Dera Ghazi Khan, ڈیرہ غازی خان

Dera Ghazi Khan, ڈیرہ غازی خان

Share

ڈیرہ غازی خان کی تازہ ترین خبریں حاصل کریں.

13/03/2026

بالاکوٹ کے اس غمزہ فرزند کے زخموں پر مرہم رکھیں۔۔۔!

آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کس کو یاد نہیں ہوگا۔قیامت تھی قیامت!
کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ کتنے لوگ تنہا رہ گئے۔ پوری کی پوری بستیاں ملیامیٹ ہوئیں۔
عابداللہ نے اپنی زبانی وہ بیان کیا جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
وہ کہتا ہے:
میرا نام عابداللہ ہے،میرے والد کا نام وسیم اللہ اور میری والدہ کا نام آمنہ بی بی ہے۔
میں ایک بھائی تھا دو چھوٹی بہنیں تھیں،ایک سات سال کی رقیہ اور دوسری بہن پانچ سال کی فاطمہ۔
میرے دادا کا نام سعید تھا۔چچا کا نام محمد شیر تھا۔ چچا بیرون ملک ہوا کرتے تھے۔
ایک ماموں کا نام گل احمد اور دوسرے ماموں کا نام زیارت احمد تھا۔
میری عمر نو یا دس سال تھی،میں گورنمٹ پرائمری اسکول میں کےجی ٹو کا بچہ تھا۔
آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کو معمول کے مطابق صبح اسکول گئے۔ اسمبلی کے وقت شدید زلزلہ شروع ہوا،کمرے زمین بوس ہوگئے ،ساری عمارتیں زمین پر ہموار ہوگئیں۔قیامت کا منظر تھا۔
نفسا نفسی کا عالم تھا۔ سب دیوانہ وار دائیں بائیں بھاگنے لگے۔
ہم اپنے گھروں کی طرف دوڑے اپنے محلے میں آیا تو محلہ نہیں تھا۔ سارا علاقہ ملیامیٹ تھا۔
میں نے بہت سارے لڑکوں کو دیکھا جو اپنے گھروں کو دیکھ کر ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ گھنٹوں گھنٹوں بےہوش ہوتے۔ کافی بچوں نے دریا میں کود کر اپنی جانیں دیں۔
ہمارا گھر دریائے کنہار کے آس پاس تھا۔
میں تین روز تک اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھا رہا،جتنے بچے لاوارث رہ گئے تھے انکو رضاکار آکر کیمپوں میں لیجاتے۔مجھے بہت کوشش کی گئی میں کیمپ نہیں گیا۔ میں اس امید سے ملبے پر بیٹھا رہا شاید امی یا ابو آجائے ۔
تین روز بعد لوگ آئے ہمارے گھر کا ملبہ اٹھایا تو میرے ابو امی اور دونوں بہنوں کی لاشیں نکلیں۔اجتماعی قبروں میں انکو دفنا دیا گیا۔
میں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تو اسکے بعد مجھے ہوش نہیں رہا۔
مجھ جیسے لاتعداد بچوں کو کیمپ میں رکھا گیا۔ کافی سارے بچوں کے رشتے دار آئے اپنے بچے لیکر گئے۔ ایک سے ڈیڑھ سال بعد ہم ڈیڑھ دوسو بچے ایسے رہ گئے جنکا کوئی نہیں آیا۔
ہم تین لڑکے رات کے وقت کیمپ سے بھاگ گئے۔ گرتے پڑتے کراچی پہنچ گئے۔
وہ دو لڑکے کام ڈھونڈنے کا کہہ رہے تھے میں چھوٹا تھا کام نہیں کرسکتا تھا میں نے مدرسے میں پڑھنے کا کہا۔ انہوں نے مجھے کسی مسجد میں جانے کا کہا اور وہ کام کی تلاش کے لئے نکل گئے۔ ان کے ساتھ آج تک دوبارہ میں نہیں مل سکا۔ میں حافظ بنا۔درس نظامی مکمل کی۔ دوران تعلیم کافی عرصے تک میں گھنٹوں گھنٹوں بےہوش ہوجاتا تھا۔
سال دوہزار تیرہ میں بالاکوٹ اپنے گاؤں گیا۔ آٹھ ماہ تک رہا لیکن میرا کوئی رشتےدار نہیں ملا۔
ایسے لوگ ملے جو میرے خاندان کو جانتے تھے لیکن کسی نے خاص میرا ساتھ نہیں دیا۔
ہم دریائے کنہار کے پاس رہتے تھے۔ مجھے ایک صاحب نے کہا کہ آپکے آبا و اجداد توڑا نامی کسی علاقے سے یہاں دریائے کنہار کے پاس آئے تھے۔
میں تنہائی کی زندگی بسر کررہا ہوں۔میرا کوئی خونی رشتےدار نہیں ہیں۔ سوچتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔
میرے چچا محمد شیر ملک سے باہر تھے شاید وہ زلزلے سے محفوظ رہ گئے تھے۔
میں چاہتا ہوں میرے چچا اور خاندان کے کسی بھی فرد سے میرا رابطہ ہوجائے اور میں ان سے مل لوں۔
بالاکوٹ کے تمام دوست اس پوسٹ کو اپنے تمام علاقوں میں عام کردیں۔ عابداللہ کے خاندان کے کسی بھی فرد تک یہ پوسٹ پہنچے تو نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+923162529829

12 Mar 2026

08/03/2026
08/03/2026

چاہے آپ لوو میرج کر رہے ہیں یا ارینج، شادی سے قبل اپنے اور اپنی پارٹنر کے اہم طبی ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ تاکہ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اگر کسی مسلے کا شکار ہے تو اسکا علاج کیا جا سکے۔ ورنہ ان کے بدترین نتائج آئندہ زندگی کی خوشیوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

