیا کے رنج اور بدن کی آفتوں سے آزاد، ایک نامحدود جہان اور صحرائے جان میں پھرنے لگا۔ اسی وقت خداوندِ تعالیٰ نے حضرت عمر پر یکایک ایسی نیند غالب کی کہ وہ بھی حیرت میں ہوگئے کہ میرا معمول تو ایسا نہیں ہے، یہ غیبی واقعہ ہے اور ضرور اس میں کوئی بھید ہے۔ تکیے پر سر رکھ کر سوگئے، خواب میں حق کی طرف سے ندا آئی جس کو ان کی جان نے سنا کہ اے عمر ہمارے ایک بندے کی حاجت روا ئی کرکے اس کا صلہ ادا کر۔ ہمارا ایک خاص اور معزز بندہ ہے۔ ذرا تو قبرستان تک تکلیف کر اور بیت المال سے پورے سات سو دینار لے اور اس کے پاس جاکر کہہ کہ اے ہمارے دست گرفتہ اس وقت تو یہ لے لے اور اس کو خرچ کر جب یہ ختم ہوجائے تو پھر یہیں آجا۔
آواز کی ہیبت سے عمر کی آنکھ کھل گئی۔ فوراً تعمیل پر کمر باندھی اور قبرستان کا رخ کیا۔ بغل میں ہمیانی دبائے ڈھونڈنے نکلے۔ قبرستان میں کئی چکّر لگائے وہاں اس بوڑھے کے سوا اور کوئی دکھائی نہ دیا۔ ہر دفعہ اسی بوڑھے پر خیال جاتا تھا۔ مگر پھر اپنے جی میں کہتے تھے کہ یہ نہ ہوگا یہاں تک کہ تھک گئے اور سوا اسی بوڑھے کے اورکوئی نظر نہ آیا۔ جی میں سو چا کہ خدا نے یہ تو فرمایا ہے کہ ہمارا خاص بندہ ،بہت پاک، لائق اور خوش نصیب ہے بھلا چنگی بوڑھا خاصۂ خدا کیوں کر ہوسکتا ہے۔ دوبارہ پھر قبرستان کے گرد چکر لگایا جیسے شکاری شیر جنگل کے اطراف گھوما کرتا ہے۔

جب یقین ہوگیا کہ ہو نہ ہو یہ بوڑھا ہی ہے تو دل میں کہا بے شک تاریکی میں بھی بہت سے روشن دل ہوتے ہیں، قریب آئے اور باادب وہاں بیٹھ گئے۔ جونہی ایک چھینک حضرت عمر کو آئی وہ بوڑھا اٹھ بیٹھا۔ حضرت کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔چاہا کہ چلا جائے مگر خوف سے پاؤں کانپنے لگا۔ اپنے جی میں کہنے لگا، اے خدا تجھ سے فریاد کرتاہوں کہ محتسب بوڑھے چنگی کے سر پر آن پہنچا۔ حضرت عمر نے اس سے کہا کہ مت ڈر اور مجھ سے نہ بھاگ کہ میں خدا کی طرف سے تیرے لئے خوشخبریاں لایا ہوں۔ خداوندِ عالم نے تیری وہ تعریف فرمائی کہ حضرت عمر کو تیرا گرویدہ بنادیا۔ خدا نے تجھے سلام کہا ہے اور پوچھا ہے کہ اب تیرا کیا حال ہے۔ لے یہ چند سکے تیرا صلہ ہیں۔
انہیں خرچ کر اور پھر یہیں آجانا۔ جب یہ سنا تو بوڑھے کی عجب حالت ہوئی، اپنے ہاتھ کاٹنے اور پیچ و تاب کھانے لگا۔ بے اختیار چلا کر کہا کہ اے بے مثل و بے نظیر خدا! یہ بے وسیلہ بوڑھا مارے شرم کے پانی پانی ہوگیا۔ جب روتے روتے بے حال ہوگیا تو چنگ کو زمین پر اس زور سے دے مارا کہ ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ کہا، اے( چنگ) توہی خدا کے اور میرے درمیان حجاب رہا ہے اور تونےہی سیدھے راستے سےمجھے پھیرا ہے۔ اے خطا بخش و خطاپوش خدا! میرے گناہ معاف اور میری گزشتہ زندگی پر رحم کر۔ اسی طرح روتا چلاتا اپنے گناہ دہرا رہاتھا۔ یہ حال دیکھ کر حضرت عمر نے فرمایا کہ تیری مدہوشی بھی تیری ہوشیاری کی علامت ہے۔ پھر آپ نے اس کو توجہ دی کہ گزشتہ کے رنج اور توبہ کے مقام سے نکل کر معرفت میں محو ہو گیا۔ گویا ایک جان گئی اور دوسری زندگی کا آغاز ہوا۔

مأخذ :
کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 30)

