ٹرائیبل ایریا کوہ سلیمان

ٹرائیبل ایریا کوہ سلیمان

Share

social worker

Photos from ‎ٹرائیبل ایریا کوہ سلیمان‎'s post 19/09/2021

#بدقسمتی
آج ہم کھل کے لکھ رہے ہیں فورٹ منرو کے بارے ہم اکثر مجھ سمیت لکھتے ہیں بی ایم پی نے یہ کیا بی ایم پی نے وہ کیا کم و پیش ایک ماہ پہلے ترکی کمپنی کی طرف سے حکومت پاکستان کو صاف پانی کے نہایت ہی قیمتی ہینڈ پمپ عطیہ کیۓ گئے تھے ایک کھر تالاب پر لگایا گیا تھا آج وہ چوری ہوگیا ہے اسی طرح سولر لائٹس بھی چوری ہوگئے ہیں جن کا BMP کو پتہ بھی ہے لیکن آج تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئ تو آج چوروں نے پھر سے لاکھوں روپے صاف پانی والا ہینڈ پمپ چرا لیا ہے
ہم اپیل کرتے ہیں کمشنر ڈی جی خان ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان کمانڈنٹ BMP سے کے خدارہ بی ایم پی کو حکم دیں کے فورٹ منرو کو تباہ کرنے والوں کا قلع قمع کردیں شکریہ

16/06/2021

اہلیان فورٹ منرو کا لائن سپریڈنٹ واپڈا فورٹ منرو فیصل بھٹی کے خلاف نوجوان طارق کو بجلی کے کرنٹ سے مارنے پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بصورت دیگر شدید احتجاج کا فیصلہ تمام مقدمین اور اہل علاقہ سے دست بدست اپیل کی جاتی ہے

17/05/2021

ماشاءاللہ بہت خوب صورت

03/05/2021

جاز سم والوں کیلیئے خوشخبری، #462* ملائو اور 2GB فری انٹر نیٹ انجئیو کرو

24/04/2021

اکبر بادشاہ نے بھرے دربار میں
بیربل سے تین سوال پوچھے اور شرط رکھی کہ تینوں کا جواب ایک ہی ہو 🤨

ا۔دودھ کیوں ابل جاتا ہے؟

2۔ پانی کیوں بہہ جاتا ہے ؟

3۔سبزی کیوں جل جاتی ہے؟

سارے دربار میں سناٹا چھا گیا۔۔

۔وزراء کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔اور سب اپنی جگہ بیٹھے سوچنے لگے۔۔۔

کیونکہ سوال بیربل کے لیے تھے اس لیے کسی کے چہرہ پہ پریشانی کے آثار نہیں تھے

کچھ دیر بعد بیربل کی آواز نے سکوت توڑا

بادشاہ کا اقبال بلند ہو
بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤں تو عرض کروں
اکبر بادشاہ نے نہایت گرج دار اور رعب دار آواز میں بولا
جان کی امان دی جاتی ہے
بیربل بولا بادشاہ سلامت

فیس بُک کی وجہ سے 😎😒😒

یہ سن کر اکبر بادشاہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا اور اپنے شاہی مسند سے اٹھ کر ۔۔۔ بیربل کو گلے لگا کر کہا

فرینڈ ریکوئسٹ بھیجو 😒

24/04/2021

مرد کا بچہ ، نر کا بچہ!

جب مرد اور عورت جنسی ملاپ کرتے ہیں تو بائیولوجی بتاتی ہے کہ دونوں اپنے اپنے خلیات (cells) شیئر کرتے ہیں اور بچہ کی پیدائش کے لئے دونوں برابر حصہ ڈالتے ہیں ۔ ایک کا بیضہ اور دوسرے کا سپرم مل کر وہ بیج تشکیل پاتے ہیں جس سے بچے کی پیدائش کا آغاز ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ آج کی اس جدید دنیا میں عورت کسی سے بھی (جنسی عمل سے یا بذریعہ آپریشن) سپرم لے کر بچے کی پیدائش کا عمل شروع کر سکتی ہے ، مگر ایک مرد کسی بھی عورت سے نہ بزریعہ سرجری بیضہ لے کر بچے کی پیدائش کا عمل اپنے پیٹ میں یا جسم کے کسی دوسرے حصے میں شروع نہیں کر سکتا -

