اردو ایک، نام محبت

اردو ایک، نام محبت

Share

فیصل لسکانی

28/12/2019

سروس کمیشن کے سوالات
پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے امتحان میں پوچھے گئے سوالات مع جوابات
1 "مرثیہ " کسے کہتے ہیں؟
جواب ایسی صنف نظم جس میں شاعر کسی مرنے والے کی بہت زیادہ تعریف کرتا ہے
2 مکتوب نگاری کی سب سے اہم ترین نام کس کا ہے؟
جواب مرزا غالب
3 بیگم اختر ریاض الدین، مولانا شبلی نعمانی اور ابن انشا : ان تینوں میں کون سی چیز مشترک ہے؟
جواب سفرنامہ
4 یوسف خان کمبل پوش نے کون سا سفرنامہ لکھا؟
جواب عجائبات فرنگ
5 "گل رعنا، شعرالہند اور شعر العجم" ان کا تعلق اصناف نثر کی کس قسم سے ہے؟
جواب تنقید نگاری
6 " جہان دانش" کے مصنف ہیں؟
جواب احسان دانش
7 "کالا پانی" کس کی خودنوشت ہے ؟
جواب مولانا محمد جعفر تھانیسروی
8 " یادوں کی برات، شہاب نامہ، اور میرا افسانہ" ان کا تعلق اردو ادب کی کس صنف نثر سے ہے ؟
جواب خودنوشت
9 مولانا حسرت موہانی نے کون سی خودنوشت تحریر کی؟
جواب قید فرنگ
10 رضوی ادیب اور ابواللیث صدیقی میں کیا جز مشترک ہے؟
جواب انشائیہ نگاری
11 مولانا حالی اور شبلی نعمانی میں قدر مشترک ہے؟
جواب سوانح عمری
12 استعارہ حقیقی ہوتا ہے یا مجازی؟
جواب مجازی
13 نظم معریٰ کیا ہے؟
جواب اس نظم میں وزن اور بحر کی پابندی ہوتی ہے مگر قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں کی جاتی
14 ایسی نظم جس کے مصرعے کو چھوٹا بڑا کیا جا سکے اسے کیا کہتے ہیں؟
جواب آزاد نظم
15 نواب وقارالملک، نواب محسن الملک اور مولوی ذکااللہ: میں کیا قدر مشترک ہے؟
جواب مضمون نگاری

پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے امتحان میں پوچھے گئے سوالات مع جوابات
1 وہ صنعت جس میں دو ایک جیسے الفاظ استعمال ہوں لیکن معنی مختلف ہوں کون سی صنعت ہو گی؟
جواب صنعت تجنیس
2 "اندرسبھا" ڈراما کے خالق کون ہیں؟
جواب امانت لکھنوی
3 "المامون" کس کی مشہور تصنیف ہے؟
جواب شبلی نعمانی
4 "توبتہ النصوح" کس کا ناول ہے؟
جواب ڈپٹی نذیر احمد
5 " کسالت" کے معنی کیا ہیں؟
جواب کاہلی
6 "کرگس" کو اردو زبان میں کیا کہتے ہیں؟
جواب گدھ
7 "شیخ" کس بات کی علامت ہے؟
جواب ظاہر و باطن میں تضاد کی
8 "کاستیا" کس کو کہتے ہیں؟
جواب درانتی کو
9 " قید محض" کس قید کو کہتے ہیں؟
جواب ایسی قید جو با مشقت ہو
10 " قیر گوں" کن لوگوں کو کہا جاتا ہے؟
جواب سیاہ فام لوگوں کو
11 "سر پر کفن باندھنا" سے کیا مراد ہے؟
جواب ہر وقت جان دینے کو تیار رہنا
12 درج ذیل ترکیب کا معنی کیا ہے؟
"سر نام کرنا"
جواب مشہور کرنا
13 ہری سنگھ نے اردو نظم کے حوالے سے کون سی کتاب لکھی؟
جواب بزم عشرت
14 "تیسری دنیا کے چاند" کن کا تحریر کردہ افسانہ ہے؟
جواب یوسف چودھری
15 وقار عظیم کی کسی مشہور کتاب کا نام بتائیں
جواب داستان سے افسانے تک

پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے امتحان میں پوچھے گئے سوالات مع جوابات
1 " لاڈلے نواب" کس کا تخلیق کردہ کردار ہے؟
جواب ڈپٹی نذیر احمد
2 " اندرسبھا" کس سے منسوب ہے؟
جواب امانت لکھنوی
3 " مدہوش، یہودی لڑکی، کالی بلا" در ذیل ڈراموں کے خالق کون ہیں؟
جواب آغا حشر کاشمیری
4 ڈراما "انار کلی" کے خالق کون ہیں؟
جواب امتیاز علی تاج
5 سید امتیاز علی تاج کے ڈراموں کی خصوصیت کیا ہے؟
جواب یہ ریڈیائی ڈرامے ہیں اور اصلاح پر مبنی ہیں
6 "ایک وصیت کی تکمیل " کس کا مشہور خاکہ ہے؟
جواب مولوی وحید الدین
7 ابتدائی خاکہ نگاروں میں کس کا نام سر فہرست ہے؟
جواب مرزا فرحت اللہ بیگ
8 " جناب، محترم، مکرم" کن کے مشہور خاکے ہیں؟
جواب محمد طفیل
9 درج ذیل محاورہ کے معنی بتائیں
" آدمیت اٹھ جانا"
جواب سیرت و کردار ختم ہو جانا
10 اردو میں مضمون نگاری کا آغاز کس نے کیا؟
جواب سر سید احمد خان نے
11 مضمون کی نوعیت کیسی ہوتی ہے؟
جواب عالمانہ ہوتا ہے
12 مشہور رسالہ "تہذیب الاخلاق" کس شخصیت سے منسوب ہے؟
جواب سر سید احمد خان

پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے امتحان میں پوچھے گئے سوالات مع جوابات
1 انشائیے میں کن دو ادیبوں کے نام زیادہ نمایاں ہیں؟
جواب مشکور حسین یاد اور ڈاکٹر وزیر آغا
2 مقالہ کیسا ہوتا ہے؟
جواب مقالہ فاضلانہ ہوتا ہے
3 انشائیے کی ادبی نوعیت کیسی ہوتی ہے؟
جواب انشائیے میں مصنف کی ذات جھلکتی نظر آتی ہے
4 درج ذیل شعر میں استعارہ اور کنایہ میں سے کیا استعمال ہوا ہے؟
ہیں پیٹ کے ہلکے وہ صدف ساں
موتی کی طرح نکل پڑی بات
جواب کنایہ
5 اردو زبان وادب کی رو سے حروف تشبیہ کیا ہوتے ہیں؟
جواب وہ حروف جو تشبیہ دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں مثلاً مانند، طرح، مثل، نظیر
6 درج ذیل فقرات کو درست کریں
1 اس کے چہرے پر داڑھی ہے -
اس کے چہرہ پر داڑھی ہے -
2 یہ خبر سن کر عوام میں غیض وغضب کی لہر دوڑ گئی-
یہ خبر سن کر عوام میں غیظ وغضب کی لہر دوڑ گئی -
3 وہ بے تحاشہ بھاگا-
وہ بے تحاشا بھاگا-
7 درج ذیل شعر میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟
"یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے"
ہر شخص مجھکو آنکھ دکھاتا ہے کس لئے
جواب صنعت تضمین
8 "خوشبو" کس شاعرہ کا مجموعہ کلام ہے؟
جواب پروین شاکر
9 درج ذیل شعر میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟
جواب پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی
ساحل سے سر ٹپکتی تھیں موجیں فرات کی
جواب صنعت حسن تعلیل
10 " باپ کا گناہ" کس کا اردو ادب میں ایک مشہور ڈراما ہے؟
جواب حکیم احمد شجاع
11 "جماعت مجاہدین" کس کا خاکہ ہے؟
جواب مولانا غلام رسول مہر
12 پطرس بخاری، فرحت اللہ بیگ اور رشید احمد صدیقی کس ایک میدان کے شاہ سوار ہیں؟
جواب طنزو مزاح
پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے امتحان میں پوچھے گئے سوالات مع جوابات
1 "زوال بغداد، ایام عرب اور حسن بن صبا" اردو ادب کی کن اصناف نثر سے تعلق ظاہر ہوتا ہے؟
جواب ناول
2 رموز اوقاف کی رو سے درج ذیل کو درست کریں.
قاہد اعظم کا فرمان : کام، کام اور کام ہمارے لئے آج بھی مشعل راہ ہے-
جواب
قاہد اعظم کا فرمان : "کام، کام اور کام" ہمارے لیے آج بھی مشعل راہ ہے -
3 " فسانہ آزاد" کس کا ناول ہے؟
جواب رتن ناتھ سرشار
4 "امراؤ جان ادا" ناول کس نے تحریر کیا؟
جواب مرزا ہادی علی رسوا
5 منشی پریم چند کے ناولوں کا موضوع کیا ہے؟
جواب راجپوتوں کی بہادری، دیہات کی فضا اور دیہات کے لوگوں کی ناگفتہ بہ حالت
6 اردو ناولوں کا "گرنتھ صاحب "کس ناول کو کہتے ہیں؟
جواب علی پور کا ایلی
7 " آگ کا دریا " کس کا تحریر کردہ ناول ہے؟
جواب قرۃالعین حیدر
8 سید سجاد حیدر کے افسانوی کا مجموعہ کس نام سے مشہور ہے؟
جواب خیالستان
9 "پریم چند اور راجندر سنگھ بیدی" کا تعلق کس اصناف نثر سے عیاں ہوتا ہے؟
جواب افسانہ
10 "مجھے میرے دوستوں سے بچاو" کس کا تحریر کردہ افسانہ ہے؟
جواب سید سجاد حیدر یلدرم
11 قرۃالعین حیدر اور سید سجاد حیدر یلدرم کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
جواب باپ بیٹی کا
12 احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا تعلق کس صنف نثر سے ہے ؟
جواب ناول
13 آغا حشر کاشمیری، سید امتیاز علی تاج اور امانت لکھنوی کا تعلق کس صنف نثر سے ہے ؟
جواب ڈرامہ
14 "انڈین شیکسپیئر" کن کو کہا جاتا ہے؟
جواب آغا حشر کاشمیری
15 اردو زبان میں رموز اوقاف کا آغا کہاں سے ہوا؟
جواب بغداد، دمشق اور اندلس کے علماء سے

28/12/2019

.......................داستان لکھنؤ۔......................
*****--------------*****
.
.

لکھنویت سے مراد شعرو ادب میں وہ رنگ ہے جو لکھنو کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا۔ اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنو مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز شہرت حاصل کر چکے تھے۔ اور وہ دکن اور دہلی تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنو میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا۔

پس منظر
سال 1707ء اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لئے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔

سال 1722ء میں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لئے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دولت کی فروانی ہوئی ۔
صفدر جنگ اور شجاع الدولہ نے اودھ کی آمدنی میں مزید اضافہ کیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوششیں کیں ۔ آصف الدولہ نے مزید اس کام کو آگے بڑھایا۔ لیکن دوسری طرف دہلی میں حالات مزید خراب ہوتے گئے۔ امن و سکون ختم ہو گیا۔ تو وہاں کے ادباءو شعراءنے دہلی چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اور بہت سے شاعر لکھنو میں جا کر آبا د ہوئے۔ جن میں میرتقی میر بھی شامل تھے۔
دولت کی فروانی ، امن و امان اور سلطنت کے استحکام کی وجہ سے اودھ کے حکمران عیش و نشاط اور رنگ رلیوں کے دلدادہ ہوگئے ۔ شجاع الدولہ کو عورتوں سے خصوصی رغبت تھی جس کی بناء پر اس نے محل میں بے شمار عورتوں کو داخل کیا۔ حکمرانوں کی پیروی امراء نے بھی کی اور وہ بھی اسی رنگ میں رنگتے گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بازاری عورتیں ہر گلی کوچے میں پھیل گئیں۔ غازی الدین حیدر اور نصیر اور نصیر الدین حیدر نے آبائو اجداد کی پیروی جاری رکھی اور واجد علی شاہ نے تو اس میدان میں سب کو مات دے دی۔
سلاطین کی عیش پسندی اور پست مذاقی نے طوائف کو معاشرے کا اہم جز بنا دیا۔ طوائفوں کے کوٹھے تہذیب و معاشرت کے نمونے قرار پائے جہاں بچوں کو شائستگی اور آداب محفل سکھانے کے لئے بھیجا جانے لگا۔