22/05/2026

حضرت سرمد شہید رحمۃ اللہ علیہ

*حضرت سرمد شہید رحمۃ اللہ علیہ* 🕊️🔥
_عشق و فقر کے شہید، بے خودی کے بادشاہ_

*1. زندگی کا تعارف:* 👇
1600 کے قریب ایران کے شہر کاشان میں پیدا ہوئے 🇮🇷
اصل نام سرمد کاشانی تھا۔ جوانی میں تاجر تھے، لیکن دل کو سکون نہ ملا 💔
سفر کرتے ہندوستان پہنچے اور دہلی میں مستقل قیام کیا 🏙️
حضرت ابوالفائض المعروف سعید گیلانی کے مرید بنے اور تصوف کا راستہ اختیار کیا 📿
دنیا، مال، لباس سب کچھ چھوڑ کر "مست قلندر" بن گئے 🌪️

*2. عشق و بے خودی کا عالم:* 💖
ظاہری شریعت کے ساتھ باطنی حقیقت کو جوڑا
اکثر ننگے بدن رہتے، درویشانہ لباس پہنتے، اور "لا الہ الا اللہ" کا ورد کرتے رہتے 📿
ان کا کلام آج بھی دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے:
> _"سرمد کو نہ دنیا سے مطلب، نہ عقبٰی سے غرض"_
> _"بس یار کی چاہت ہے، باقی سب بے کار ہے"_ ✨

*3. کرامات و واقعات:* 🌟
لوگ کہتے ہیں کہ سرمد کی صحبت میں جانور بھی مطمئن ہو جاتے تھے 🐪
چہرے پر نور اور آنکھوں میں بے نیازی ہوتی تھی ✨
ایک بار اورنگزیب نے پوچھا: "سرمد، تم نماز کیوں نہیں پڑھتے؟"
سرمد نے جواب دیا: _"بادشاہ! میں تو اس کی نماز پڑھتا ہوں جو ہر وقت میرے سامنے ہے"_ 🕋

*4. شہادت:* 🩸
اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ان پر فتویٰ لگا
1661ء میں دہلی کی جامع مسجد کے سامنے ان کا سر قلم کر دیا گیا ⚔️
کہا جاتا ہے کہ جب جلاد نے سر کاٹا تو لبوں پر "لا الہ الا اللہ" جاری تھا،
اور خون سے زمین پر یہی کلمہ لکھ گیا 🤍

*5. پیغام:* 💌
سرمد نے سکھایا کہ سچا عشق نہ جان کی پرواہ کرتا ہے، نہ دنیا کی
جس دل میں اللہ بس جائے، وہی اصل سلطنت ہے 👑

ان کا مزار دہلی کی جامع مسجد کے پاس ہے، جہاں آج بھی عاشقانِ حق حاضری دیتے ہیں 🕌

---

*سبق:*
دنیا کی محبت دل سے نکال دو، اللہ کی محبت خود آ جائے گی 🤍🌙

اللہ ہمیں بھی سرمد جیسا بے خوف عشق اور یقین نصیب کرے۔ آمین 🤲

21/05/2026

سَوچ کَریں اِتبار وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

سَمجھیں نَہ ہَر نُوں یَار وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

رَکھیں اَپنا خَیال وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

کُھل کَے کَریں نَہ اِظہار وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

ہَمدرداں تُوں بَچ رَئیں یَار وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

سَپ نَئیں بَن دَے یَار وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

گُجھی دَیندے نِی مَار وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

سَوچ کَریں اِتبار وَے اَڑیا
دُنیا جُھوٹی اَے

✍️ محمد عدیل احمد
( چنیوٹ )
03 - 05 - 2026

19/05/2026

ایک شخص درِ محبوب پر آیا اور کنڈی کھٹکھٹائی۔ محبوب نے پوچھا کون صاحب ہیں! جواب دیا کہ ’’میں ہوں‘‘ محبوب نے کہا، چل دور ہو ابھی ملاقات نہیں ہوسکتی۔ تجھ جیسی کچّی چیز کی اس دسترخوان پر کوئی جگہ نہیں۔ ہجر و فراق کی آگ کے بغیر کچّی جنس کیسے پک سکتی ہے جو اس کے ظاہر و باطن کو ایک کردے چوں کہ ابھی تک تیری ’’توئی‘‘ تجھ میں سے نہیں گئی ہے اس لئے تجھے ابھی غم کی آگ میں تپنا چاہئے۔
یہ جواب سن کر وہ بے چارہ درِ محبوب سے الٹا پھر اور سال بھر تک جدائی کی آگ کے چرکے کھاتا رہا۔ جل جلا کر خوب پکّا ہوگیا تو دوبارہ واپس آیا اور محبوب کی بارگاہ کے اطراف صدقے ہونے لگا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے اور بڑے ادب سے پھر کنڈی کھٹکھٹائی کہ کہیں کوئی بے ادبی کا لفظ منہ سے نہ نکل جائے۔ محبوب نے اندر سے آواز دی کہ دروزاے پر کون ہے۔ اس نے جواب میں عرض کیا۔ اے دلربا توہی توہے۔ محبوب نے حکم دیا کہ اب جب کہ تو میں ہی ہے تو اندر چلا آ کیوں کہ ایک ذات میں دوئی کی گنجایش نہیں۔ جب ایک ہی ایک ہو تو پھر دوئی نہ صرف مٹ جاتی ہے بلکہ میں پن اور توپن کے دونوں اشارے جاتے رہتے ہیں۔