جنسی عمل میں سپرم کے اشتراک کے بعد جسمانی طور پر مرد کا کردار بالکل ہی ختم ہو جاتا ہے ۔

اب عورت کا پیٹ ایک کھیتی بن جاتا ہے جس میں وہ بیج (جو آدھا مرد سے ہے اور آدھا عورت سے ) نشوونما پاتا ہے ۔ عورت پورے نو ماہ اس بچے کے لئے دن رات صبح شام جسمانی روحانی اور اخلاقی ہر اعتبار سے وقف ہو جاتی ہے ۔ یہ وقت کن کیفیات کا نام ہے اسے ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے -

پھر بچے کی پیدائش کا وقت آتا ہے جو درد بے چینی اور اذیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے ۔ اسے بھی عورت اکیلا سہتی اور اس آزمائش سے اکیلی ہی نبردآزما ہوتی ہے جب پوری فطرت اس پر قہر برسانے میں پیش پیش ہوتی ہے ۔ بچے کی پیدائش کے عمل میں سب سے زیادہ نازک اور حساس لمحہ یہی ہے جب بچہ پورا کا پورا عورت کے رحم و کرم پر ہوتا ہے -

پھر بچے کی پیدائش ہوتی ہے ۔ اس کا سارا جسم اور اس میں سارا خون عورت کی دین ہے ۔ عورت نے اسے اپنے جسم سے نچوڑ نچوڑ کر اور توڑ توڑ کر دیا ہوتا ہے ۔ اس عمل میں بھی مرد کا کردار صفر ہے ۔ اگر بچہ دو کلو کا ہے تو یہ دو کلو اس نے سارا کا سارا عورت کے جسم سے لیا ہوتا ہے ۔

پھر بچے کی نگہداشت کا عمل شروع ہوتا ہے ۔ عورت دو سال اپنے جسم کا رس نچوڑ نچوڑ کر اسے پلاتی ہے ۔ ایک ایسے وجود کو جو خود سے کسی بھی کام کرنے کا عادی نہیں ، جو عقل و شعور نہیں رکھتا ، جو ضدی اور ہٹ دھرم ہے ۔۔۔۔ عورت اس کی بھرپور تربیت کرتی ہے ( اور مرد کے مقابلے میں اب بھی اس کا کردار واضح ہے ) اور اسے ایک مکمل انسان بنا کر اس دنیا کے حضور پیش کرتی ہے ۔

مگر جب وہ بچہ دنیا کے سامنے آتا ہے تو خود کو نر کا بچہ سمجھ کر اتراتا ہے ۔ وہ عورت جواس کی پیدائش کے اس عمل میں دنیا کی سب سے شدید تکلیف سہہ کر اس کے لئے فطرت سے بنردآزما ہوتی ہے اس کی چوڑیاں اسے بزدلی کی علامت لگتی ہے ۔ وہ عورت جو ایک مرد کے برابر کروموسومز کی صورت میں اپنا حصہ ڈالتی ہے اور اپنے جسم سے کاٹ کاٹ کر اس کا جسم بناتی ہے اس عورت کا نام یا شناخت اس بچہ کے ساتھ اگر لگ جائے تو اس کا تمسخر اڑایا جاتا ہے ۔ وہ عورت جو ایک نومولود کی تربیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالتی ہے اور اسے ایک مکمل انسان بناتی ہے وہ بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اپنی ماں کی صنف (عورت) کو کمزور ، اجڈ ، کم عقل، غیر ذمہ دار ، بزدل ، قابل شکست اور قابل گرفت سمجھتا ہے ۔ وہ عورت جس نے اسے فطرت سے لڑ کر اپنی کوکھ میں حفاظت دی جنم دیا اور جو اس کی پیدائش کے بعد بھی اس کے لئے ہر چیلنج سے نبردآزما ہو سکتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ عورت اتنی غیر محفوظ ہے کہ صرف وہی (مرد) ہی اسے تحفظ دلا سکتا ہے -

ایسی سوچ انسانیت کے نام پر کلنک ہے - ایسے لوگ چاہے وہ مردوں میں ہوں یا عورتوں میں ، انسانی شعور پر سوالیہ نشان ہیں -

