Political Thoughts of D.I.Khan

Political Thoughts of D.I.Khan

Share

ڈیرہ اسماعیل خان کے سیاسی خیالات کا مقصد ڈیرہ اسماعیل خان کو ایک بین الااقوامی شہر بنانے کی جدوجہد کا آغاز ہے۔

19/04/2024

سن 2007-2008 میں فرقہ پرستی اور دہشتگردی نے ڈیرہ اسماعیل خان کا روخ اچانک نہیں کیا تھا بلکہ آہستہ آہستہ اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہوئے شہر میں تباہی مچا دی تھی کیونکہ جب فرقہ واریت اور دہشتگردی ڈیرہ میں قدم جما رہی تھی تب ہم سب ڈیرہ وال ارام کی نیند سو رہے تھے اور کسی کو فکر نہیں تھی کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے اور پھر جب انکھ کھلی تو پتہ چلا کہ اس آگ میں کوئی ایسا گھر نہیں رہا جس کو اس اگ نے پلیٹ میں نا لیا ہو اور ہر ایک گھر گلی اور کوچہ سے نوجوانوں کے جنازے نکلے۔ اج پھر ایک بار دہشتگردی کا روخ ہمارے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف ہے ائے روز شہر میں حملے ، ٹارگٹ کلنگ اور دھماکہ معمول کا حصہ بن چکے ہیں اور ڈیرہ وال ابھی تک سو رہے ہیں اور کسی کو بھی اس شہر کے مستقبل اور نوجوانوں کی فکر نہیں کہ ایک بار پھر ہمارے نوجوان نسل اور ہمارے شہر کے مستقبل کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اگر اس بار ڈیرہ والوں نے ایک ہو کر اپنے شہر کے امن اور مستقبل کے لیے وقت پر آواز نا اٹھائی تو ہماری نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔ زیر نظر تصویر کچھ دن پہلے درابن روڈ پر ایکسائیز اہلکاروں پر ہونے والے حملہ میں شہید ہونے والی معصوم بچی کی ہے اگر اج اس بچی کی شہادت پر سوال نا اٹھایا گیا تو اپنے بچے اور بچیوں کے کفن دفن کا انتظام کر رکھیں۔ ہم ڈیرہ میں رہنے والی تمام اقوام سے بھرپور اپیل کرتے ہیں کہ شہر میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے خلاف بھرپور اواز اٹھائیں، بھرپور مزاحمت کا راستہ اپنائیں، احتجاج کریں، روڈوں پر نکلیں اور اس ظلم کا راستہ روکیں۔ مزاحمت کی صورت میں 10 ڈیرہ والوں کی جان جائے گی اور مزاحمت نا کرنے کی صورت میں 1000 ڈیرہ والوں کے جنازے نکلیں گے۔ فیصلہ اپکے اپنے ہاتھ میں ہے