مأخذ :
کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 42)

19/05/2026

اَپنے اَصل دِی سَیان کَر جَھلیا
تَیرے اَندر پَلیتی سَمائی ھُو

بَاہروں دَھوتیاں اَے نَئیوں مُکنی
گَل اَے مُرشد سَمجھائی ھُو

اَڈیاں گِٹَے مَل مَل دَھو وِی
نَیک نَہ ہَوئے کَمائی ھُو

چَھڈ دَے تُوں تُوں مَیں مَیں کَرنی
کِسَے کَم نَئیوں آنی وَڈیائی ھُو

اَندروں جَے کَر پَاک ہَونا اِی
تًے کَر دُوّجَیَاں دِی بَھلائی ھُو

اَپنے اَصل دِی سَیان کَر جَھلیا
تَیرے اَندر پَلیتی سَمائی ھُو

✍️ محمد عدیل احمد
( چنیوٹ )

17/05/2026

مَیں بَدکار سَیاہ کَار کَمینہ
تُوں تَے رَب کَریم اَیں سَائیں

مَیں جَئے لَکھ گُناہگار ہِن سَائیاں
تَیں جَیا نَہ کَوئی رَحیم وَے سَائیں

سَب دَا مَالک خَالق تُوں اَیں
تَوں ہِی اَیں سَب دَا سَائیں

وَیکھیں نَہ سَاڈے عَیباں وَلے
تُوں اَپنا خَاص کَرم فَرمائیں

تُوں ہِی قَھار تُوں ہِی غَفار اَیں
تُوں ہِی رَب عَظیم اَیں سَائیں

تَیرے سِوا سَوھنیا مَالکا
کِسَے نَئیں سُنّنِیَاں سَاڈی سَدائیں

تَیرے دَوارے ہَتھ بَنھ آیَاں
قَبول کَریں عَدیل دِی دُعائیں

حَشر دَیہاڑے بَخش دَئیں سَانوں
تُوں ہِی رَب رَحیم اَیں سَائیں

✍️ محمد عدیل احمد
( چنیوٹ )

14/05/2026

گَل کَریں نَہ جَھلیا غَیرت وَالی
گَل غَیرت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

سَچ جَان وِی لَوکی چُپ رَاہندے
گَل حَیرت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

لَج رَہی نَہ کِسَے دِی کِسَے نُوں وِی
گَل غَیرت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

اَپنے جَمے وِی آکھے ہُن لَگدے نَئیں
گَل حَیرت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

جَھاکے کُھل گَئے دِھّیَاں پُتراں دَے
گَل خَیریت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

ڈَر مُک گَئے وَڈکی پَگاں آلے
گَل غَیرت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

سَر نَنگا کِسَے دَا کَوئی کَجّدَا نَئیں
گَل حَیرت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

گَل کَریں نَہ جَھلیا غَیرت وَالی
گَل غَیرت وَالی نَہ رَہی اَیتھے

✍️ محمد عدیل احمد
( چنیوٹ )
14 - 05 - 2026

11/05/2026

حضرت یوسؑف دے ڈھولے
پڑھ کے بسم اللہ،
اللہ نوں کرئیے یاد ہمیشہ
تیری قُدرت دے ڈِٹھّا
واہ پساراں نوں
فرزند یعقوبؑ نبی دے گھراں نوں وگے جاندے ہین،
بعض شُتراں توں
ہور مال نہ کوئی،
خالی اُٹھاں دیاں
ہتھ مہاراں نوں
آہدے میاں باوا، بنیا مین
تے ٹوپا ثابت ہویا،
تلاش آئی اے
ساڈیاں بھاراں نوں
حضرت یعقوبؑ نبی آکھے
ایڈے شیر بہادر تُساں،
ہکے ہکے سڈے ہا
پٹ پہاڑاں نوں
تُساں اتنے ہوندیاں بنیامین
بنھا کے آ نکلے او
صاحب زادے آہدے
ساڈے جنگ دیاں خبراں پچھے لا،
مصر دے کول پیاں
وسدیاں شہراں نوں
اوہ بادشاہ زور آور نہیں جاندا، فوجاں لکھ ہزاراں نوں
حضرت یعقؑوب نبی بنیامین دے دُکھاں نوں رووے
آکھے میرا یوسؑف اگے کدوں
آیائے کھیڈ شکاراں نوں
مومن بھر کے کلمہ نبیؐ دا
بھج کے وڑسن جنت نوں
اگے جا ملسن جنت دے
باغ بہاراں نوں

Want your business to be the top-listed Government Service in Chiniot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Chiniot