آج کا سوال یہی ہے کہ آخر عورت کے خلاف اتنا تعصب کیوں باوجود اس کے کہ انسان کا وجود بنیادی طور پر اس کے ہی مرہون منت ہے

23/04/2021

گورنر صاحب نیچے آئے‘ مونچھوں کو تاﺅ دیا اور بھاری آواز میں بولے ”کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے خواہ آپ کو جلوس روکنے کےلئے گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“.
ایس ایس پی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا‘ وہ گھبرا کر جیب میں رومال ٹٹولنے لگا‘ گورنر صاحب اپنے دفتر کی طرف چل پڑے‘ ایس ایس پی لپک کر ان کے پیچھے دوڑا اور سانس سنبھالتے سنبھالتے بولا ”سر لیکن مجھے اس کےلئے آپ کا تحریری حکم چاہیے ہو گا“ ۔
گورنر صاحب غصے سے دھاڑے ”کیا میرا زبانی حکم کافی نہیں“ ایس ایس پی کی گردن تک پسینے سے بھیگ گئی‘ وہ رک رک کر بولا ”سر ہم تحریری حکم کے بغیر گولی نہیں چلا سکتے“.
گورنر نے غصے سے گردن ہلائی اور زور سے آواز لگائی ”سیکرٹری کہاں ہے!“ گورنر کی آواز پورے گورنر ہاﺅس میں گونجی‘ دھڑا دھڑ دروازے کھلے اور ہر قسم کا سیکرٹری پیش ہو گیا‘ گورنر نے سب کی طرف دیکھا اور اونچی آواز میں کہا ”میں نے ایس ایس پی کو سٹوڈنٹس پر گولی چلانے کا حکم دے دیا ہے‘ یہ جو کاغذ‘ جو تحریری حکم مانگیں آپ انہیں دے دیں لیکن مجھے کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے اور جو آئے اسے زندہ واپس نہیں جانا چاہیے“.
کوریڈور میں سراسیمگی‘ خوف اور پریشانی کے ڈھیر لگ گئے اور تمام افسر خوف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔یہ گورنر نواب آف کالا باغ تھے‘ یہ 1960ءسے 1966ءتک پنجاب کے گورنر رہے‘ پاکستان اس وقت مغربی پاکستان ہوتا تھا اور نواب صاحب اس پورے مغربی پاکستان کے واحد گورنر تھے‘ یہ صرف چھ سال گورنر رہے لیکن پنجاب میں آج بھی ان کی انتظامی گرفت کی مثالیں دی جاتی ہیں‘ لوگ آج بھی کہتے ہیں پنجاب کی تاریخ میں حکمران صرف ایک ہی گزرا ہے اور وہ تھا نواب آف کالاباغ‘ نواب صاحب نڈر شخص تھے‘ ان کا ہر حکم کلیئر اور ڈائریکٹ ہوتا تھا اور وہ بعد ازاں اس کی ساری ذمہ داری بھی قبول کرتے تھے۔
یہ بھی مشہور تھا وہ حکم جاری کرنے کے بعد واپس نہیں لیتے تھے خواہ انہیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے‘ بیورو کریسی ان کی اس خو سے واقف تھی چنانچہ نواب صاحب نے جب طالب علموں پر گولی چلانے کا حکم دیا تو گورنر ہاﺅس سے لے کر سیکرٹریٹ تک سراسیمگی پھیل گئی‘ مال روڈ پر طالب علموں پر گولی چلانا اور پھر لاشیں اٹھانا کوئی آسان کام نہیں تھا‘ یہ سانحہ ملک کی بنیادیں تک ہلا سکتا تھا لیکن نواب صاحب کو سمجھانا ممکن نہیں تھا لہٰذا تمام افسر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
افسروں نے اس ایشو کا کیا حل نکالا؟ ہم آپ کو یہ بتائیں گے لیکن آپ پہلے اس واقعے کا پس منظر ملاحظہ کیجئے‘ یہ ایوب خان کا دور تھا‘ ملک میں طالب علموں نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کر رکھی تھی‘ یہ سڑکوں پر نکلتے تھے‘ ایوب خان کے خلاف نعرے لگاتے تھے اور پولیس روکتی تھی تو یہ پتھراﺅ کر کے بھاگ جاتے تھے‘ یہ سلسلہ چلتے چلتے لاہور پہنچ گیا‘ گورنمنٹ کالج کے طالب علموں نے مال روڈ پر جلوس نکالنے کا اعلان کیااور لاہور کے تمام کالجوں کے طالب علم ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔
حکومت پریشان ہو گئی‘ گورنر صاحب نے جلوس سے ایک دن پہلے ایس ایس پی کو بلا لیا‘ یہ صبح رہائشی کمرے سے نکلے تو ایس ایس پی سیڑھیوں کے نیچے کھڑا تھا‘ گورنر نے اسے دیکھا اور حکم جاری کر دیا”جلوس نہیں نکلنا چاہیے خواہ طالب علموں پر گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“ اور آپ باقی کہانی پڑھ چکے ہیں۔بیورو کریسی نے گورنر کو نتائج سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ نواب صاحب کو ذاتی ملازمین کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی گئی‘ نواب صاحب نے صاف انکار کر دیا۔
چیف سیکرٹری نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا لیکن جھاڑ کھا کر واپس آ گیا اور نواب صاحب کے صاحبزادے نے سمجھانے کی ہمت کی لیکن وہ بھی گالیاں کھا کر باہرآ گیا‘ گورنر صاحب نے شام کے وقت گولی چلانے کا تحریری حکم بھی جاری کر دیا