25/12/2023

ڈیرہ اسماعیل خان کے بلوچ:
سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ڈیرہ کے بلوچ یہ پوسٹ پوری نہیں پڑھیں گے کیونکہ یہ بہت لمبی ہے اور ڈیرہ سے بلوچ سرداروں سے کے پاس اتنا فارغ وقت نہیں
خیر
2018 میں جب پڑھائی کے غرض سے اسلام آباد پہنچا تو میری دوستیاں بلوچستان کے بلوچوں سے ہوئی اور ان کے ساتھ رہنے سے میں نے وہ سب سیکھا جسکی ڈیرہ اسماعیل خان کے بلوچوں میں شدید کمزوریاں تھیں اور شاید مجھ میں بھی۔ اور وہ سب کمزوریاں میں آج بیان کرنے جا رہا ہوں کیونکہ میرا ماننا یہ ہے کہ جب تک ڈیرہ کے بلوچوں کو اپنی کمزوریاں پتہ نہیں چلیں گی تب تک ان کمزوریوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ یہ کمزوریاں کیوں ہیں اور ان کے اسباب کیا ہیں؟ لیکن اسباب جاننے سے پہلے ان کمزوریوں کی نشاندھی کرنی بہت لازمی ہے لہذا اس تحریر میں ڈیرہ اسماعیل کے بلوچوں پر ایک تعمیراتی تنقید:
بلوچستان کا بلوچ مزاحمتی کردار ہے اور ڈیرہ کا بلوچ مفاہمتی(خوشامدی کرنے والا) ہے
0) بلوچستان کے بلوچ قوم کے نام پر کروڑوں کا چندہ اکٹھا کرتے ہیں اور ڈیرہ کے بلوچ چندے کے نام پر 100 روپے بھی بامشکل دیتے ہیں اور اگر دے بھی دیں تو ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے انہوں نے امریکہ فتح کیا ہو
1) ڈیرہ کے بلوچوں کی زندگیوں میں کوئی مقاصد نہیں ہوتے اور بلوچستان والے ایک با مقصد زندگی گزارتے ہیں.
2) ڈیرہ کے بلوچ نصابی کتابوں کو رٹنے کے علاوہ تعلیم کا کوئی شوک نہیں رکھتے اور بلوچستان کے بلوچ نصابی کتابوں کے علاوہ غیر نصابی کتابیں اس حد تک پڑھنے کہ شوقین ہیں کہ اگر انکو کتابوں کا عاشق کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پنجگور میں کتاب سٹال پر 3 دن میں لاکھوں کی کتاب فروخت ہوتی ہے اور ڈیرہ میں کلچر ڈے پکے موقع پر بلوچستان والوں کے گفٹ کردا کتاب سٹال پر ایک کتاب بھی نہیں بکتی۔ ڈیرہ میں کوئی لائبریری نہیں ہے اور بلوچستان کے گھروں میں لاکھوں
3) بلوچستان کے ایک عام بلوچ کی اپنے حقوق کے حوالے سے سیاسی و شعوری سطح ڈیرہ اسماعیل خان کے بلوچ پروفیسرز، اساتذہ اور پی ایچ ڈی سکالرز سے بہت بہتر ہے۔
3) بلوچستان کا بلوچ ایک آزاد خیال ہے جبکہ ڈیرہ کے بلوچ کی سوچ اور دماغ پر ریاست، مذہب اور فرقے کے طالعے لگے ہوئے ہیں
4) بلوچستان کے بلوچ کی اپنی ایک سوچ و فکر ہے جبکہ ڈیرہ کے بلوچ کی کوئی سوچ و فکر نہیں
5) بلوچستان کے بلوچ کو اپنے زاتی، سماجی اور سیاسی مستقبل کی فکر ہے جبکہ ڈیرہ کے بلوچ میں ایسی کوئی سوچ و فکر نہیں پائی جاتی
6) بلوچستان کے بلوچ ایک نظم و ضبط کے پیکر ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچوں میں کوئی نظم و ظبط نہیں
7) بلوچستان کے بلوچ زاتی مفاد کے بجائے مشترکہ مفادات کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ زاتی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے
8) بلوچستان کے بلوچ باتوں کے بجائے عملی کام پر یقین رکھتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ عملی کام کے علاوہ صرف اور صرف باتیں کرتے رہتے ہیں۔
9) بلوچستان کی عورتیں بھی نظریاتی ہیں جبکہ ڈیرہ میں میں نے کبھی کوئی نظریاتی عورت نہیں دیکھی۔
10) بلوچستان کی عورت قوم دوست اور با اعتماد ہے جبکہ ڈیرہ کی بلوچ عورت کنفیوز اور اعتماد سے خالی ہے۔
11) بلوچستان کے بلوچ مزہبی قید سے آزاد ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ مزہبی قیدی ہیں۔
12) بلوچستان کے بلوچوں میں قائدانہ صلاحیت ہے جبکہ ڈیرہ کے بلوچوں میں بھی ہونے کے باوجود بھرپور طریقہ سے نشو نمہ نہیں پاتی