شعرو ادب پر اثرات
عیش و نشاط ، امن و امان اور شان و شوکت کے اس ماحول میں فنون نے بہت ترقی کی۔ راگ رنگ اور رقص و سرور کے علاوہ شعر و شاعری کو بھی بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ دہلی کی بدامنی اور انتشار پر اہل علم و فن اودھ اورخاص کر لکھنو میں اکھٹا ہونا شروع ہوگئے۔ یوں شاعری کا مرکز دہلی کے بجائے لکھنو میں قائم ہوا۔ دربار کی سرپرستی نے شاعری کا ایک عام ماحول پیدا کر دیا۔ جس کی وجہ سے شعر و شاعری کا چرچا اتنا پھیلا کہ جابجا مشاعرے ہونے لگے ۔ امرا ء، روساء اور عوام سب مشاعروں کے دیوانے تھے۔ ابتداء میں شعرائے دہلی کے اثر کی وجہ سے زبان کا اثر نمایاں رہا لیکن، آہستہ آہستہ اس میں کمی آنے لگی ۔ مصحفی اور انشاءکے عہد تک تو دہلی کی داخلیت اور جذبات نگاری اور لکھنو کی خارجیت اور رعایت لفظی ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ لکھنو کی اپنی خاص زبان اور لب و لہجہ بھی نمایاں ہوتا گیا۔ اور یوں ایک نئے دبستان کی بنیاد پڑی جس نے اردو ادب کی تاریخ میں دبستان لکھنو کے نام سے ایک مستقل باب کی حیثیت اختیار کر لی۔

نمائندہ شعراء

شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی

(1751ء۔۔۔۔1825ء)

مصحفی دہلی سے ہجرت کرکے لکھنو آئے۔ ان کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شعری مزاج دہلی میں صورت پذیر ہوا لیکن لکھنوکے ماحول ، دربارداری کے تقاضوں اور سب سے بڑھ کر انشائ سے مقابلوں نے انہیں لکھنوی طرز اپنانے پرمجبور کیا۔ ان کا منتخب کلام کسی بھی بڑے شاعر سے کم نہیں۔ اگر جذبات کی ترجمانی میں میر تک پہنچ جاتے ہیں تو جرات اور انشائ کے مخصوص میدان میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔ یوں دہلویت اور لکھنویت کے امتزاج نے شاعری میں شیرینی ، نمکینی پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جنسیت کا صحت مندانہ شعور ہے تو دوسری طرف تصوف اور اخلاقی مضامین بھی مل جاتے ہیں۔

جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے
ہم نے بھی اپنے جی میں کیا کیا خیال باندھے

وہ جو ملتا نہیں ہم اس کی گلی میں دل کو
در و دیوار سے بہلا کے چلے آتے ہیں

تیرے کوچے میں اس بہانے ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

سید انشاءاللہ خان انشاء

(1756ء۔۔۔۔1817ء)

انشاء کے والدین دہلی سے مرشد آباد گئے جہاں انشاءکی ولاد ت ہوئی۔ انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں کرتی بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل ، ریختی ، قصیدہ ، اردو میں بے نقط دیوان ”رانی کیتکی کی کہانی“ جس میں عربی ، فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔یہی نہیں انشاءپہلے ہندوستانی ہیں جنہوں نے ”دریائے لطافت“ کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پر روشنی ڈالی۔
انشاءنے غزل میں الفاظ کے متنوع استعمال سے تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ تاہم بعض اوقات محض قافیہ پیمائی اور ابتذال کا احساس ہوتا ہے۔ انشاءکی غزل کا عاشق لکھنوی تمدن کا نمائندہ وہ بانکاہے جس نے بعد ازاں روایتی حیثیت اختیار کر لی۔انہوں نے غزل میں مزاح کی ایک نئی بنیاد ڈالی۔ زبان میں دہلی کی گھلاوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

گر نازنیں کہے کا برا مانتے ہیں آپ
میری طرف دیکھئے میں نازنیں سہی

لے کے اوڑھوں بچھائوں یا لپیٹوں کیا کروں روکھی پھیکی سوکھی ساکھی مہربانی آپ کی

شیخ قلندر بخش جرات

(1749ء۔۔۔۔1810ء)

جرات دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری کا مخصوص رنگ معاملہ بندی ہے۔ جو دبستان دہلی کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ روایت ہے کہ شریف زادیوں سے آزادنہ میل ملاپ اور زنان خانوں میں بے جھجک جانے کے لیے خود کواندھا مشہور کردیا۔ بہر حال نابینا ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔
ان کے ہاں محبوب کی جوتصویر ابھرتی ہے وہ جیتی جاگتی اور ایسی چلبلی عورت کی تصویر ہے جوجنسیت کے بوجھ سے جلد جھک جاتی ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جرات کی غزل کی عورت خود لکھنو ہی کی عورت ہے۔ زبان میں سادگی ہے اس لیے جنس کا بیان واضح اور دو ٹوک قسم کا ہے۔ شاید اسی لیے حسن عسکری انہیں مزے دار شاعر سمجھتے ہیں۔

کل وقت راز اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات
جرات کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم

کیا جانیے کم بخت نے کیا مجھ پہ کیا سحر
جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

حیدر علی آتش

(1778ء۔۔۔۔1846ء)

آتش فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی ۔ طبیعت میں قناعت اوراستغناہ کا مادہ تھا ۔ انہوں نے کسی دربارسے تعلق پیدا نہ کیااور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔
آتش کی شاعری لکھنو ¿ میں پروان چڑھی مگر ایک دہلوی استاد مصحفی کے زیر سایہ ، اس لیے دہلی اور لکھنو نے دبستانوں کی خصوصیت کا امتزاج پیدا ہو گیا۔ آتش ناسخ کے مدمقابل تھے۔ناقدین نے ناسخ پر ان کو فوقیت دیتے ہوئے ۔ لکھنو دبستان کا نمائند ہ شاعر قرار دیا ہے۔ان کے اکثر اشعار میں روانی موسیقیت کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ محاوارت ایسے برمحل استعمال ہوتے ہیں کہ شاعری مرصع سازی معلوم ہوتی ہے۔ آتش کا بھی نظریہ تھا۔

بندشِ الفاظ جڑنے میں نگوں سے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا

آتش کے کلام کی اہم خصوصیات میں نشاطیہ انداز ،صفائی اور محاورات کا بہترین استعمال ہے۔ کہیں کہیں ان کے کلام میں تصوف کی چاشنی بھی پائی جاتی ہے۔انہوں نے روایتی شاعری سے ہٹ کر کیفیت و مردانگی و خوداری کے جذبات کو قلم بند کیا۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

صوفیوں کو وجد میں لاتا ہے نغمہ ساز کا
شبہ ہو جاتا ہے پردے سے تیری آواز کا

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

شیخ امام بخش ناسخ

(1772ء۔۔۔۔1838ء)

