04/06/2026
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او پجار) کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے سنگین مسئلہ ہیں، جن کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے۔
04/06/2026
8465 Days. One question still remains: How long can justice be delayed?
Today marks 8,465 days of Dr. Aafia Siddiqui’s imprisonment. Behind this number is a daughter, a mother, and a story that continues to touch millions of hearts. May truth prevail, justice be served, and every innocent prisoner find freedom.
04/06/2026
22 مارچ 2025 کو صبح 5:30 بجے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی گرفتاری کے بعد، اور 3 جون 2026 کی شام 5:30 بجے تک، ان کی زندگی کے 438 دن اور 12 گھنٹے قید میں گزر چکے ہیں۔
438 دن اور 12 گھنٹے
62 ہفتے اور 4 دن اور 12 گھنٹے
10,524 گھنٹے
631,440 منٹ
37,886,400 سیکنڈ
یہ اعداد و شمار صرف وقت کا حساب نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسی شخصیت کی زندگی کا حصہ ہیں جس نے اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، اور اپنے مؤقف اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے نہ ذاتی آرام کو ترجیح دی، نہ ہی اپنی آواز کو بیچا، بلکہ انصاف اور اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔
438 دن اور 12 گھنٹے صرف ایک مدت نہیں، بلکہ ثابت قدمی، حوصلے اور اصولوں پر قائم رہنے کی ایک علامت ہیں۔
وقت یہاں صرف اعداد نہیں، بلکہ ایک موقف، ایک جدوجہد اور ایک ناقابلِ فراموش حقیقت کی داستان ہے۔
03/06/2026
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اُن ہزاروں ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی امید اور پکار کی نمائندہ ہیں جن کی آواز برسوں سے نظرانداز کی جاتی رہی ہے۔ اُنہیں قید کرنا محض ایک انسان کی آزادی سلب کرنا نہیں، بلکہ اُن تمام آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے جو اپنے پیاروں کے لیے انصاف، سچ اور جوابدہی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ماہ رنگ کی قید دراصل اُن بے شمار دلوں کی قید کا استعارہ ہے جو سنے جانے کے حق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔"
03/06/2026
جیل کو عام طور پر خاموشی کی جگہ سمجھا جاتا ہے، مگر سیاسی تاریخ میں یہی جگہ اکثر
فکری پیداوار کا مرکز ثابت ہوئی ہے۔ جب کوئی رہنما یا کارکن اپنے نظریے کی خاطر قید برداشت
کرتا ہے تو اس کے الفاظ میں ایک مخصوص اخالقی وزن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ وزن اس لیے اہم ہوتا
ہے کہ سیاسی جدوجہد میں اخالقی ساکھ طاقت سے کہیں زیادہ دیرپا اثر رکھتی ہے۔
میگزین: مزاحمتی یاداشت
Sebghat Abdul Haq Baloch Baloch
Mahrang Baloch Beebow baloch Gullzadi Baloch
01/06/2026
🚨 بریکنگ نیوز الرٹ 🚨
بلوچ معاشرے میں خواتین کی بہادری، قربانی اور قومی وقار کی ایک روشن تاریخ رہی ہے۔ بلوچ خواتین ہمیشہ اپنی قوم، ثقافت اور سرزمین کے تحفظ کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں۔
تاہم یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ بعض شدت پسند عناصر نوجوان بلوچ خواتین کو گمراہ کر کے مسلح سرگرمیوں اور پرتشدد کارروائیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہیں پہاڑوں میں لے جا کر ایسے راستوں پر ڈالنا جو ان کی جان، مستقبل اور خاندانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوں، نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ بلوچ معاشرے کی روایات کے بھی منافی ہے۔
مزید یہ کہ بعض حلقوں کی جانب سے خواتین کے استحصال اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔
بلوچ عورت عزت، غیرت، شعور اور وقار کی علامت ہے۔ اسے کسی بھی سیاسی یا عسکری مقصد کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنا بلوچ روایات اور انسانی اقدار دونوں کے خلاف ہے۔
30/05/2026
ماہ جبین بلوچ کو قید میں ایک سال مکمل ہو گیا ہے ، اسے فوری رہا کیا جائے