13) بلوچستان کے بلوچوں کے پاس انقلابی سوچ و فکر کے حامل شعراء، لکھاری، اور موسیقار ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ اس میدان میں صرف عشق س معشوقی پر گزارا کرتے ہیں۔
14) بلوچستان کے بلوچ اپنے مقامی ہیرو پیدا کرتے ہیں اور انکو فالو کرتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ ریاست کے بنائے ہوئے آرٹیفیشل ہیروز کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔
15) بلوچستان کے بلوچ کریڈیٹ لینے کے بجائے مقاصد کے حصول پر توجہ دیتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ ایک دوسرے سے کریڈیٹ کھینچنے کی جنگ لڑتے ہیں۔
16) بلوچیت کے حوالے سے ڈیرہ اسماعیل خان کے بلوچوں کی بنیادیں کمزور ہیں۔ خاص کر شہر میں رہنے والے بلوچوں کی
17) بلوچستان کے بلوچ لاکھ اختلافات کے باوجود کسی دوسرے کو خود پر مظبوط نہیں ہونے دیتے جبکہ ڈیرہ کے بلوچ ایک دوسرے سے چھوٹے چھوٹے اختلافات پر دوسروں کو طاقت بخش دیتے ہیں۔
18) بلوچستان کے بلوچ ہنسی مزاق میں ایک دوسرے کی عزت و آبرو کا خاص خیال رکھتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ ہنسی مزاق میں عزت و آبرو کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔
19) بلوچستان کے بلوچوں میں سیاسی خود اعتمادی ہے جبکہ ڈیرہ کے بلوچ باوجود بھاری اکثریت کے دوسروں کے محتاج ہیں
20) بلوچستان کے بلوچ پڑھنے لکھنے کے بعد اپنے علاقے اور اپنے لوگوں کر اون کرتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ 2 نصابی کتابیں پڑھنے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان اور اپنوں سے بھاگ جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔
21) بلوچستان کا بلوچ ناکامی کے صورت ہیں ایک دوسرے کا حوصلہ اور سہارا بنتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ ناکامی کی صورت میں طنزومزاء اور مزید حوصلہ شکنی کا باعث بنتے ہیں۔
22) بلوچستان کا بلوچ کسی بھی قسم کی طاقت کے اگے م خود کو کھڑا کرتا ہے جبکہ ڈیرہ کامے بلوچ میں مفادات کی خاطر جھکاو پایا جاتا ہے۔
23) بلوچستان کے بلوچ اپنے حصہ کا کام کریں گے جبکہ ڈیرہ کے بلوچ اپنے حصہ کا کام بھی دوسرے پر چھوڑیں گے
24) بلوچستان کے بلوچ نے قوم کی خاطر ہر قسم کی جدوجہد کی ہے سیاسی، مسلح اور غیر مسلح لیکن ڈیرہ کے بلوچوں نے کبھی کوئی جدوجہد نہیں کی
25) بلوچستان کے بلوچ خطرے کی صورت میں اپنی سرزمین کا دفاع کرتے ہیں اور ڈیرہ کے بلوچ اس خطرے کا ڈھول بجا کے استقبال کرتے ہیں۔
26) بلوچستان کے بلوچ اپنے آباؤاجداد کی انگریز مخالف مزاحمت پر فخر کرتے ہیں جبکہ ڈیرہ کے بلوچ اپنے آباؤاجداد کے سہولت کاری اور انگریز دور میں ملی نوکریوں پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
27) بلوچستانی بلوچ خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے مادری زبان کا استعمال کرتا ہے جبکہ ڈیرہ کا بلوچ خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے ریاستی اور بین الاقوامی زبانوں کا سہارا لیتا ہے۔
28) بلوچستان کا بلوچ اپنے حقوق کے لیے ریاست سے ٹکرا جاتا ہے اور ڈیرہ کا بلوچ ایک حلقہ کا الیکشن تک نہیں جیت سکتا۔
29) بلوچستان کے بلوچ میں قبائلی خصوصیات زندہ ہے جبکہ ڈیرہ کے بلوچ میں قبائلی خصوصیات کہیں نظر نہیں آتی۔
30) بلوچستان کا بلوچ دنیا کو اپنی ڈگر پر چلانے کے خواب دیکھتا ہے اور ڈیرہ کا بلوچ دنیا کی ڈگر پر چلنے کا اہمیت دیتا ہے۔
31) بلوچستان میں سکول کالج اور یونیورسٹی لیول پر باقاعدہ بلوچوں کی تربیت کی جاتی ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسی کوئی تربیت گاہ موجود نہیں