ناسخ کی شاعری میں نہ تو جذبات و احساسات ہیں اور نہ ہی ان کی پیدا کر دہ سادگی ملتی ہے۔ انہوںنے مشکل زمینوں ، انمل قوافی اور طویل ردیفوں کے بل پر شاعری ہی نہ کی بلکہ استادی بھی تسلیم کرائی۔آج ان کی اہمیت زبان کی صفائی پیدا کرنے اور متروکات کی باقاعدہ مہم چلانے کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے زبان و بیان کے قوانین کی خود پیروی ہی نہ کی بلکہ اپنے شاگردوں سے ان کی پابندی کرائی۔
یوں اردو غزل کی زبان کو جھاڑ جھنکار سے پاک صاف کرنے والوں میں انہیں مستقل اہمیت حاصل ہے۔لیکن صرف الفاظ کی بازیگری شاعری نہیں ہوتی۔ ان کے ہاںجذبے کا فقدان ہے ۔مولوی عبدالحق ان کے کلام کے بارے میں لکھتے ہیں:
” ناسخ بلاشبہ ایک اچھے اور پاکیزہ طرز کاناسخ اور ایک بھونڈے طرز کے موجد ہیں۔ ان کے کلام میں نہ نمکینی ہے نہ شیرینی۔“

ہو گئے دفن ہزاروں ہی گل اندام اس میں
اس لیے خاک سے ہوتے ہیں گلستان پیدا

رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے کوئی
دل ہی دل میں ہم اسے یاد کیا کرتے ہیں

خصوصیات

اکثر و بیشتر نقادوں نے دبستان لکھنوکی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دلی کے مقابلے میں لکھنو کی شاعر ی میںخارجیت کا عنصر نمایاں ہے۔ واردات قلبی اور جذبات و احساسات کی ترجمانی اور بیان کے بجائے شعرائے لکھنوکا زیادہ زور محبوب کے لوازم ظاہری اور متعلقات خارجی کے بیان پر ہے۔ دوسری بات یہ کہ لکھنوی شاعری کا دوسرا اہم عنصر نسائیت ہے۔ اس کے علاوہ معاملہ بندی، رعائیت لفظی ، صنعت گری اور تکلفات پر زیادہ زور ہے ذیل میں ہم اس کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

خارجیت اور بیروں بینی:۔

دلی کی شاعری کے مقابلے میں لکھنو کی شاعری فکر اور فلسفے سے بالکل خالی ہے۔ نتیجتاً اس میں گہرائی مفقود ہے۔ اور ظاہرداری پر زور ہے۔ دروں بینی موجود نہیں۔ سوز و گداز کی شدید کمی ہے۔ خارجیت اور بیروں بینی کے مختلف مظاہر البتہ نمایاں ہیں لکھنو کی شاعری میں واردات قلبی کے بجائے سراپا نگاری پر زور ہے۔ ان کی شعری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے سید وقار عظیم لکھتے ہیں،
” لکھنویت تکلف اور تصنع کا دوسرا نام ہے۔ جہاں شاعر محسوسات اور واردات کی سچی دنیا کو چھوڑ کر خیال کی بنی ہوئی رنگین فکر کی پیدا کی ہوئی پر پیج راہوں پر چل کر خوش ہوتا ہے۔ اس کاسبب یہ بتایا گیا ہے۔ کہ لکھنو کی ساری زندگی میں ظاہر پر اس قدر زور تھا کہ شعراءکو دروں بینی کی مہلت ہی نہیں ملی۔ ان کی نظروں کے سامنے اتنے مناظر تھے کہ ان کے دیکھنے سے انہیں فرصت ہی نہیں ملی تھی۔
ایسے میں دل کی کھڑی کھول کرمیر کی طرح اپنی ذات کے اندر کون جھانکتا۔ جب انھوں عیش و عشرت اور آرائش و زیبائش کی محفلوں سے فرصت نہیں تھی

دیکھی شب وصل ناف اُس کی
روشن ہوئی چشم آرز و کی

کتنا شفاف ہے تمہارا پیٹ
صاف آئینہ سا ہے سارا پیٹ

بوسہ لیتی ہے تیرے پالے کی مچھلی اے صنم
ہے ہمارے دل میں عالم ماہی بے آب کا

روشن یہ ہے کہ سبز کنول میں ہے سبز شمع
دھانی لباس پہنے جو وہ سبز رنگ ہے

مضمون آفرینی:۔

دبستان لکھنو کی شاعری کی دوسری نمایاں خصوصیت مضمون آفرینی ہے۔ مضمون آفرینی کا مطلب یہ ہے کہ شاعر روایتی مضامین میں سے نئے مبالغہ آمیز اور عجیب و غریب پہلو تلا ش کر لیتا ہے۔ ایسے مضامین کی بنیاد جذبے کے بجائے تخیل یا واہمے پر ہوتی ہے۔ شعراءلکھنو نے اس میدا ن میں بھی اپنی مہارت اور کمال دکھانے کا بھر پور مظاہر ہ کیا ہے۔ اس کی چند مثالیں مندرجہ زیل ہیں۔

گلبرگ تر سمجھ کے لگا بیٹھی ایک چونچ
بلبل ہمارے زخم جگر کے کھرنڈ پر

چشم بدور آج آتے ہیں نظر کیا گال صاف
سبزہ خط کیا غزال چشم کا چارہ ہوا

اس نے پونچھا پسینہ روئے عالمتاب کا
بن گیا رومال کونہ چادر مہتاب کا

معاملہ بندی:۔

سراپا نگاری اور مضمون آفرینی کے علاوہ دبستان لکھنو کی شاعری کی ایک اور خصوصیت جس کی نشان دہی نقادوں نے کی ہے وہ معاملہ بندی ہے۔ چونکہ دلی کی تباہی کے وقت لکھنو پر امن تھا۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ لوگ خوشحال اور فارغ البال تھے۔ بادشاہ وقت امراء، وزراءاور عوام الناس تک سب عیش و عشرت میں مبتلا تھے۔ خصوصاً طوائف کو اس ماحول میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ چنانچہ ماحول کے اثرات شاعری پر بھی پڑے جس کی وجہ سے بقول ڈاکٹر ابوللیث صدیقی جذبات کی پاکیزگی اور بیان کی متانت جو دہلوی شاعری کا امتیازی نشان تھی یہاں عنقا ہوگئی۔ اس کی جگہ ایک نئے فن نے لے لی جس کا نام معاملہ بندی ہے۔ جس میں عاشق اور معشوق کے درمیان پیش آنے والے واقعات پردہ دروں، کو کھول کر بیان کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایسے اشعار خال خال دہلوی شعراءکے ہاں بھی موجود ہیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ اس فن میں جرات پیش پیش تھے جو دلی سے آئے تھے۔ لیکن لکھنو کا ماحول ان کو بہت راس آیا۔ چنانچہ ان کے ساتھ لکھنو کے دیگر شعراءنے جی بھر کر اپنے پست جذبات کو نظم کیا۔ ان کی گل افشانی کے چند نمونے ملاحظہ ہوں،