اور یہ حکم اخبارات اور پورے صوبے کی بیورو کریسی تک بھی پہنچ گیا‘ اگلی صبح لاہور کی بیورو کریسی کےلئے مشکل ترین دن تھا‘ پولیس نے مال روڈ گھیر لیا‘ طالب علم کالجوں میں اکٹھے ہوئے‘ نعرے لگانا شروع کئے۔
پولیس نے رائفلیں سیدھی کر لیں اور پھر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا‘ طالب علم نعرے لگانے کے بعد اپنی اپنی کلاسز میں واپس چلے گئے‘ ان میں سے کوئی مال روڈ پر نہیں نکلا‘
پولیس شام تک سڑک پر کھڑی رہی‘ صدر ایوب خان راولپنڈی میں بیٹھ کر لاہور کی صورت حال واچ کر رہے تھے‘ وہ طالب علموں کی پسپائی پر حیران رہ گئے اور انہوں نے گورنر صاحب کو ٹیلی فون کر کے پوچھا ”نواب صاحب میں آپ کو مان گیا لیکن آپ نے یہ کیا کیسے؟“۔
نواب صاحب مونچھوں کو تاﺅ دیا کرتے تھے۔وہ بائیں مونچھ کو چٹکی میں دبا کر بولے ”صدر صاحب میں جانتا ہوں لاہور کے تمام بیورو کریٹس کے بچے‘ بھانجے اور بھتیجے کالجوں میں پڑھتے ہیں‘
یہ افسر میری فطرت سے بھی واقف ہیں‘ یہ جانتے ہیں میں نے اگر گولی کا حکم دیا ہے تو پھر گولی ضرور چلے گی چنانچہ میں نے ان کی نفسیات سے کھیلنے کا فیصلہ کیا‘ میں نے حکم دے دیا‘ مجھے یقین تھا یہ لوگ کل اپنے بچوں کو کالج نہیں جانے دیں گے۔
ان کے بچے اپنے دوستوں کوبھی صورت حال کی نزاکت سے آگاہ کر دیں گے اور یوں کوئی طالب علم مال روڈ پر نہیں نکلے گا“ صدر ایوب خاموشی سے سنتے رہے‘
نواب آف کالا باغ نے اس کے بعد یہ تاریخی فقرہ کہا”صدر صاحب! انسان کی فطرت ہے یہ دوسروں کےلئے سخت اور اپنے لئے نرم فیصلے کرتا ہے اور میں ہمیشہ انسان کی اس خامی کا فائدہ اٹھاتا ہوں‘ میں اپنے فیصلوں میں فیصلہ کرنے والوں کا سٹیک شامل کر دیتا ہوں چنانچہ رزلٹ فوراً اور نرم آتا ہے“۔
نواب آف کالا باغ کی بات درست تھی‘ ہم انسان اپنی ذات سے متعلق فیصلے ہمیشہ اچھے اور جلدی کرتے ہیں جبکہ دوسروں کے فیصلے دہائیوں تک میز کی درازوں میں پڑے رہتے ہیں‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پنجاب اسمبلی کا تازہ ترین فیصلہ دیکھ لیجئے‘پنجابا سمبلی نے 15 اگست 2018ءکو حلف اٹھایا‘
368 ارکان میں سات ماہ میں کسی ایک ایشو پر اتفاق رائے نظر نہیں آیا‘ عوام نے جب بھی دیکھا یہ لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن نظر آئے لیکن 12 مارچ کو اسمبلی کے تمام اراکین میں اتفاق رائے ہو گیا۔
اسمبلی میں ایک بل پیش ہوا‘ کوئی بحث ہوئی اور نہ کسی نے اعتراض اٹھایا‘ سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی میں بھجوایا‘
کمیٹی نے ایک دن میں منظوری دے دی‘ یہ تیسرے دن اسمبلی میں پیش ہوا اور اسمبلی نے دس منٹ میں بل پاس کر دیا ‘ یہ پنجاب اسمبلی کے ارکان‘ ڈپٹی سپیکر‘ سپیکر‘ وزراء اور وزیراعلیٰ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کا مقدس ترین بل تھا۔
یہ لوگ عوام کے ایشوز پر کبھی اکٹھے ہوئے اور نہ ہوں گے‘ کیوں؟
کیونکہ عوامی ایشوز میں ان کا کوئی سٹیک شامل نہیں ہوتا چنانچہ یہ ان ایشوز پر اکٹھے ہوتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی آتے ہیں‘
میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے یہ چند ماہ کےلئے نواب آف کالاباغ بن جائیں‘ یہ عوامی ایشوز میں ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کو سٹیک ہولڈر بنا دیں‘
یہ اعلان کر دیں سرکاری افسروں اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں مڈل کلاس کے برابر ہوں گی‘ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے‘ یہ سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں سے علاج کرائیں گے۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں گے‘ یہ اپنے ہاتھ سے ٹیکس ریٹرنز سمیت تمام فارم پر کریں گے اور تمام یوٹیلٹی بلز بھی خود دیں گے‘
آپ اس کے بعد کھلی آنکھوں سے تمام فارم آسان‘تمام ہسپتال‘ سکول اور ٹرانسپورٹ ٹھیک اور ساری مہنگائی کنٹرول ہوتے دیکھیں گے‘ہمارے پالیسی سازکیونکہ خود اس پالیسی سے باہر ہوتے ہیں چنانچہ یہ پوری زندگی تنگ جوتے کی تکلیف سے لا علم رہتے ہیں‘
آپ انہیں ایک بار وہ تنگ جوتا پہنا دیں جو عوام روز پہنتے ہیں تو پھرآپ کمال دیکھئے‘ یہ پرانا پاکستان نیا پاکستان بنتے دیر نہیں لگائے گا‘ آپ انہیں ایک بار عوام بنا دیں ‘ یہ پوری عوام کے مسئلے حل کر دیں گے