آخری کمزوری یہ ہے کہ اگر اسے اپنی کمزوریاں بتائی جائیں تو انکو قبول کر کے اس پر قابو پانے کے بجائے دماغی صلاحیتوں سے عاری آگ بگولہ ہو کر اپنی بلوچیت سمجھانے والے پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
نوٹ: یہ میرا زاتی تجزیہ ہے ہر کوئی آزادانہ طور پر اس سے اختلاف کر سکتا ہے۔ واہ، زبردست، بہت خوب کمنٹ والے لوگ اس پوسٹ سے دور رہیں۔ دلیل اور لاجک کے ساتھ کمنٹس کرنے والوں کو خوش آمدید

30/04/2023

وساٸل کی فراہمی آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ان میں ترقیاتی بجٹ، صحت و تعلیم کے وساٸل اور صاف پانی جیسے منصوبے شامل ہیں۔ چنانچہ حالیہ مردم شماری میں جن وزیر محسود ، بیٹنی و برکی خاندانوں نے ( باقاعدہ منظم مہم کے زیر اثر) اپنا شمار آباٸی علاقوں میں کروایا ہے جبکہ وہ عرصہ سے ڈیرہ و ٹانک میں مقیم ہیں انہوں نے یہاں صدیوں سے آباد شہریوں کا حق چھینا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کھاٸیں ، پیٸیں یہاں، صحت و تعلیم کی سہولیات سے فاٸدہ یہاں اٹھاٸیں ، انفراسٹرکچر یہاں کا استعمال کریں لیکن آپ کے نام کا فنڈ آپ کے آباٸی علاقے جاٸے جہاں آپ شمار کیے گٸے ہیں۔

ایسا نہیں چلے گا۔ ایسی شماریات نامنظور !!!!

-کاپی فرام احسان لاشاری وال-

Photos from Political Thoughts of D.I.Khan's post 12/03/2023

کچھ عرصہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان اور مقامی افراد کو ایک سازش کے تحت 2008 والے حالات میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی جسے ڈیرہ کے لوگوں نے ناکام بنا دیا۔
ان سب حالات میں ڈیرہ پولیس کے نوجوان فرزندوں نے دھرتی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی عوام کا مکمل ساتھ دیا۔
ان سب حالات میں مقامی پولیس افسران کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی کے تحت پہلے ڈی پی او ڈیرہ اقبال بلوچ کو ڈیرہ سے ٹانک ٹرانسفر کیا گیا اور کل ایک 3 لاکھ کی ڈکیتی کی وجہ سے ایس ایچ او آفتاب عالم بلوچ کو معطل کر دیا گیا جو کے سراسر نا انصافی اور زیادتی ہے۔ انشاءاللہ ڈیرہ کی عوام اپنے غیور پولیس افسران کے ساتھ ہے اور دھرتی زادوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی نا قابل برداشت ہے

03/02/2023

Lack of Leadership in Derawalls
پورے کے پی کے میں جہاں دہشتگردی کی وجہ سے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی امن مارچ کی صورت میں سراپا احتجاج ہیں وہیں 15 لاکھ آبادی و کے پی کے کا دوسرا بڑا شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے مرد اور نوجوان بھیگی بلی بنے اپنے گھروں میں براجمان ہیں۔
ڈیرہ کے مردوں نے قسم کھائی ہے کہ عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر گھروں میں ساری زندگی بیٹھ کر اپنے بال سفید کر دیں گے لیکن اپنے اوپر اور اپنے بھائیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف باہر نکل کر احتجاج ریکارڈ نہیں کروائیں گے۔
اس صورت حال کی خاص وجہ یہاں کے لوگوں میں نوجوان لیڈرشپ کا بہت بڑا فقدان ہے۔ اس وقت 30٪ نوجوان یہ شہر چھوڑ کر تعلیم یا رزق کی وجہ سے آسلام آباد و بڑے شہروں میں موج و مزے لوٹ رہیں ہیں اور جو باہر نہیں نکل سکے وہ سارا دن خسروں، لڑکوں اور لڑکیوں کے چکر میں چوکوں اور سڑکوں پر زبان باہر نکالے گشت کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔
اور اگر کوئی نوجوان یا نوجوانوں کا گروہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر بغیر وسائل و سپورٹ کے اپنے، اپنے لوگوں اور اپنے علاقے کے لیے سوشل میڈیا پر یا سڑکوں پر احتجاجاً نکلتے ہیں تو انہیں فیملی، دوست احباب اور خاص طور پر بزرگ حضرات ڈرا ڈرا کر مار ڈالتے ہیں اور انہیں تنگ نزر، فاشسٹ، زبان علاقہ و قوم پرست جیسے القابات سے بھی نوازا جاتا ہے
تو ایسے حالات میں کہاں سے لیڈر پیدا ہوگا؟