کھولیے شوق سے بند انگیا کے
لیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ

کل وقت راز اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات
جرات کے یہاں رات جو مہمان گئے ہم

کیاجانیے کمبخت نے کیا ہم پہ کیا سحر
جو با ت نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

کچھ اشارہ جوکیا ہم نے ملاقات کے وقت
ٹال کر کہنے لگا دن ہے ابھی رات کے وقت

منہ گال پہ رکھنے سے خفا ہوتے ہو ناحق
مس کرنے سے قراں کی فضیلت نہیں جاتی

تلخ بادام کا منہ میں میرے آتا ہے مزہ
چشم کا بوسہ جو وہ ہو کے خفا دیتا ہے

رعایت لفظی:۔

دبستان لکھنو کی ایک اور خصوصیت رعایت لفظی بتائی جاتی ہے اس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا لکھتے ہیں۔
” لکھنو کا معاشرہ خوش مزاج، مجلس آراءاور فارغ البال لوگوں کا معاشرہ تھا۔ مجلس زندگی کی جان لفظی رعایتیں ہوتی ہیں۔ مجلوں میں مقبول وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں زبان پر پوری قدرت ہو اور لفظ کا لفظ سے تعلق ، اور لفظ کا معنی سے رشتہ پوری طرح سمجھتے ہوں ۔ لفظی رعایتیں محفل میں تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں، اور طنز کو گوارا بناتی ہیں۔
لکھنو میں لفظی رعایتوں کا از حد شوق تھا۔ خواص و عوام دونوں اس کے بہت شائق تھے ۔ روساءاور امراءتک بندیاں کرنے والوں کو باقاعدہ ملازم رکھا کرتے تھے۔ ان ہی اسباب کی بناءپر لکھنوی شاعری میں رعایت لفظی کی بہتات ہے اور لفظی رعایتیں اکثر مفہو م پر غالب آجاتی ہیں۔ بلکہ بعض اوقات محض لفظی رعایت کو منظوم کرنے کے لئے شعر کہا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر

ہندو پسر کے عشق کا کشتہ ہوں باغباں
لالہ کا پھول رکھنا امانت کی گور پر

غسل کرلے یہیں دریا میں نہانے کو نہ جا
مچھلیاں لپٹیں گی اے یار تیر ے بازوسے
وصل کی شب پلنگ کے اوپر
مثل چیتے کے وہ مچلتے ہیں

قبر کے اوپر لگایا نیم کا اس نے درخت
بعد مرنے کے میری توقیر آدھی رہ گئی

طویل غزلیں:۔

لکھنوی شاعری کی ایک اور نمایاں بات طویل غزلیں ہیں۔ اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ ابتداءجرات مصحفی نے کی جو دلی دبستا ن سے تعلق رکھتے تھے۔ جو دلی کی تباہی کے بعد لکھنو جا بسے تھے۔ لیکن لکھنوی شعراءنے اس کو زیادہ پھیلایا اور بڑھایا اور اکثر لکھنوی شعراءکے ہاں طویل غزلیں بلکہ دو غزلہ ، اور سہ غزلہ کے نمونے ملتے ہیں۔اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے۔ کہ لکھنو کے اس دور میں پرگوئی اور بدیہہ گوئی کو فن قرار دے دیا گیا تھا۔ نیز لوگ قافیہ پیمائی کو عیب نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے طویل غزلیںبھی لکھی جانے لگیں چنانچہ ٥٢۔٠٣١ اشعار پر مشتمل غزلیں تو اکثر ملتی ہیں۔ بلکہ بقول ڈاکٹر خواجہ زکریا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ طویل غزلیں بھی لکھی جاتی تھیں۔

قافیہ پیمائی:۔

طویل غزل سے غزل کو فائدے کے بجائے یہ نقصان ہوا کہ بھرتی کے اشعار غزل میں کثرت سے شامل ہونے لگے۔ شعراءنے زور کلام دکھانے کے لئے لمبی ردیفیں اختیار کرنی شروع کر دیں جس سے اردو غزل میں غیر مستعمل قافیوں اور بے میل ردیفوں کا رواج شروع ہوا۔ معمولی قافیوں اور ردیفوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جا نے لگا ۔ اس نے قافیہ پیمائی کا رواج شروع ہوا۔ ذیل میں بے میل ردیفوں سے قافیوں کی چند مثالیں درج ہیں۔

انتہائی لاغری سے جب نظرآیا نہ میں
ہنس کر کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیے

فوج لڑکوں کی جڑے کےوں نہ تڑا تڑ پتھر
ایسے خبطی کو جو کھائے ہے کڑا کڑ پتھر

لگی غلیل سے ابرو کی ، دل کے داغ کو چوٹ
پر ایسے ہی کہ لگے تڑ سے جیسے زا غ کو چوٹ

بات طویل غزلوں اور ، بے میل ردیفوں اور قافیوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ شعراءلکھنو نے اپنی قادر الکلامی اور استادی کا ثبوت دینے کے لئے سنگلاخ زمینوں میں بھی طبع آزمائی کی۔

پیچ دار تشبیہ اور استعارے کا استعمال:۔

اگرچہ تشبیہ اور استعارے کا استعمال ہر شاعر کرتا ہے لیکن یہ چیز اس وقت اچھی معلوم ہوتی ہے جب حد اعتدال کے اندر ہو۔ شعراءدلی کے ہاں بھی اس کا استعمال ہوا لیکن لکھنو والوں نے اپنی رنگین مزاجی کی بدولت تشبیہوں کا خوب استعمال کیا اور اور ان میں بہت اضافہ کیا۔ محسن کاکوروی ، میرانیس ، نسیم ، دبیر ، نے پرکیف ، عالمانہ اور خوبصورت تشبیہیں برتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی شعراءصرف تشبیہ برائے تشبیہ بھی لے آئے ہیں جس سے کلام بے لطف اور بے مزہ ہو جاتا ہے۔