1: خون کی مطابقت کا معائنہ
2: موروثی بیماریوں کا ٹیسٹ
3: بانجھ پن کا ٹیسٹ
4: جنسی تعلقات سے پھیلنے والی بیماریوں کے ٹیسٹ

08/03/2026
08/03/2026

چوٹی زیریں: ایک بہن کی آنکھوں کے سامنے بھائی کو گولیاں مار دی گئیں مگر انصاف اب تک غائب

گزشتہ روز صبح تقریباً دس بجے چوٹی زیریں کوٹ چھٹہ روڈ پر پیش آنے والا واقعہ صرف ایک موٹر سائیکل ڈکیتی نہیں تھا، بلکہ انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ تھا۔
نوجوان حمزہ خان قوم پتافی اپنی موٹر سائیکل پر اپنی معصوم سی تین چار سالہ چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر جا رہا تھا۔ وہ شاید نہیں جانتا تھا کہ چند لمحوں بعد اس کی زندگی کا ایک خوفناک امتحان شروع ہونے والا ہے۔

اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے ان کا راستہ روک لیا۔ ایک لمحے میں خوشگوار سفر خوف اور دہشت میں بدل گیا۔ معصوم بچی اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھی تھی، جسے شاید یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ لوگ ان کا راستہ کیوں روک رہے ہیں۔

ڈاکوؤں نے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی، مگر حمزہ خان نے مزاحمت کی۔ اسی مزاحمت کی سزا اسے دو گولیوں کی صورت میں ملی۔ ڈاکوؤں نے بے رحمی سے فائرنگ کر دی اور نوجوان کو زخمی کر دیا۔

*وہ منظر کتنا دل دہلا دینے والا ہوگا…*

ایک طرف خون میں لت پت بھائی، اور دوسری طرف اس کی معصوم چھوٹی بہن جو خوفزدہ آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔

مگر زخمی ہونے کے باوجود حمزہ خان نے ہمت نہیں ہاری۔ شدید زخمی حالت میں بھی اس نے اپنے موبائل فون سے ایک ڈاکو کی ویڈیو بنا لی، جس میں ملزم کا چہرہ واضح نظر آ رہا ہے۔

مقامی لوگوں نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فوٹیج کی مدد سے ملزم کو ٹریس کر لیا اور پولیس کو اطلاع دی کہ ملزم کا تعلق یونین کونسل ٹھٹھہ گبولاں سے ہے اور اس کی شناخت بھی بتا دی گئی۔

لیکن افسوس… اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

مقامی پولیس نے حسبِ روایت پہلے معاملے کو روایتی انداز میں نمٹانے کی کوشش کی۔ زخمی نوجوان کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور پھر تھانے میں بیٹھ کر تحقیقات کا رسمی ڈرامہ شروع ہو گیا۔

جب معاملہ افسران تک پہنچا اور ورثاء کے ساتھ ساتھ صحافی برادری نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تو پولیس کو مجبوراً حرکت کرنا پڑی۔ ٹریس شدہ ملزم کے گھر ریڈ کیا گیا، مگر بغیر مناسب نفری اور تیاری کے کیا گیا یہ ریڈ ناکام رہا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ملزم پولیس کی موجودگی میں ہی خفیہ راستوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ جب ملزم کی شناخت بھی ہو چکی تھی اور مقام بھی معلوم تھا تو پھر ایسی غفلت کیوں برتی گئی؟
آج بھی وہ معصوم بچی شاید اپنے زخمی بھائی کو دیکھ کر ڈر جاتی ہوگی… اور یہ سوال کرتی ہوگی کہ وہ لوگ کون تھے جنہوں نے اس کے بھائی کو گولیاں مار دیں۔

مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ملزم ٹریس ہونے کے باوجود اب تک گرفتار نہیں ہو سکا۔

علاقے کے عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث ڈاکوؤں کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس معصوم بچی اور اس کے زخمی بھائی کو انصاف دیا جائے۔

24/02/2026

پی آئی اے روڈ الیکٹرونکس مارکیٹ میں ایک تو رمضان المبارک ہونیکی وجہ سے گاڑیوں اور پیدل افراد کا شدید رش ہے یہ ڈھکنا کسی بھی وقت گِر سکتا ہے۔ اس سے نقصان ہونیکا خدشہ ہے مہربانی فرما کر اس جگہ کو فوری طور پر ٹھیک کیا جائے تاکہ ممکنہ حادثہ سے بچاجاسکے شکریہ

24/02/2026

میرا نام ہارون ہے اور میں ڈیرہ غازی خان میں ایپ بیسڈ رائیڈ سروس متعارف کروانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہوں۔ اس وقت ہمارے شہر میں inDrive یا اس جیسی سروس دستیاب نہیں ہے اور لوگوں کو ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا ہے۔
میں نے عوامی دلچسپی جاننے کے لیے ایک مختصر دو لسانی (انگریزی اور اردو) سروے تیار کیا ہے، جسے مکمل کرنے میں صرف ایک منٹ لگتا ہے۔
۔ یہ ایک کمیونٹی کے فائدے کے لیے کیا جانے والا اقدام ہے۔
آپ کے وقت اور تعاون کا شکریہ۔
خیراندیش،
ہارون راجپوت

https://forms.gle/PyQBqQLoTy51mYsY8

18/02/2026

ڈیرہ غازی خان
سحر و افطار کے اوقات کار

Want your business to be the top-listed Government Service in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Dera Ghazi Khan
Dera Ghazi Khan