Photos 20/07/2022

سرائیکیوں اور بلوچوں کے منہ پر زوردار تمانچہ:
یقیناً آج کے بعد کبھی بلوچوں کی تاریخ میں یہ نہیں لکھا جا سکتا کہ بلوچوں کے علاقے میں مہمانوں اور خواتین کی جان، مال، عزت آبرو محفوظ ہیں۔ کیونکہ ابھی تک ان ملزمان کے خلاف کسی قسم کی قبائلی کاروائی نہیں کی گئی۔

Photos 16/07/2022

گزرے ہوئے کچھ سالوں سے ڈیرہ اسماعیل خان میں بلوچ و سرائیکی نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے سیاسی شعور اور ا پنے حق کے لیے آواز آٹھانے، لڑنے اور حق کے لیے مرنے کی وجہ سے ڈیرہ کی سیاسی صورت حال میں واضح تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ جس سے وہ لوگ جو کل تک محبت امن و بھائی چارے کے نام پر معصوم سرائیکیوں سے ووٹ لے کر ان پر حکمرانی کرتے تھے آج تعلیم و شعور کے ڈر سے اپنا بوریا بستر لپیٹنے کی تیاری میں ہیں اور جاتے جاتے لسانی و نسلی تعصب کی دیواریں کھینچتے ہوئے بیچ بو کر اپنی اصلیت واضح کر رہے ہیں۔ جب تحصیل پہاڑپور پر ان لوگوں کے لیے الیکشن جیتنا نا ممکن ہو گیا تو نسلی و لسانی تفریق شروع کر دی جسکی تازہ مثال تحصیل پہاڑپور کو لسانی بنیادوں پر 2 تحصیلوں میں تقسیم کرنا ہے تحصیل پہاڑپور و تحصیل پنیالہ جو کہ کچھ سیاسیوں کے سیاسی مفاد کے علاوہ علاقے و عوام کے گھاٹے کا سودا ہے۔
اپنے مکروہ ارادے و لسانی تعصب کو چھپانے کے لیے بندکورائی سمیت کچھ گاؤں نئی بننے والی تحصیل پنیالہ میں شامل کیے گئے۔اگر لسانی و تعصب پرست طاقتیں بند کورائی و دیگر دیہاتوں کو تحصیل پنیالے میں شامل کرنے میں کامیاب پو گئے تو شاید ہی بند کورائی کے لوگوں سے زیادہ بدقسمت کوئی اور ہو۔
لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اس ناانصافی کے خلاف بند کورائی سمیت پورے ڈیرہ اسماعیل خان پرواہ سے دھکی تک کے تمام سرائیکی نوجوان ایک پیچ پر ہوتے ہوئے بندکورائی سمیت دیگر سرائیکی دیہاتوں کو پنیالے سے مکمل آزادی دلانے کے لیے سراپائے احتجاج ہیں۔
بند کورائی میں ہونے والے جرگہ میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر بند کورائی کو تحصیل پنیالہ میں شامل کیا گیا تو بھرپور مذاحمت کی جائے گی انشاءاللہ۔
معتبرین کے اس فیصلہ کو ڈیرہ بلوچ اتحاد و اعوان یونیٹی فارم سمیت تمام لوکل ڈیرہ والوں و سرائیکی تنظیمیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ان سب حالات سے ایک چیز واضح ہے کہ ڈیرہ میں رہنے والے مخصوص سیاسی گروہ اقلیت کے باوجود اکثریت پر حکمرانی کے لیے بھائی چارے، ڈیرہ وال اور سرائیکی کا نعرہ لگاتے ہیں اور جب اسے نعرے کی بنیاد پر سرائیکی و لوکل لیڈرشپ طاقت میں آ جائے تو فوراً نسلی و لسانی بنیادیوں پر اپنی ڈیڈ اینچ کی سیاسی مسجد بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