سبزہ ہے کنارے آب جو پر
یاخضر ہے مستعد وضو پر

محو تکبر فاختہ ہے
قد و قامت سر و دلربا ہے

کیاری ہر ایک اعتکاف میں ہے
اور آب رواں طواف میں ہے

ساقی کی مست آنکھ پہ دل ٹوٹ جاتے ہیں
شیشے جھکے ہوئے ہیں پیالوں کے سامنے

آگیا وہ شجر حسن نظر جب ہم کو
بوسے لے کے لب شریں کے چھوراے توڑے

مستی میں زلف یارکی جب لہر اگی
بوتل کا منہ ہمیں دہن مار ہوگیا

نسائیت:۔

ڈاکٹر ابوللیث صدیقی نے لکھنوی دبستان کی شاعری کاایک اہم عنصر نسائیت بتایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہر زمامے ہر قصہ اور ہر زبان میں عورت شاعری کا بڑا اہم موضوع رہا ہے۔ لیکن لکھنو کی سوسائٹی میں عورت کو اہم مقام حاصل ہو گیا تھا۔ اس نے ادب پر بھی گہرا اثرا ڈالا۔ اگر یہ عورتیں پاک دامن اور عفت ماب ہوتیں تو سوسائٹی اور ادب دنوں پر ان کا صحت مند اثر پڑتا لیکن یہ عورتیں بازاری تھیں ۔ جو صرف نفس حیوانی کو مسسل کرتی تھیں ۔ جبکہ دوسری طرف عیش و عشرت اور فراغت نے مردوں کو مردانہ خصائل سے محروم کرکے ان کے مردانہ جذبات و خیالات کو کمزور کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مردوں کے جذبات خیالات اور زبان پر نسائیت غالب آگئی ۔ چنانچہ ریختہ کے جواب میں ریختی تصنیف ہوئی۔ اس کا سہرا عام طور پر سعادت یا ر خان رنگین کے سر باندھا جاتا ہے۔ رنگین کے بعد انشاءاور دوسرے شعراءنے بھی اسے پروان چڑھایا ۔ ان شعراءکے ہاں ریختی کے جو نمونے ملتے ہیں ان میں عورتوں کے فاحشانہ جذبات کو ان کے خاص محاوروں میں جس طرح ان لوگوں نے نظم کیا ہے وہ لکھنو کی شاعری اور سوسائٹی کے دامن پر نہ مٹنے والا داغ بن کر رہ گیا ہے۔

سوز و گداز:۔

اس ساری بحث سے ہر گز یہ مقصود نہیں کہ لکھنوی شعراءکے ہاں اعلی درجے کی ایسی شاعری موجود نہیں جو ان کے سوز و گداز جذبات اور احساسات اور واردات قلبیہ کی ترجمان ہو ۔ تمام نقادوں نے اس بات کی تائید کی ہے بلکہ عذلیب شادنی جنہوں نے لکھنوی شاعری کے خراب پہلوئوں کو تفصیل کے ساتھ نمایاںکرکے پیش کیا ہے وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شعرائے لکھنوکے ہاں ایسے اشعار کی کمی نہیں جو پڑھنے والے کے دل پر گہرااثر چھوڑتے ہیں۔ ایسے نمونے ناسخ اور آتش کے علاوہ امانت اور رند وغیرہ کے ہاں سب سے زیادہ ملتے ہیں۔ یہاں اس بات کے ثبوت میں مختلف شعراءکا کلام سے کچھ مثالیں

رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی
دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں

تاب سننے کی نہیں بہر خدا خاموش ہو
ٹکڑے ہوتا ہے جگر ناسخ تیری فریاد سے

آئے بھی لو گ بیٹھے بھی اٹھ بھی کھڑ ے ہوئے
میں جاءہی ڈھونڈتا تیری محفل میں رہ گیا

کسی نے مول نے پوچھا دل شکستہ کا
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

بتوں کے عشق میں کیا جی کو اضطراب دیا
یہ دل دیا کہ خدا نے مجھے عذاب دیا

دل نے شب فرقت میں کیا ساتھ دیا میرا
مونس اسے کہتے ہیں غم خوار اسے کہتے

آعندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلائوں ہائے دل

ہم اسیروں کو قفس میں بھی ذرا چین نہیں
روز دھڑکا ہے کہ اب کون رہا ہوتا ہے

حرم کو اس لئے اٹھ کر نہ بتکدے سے گئے
خدا کہے گا کہ جور بتاں اٹھا نہ سکا

مجموعی جائزہ:۔

اردو ادب میں دونوں دبستانوں کی اپنے حوالے سے ایک خاص اہمیت ہے۔ دبستان لکھنو نے موضوعات کے بجائے زبان کے حوالے سے اردو ادب کی بہت خدمت کی اور ناسخ کی اصلاح زبان کی تحریک نے اردو زبان کو قواعد و ضوابط کے حوالے سے بہت زیادہ ترقی دی ۔ جبکہ دبستان ِ لکھنو کا اثر دہلی کے آخری دور کے شعراءغالب ، مومن ، ذوق پر بھی نمایاں ہے۔

28/12/2019

تذکیر تانیث کے حوالے سے غالبؔ لکھتے ہیں:

’’تذکیر و تانیث کا کوئی قاعدہ منضبط نہیں کہ جس پر حکم کیا جائے۔ جو جس کے کانوں کو لگے، جس کا جس کو دل قبول کرے اس طرح کہے۔ رتھ میرے نزدیک مذکر ہے یعنی رتھ آیا لیکن جمع میں کروں گا تو ناچار مونث بولنا پڑے گایعنی رتھیں آئیں۔
خبر مونث ہے بہ اتفاق۔ مگر کاغذِ اخبار، اس کو خود سمجھ لو کہ تمھارا دل کیا قبول کرتا ہے میں تو مذکر کہوں گا کہ اخبار آیا۔
پیر ہوئی یا ہوا، یہ منطق عوام کا ہے، ہم کیوں بولیں۔
بلبل میرے نزدیک مونث ہے، جمع اس کی بلبلیں۔ طوطی بولتا ہے، بلبل بولتی ہے۔
بھائی اس امر میں میں مفتی و مجتہد نہیں بن سکتا، اپنا عندیہ لکھتا ہوں، جو چاہے مانے جو چاہے نہ مانے۔
فقیر کے نزدیک نقاب، قلم اور دہی ترجمہ جغرات، یہ تینوں اسم مذکر ہیں۔ منکر سے مجھے بحث نہیں، مجیب کا میں احسان مند نہیں۔
خرام کو کون مونث بولے گا مگر وہ کہ دعوائے فصاحت سے ہاتھ دھو لے گا۔ رفتار مونث ہے اور خرام مذکر۔ رفتار کی تانیث کو خرام کی تانیث کی سند ٹھہرانا قیاس مع الفارق ہے
سانس میرے نزدیک مذکر ہے لیکن اگر کوئی مونث بولے گا تو میں اس کو منع نہیں کر سکتا۔ خود سانس کو مونث نہ کہوں گا۔