23/04/2021

ایک رکشے پر لکھا تھا
نہ زنانی ہے
نہ کوئی پریشانی ہے
ہہہہہہہہہ

23/04/2021

اللہ اکبر

Photos from ‎ٹرائیبل ایریا کوہ سلیمان‎'s post 22/04/2021

کمانڈنٹ BMP جناب حمزہ سالک نے تمن لغاری میں بڑے ہیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ
1.لیاقت عباس لغاری SHO راکھی گاج تعینات
2.اقبال لغاری SHO بواٹہ تعینات
3. علی خان SHO کھر تعینات
4.نصراللہ لغاری SHO فورٹ منرو تعینات
5.در محمد لغاری SHO سخی سرور تعینات
ذاتی راۓ ہے اسی طرح تمام سپاہی حضرات کو بھی تبدیل کیا جاۓ اس سے فورس کا مورال بلند ہوگا

22/04/2021

‏آپ نے اکثر دیواروں پر "محبوب آپکے قدموں میں” کے اشتہارات لكھے دیکھے ہونگے مگر کہیں بیگم آپکے قدموں میں کا اشتہار نہیں دیکھا ہوگا کیونکہ بابا خود شادی شدہ ہوتا ھے اور وہ جانتا ھے کہ یہ کام کسی کا باپ بھی نہیں کر سکتا 😃

Want your business to be the top-listed Government Service in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Blok X
Dera Ghazi Khan
32200