06/07/2022

اسلام آباد لاہور و پشاور میں وہنے والے وہ تمام ڈیرہ وال جو عید کرنے اپنی فیملیز کے ساتھ اپنی گاڑیوں پر ڈی آئی خان آ رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ڈیرہ آتے ہوئے ڈیرہ کی اپنے جاننے والی فیمیلز سٹوڈنٹس جنکو ڈائیوو کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے انہیں اپنے ساتھ لیتے آئیں۔
یہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ ٹھہرنے کا وقت ہے.

05/07/2022

ڈیرہ والوں!
آللہ سے نوکر مانگا کرو
نوکری مت مانگا کرو

Photos from Political Thoughts of D.I.Khan's post 04/07/2022

آخر کب تک لوکل ڈیرہ وال دھکے کھاتے رہیں گے؟
آکر کیوں ابھی تک ڈیرہ وال اپنے حق کے لیے نہیں لڑتے؟
آج ہم سب ڈیرہ وال ایک ہو کر اپنے اس ڈیرہ وال بزرگ کو انکا حق لے کر دیں گے۔
یہ بزرگ عبدالقیوم آج کچہری میں ایک وکیل کو اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے رو پڑا. 75سالہ بزرگ عبدالقیوم کو بہت کم سنائی دیتا تھا ان سے بات کر کے معلوم ھوا انکا جواں سال بیٹا محمد عمران پولیس کانسٹیبل تھا اور اپنی زندگی اور جوانی کے 13 سال محکمہ پولیس کو دے چکا تھا اور 3 ستمبر 2019 کو تھانہ کلاچی کی حدود میں نامعلوم دہشتگردوں کی فائرنگ سے محمد عمران شہید ہو گیا محمد عمران کے والد عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ شہید پیکج تو درکنار ہمیں ابھی تک محمد عمران کی پینشن اور جی پی فنڈز تک کچھ بھی نہیں ملا عبدالقیوم کہتے ہیں میں نے اپنے حقوق نہ ملنے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے دو بار میرے حق میں فیصلہ بھی آ چکا ہے لیکن مجھے ابھی تک دھتکارا جا رہا ہے ۔۔۔ ۔۔۔ میرا لختِ جگر اس دھرتی ماں پر قربان ہو چکا ہے اور مجھے دھکے مل رہے ہیں ۔۔۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب ڈیرہ وال مل کر سوشل میڈیا پر اپنے بزرگ کے حق کے لیے ایک آواز بن جائیں تاکہ آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اس ناانصافی کا فوری نوٹس لیں۔




Photos 02/07/2022

ڈیرہ اسماعیل خان کی غیور عوام کا ڈائیوو بس کمپنی کی ناکارہ سروس کے خلاف ایک کامیاب بائیکاٹ اور ڈائیوو کمپنی کا ڈیرہ اسماعیل خان میں اہنی سروسس عارضی طور پر معطل رکھنے کے بعد ڈیرہ کی عوام کا پاکستان کے بڑے ٹرانسپورٹ براند فیصل موورز کو ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنی سروسس شروع کرنے کی درخواست۔
ڈیرہ میں آج فیس بک پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا جس پر فیصل موورز کے میڈیا سیل اور اَپر منیجمنٹ کا ڈیرہ میں اہنی سروس شروع کرنے کے حوالے سے انتہائی مثبت رسپانس دیتے ہوئے جلد ڈیرہ والوں کوخوشخبری دینے کا عندیہ۔
اس موقع پر تمام ڈیرہ والوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ نیچے دیے گئے فیصل موورز کے فیسبک پیچ لنک پر کلیک کر کے کمنٹس میں لکھ کر ٹرینڈ کا حصہ بنیں اور اپنے شہر میں مزید بڑی کمپنیوں کو آنے کی دعوت دیں۔

https://m.facebook.com/FaisalMovers/


Want your business to be the top-listed Government Service in Dera Ismail Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Dera Ismail Khan