مصدر: ’’نقوش‘‘ غالب نمبر
انتخاب: عادی

26/12/2019

وہ خاص نام جو مختلف اشخاص کی پہچان کے لیے علامت کا کام دے کیا کہلاتا ہے
جواب اسم علم
2 مدرسہ قوائد کی رو سے کیا ہے
جواب اسم مکاں
3 ابن مریم ہوا کرے کوئی اس میں ابن مریم کیا ہے
جواب کنیت
4 کا سے اور میں کون سے حروف ہیں
جواب جروف جار
5 کہو تو سنو تو گرامرکی رو سے کیا ہیں
جواب حروف تخصیص
6 تشبیہ کے کتنے اجزا ہیں
جواب چار
7 معنی کے لحاظ سے جملہ کی کتنی اقسام ہیں
جواب دو
8 قوائد کی رو سے کلام کی کتنی اقسام ہیں
جواب دو
9 حرف کی کتنی اقسام ہیں
جواب چار
10 غزل کا پہلا شعر کیا کہلاتا ہے
جواب مطلع
11 کسی بات کی ایسی شاعرانہ وجہ بیان کرنا جو حقیقی نہ ہو کیا کہلاتی ہے
جواب حسن تعلیل
12 نظم ونثر میں ایک لفظ یا چند الفاظ کے زریعے کسی مشہور واقعہ کی طرفاشارہ کر نے کو کیا کہتے ہیں
جواب تلمیح
13 لاہور اقبال قران مجید اسم کی کون سی اقسام ہیں
جواب اسم معرفہ
14 اسم معرفہ کی کتنی اقسام ہیں
جواب چار
15 رستم ہند بابائے اردو قوائد کی رو سے کیاہیں
جواب خطاب
16 بیاو میں مصدرہ کی آخر میں کیا آتا ہے
جواب نا
17 معنی کے لحاظ سے اسم کی کتنی اقسام ہیں
جواب دو
18 حروف کی کتنی اقسام ہیں
جواب چار
19 وہ لفظ جس کا کوئی معنی نہ ہو
جواب مہمل
20 اردو قوائد کی کتنے حصے ہوتے ہیں
جواب تین
21 یہ آدمی وہ کرسیاں قوائد کی رو سے کیا ہیں
جواب اسم اشارہ
22 وہ اسم جو کسی اوزار یا ہتھیار کا نام ہو اسے کیا کہتے ہیں
جواب اسم آلہ
23 اسم ظرف کی کتنی اقسام ہیں
جواب دو
24 جس فعل کا فاعل موجود نہ ہو اسے کیا کہتے ہیں
جواب فعل مجہول
25 یہ ہمارا سکول ہے کون سا کلام ہے
جواب کلام تام
26 وہ کھیلا ہو گا کون سا ماضی ہے
جواب ماضی شکیہ
27 وہ فعل حال جس میں کسی کام کا حکم یا درخواست ہو اسے کیا کہتے ہیں
جواب فعل حال امر
28 وہ نام جو حکومت کی طرف سے دیا جائے اسے کیا کہتے ہیں
جواب خطاب
29 اسم علم کی کتنی اقسام ہیں
جواب 5
30 حرف کہ کو قوائد کی رو سے کیا کہتے ہیں
جواب حرف بیان

26/12/2019

اردو کے تیس نمبروں کے لیئےنہایت اہم معلومات پیش کرنے جا رہا ہوں این ٹی ایس امتحانات کے لیے۔ اس معلومات کو ذہن نشین کر لیں ۔

راشد الخیری۔ ۔ ۔۔۔ مصور غم
داغ دہلوی۔۔۔۔۔۔۔ بلبل ہند
ابراہیم زوق۔۔۔۔۔ملک الشعرا
مرزا غالب۔۔۔۔۔نوشتہ، دبیر الملک
آغا حشر۔۔۔۔۔۔۔ اردو کا شیکسپئر
حسن نظامی۔۔۔۔۔مصور فطرت
حسرت موہانی۔۔۔۔۔سید الاحرار یا رئیس المتغزلین
ولی دکنی۔۔۔۔۔اردو شاعری کا باوا آدم
میر تقی میر۔۔۔۔۔ خدائے سخن
میر انیس۔۔۔۔۔بادشاہ مرثیہ
مرزا سودا۔۔۔۔۔بادشاہ قصیدہ
حشر کاشمیری۔۔۔۔۔شاہ ڈرامہ
امام بخش ناسخ۔۔۔پہلوان سخن
احسان دانش۔۔۔۔۔۔۔شاعر مزدور
محمد حسین آزاد۔۔۔۔۔۔آقائے اردو
مولوی عبدالحق۔۔۔۔۔۔بابائے اردو
جوش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاعر انقلاب
اختر شیرانی۔۔۔۔۔۔شاعر شباب
حفیظ جالندھری۔۔۔۔۔ابوالاثر
پریم چند۔۔۔۔۔۔افسانے کا باوا آدم
راشد الخیری۔۔۔۔۔۔عورتوں کا سر سید
نظیر اکبر آبادی۔۔۔۔۔۔عوامی شاعر
عبدالحلیم شرر۔۔۔۔۔۔اردو کا والٹر سکاٹ۔۔۔۔

26/12/2019

((** اسم معرفہ کی اقسام **))

اسم معرفہ کی چار قسمیں ہیں

(١) اسم علم ( ٢) اسم ضمیر ( ٣) اسم اشارہ (٤)اسم موصول

(١) اسم علم :

علم کے لغوی معنی علامت اور نشان کے ہیں لیکن گرائمر کی زبان میں اسم علم سے مراد وہ خاص نام ہیں جو مختلف اشخاص کی پہچان کے لیے بولے جاتے ہیں اور مختلف اشخاص کی پہچان کے لیے علامت کا کام دیتے ہیں۔ اسم علم اسم معرفہ کی ایک قسم ہے۔ اسم علم کی درج ذیل اقسام ہیں۔ خطاب، تخلص، لقب، عرف، کنیت

(٢) اسم ضمیر :

اسم ضمیر وہ کلمہ ہے جو کسی اسم کی جگہ استعمال کیا جائے۔
مثلاً:- ماسٹر رفیق حسین ہمیں اردو پڑھاتا ہے۔وہ بہت محنتی ہے۔ہم اس کو پسند کرتے ہیں ۔
ان جملوں میں۔وہ، ہم، اس، ہمیں، اسمایے ضمیر ہیں کیونکہ یہ اسموں کے بدلے استعمال ہوئے ہیں۔

(٣) اسم اشارہ :

اسم اشارہ وہ کلمہ ہے جس سے کسی شخص یا جگہ یا چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔
مثلاً:- وہ پہاڑ، یہ میز، وہ دریا، یہ لڑکا وغیرہ۔ان کلمات میں ‘وہ’ اور ‘یہ’ اسماء اشارہ ہیں ۔قریب کے اشارے کے لیے "یہ” اور بعید کے لیے "وہ” کے الفاظ ساتھ اشارہ کیا جاتا ہے ۔

مشار الیہ:

جس شخص یا جگہ یا چیز کی طرف اشارہ کیا جائے اس سے مشارالیہ کہا جاتا ہے۔اوپر کی مثالوں میں پہاڑ ،میز ،دریا ،لڑکا، مشارالیہ ہیں

٤ اسم موصول :

وہ اسم ہے جس کے ساتھ جب تک کوئی دوسرا جملہ نہ ملایا جائے تو پورا معنی نہیں دیتا ۔
مثلاً:- جو محنت کرتا ہے عزت پاتا ہے۔ آپ جو کچھ کرتےہیں ٹھیک ہے۔ جونہی ہم سکول پہنچے گھنٹی بج گئی۔
ان جملوں میں جو، جو کچھ، جو نہی اسماء موصول ہیں۔

صلہ:

جو جملہ اسم موصول کے بعد آتا ہے اسے صلہ کہتے ہیں ۔
مندرجہ بالا مثالوں میں عزت پاتا ہے، ٹھیک ہے، گھنٹی بج گئی، صلہ ھیں ۔

26/12/2019

نقادوں کے مشہور اقوال

۱. فراق نے اردو شاعری کی طاق میں ہندوستانیت اور آفاقیت کی شمع روشن کی۔ سلام سندیلوی
۲۲. جزبی سلگتی ہوئی آتش رفتہ کا شاعر ہے۔ محمد حسن
۳۳. قاضی عبدالودود تحقیق کے ’’ معلمِ ثانی‘‘ ہیں۔ رشید حسن خان
۴۴. فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں، نیچرل سائنس بائیں ہاتھ میں اور کلمہ طیّبہ کا تاج ہمارے سر پر ہے۔ سر سیّد احمد خاں
۵۵. غزل ایک نیم وحشی صنف سخن ہے۔ کلیم الدین احمد
۶۶. جدیدیت ترقّی پسند تحریک کی توسیع ہے۔ وحید اختر
۷۷. خیالات ماخوذ، واقفیت محدود، نظر سطہی، فہم و ادراک معمولی، غور و فکر ناکافی، تمیز ادنیٰ اور شخصیت اوسط۔ کلیم الدّین احمد نے حالی کے لئے کہا
۸۸. غزل انتہاؤں کا ایک سلسلہ ہے۔ فراق گورکھپوری
۹۹. غزل کی گردن بلا تکلّف اڑا دینی چاہئے۔ جوش ملیح آبادی
۱۰۰. مغلوں نے ہمیں تین چیزیں دی ہیں تاج محل، اردو زبان اور غالب۔ رشید احمد صدّیقی
۱۱۱. اکبر کی شاعری انکے عہد اور انکے ماحول کا آئینہ ہے۔ رشید احمد صدّیقی
۱۲۲. اکبر کی نظر قوم کی میراث پر بھی تھی اور قوم کی تقدیر پر بھی۔ رشید احمد صدّیقی
۱۳۳. میرے نزدیک مارواڑی عورتیں مجموعہ ہیں تین چیزوں کا گھونگھٹ، گندگی اور گہنا۔ رشید احمد صدیّقی
۱۴۴. جوش انقلابی نہیں باغی شاعر ہیں۔ مسعود حسین خان
۱۵۵. اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے۔ محمد حسین آزاد
۱۶۶. ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ایک وید اور دوسری دیوانِ غالب۔ عبد الرحمٰن بجنوری
۱۷۷. اردو شاعری کے باغ میں ایک نیا ، سرخ پھول کھلا ہے(کیفی اعظمی)۔ سجّاد ظہیر
۱۸. اقبال کے روپ میں غالب نے دوبارہ جنم لیا تھا۔ شیخ عبد القادر
۱۹۹. سر سید، شبلی، حالی، نظیر اور آزاد اردو کے عناصرِ خمسہ ہیں۔ مہدی افادی
۲۰۰. مجاز انقلاب کا ڈھنڈھورچی نہیں انقلاب کا مطرب ہے۔ فیض احمد فیض
۲۱۱. بیدی کے افسانے تراشے ہوئے ہیرے ہیں۔ آل احمد سرورؔ
۲۲۲. بیدی کے بیشتر افسانوں میں کہانی نہیں تھیم ہوتی ہے۔ اپیندر ناتھ اشکؔ
۲۳۳. میری خواہش ہے کہ ہندو اردو سیکھیں اور مسلمان ہندی۔ گاندھی جی
۲۴. غالب حیوانِ ظریف ہیں۔ حالی
۲۵۵. مثنوی سحر البیان اسم با مسمہ ہے۔ شیر علی افسوسؔ
۲۶۶. مثنوی زہرِعشق لکھنؤ کی سب سے اچھی مثنوی ہے۔ آل احمد سرورؔ
۲۷۷. غزل اردو شاعری کی آبرو ہے۔ رشید احمد صدیّقی
۲۸۸. اردو کا آغاز دکّن سے ہوا۔ نصیر الدیّن ہاشمی
۲۹۹. فسانہ عجائب ، الفاظ کا بھٹیار خانہ ہے۔ غالبؔ
۳۰۰. ہزار کوس سے بزبانِ قلم باتیں کیا کرو ہجر کے مزے لیا کرو۔ غالبؔ
۳۱۱. مرزا صاحب میں نے وہ اندازِ تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا ہے۔ غالبؔ
۳۲۲. بیدی تمہاری کمزوری یہ ہے کہ تم سوچتے بہت ہو ، لکھنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ منٹو
۳۳۳. میر امّن کو اردو نثر میں وہی رتبہ حاصل ہے جو میر تقی میر کو شاعری میں۔ سر سیّد احمد
۳۴۴. قیامت کے روز خدا مجھ سے پوچھیگا کہ دنیا سے کیا لائے ہو تو میں کہوں گا کہ حالی سے مسدّس لکھوا کر لایا ہوں۔ سر سیّد احمد
۳۵۵. اردو میں تنقید کا وجود فرضی ہے۔ کلیم الدین احمدؔ
۳۶۶. یہ شخص(اقبال) مجھے ٹیگور اور شیکسپئر سے کئی ہزار فٹ اونچا نظر آتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی

Want your business to be the top-listed Government Service in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Dera Ghazi Khan